85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔

(1) قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔
Ayah 85:2

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

(2) اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
Ayah 85:3

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والے دن کی قسم اور اس دن کی قسم جس میں حاضری ہونی ہے۔

(3) اور حاضر ہونے والے دن کی قسم اور اس دن کی قسم جس میں حاضری ہونی ہے۔ اس آسمان کی قسم جس میں برج ہیں برجوں سے مراد یا تو وہ مشہور بارہ برج ہیں جن کو علم ہیئت والوں نے بیان کیا ہے کہ آفتاب کی گردش کے باعث آسمان میں ایک دائرہ پیدا ہوتا ہے جس کو دائرۃ البروج کہتے ہیں آفتاب اس دائرہ کو سال بھر میں پورا کرتا ہے اور جو جو ستارے ان بروج میں جمع ہوتے ہیں ان سے جو شکل پیدا ہوتی ہے ان کے نام یہ ہیں۔ حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت ہم کہیں ان برجوں کے نام کسی دوسری جگہ بھی بتا چکے ہیں یہ ایک فرض تقسیم ہے پھر ان برجوں کے خواص اور ان کے انقلابات وغیرہ پر مفسرین نے بڑی بحث کی ہے خاص طور پر حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب (رح) نے تفسیر عزیزی میں سیر حاصل بحث کی ہے جو صاحب چاہیں تفسیر عزیزی میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ غرض ان ستاروں کی وجہ سے اور ان کی گردش کے باعث عالم سفلی میں عجیب و غریب اتار چڑھائو رونما ہوتے ہیں جس کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔ بہرحال ! یا تو یہ بروج ہیں یا منازل نجوم ہیں جن کو محل اور قلعے سے تعبیر فرمایا ہے جیسا کہ ہم نے سورہو فرقان میں عرض کیا تھا ان قلعوں پر فرشتے پہرہ دار مقرر ہیں یہ شاید اس وجہ سے نام رکھا کہ جس طرح بادشاہ اور بڑے ذی عزت لوگ مخلوق میں اترتے ہیں اسی طرح نجوم ان منازل میں اترتے ہیں یا بڑے بڑے ستارے مراد ہیں۔ جیسا کہ ہم کئی جگہ بروج کا ترجمہ ستاروں کے ساتھ کرچکے ہیں چناچہ بعض روایات میں مرفوعاً بروج کی تفسیر ستاروں کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے منقول ہے وہ دن جس کا وعدہ کیا گیا ہے یعنی والیوم الموعود سے مراد قیامت کا دن ہے شاھد اور مشھود میں مفسرین کے بہت سے قول ہیں مشہور یہ ہے کہ شاید جمعہ کا دن ہے اور مشہود عرفہ کا دن ہے چونکہ جمعہ ہر شہر میں ہوتا ہے اس لئے اس کو شاید کہا اور عرفات میں لوگ اطراف عالم سے خود جاکر جمع ہوتے ہیں اس لئے شاید اس کو مشہور فرمایا، لہٰذا روایتاً یہ قول بہت راجح ہے اگرچہ اقوال بہت سے ہیں مثلاً شاید اللہ تعالیٰ اور مشہود بہ توحید ، شاہد انبیاء (علیہم السلام) اور مشہود ان کی امتیں شاہدکاتب اعمال اور مشہود وعمل کرنے والے شاید انسان کے اعضا اور مشہود بہ انسان شاہد دن اور رات اور مشہود بہ وہ نیک وبدکام جو انسان کرتا ہے شاہد نبی کریم ﷺ اور مشہود علیہ دوسری امتیں شاہد ہجر اسود اور مشہود لہم حجاج۔ حضرت امام فخر الدین رازی (رح) فرماتے ہیں شاہد مخلوقات اور مشہود حضرت حق جل مجدہ جس طرح شاہد ومشہود میں مفسرین کے کئی قول ہیں اسی طرح جواب قسم کے متعلق بھی کئی قول ہیں بعض نے کہا جواب قسم محذوف ہے۔ یعنی لعن من یوذی المومنین کما لعن اصحاب الاحدود۔ یعنی جو لوگ مومنین کو تکلیف دیتے ہیں ان پر اسی طرح لعنت ہو جس طرح اصحاب اخدود پر لعنت کی گئی بعض نے کہا قد اور لام مقدر مان کر ان قسموں کا جواب قتل اصحب الاخدود ہے قتادہ اور ابن مسعود کا قول ہے کہ جواب قسم ان بطش ربک لشدید ہے مگر اصح یہ ہے کہ جواب قسم ان الذین فتنوا المومنین والمومنت ہے۔
Ayah 85:4

