Ayahs 86:1–21 الطارق : طریق کا معنی راستہ اور طارق بمعنی راستہ پر چلنے والا۔ مگر عرف عام میں طارق بالخصوص اس مسافر کو کہتے ہیں جو صرف رات کو آئے۔ اور ستارے کو طارق اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ رات کو ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی صراحت فرما دی کہ یہاں طارق سے مراد عام ستارے بھی نہیں بلکہ شہاب ثاقب ہے۔
Ayah 86:32 شہاب ثاقت کی حقیقت :۔ اس مقام پر (النجم الثاقب) کا لفظ آیا ہے۔ دوسرے مقام پر ( شہاب ثاقب) اور تیسرے پر ( شہاب مبین) کا اور مراد سب سے ایک ہی ہے۔ شہاب ایسے انگارہ کو کہتے ہیں جس میں چمک اور شعلہ دو چیزیں موجود ہوں خواہ یہ آگ کا انگارہ ہو یا آسمان یا فضا میں پایا جائے اور ثاقب میں تیزی سے آر پار ہوجانے اور آگ کی طرح کی سرخ روشنی کا تصور پایا جاتا ہے۔ جبکہ عام ستاروں کی روشنی چاند کی روشنی کی طرح سفید ہوتی ہے۔ گویا (النجم الثاقب) میں تین چیزیں جمع ہوگئیں۔ ایک وہ تیزی سے فضا میں سفر کر رہا ہو۔ دوسرے اس میں چمک موجود ہو اور تیسرے وہ چمک آگ کی طرح سرخی کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ ہم اسے اپنی زبان میں ٹوٹنے والا تارہ کہتے ہیں علاوہ ازیں یہاں واحد کا صیغہ استعمال کرکے اس سے جنس مراد لی گئی ہے۔ اور ایسے ستارے سینکڑوں کی تعداد میں فضا میں ٹوٹتے اور پھر ہماری نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔ نہ وہ دوسرے ستاروں سے ٹکرا کر نظام کائنات کو درہم برہم کرتے ہیں اور نہ زمین پر گر کر زمین پر قیامت برپا کیے رکھتے ہیں۔ البتہ مدتوں بعد کوئی ایسا ستارہ زمین پر گر کر زمین میں گہرے کھڈ ڈال بھی دیتا ہے لیکن یہ بھی ایک عذاب الٰہی کی شکل اور خرق عادت امر ہوتا ہے۔ ایسے ٹوٹنے والے ستاروں کے متعلق شرعی نقطہ ئنظر یہ ہے کہ جب کوئی جن یا شیطان اوپر ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کے لیے جاتا ہے تو اس پر ایسا شعلہ دار ستارہ پھینک کر اسے وہاں سے مار بھگایا جاتا ہے۔
Ayah 86:43 ہر جاندار کی حفاظت کرنے والی ہستی :۔ ان تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی قسم اٹھائی گئی ہے جو اہل زمین کو (شہاب ثاقب) جیسی بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس بات پر قسم اٹھائی گئی ہے کہ ہر انسان پر ایک نگہبان مقرر ہے جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتا ہے۔ یہ نگہبان کون ہے ؟ یہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے۔ اور جس نے ہر جاندار کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے
اور اس کی موت کے مقررہ وقت تک آفات ارضی و سماوی سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ یہ حفاظت اکثر اوقات ایسے غیر شعوری طریقوں سے ہوتی ہے کہ انسان کو اس کا علم تک نہیں ہوتا اور جب کبھی علم ہوجاتا ہے تو انسان کی زبان سے بےساختہ ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں کہ اس موقعہ پر اللہ نے مجھے ہاتھ دے کر بچا لیا ورنہ میرے بچے رہنے کی کوئی توقع نہ تھی اور ایسے واقعات تقریباً ہر انسان کو اپنی زندگی میں پیش آتے ہی رہتے ہیں۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورة رعد میں فرمایا : کہ ہر انسان کے آگے پیچھے ہم نے فرشتے مقرر کردیئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں (13: 11) واضح رہے کہ حفاظت کی نسبت براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف ہو یا اس کے فرشتوں کی طرف اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
