87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 87:1

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح 1 کیجیے جو سب سے برتر ہے

1 سبحان کا لغوی مفہوم : سَبَّحَ : ابن الفارس کے نزدیک لفظ سَبَّحَ کے بنیادی معنی دو ہیں (1) عبادت کی قسم، اور (2) دوڑنے کی قسم، اور امام راغب کے نزیک سبح کا معنی کسی چیز کا پانی، ہوا میں تیرنا یا تیزی سے گزر جانا اور سَبَّاح یعنی تیراک ہے اور سبحان سبح سے مصدر ہے جیسے غفر سے غُفْرَان۔ فضا میں لاکھوں کروڑوں سیارے نہایت تیزی سے گردش کر رہے ہیں جن میں نہ کبھی لرزش پیدا ہوتی ہے نہ جھول اور نہ تصادم یا ٹکراؤ۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی اپنی تقدیر و تدبیر اور انتظام میں نہایت محکم اور ہر قسم کی بےتدبیری، عیب یا نقص سے پاک ہستی ہی ہوسکتی ہے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی مدبر ہستی جو اپنی تدبیر محکم سے کائنات کا انتظام چلا رہی ہے وہ اس انتظام و انصرام میں بلاشرکت غیرے مختار کل ہو۔ کیونکہ کسی بھی دوسرے کا عمل دخل اس کائنات کے انتظام میں خلل انداز ہو کر اس میں گڑ بڑ پیدا کرسکتا ہے لہذا سُبْحَانَ سے مراد وہ ہستی ہوسکتی ہے جو 1۔ ہر طرح کے عیب و نقص سے پاک ہو۔ 2۔ وہ بلاشرکت غیرے مختار کل بھی ہو اور 3۔ کائنات کی تمام اشیاء پر پورا پورا کنٹرول بھی رکھتی ہو۔ اور تسبیح کرنے سے مراد ایسی ہستی کو ان صفات کے ساتھ یاد کرنا اور یاد رکھنا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کو نماز کا حصہ بنادیا اور فرمایا کہ اجعلوھا فی سجودکم (یعنی اس کو اپنے سجدوں میں رکھو) پھر ہدایت فرمائی کہ سجدہ کی حالت میں سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرو۔ عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ آپ نے اس آیت کے مطابق سجدے میں (سبحان ربی الاعلی) اور سورة واقعہ کی آخری آیت ( فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74۝ۧ) 56 ۔ الواقعة :74) کے مطابق رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم پڑھنے کا حکم دیا۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ)
Ayah 87:2

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے پیدا کیا پھر اسے درست 2 کیا

2 یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کی سب اشیاء کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس چیز سے جو کام لینا مقصود تھا اس کے مطابق اس کی شکل و صورت بنائی اور شکل وصورت کو اس طرح ٹھیک ٹھاک اور درست کیا کہ اس کے لیے اس سے بہتر شکل و صورت ممکن ہی نہ تھی۔ مثلاً ناک کا ایک کام یہ ہے کہ اس سے دماغ کے فضلات خارج ہوتے رہیں اور یہ مقصد ناک کو سر کے پیچھے بنانے سے بھی حاصل ہوسکتا تھا۔ مگر اس کے تصور سے ہی انسان کو گھن آنے لگتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ناک کو چہرہ پر سامنے بنایا تاکہ چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہو، نیز انسان کی ناک بہتی ہی نہ رہے بلکہ انسان بوقت ضرورت اپنے ہاتھ سے جھاڑ سکے اور صاف کرسکے۔ یہی صورت حال ایک ایک عضو بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کے متعلق مشاہدہ کی جاسکتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف خالق ہی نہیں بلکہ انتہا درجہ کا حکیم اور مدبر بھی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعضاء کی تخلیق محض اتفاقات کا نتیجہ قطعاً نہیں ہے ورنہ مقاصد کے ساتھ ساتھ حسن و جمال کے امتزاج کا تصور بھی نہیں ہوسکتا تھا۔
Ayahs 87:3–4

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور جس نے اس کی تقدیر بنائی 3 پھر راہ دکھائی 4