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندقوں والے ہلاک کئے گئے۔

(4) کہ خندقوں والے اور کھائیوں والے لعنت کئے گئے اور ہلاک کئے گئے۔
Ayah 85:5

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

جو خندقیں ایندھن والی آگ تھیں۔

(5) جو خندقیں ایندھن والی آگ بنی ہوئی تھیں۔
Ayah 85:6

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جس وقت وہ خندق والے اس آگ کے آس پاس بیٹھے ہوئے تھے

(6) جس وقت وہ خندق والے اس آگ کے آس پاس بیٹھے ہوئے تھے۔
Ayah 85:7

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو کچھ وہ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو خود اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔

(7) اور جو کچھ وہ مسلمانوں کے ساتھ کررہے تھے اس کو خود اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بادشاہ کالے پالک بیٹا تھا بادشاہ اس کو ساحر پاس بھیجا کرتا تھا کہ وہ سحر سیکھے وہ بیٹھا کرتا ایک راہب پاس انجیل سیکھنے کو اللہ تعالیٰ اس کو کمال دیا کہ شیر اور سانپ اس کا کہنا مانتے اور کوڑی اور اندھے اس کے چھوئے سے چنگے ہوتے پھر اس کے سبب بہت خلقت اللہ پر اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ بادشاہ بت پرست تھا یہ بات سن کر اس نے لے پالک کو مار ڈالا اور شہر میں ہر محلے کے آگے کھائی کھدوائی اور آگ سے بھروادی، محلے میں مرد عورتیں پکڑوا منگاتا جو بت سجدہ نہ کرتا اس کو آگ میں ڈالتا ہزاروں آدمی شہید کئے۔ جب اللہ کا غضب نازل ہوا وہی آگ پھیل پڑی بادشاہ اور امیروں کے گھر سارے پھونک دیئے۔ خلاصہ : یہ کہ عام طور پر مسلمان کفار مکہ کے مظالم کی شکایت کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ مسلمانوں کے صبر کی تلقین فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم ان سے اپنا انتقام لوگے اور حق تعالیٰ تم کو ایسی طاقت عطا فرمائے گا کہ تم ان سے اپنا انتقام لے سکوگے۔ اسی سلسلے میں یہ سورت نازل فرمائی تاکہ مسلمانوں کو تشفی اور تسلی ہو اور وہ یہ سمجھیں کہ جب کفار کے مظالم مسلمانوں پر حد سے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کفار پر عذاب نازل فرماتے ہیں۔ چنانچہ قسمیں کھا کر ایک ظالم بادشاہ کا واقعہ بیان فرمایا اور قسمیں بھی ایسی چیزوں کی کھائیں جو حالات کے انقلاب سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ ابھی ہم عرض کرچکے ہیں۔ اس بادشاہ کے متعلق روایات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کوئی بادشاہ بت پرست تھا جو انجیل پر ایمان نہیں رکھتا تھا اس کی حکومت ایک جادوگر کے سہارے چلتی تھی جادوگر اپنے فن میں کمال رکھتا تھا جب وہ جادو گر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا مجھے کوئی ہونہار لڑکا دے دیجئے تاکہ میں اس کو اپنا فن سکھادوں اور وہ میرے مرنے کے بعد آپ کی سلطنت کا مددگار ہو اور دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے غلاموں میں سی کوئی غلام یا اپنا کوئی لے پالک اس کے حوالے کیا حسن اتفاق سے راستے میں کوئی راہب تھا جو اپنے عبادت خانے میں رہا کرتا تھا یہ لڑکا آتے جاتے اس راہب کے پاس ٹھہرنے لگا اور اس کی باتیں اس کو بہت پسند آئیں جادوگر نے بادشاہ سے شکایت کی کہ لڑکا میرے پاس بہت کم آتا ہے بادشاہ نے غلام کو دھمکایا لیکن اس نے بہانہ کردیا اور اس طرح یہ کام چلتا رہا راہب کی مذہبی تعلیم سے لڑکا بہت متاثر ہوا اور مسلمان ہوگیا اور راہب کے بتائے ہوئے طریقہ پر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور شغل کرنے لگا تھوڑے ہی دن میں اس کی روحانیت اتنی بڑھ گئی کہ جس بیمار پر اللہ کا نام لے کر ہاتھ رکھتا وہ اچھا ہوجاتا راستے میں ایک دن اس نے ایک اژدہا دیکھا جس کی وجہ سے لوگ جمع تھے اور گزر ہیں سکتے تھے اس نے دور سے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ایک پتھر مارا اور دل میں یہ نیت کی کہ اگر راہب کا بتایا ہوا راستہ صحیح ہے تو یہ اژدہا میرے پتھر سے مرجائے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اژدہا مرگیا اور لوگوں کا راستہ صاف ہوگیا اسی طرح کا واقعہ ایک دن شیر کے ساتھ پیش آیا اس نے ایک پتھر مارا اور شیر مرگیا۔ غرض اس غلام کی بہت شہرت ہوگئی اتفاق سے بادشاہ کا ایک خاص چوب دارجواندھا ہوگیا اس نے اس غلام سے کہا میری اگر بینائی واپس آجائے تو میں آپ کی بہت مدد کروں اس نے کہا میں کیا کرسکتا ہوں حقیقی شفا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اگر تو اس پر ایمان لے آئے تو تیری آنکھیں روشن ہوجائیں چناچہ وہ مسلمان ہوگیا اور اس کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے میری آنکھیں روشن کردیں اس نے جب خدا کا نام سنا تو آگ بگولا ہوگیا چوب دار کو دھمکایا چوب دارنے لڑکے کا نام بتایا اس لڑکے کو بلاکر دریافت کیا اس نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ کے نام میں یہ برکت ہے کہ جو اس پر ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ اس کو شفا بخش دیتا ہے یہ سن کر بادشاہ نے حکم دیا کہ اس غلام کو کشتی میں بٹھا کرلے جائو اور دریا میں غرق کردو مگر حسن اتفاق سے لڑکا بچ گیا اور جو غرق کرنے گئے تھے وہ غرق ہوگئے۔ پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو پہاڑ پر سے پھینک دو لیکن وہ پہاڑ پر سے بھی بچ گیا اور ساتھی ایک آندھی کی وجہ سے نیچے گرگئے اور مرگئے۔ بادشاہ بہت پریشان ہوا لڑکے نے کہا اگر تو مجھ قتل ہی کرنا چاہتا ہے تو بسم اللہ کہ میرے تیر مار میں مرجائوں گا چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا کہ لڑکے کو عام مجمع میں کھڑا کرکے بسم اللہ کہہ کر تیر مارا جو لڑکے کی کنپٹی میں لگا اور لڑکا شہید ہوگیا اس کا شہید ہونا تھا کہ مجمع میں سے ہزاروں آدمیوں نے کہا امنا برب ھذا الغلام ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لے آئے بیشمار مخلوق مسلمان ہوگئی۔ اس واقعہ پر بادشاہ بہت غضب ناک ہوا اور حکم دیا کہ جگہ جگہ خندقیں کھودو اور ہر شخص کو پکڑ کر لائو اور اس سے کہو بت کو سجدہ کر جو بت کو سجدہ نہ کرے اس کو قتل کردو یعنی خندقوں کو آگ سے بھردو اور اسی آگ میں اس انکار کرنے والے مسلمانوں کو ڈال دو ۔ غرض یہ تعذیب اس بدبخت نے شروع کی بادشاہ اور اعیان حکومت کرسیوں پر بیٹھے یہ تماشا دیکھ رہے تھے ہر طرف سے مسلمان پکڑ پکڑ کر لائے جارے تھے بت کے آگے سرجھکانے سے جو انکار کرتا تھا اس کو خندق میں ڈال دیتے تھے خندقوں کو فرمایا ذات الوقود یعنی وہ خندقیں کیا تھیں آگ اور ایندھن کا ڈھیر تھیں اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کررہے تھے اس کو کھائی کے کنارے بیٹھ کر خود دیکھ رہے تھے کہتے ہیں ان ہی مسلمانوں میں ایک عورت لائی گئی جس کی گود میں ایک بچی تھی ان ظالموں نے اس بچی کو چھین کر اس آگ میں ڈال دیا آگ میں بچی نے ماں کو پکار کر کہا یہ آگ نہیں ہے تو بےکھٹکے چلی آ چناچہ ظالموں نے ماں کو بھی خندق میں ڈال دیا۔ ماں کو ڈالتے ہی کچھ آگے اس طرح بھڑکی کہ اس کے شعلوں نے بادشاہ اور اس کے تمام اعیان حکومت کو گھیر لیا اور سب کو جلا کر خاکستر کردیا اور ان کے تمام مکانات کو پھونک ڈالا۔ اس کو حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا قتل اصحب الاخدود کہتے ہیں یہ خندقیں چالیس گز لمبی اور بارہ گز چکلی تھیں جن میں مسلمانوں کو جھونکا جارہا تھا آگے ان بت پرستوں کے غصے اور انتقام کی وجہ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 85:8