Ayah 86:54 عالم بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ ذرا اپنی پیدائش پر بھی غور کرلے کہ ماں کے پیٹ میں کون اس کی پرورش کرتا رہا اور کس نے اس کے حمل کو رحم مادر میں جمائے رکھا اور اتنا سخت جمایا کہ بغیر کسی شدید حادثہ کے حمل ضائع نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر جب وہ ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو اتنا زیادہ ناتواں اور کمزور تھا جتنا کمزور بچہ دوسری کسی جاندار مخلوق کا نہیں ہوتا۔ پھر دوسری تمام مخلوق سے بڑھ کر اس کی نشوونما کے انتظامات فرمائے۔ پھر پیدائش سے لے کر موت تک اس کی مسلسل نگرانی کرتا رہتا ہے۔ اسے بیماریوں سے، حادثات سے اور طرح طرح کی آفات سے بچاتا رہتا ہے۔ اس کی زندگی اور زندگی کی بقا کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جنہیں انسان شمار بھی نہیں کرسکتا بلکہ اسے ان کا شعور تک نہیں ہوتا۔ کجا وہ خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ تاآنکہ وہ اپنی اس مدت موت کو پہنچ جاتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر اور اس کی نگرانی کے بغیر ہونا ممکن ہے ؟۔
Ayahs 86:6–75 مادہ منویہ کہاں اور کیسے پیدا ہوتا ہے ؟:۔ صُلْبْ ۔ صَلَبَ الْعَظْمِ بمعنی ہڈی سے مغز یا گودا نکالنا اور صلب بمعنی ریڑھ کی ہڈی کا گودا۔ اور چونکہ یہ ہڈی انسان کی پشت کے درمیان ہوتی ہے۔ لہذا اس ریڑھ کی ہڈی کو اور پشت کو بھی صلب ہی کہہ دیا جاتا ہے۔ اور ترائب۔ تریبۃ کی جمع ہے بمعنی سینہ کی ہڈیاں اور پسلیاں۔ اس آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نطفہ ان اعضاء سے نکلتا ہے جو صلب اور سینہ کی پسلیوں کے درمیان ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ مرد کا نطفہ تو صلب سے نکلتا ہے اور عورت کا سینہ کی پسلیوں سے۔ لیکن یہ خیال کچھ درست معلوم نہیں ہوتا۔ اطباء کا یہ خیال ہے کہ منی خواہ مرد کی ہو یا عورت کی، عمل انہضام کے چوتھے مرحلہ پر پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کی تخلیق میں اعضائے رئیسہ یعنی دل جگر اور دماغ کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے۔ اور یہ انہضام چونکہ انسان کے دھڑ کے اندرونی حصے میں واقع ہوتا ہے۔ لہذا اسے صلب اور ترائب کے مابین سے ذکر کردیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ انسان کا دماغ تو دھڑ میں نہیں ہوتا تو غالباً اسی نسبت سے یہاں صلب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ریڑھ کی ہڈیوں کے درمیان جو مغز یا گودا ہوتا ہے یہ دماغ ہی کا حصہ ہوتا ہے۔
Ayah 86:86 اللہ تعالیٰ نے ایک شہادت عالم بالا سے پیش فرمائی، دوسری انسان کی تخلیق سے اور یہ دونوں اس بات پر قوی دلیل ہیں جو ہستی ایسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دے رہی ہے وہ یقیناً انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور اگر انسان سوچے تو یہ کارنامے انسان کی دوبارہ زندگی سے زیادہ حیرت انگیز اور معجز نما ہیں۔ اب جو شخص ان کارناموں کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے وہ آخر یہ کیوں نہیں کہتا کہ دنیا میں انسان کے ہاتھوں بنائے ہوئے جتنے کارخانے چل رہے ہیں یہ بھی بس اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں سامنے آگئے اور کام کرنے لگے ہیں یا دنیا میں جو شہر آباد ہیں، سڑکیں ہیں اور دریا اور نہریں رواں ہیں یہ بھی سب اتفاقات ہی کا نتیجہ ہیں۔ ایسے سر پھروں کو اپنے دماغ کا علاج کرانا چاہیے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے۔