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس نے چارہ پیدا کیا

3 تقدیر بمعنی اندازہ کرنا۔ بنانے سے پہلے کسی چیز کا مکمل نقشہ، اس کی شکل و صورت، اس کے مقاصد اور غرض وغایت کے متعلق پوری سکیم تیار کرنا۔ پھر اس کے متعلق یہ طے کرنا کہ اس چیز کے لیے کس قسم کا مواد درکار ہے۔ کتنی مقدار میں درکار ہے۔ اس چیز میں کیا کیا خصوصیات درکار ہیں۔ تاکہ جس مقصد کے لیے وہ بنائی گئی ہے اسے بطریق احسن انجام دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پیشتر اس کی تقدیر بنائی ہے۔ کائنات میں آج تک جو اشیا وجود میں آچکی ہیں اور جو کچھ بعد میں پیدا ہوں گی سب کچھ اللہ کی اس تقدیر یا اندازے یا اسکیم کے مطابق ہو رہا ہے جو اس نے پہلے سے طے کر رکھا ہے۔ 4 یعنی جس چیز کو جس مقصد کے لیے بنایا، اس چیز کی فطرت میں وہ کام کرنے کا طریقہ بھی ودیعت کردیا۔ مثلاً ہر دودھ پلانے والے جاندار کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو پیدا ہوتے ہی وہ ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو دودھ چوسنے کا طریقہ فطرتاً سکھا دیا۔ اسی طرح کائنات کی ایک ایک چیز کو وہ راہ سجھا دی جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے۔ مثلاً اللہ نے دل کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ سارے جسم میں خون کو پہنچائے تو دل کی ساخت بھی ایسی ہی بنائی اور اسے یہ طریقہ بھی بتلا دیا کہ وہ کس طرح خون کو پمپ کرے گا۔ کسی جاندار کے ارادہ اور خواہش کے بغیر دل از خود ہی یہ کام کیے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ کسی کو یہ محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کیا کیا چیزیں ہیں اور وہ کیا کیا کام سرانجام دے رہی ہیں۔ انسان چونکہ دوسری تمام مخلوق سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس کو دو قسم کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایک اضطراری جو اس کی طبعی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اس لحاظ سے وہ دوسرے جاندار سے مختلف نہیں اور دوسری ہدایت اختیاری ہے جو اس کے عقل و شعور اور اخلاقیات سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی دوسری قسم کی ہدایت کو اجاگر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں۔
Ayahs 87:5–6

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اسے سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا 5

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

ہم آپ کو پڑھا دیں گے پھر آپ بھولیں گے نہیں

5 مَرعٰی کا لغوی معنی چارہ ہے۔ یعنی جانوروں کی خوراک جو تازہ ہو یعنی گھاس وغیرہ تاہم اس کے وسیع معنوں میں تمام نباتات بھی شامل ہے۔ یعنی اللہ ہی ہے جو زمین پر بہار اور موسم بہار لاتا ہے۔ پھر موسم خزاں بھی لاتا ہے۔ اور اس تازہ نباتات کے فالتو اجزا خس و خاشاک بن کر پاؤں کے نیچے مسلے جاتے ہیں۔ لہذا تم لوگوں کو اس دنیا کی بہار پر ہی فریفتہ نہ ہوجانا چاہئے اس پر خزاں بھی آسکتی ہے۔
Ayah 87:7

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

بجز اس کے جو 6 اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ بھی

6 جب وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ ﷺ بہ تکلف وحی کے الفاظ یاد رکھنے پر زیاد توجہ دیتے تھے اور زبان سے ان الفاظ کی ادائیگی کی کوشش بھی کرتے تھے جس سے آپ کی توجہ بٹ جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ذمہ داری لی اور فرمایا کہ آپ صرف توجہ سے سنا کریں۔ بعد میں بعینہ وحی کے الفاظ کو آپ کی زبان سے ادا کروا دینا ہمارا کام ہے۔ نیز یہ وحی کے الفاظ آپ ﷺ کے دل میں محفوظ رہیں گے۔ آپ انہیں بھولیں گے نہیں۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو آپ بھول بھی سکتے ہیں۔ اب اس کو بھولنے کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ آپ ایک دفعہ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اور قراءت کے دوران ایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد سیدنا ابی بن کعب نے پوچھا : کیا یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں میں بھول گیا تھا۔ (ابوداؤد، کتاب الصلوٰۃ۔ باب فی فتح علی الامام فی الصلوٰۃ) اور دوسری صورت وہی ہے جس کا اس حدیث میں بھی ذکر موجود ہے۔ یعنی کوئی آیت ہی منسوخ کردی جائے۔ یہاں بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جو آیات اللہ نے نازل کردیں پھر ان کو منسوخ کرنے اور بھلا دینے کے کیا معنی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں بعض آیات اور احکام ایک مخصوص مدت کے لیے نازل ہوئے۔ بعد میں ان کا باقی رکھنا ضروری نہ رہا۔ جیسے سیدنا ابن عباس ؓ کی قرائت کے مطابق فما استمتعتم بہ منھن کے آگے الیٰ اجل مسمیٰ کے الفاظ بھی موجود تھے۔ پھر جب متعہ کو مکمل طور پر حرام کردیا گیا تو اس قرات کے یہ الفاظ بھی منسوخ کردیے گئے۔ اور اس قسم کی منسوخی کے متعلق قرآن میں بیشمار آیات ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے۔ سورة بقرہ کی آیت نمبر 106، سورة رعد کی آیات نمبر 39۔ 40، سورة النحل کی آیت نمبر 101، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ کرنا اسی کی شان ہے۔ وہ نازل شدہ وحی میں سے اگر یہ مناسب سمجھے کہ اب اس آیت کی ضرورت نہیں رہی تو وہ اسے منسوخ بھی کرسکتا ہے اور اس منسوخی کی آسان شکل یہ تھی کہ جب آپ جبریل سے دور کرتے تو وہ آیت یا اس کے کچھ الفاظ آپ کو بھلا دیئے جاتے تھے۔
Ayah 87:8