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور ان خندق والوں نے ان مسلمانوں میں بجز اس کے اور کوئی عیب نہیں پایا تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو برڑا زبردست اور جملہ صفات سے متصف ہے

(8) اور یہ خندقوں والے ان مسلمانوں سے بدلا نہ لیتے تھے مگر اس بات کا کہ وہ یقین لائے اللہ تعالیٰ پر جو بڑا زبردست اور جملہ صفات سے متصف ہے۔ نقم کے اصل معنی عیب لگانے کے ہیں اور زبردست آدمی جب کوئی عیب لگاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس عیب کی پاداش میں سزا دیتا اور بدلا لیا کرتا ہے اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں فرق کردیا بہرحال ان ظالموں نے مسلمانوں میں سوائے اس کے کوئی عیب نہیں پایا کہ وہ اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے جو کمال قوت کا مالک اور تمام خوبیوں سے متصف ہے یہ بدلا لینا محض ظلم اور زبردستی اور دھینگا دھانگی ہے۔ چناچہ اس کی پاداش دنیا میں بھی پائی اور آختر میں بھی پائیں گے۔ اس قصے کا ذکر فرمانا مسلمانوں کو تسلی کا موجب ہے نیز ان کی کرسیوں پر بیٹھ کر مسلمانوں کو یہ سزا دلوانا ان کی سخت ظالم اور بےرحم ہونے پر دلالت کرتا ہے اسی لئے ہلاکت کئے گئے۔
Ayah 85:9

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

وہ ایسا ہے کہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر خوب مطلع ہے۔

(9) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع اور ہرچیز سے خوب واقف ہے - یعنی ایسے مالک الملوک پر ایمان لانا نہ کوئی عیب ہے نہ کوئی جرم پھر جو ان کو سزا دی تو یہ لوگ دنیا میں بھی ہلاک ہوئے اور آخرت میں بھی عذاب کے مستحق ہوں گے۔ آگے ان لوگوں کے لئے عام وعید ہے جو مسلمانوں پر ظلم کرنے کے خوگر ہیں۔
Ayah 85:10

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایزا پہنچاتی پھر توبہ نہ کی تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور نیز ان کے لئے سخت جلنے کا عذاب ہے۔

(10) بلا شبہ جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایذاء پہنچائی پھر ظلم سے توبہ نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور نیز ان کے لئے سخت جلنے کا عذاب ہے۔ یعنی اصحاب اخدود پر کیا موقوف ہے جو بھی مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایذاپہنچائیں گے اور ان کو اسلام سے بچلائیں گے اور ان کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کریں گے اور پھر توبہ بھی نہیں کریں گے تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہیں ان میں جلنے کا بھی ہے اس لئے آگ سے جلنے کا عذاب کا خاصہ طور پر ذکر فرمایا زمہریر کا عذاب ، سانپ بچھو کا عذاب ، طوق سلاسل کا عذاب وغیرہ وغیرہ۔ یہ وعید کفار مکہ کو سنائی کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کو انواع و اقسام کی تکالیف پہنچاتے تھے اور خاص طور پر ان کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے یہاں تک ظالموں کے حق میں فرمایا آگے مسلمانوں کا ذکر فرمایا۔
Ayah 85:11

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور وہ نیک اعمال کے پابند رہے تو ان کے لئے وہ باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

(11) البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے تو ان کے لئے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی یہ بڑی کامیابی اور بڑی مراد ملنی ہے ۔ یعنی بہشت کے باغ عنایت ہوں گے جن میں نہریں بہتی ہونگی۔
Ayah 85:12

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بیشک آپ کے رب کی گرفت بڑی ہی سخت ہے۔

(12) بیشک آپ کے پروردگار کی پکڑ اور گرفت بڑی ہی سخت ہے - اسی لئے منکروں کی سخت گرفت کرتا ہے اور ان کو سخت عذاب دیتا ہے۔
Ayah 85:13

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

بیشک وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔

(13) بیشک وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا - یعنی جس کو اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اس کا اعادہ بھی کرسکتا ہے پس قیامت کا واقع ہونا اور منکروں کو سزا ملنی یقینی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے دنیا اور آخرت کا عذاب مراد ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کا عذاب اور آخرت کا۔ خلاصہ : یہ کہ جو دنیا میں گرفت کرسکتا ہے وہی آخرت میں بھی گرفت کرے گا۔
Ayah 85:14