Ayah 86:97 اسرار کی جانچ کے مختلف پہلو :۔ پوشیدہ اسرار سے مراد ہر انسان کے وہ اعمال بھی ہیں جن کا تعلق نیت اور ارادہ سے تھا اور وہ پورے نہ ہوسکے اور بس ایک راز ہی بن کر رہ گئے۔ نیز وہ اعمال بھی جو دنیا کے سامنے تو آئے مگر جس غرض کے تحت وہ سرانجام دیئے گئے تھے اور جو اغراض اور خواہشات ان کی محرک بنی تھیں ان کا کسی کو علم نہ ہوسکا اور وہ اعمال بھی جن کو کرنے والا تو کرکے مرگیا مگر ان کے اثرات مدتوں نوع انسانی پر پڑتے رہے ایسے سب اسرار اس دن کھل کر سامنے آجائیں گے۔
Ayah 86:108 یعنی اس دن کسی انسان کو بھی اتنی قوت حاصل نہ ہوگی کہ وہ اس دن پیش آنے والے مصائب کی مدافعت کرسکے۔ نہ ہی کوئی اس کی مدد کرنے کو وہاں موجود ہوگا۔
Ayah 86:119 ذات الرجع رجوع کے معنی اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہے مگر مجازاً رجع کا لفظ بارش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آسمان کو ذات الرجع کہنے کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں وہ جب آسمان کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں تو ان بلندیوں کی ٹھنڈک ان آبی بخارات کو پھر سے پانی میں تبدیل کردیتی ہے اور بارش شروع ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بارش برسنے کا عمل فقط ایک بار ہی نہیں ہوتا بلکہ بار بار اور وقتاً فوقتاً ہوتا ہی رہتا ہے۔
Ayah 86:1210 ذَات الصَّدْعِ ۔ صدع کے معنی کسی چیز کا اس طرح پھٹنا ہے کہ ٹکڑا جدا نہ ہو اور بقول امام راغب ٹھوس اجسام جیسے لوہا، شیشہ، زمین وغیرہ میں شگاف یا سوراخ ہوجاتا ہے اور زمین کو اس لیے ذات الصدع کہا گیا ہے کہ وہ پودوں اور درختوں کی نرم و نازک کونپلوں کو پھٹ کر زمین سے باہر نکلنے کا راستہ دے دیتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پانی کے چشمے بھی پھوٹ نکلتے ہیں۔ حالانکہ زمین ٹھوس اور سخت چیز ہے اور پانی سیال اور زمین کے مقابلہ میں بہت نرم اور کمزور۔ اس کے باوجود زمین پھٹ کر پانی کو باہر نکلنے کا راستہ دے دیتی ہے۔
Ayahs 86:13–1411 یعنی بارش کے بار بار نزول اور زمین سے نباتات کے اگنے کا پیہم عمل یہ ایک مربوط نظام ہے۔ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت اور تمہارے مشاہدہ کی بات ہے۔ اسی طرح قرآن بھی جو حقائق پیش کر رہا ہے اور جسے دو ٹوک فیصلے بتارہا ہے وہ بھی ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ کوئی ہنسی مذاق کی باتیں نہیں ہیں بلکہ انہیں پورا ہو کے رہنا ہے۔
Ayahs 86:15–1612 کفار یہ چاہتے ہیں کہ ایسی چالیں چلیں، ایسی سازشیں تیار کریں، ایسے کارنامے سرانجام دیں جس سے قرآن کی دعوت کو شکست دی جاسکے۔ وہ اپنی پھونکوں سے اسلام کی شمع کو گل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے برعکس اللہ بھی ان کے مقابلہ میں ایک چال چل رہا ہے کہ وہ اس روشنی کو مکمل کرکے رہے گا اور کافروں کی کسی چال کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ واضح رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی چال یا خفیہ تدبیر کو لفظ کید سے تعبیر فرمایا پھر اس کے رد عمل کو اپنی طرف منسوب فرما کر اس کے لیے بھی کید کا لفظ استعمال فرمایا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو کسی چال یا خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کسی بھی کام کے ردعمل کو اسی لفظ سے تعبیر کردیتے ہیں خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ اسے مشاکلہ کہتے ہیں اور اس کی وضاحت پہلے بھی کئی مقامات پر کی جاچکی ہے۔
Ayah 86:1713 یعنی آپ تھوڑی مدت مزید صبر سے کام لیجیے۔ کچھ زیادہ مدت نہ نہ گزرنے پائے گی کہ ان لوگوں کی کرتوتوں کا انجام سب کے سامنے آجائے گا۔