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور ہم آسان طریقہ 7 پر چلنے کی سہولت دیں گے

7 اس آیت کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ آپ کو بلاتکلیف سہولت کے ساتھ قرآن یاد رہے گا۔ دوسرا یہ کہ ہم آپ ﷺ کو آسان اور سہل شریعت پر چلائیں گے۔ تیسرا یہ کہ شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہم آپ ﷺ کے لیے آسان بنادیں گے۔ چوتھا یہ کہ اسلام کے راستہ سے ہم تمام رکاوٹوں کو دور کردیں گے اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہونا آپ کے لیے آسان بنادیں گے۔ پانچواں یہ کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری بس اتنی ہی ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں۔ اس سے آگے کسی مشکل میں پڑنا یا بہ جبر لوگوں کو اسلام کی طرف لانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔
Ayahs 87:9–12

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

پس آپ نصیحت 8 کیجیے اگر نصیحت نفع دے

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو شخص (اللہ سے) ڈرتا ہے وہ تو نصیحت قبول کرلے گا

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور جو بدبخت ہے وہ اس سے پرے ہی رہے گا

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

اور بڑی آگ میں داخل ہوگا

8 یعنی جب آپ دیکھیں کہ آپ کی نصیحت سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو ایسے لوگوں کو بار بار وغط و نصیحت کرتے رہیے۔ اور جو لوگ وعظ و نصیحت سے الٹا اثر لیں، مذاق اڑانے لگیں، یا مخالفت پر اتر آئیں تو ایسے لوگوں کو وعظ و نصیحت سے اجتناب کیجیے۔ واضح رہے کہ دعوت و تبلیغ اور چیز ہے اور وعظ و نصیحت اور چیز۔ نبی کی ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ کا پیغام سب لوگوں تک پہنچا دے خواہ وہ اسے قبول کریں یا برا مانیں۔ لیکن وعظ و نصیحت صرف ان کے لیے ہے جو وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہوں، سب کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس کے لیے جس کے دل میں کچھ اللہ کا ڈر ہو اور جو ڈرتا ہی نہیں اس کے لیے وعظ و نصیحت کچھ معنی نہیں رکھتے۔
Ayah 87:13

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر اس میں 9 نہ مرے گا نہ جیے گا

9 یعنی اخروی زندگی میں مر تو سکے گا نہیں اور جو زندگی ہوگی وہ عذاب کی وجہ سے موت سے بدتر ہوگی۔ ایسی زندگی پر وہ خود بھی موت کو ترجیح دینگے مگر موت نام کی وہاں کوئی چیز نہ ہوگی۔
Ayahs 87:14–16

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی 10

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا پھر نماز ادا کی

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

10 یعنی جس نے اپنے آپ کو کفر و شرک عقائد فاسدہ سے اور اخلاقی رذیلہ سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ یہاں بعض لوگوں نے تزکی ٰسے مراد زکوٰۃ اور بالخصوص صدقہ فطر اور (وذکر اسم ربہ) سے مراد تکبیرات عیدین اور فصلی سے مراد نماز عید لی ہے۔ اور اگر اس آیت کو اس کے عام مفہوم میں لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ یعنی جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لے پھر اللہ کو زبان سے بھی یاد کرتا رہے اور دل میں بھی یاد رکھے۔ پھر اسی کی تائید کے طور پر باقاعدگی سے نمازیں ادا کرتا رہے تو سمجھ لو کہ اس کی زندگی سنور گئی اور کامیاب ہوگیا۔ یہاں کامیابی سے مراد اخروی کامیابی تو یقینی ہے اور اس دنیا میں اس کی کامیاب زندگی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے کیونکہ دارالجزا آخرت ہے یہ دنیا نہیں۔
Ayah 87:17

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالانکہ آخرت بہتر 11 اور باقی رہنے والی ہے

11 یعنی تمہارا اصل مرض یہ ہے کہ تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو پسند کرتے ہو حالانکہ آخرت دو وجہ سے دنیا سے بہتر ہے۔ ایک تو وہاں کی نعمتیں اس دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔ اور دوسرے وہاں کی نعمتیں نہ ختم ہونے والی اور لازوال ہیں جبکہ دنیا کی نعمتیں فانی ہیں۔
Ayahs 87:18–19

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

یہی بات پہلے صحیفوں 12 میں (کہی گئی تھی)

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

12 یعنی جو صحائف سیدنا ابراہیم کو عطا ہوئے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات سے پہلے عطا ہوئے (جو کہ بعض اقوال کے مطابق دس دس تھے) ان میں یہ مضمون قد افلح سے خیر وابقی تک مذکور تھا۔ یہ مضمون نہ کبھی منسوخ ہوا اور نہ بدلا گیا۔