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہی بڑا بخشنے والا بڑی محبت کرنے والا ہے۔

(14) اوروہی بڑا بخشنے والا بڑی محبت کرنے والا ہے۔
Ayah 85:15

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک بڑی شان والا ہے۔

(15) اورعرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے۔
Ayah 85:16

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

جو چاہتا اسے کر گزرتا ہے۔

(16) اورجوچاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے - اوپر کی آیتوں میں کفار کو تنبیہہ اور ان کے لئے وعید تھی وھوالغفور سے مسلمانوں کو بشارت ہے کہ وہ بڑا بخشنے والا ہے کسی عاجزی کرنے والے اور توبہ کرنے والے کو واپس نہیں کرتا اور کوئی اس کی بارگاہ سے محروم نہیں جاتا وہ عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے ہر مظلوم کی سنتا ہے اور عبادت گزار کو صلہ عطا فرماتا ہے پھر مالک و مختار ہے اپنی حکمت و مصلحت کے موافق جو کرنا چاہتا ہے وہ کر ڈالتا ہے اس کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ بہرحال یہ تمام آیتیں خوف ورجا کا مجموعہ ہیں نہ اس کی بخشش پر مغرور ہونا چاہیے نہ اس کی پکڑ اور اس کے انتقام سے بےخوف ہوناچاہیے بلکہ ہمیشہ اس کے جاہ و جلال اور اس کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے اور خوف کے ساتھ رجا اور رجا کے ساتھ خوف دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎ فضل اودل نواز غم خواراں عدل اور سینہ سوز جباراں آگے مومنین کی تسلی کے لئے چند سزا یافتہ گناہ گاروں کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 85:17

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

اے پیغمبر بھلا آپ کو ان لشکروں کا واقعہ بھی پہنچا ہے۔

(17) اے پیغمبر بھلا آپ کو ان لشکروں کا واقعہ بھی پہنچا ہے۔
Ayah 85:18

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

وہ جو فرعون اور ثمود ہیں۔

(18) جو فرعون اور ثمود تھے ۔ یعنی فرعون اور ثمود کے لشکروں کی بات اور ان کا واقعہ بھی آپ تک پہنچا ہے کہ ان کا کیا حشر ہوا اور ان کی تکذیب پر کسی طرح ان کا پکڑا گیا اور فرعون وثمود کس طرح تاہ کئے گئے ان کی باہی اور ہلاکت کے ذکر سے جس طرح مسلمانوں کو تسلی ہوتی ہے اسی طرح کفار کو ڈرنا اور تکذیب سے بعض آجانا چاہیے۔
Ayah 85:19

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ کافر تو تکذیب کرنے اور جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں۔

(19) لیکن یہ منکر تو ڈرتے ہی نہیں بلکہ یہ لوگ جو کفروانکار کے خوگر ہوچکے ہیں یہ تکذیب کرنے اور جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں - یعنی یہ کافران واقعات سے ڈرتے نہیں بلکہ قرآن کی تکذیب کے درپے ہیں اور قرآن کو جھٹلاتے رہتے ہیں۔
Ayah 85:20

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کی ہر طرف سے گھیررکھا ہے۔

(20) اور اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے یعنی اس کے گھیرے سے کہیں نکل نہیں سکتے ۔
Ayah 85:21

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک باعظمت قرآن ہے۔

(21) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک باعظمت اور بڑی شان کا قرآن ہے۔
Ayah 85:22

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

(22) جو لوح محفوظ ہوتے ہیں قرآن کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا یہ قرآن تو بڑا باعظمت اور بڑی شان والا ہے اس کی حفاظت اور نگرانی کا یہ حال ہے کہ یہ قرآن لوح محفوظ میں مندرج ہے اور اس کا جب کچھ حصہ وہاں سے جبرئیل (علیہ السلام) لاتے ہیں تو اول تو وہ خود امانت دار ہیں جیسا کہ سورة تکویر میں گزرا پھر ان کے ساتھ بہت سے فرشتے چوکیدار اور پہرہ دار ہوتے ہیں جو پیغمبر تک پہنچاتے ہیں جیسا کہ سورة جن میں گزرا۔ بہرحال قرآن کریم ہر اعتبار سے بلند وپایہ ہے اور ہر اعتبار سے محفوظ ہے جو لوگ اس کی تکذیب کررہے ہیں وہ ناسمجھ اور گمراہ ہیں اور مستوجب سزا ہیں۔ تم تفسیر سورة البروج