Ayahs 85:1–21 آسمان اور اسکے برج :۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت کے مطابق فلک ہشتم کو بارہ برجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو دراصل ستاروں کے جھرمٹ یا مجمع النجوم (Constalations) ہیں۔ جنہیں دیکھنے سے ایک مخصوص تصور یا شکل ذہن میں آجاتی ہے۔ ان برجوں کے ناموں سے ہی ان کی شکلوں کا کچھ نہ کچھ تصور ذہن میں آجاتا ہے۔ ان کے نام درج ذیل شعر میں منظوم کیے گئے ہیں۔
حمل و ثور و جوزا، سرطان و اسد
سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی دلو و حوت
انہیں بروج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورة الحجر کی آیت نمبر 10 میں فرمایا : اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اس آسمان کو دیکھنے والوں کے لیے سجا دیا اب اگر ایک عام قاری اس آیت میں بروج کے لفظ سے وہی بارہ برج مراد لیتا ہے جو اہل ہیئت نے فلک ہشتم پر بنا رکھے ہیں تو یہ اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق وسباق اس بات کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان، بچھو، ترازو اور ڈول کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں۔ جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم ہر نمایاں طور پر ظاہر ہونے والی چیز کو برج کہہ سکتے ہیں۔
Ayah 85:32 آیت نمبر 2 میں (الیوم الموعود) سے مراد تو قیامت کا دن ہے مگر آیت نمبر 3 میں شاہد اور مشہود کی تعبیر میں بہت اختلاف واقع ہوا ہے۔ کسی نے کہا کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے جو ہر قریہ اور ہر شہر میں ہر جگہ حاضر ہوتا ہے۔ اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ جب کہ دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ وہاں حاضر ہوتے ہیں کسی نے کہا شاہد سے مراد یوم النحر اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے وغیرہ وغیرہ لیکن ربط مضمون کے لحاظ سے یہی تعبیر بہتر معلوم ہوتی ہے کہ مشہود سے مراد بھی قیامت کا دن ہو اور شاہد سے مراد قیامت کے دن اکٹھا کی جانے والی خلقت سے ہر فرد مراد ہو جو قیامت اور اس کی ہولناکیوں کو بچشم خود ملاحظہ کر رہا ہو۔ اور چوتھا مفہوم یہ ہے کہ شاہد سے مراد انبیاء اور صلحاء لیے جائیں اور مشہود سے مراد ان کی قومیں جن پر وہ گواہی دے کر ان پر حجت قائم کریں گے۔
Ayahs 85:4–63 اُخدود۔ الخدّ والاخدود۔ اخدود کا لفظ صاحب منجد کے نزدیک واحد ہے جبکہ بعض دوسرے اسے خدّ کی جمع بتاتے ہیں۔ بمعنی ایک لمبا اور گہرا گڑھا جو خود کھودا گیا ہو بمعنی خندق اور جمع کی صورت میں اس کا معنی خندقیں ہوگا۔
Ayah 85:74 اصحاب الاخدود کا قصہ اور ذونواس یہودی بادشاہ :۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :۔
صہیب ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ : ایک بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو اسے غیب کی خبریں دیا کرتا تھا۔ کاہن نے بادشاہ سے کہا کہ ایک ذہین و فطین لڑکا تجویز کرو جسے میں یہ علم سکھا دوں، مجھے خطرہ ہے کہ مرجاؤں تو یہ علم ہی نہ اٹھ جائے اور تم میں اس کا کوئی استاد نہ رہے۔ چناچہ لوگوں نے ایسا لڑکا تجویز کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ ہر روز اس کے پاس حاضر ہوا کرے۔ چناچہ وہ لڑکا اس کاہن کے ہاں آنے جانے لگا۔ اس لڑکے کے راستہ میں ایک گرجا میں ایک راہب رہتا تھا۔ معمر راوی کہتا ہے کہ میرے خیال میں ان دنوں ایسے عبادت خانوں کے لوگ ہی مسلمان تھے۔ وہ لڑکا جب اس راہب کے پاس سے گزرتا تو اس سے دین کی باتیں پوچھتا تاآنکہ راہب نے اسے بتایا۔ میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ اب لڑکا راہب کے پاس زیادہ دیر رہنے لگا اور کاہن کے ہاں دیر سے پہنچتا۔ کاہن نے اس کے گھر والوں کو کہلا بھیجا کہ لڑکا میرے پاس کم ہی آتا ہے۔ لڑکے نے راہب کو یہ بات بتائی تو راہب نے اسے کہا۔ جب کاہن تم سے پوچھے کہ کہاں رہے تو کہہ دینا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس تھا اور اگر گھر والے پوچھیں تو کہہ دینا کہ میں کاہن کے پاس تھا۔ کچھ وقت اسی طرح گزرا۔ پھر ایک دفعہ یوں ہوا کہ کسی جانور نے بہت سے لوگوں کی راہ روک دی۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ جانور شیر تھا۔ لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا اور کہنے لگا۔ یا اللہ ! جو کچھ یہ راہب کہتا ہے اگر یہ سچ ہے تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو (اس پتھر سے) اس (جانور) کو ہلاک کردے۔ پھر اس نے پتھر جو پھینکا تو جانور مرگیا۔ لوگ پوچھنے لگے۔ اس جانور کو کس نے مارا ہے ؟ کسی نے کہا، اس لڑکے نے اب لوگ گھبرائے اور کہنے لگے کہ اس لڑکے نے تو ایسا علم سیکھا ہے جو کوئی بھی نہیں جانتا یہ بات ایک اندھے نے سنی تو لڑکے سے کہا : اگر تو میری آنکھیں لوٹادے تو میں تمہیں بہت مال و دولت دوں گا لڑکے نے کہا : مجھے مال و دولت کی ضرورت نہیں البتہ اگر تیری بینائی لوٹ آئے تو کیا تو اس ذات پر ایمان لائے گا جس نے بینائی کو لوٹایا ؟ اندھا کہنے لگا ہاں چناچہ لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔ پھر اندھا بھی ایمان لے آیا۔ جب بادشاہ کو یہ خبر پہنچی تو اس نے سب کو بلایا اور کہا کہ میں تم کو الگ الگ طریقے سے مار ڈالوں گا چناچہ راہب کو تو آرے سے چروا ڈالا اور اندھے کو کسی اور طرح سے مروا ڈالا۔ پھر اس لڑکے کے لیے حکم دیا کہ اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور چوٹی پر جاکر اسے نیچے گرا دو ۔ چناچہ جب وہ اس چوٹی پر پہنچے جہاں سے لڑکے کو گرانا چاہتے تھے تو وہ خود گرنے لگے اور لڑکے کے سوا چوٹی پر کوئی نہ رہا۔ وہ لڑکا بادشاہ کے پاس آگیا تو اب اس نے حکم دیا کہ اب اسے دریا میں لے جاکر (کشتی سے گرا کر) ڈبو دو ۔ اب بھی اللہ نے ان لوگوں کو غرق کردیا اور لڑکے کو بچا لیا۔ اب لڑکا بادشاہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ : اگر تم مجھے مارنا ہی چاہتے ہو تو اس کی صرف یہی صورت ہے کہ مجھے سولی پر لٹکا کر تیر مارو اور تیر مارتے وقت یوں کہو۔ اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا پروردگار ہے چناچہ اس نے ایسا ہی حکم دیا۔ پھر لڑکا سولی چڑھایا گیا پھر اس نے یہ کہہ کر تیر مارا۔ اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا پروردگار ہے چناچہ جب لڑکے کو تیر لگا تو اس نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا اور مرگیا۔ اب لوگ کہنے لگے۔ یہ لڑکا تو وہ علم جانتا تھا جو کسی کو بھی معلوم نہیں۔ ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لاتے ہیں لوگوں نے بادشاہ سے کہا : تم تو تین آدمیوں کی مخالفت سے گھبرا گئے تھے۔ اب یہ سارے لوگ تمہارے مخالف ہوگئے ہیں پھر بادشاہ نے بڑی بڑی خندقین کھدوائیں اور اس میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگا دی۔ پھر لوگوں کو اکٹھا کرکے کہنے لگا : جو شخص اپنے (نئے) دین سے باز آتا ہے اسے تو ہم چھوڑ دیں گے اور جو نہ پھرے اسے ہم آگ میں ڈال دیں گے پھر وہ مومنوں کو ان خندقوں میں ڈالنے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہلاک ہوئے خندقوں والے۔ وہ آگ تھی بہت ایندھن والی تاآنکہ آپ نے عزیز الحمید تک پڑھا۔ پھر فرمایا اور وہ لڑکا جو تھا وہ دفن کیا گیا راوی کہتا ہے کہ اس لڑکے کی نعش سیدنا عمر بن خطاب کے زمانہ میں نکالی گئی اور وہ انگلی اپنی کنپٹی پر رکھے ہوئے تھا جیسے اس نے قتل کے وقت رکھی تھی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
Ayahs 85:8–95 یمن میں حمیری خاندان کا ایک بادشاہ ذونواس بڑا متعصب یہودی تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہ بادشاہ بنا اور متعصب یہودی ہونے کی بنا پر عیسائیوں کا سخت دشمن تھا۔ اس دور تک اگرچہ عیسائی مذہب میں بہت سے مشرکانہ عقائد راہ پاگئے تھے۔ تاہم بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو بالکل صحیح عیسائی مذہب پر قائم تھے۔ اور وہ مشرکانہ عقائد کے سخت مخالف اور توحید پرست تھے جس راہب کا مندرجہ بالا حدیث میں ذکر ہے وہ اسی قسم کے صحیح العقیدہ عیسائیوں سے تعلق رکھتا تھا اور ایسے سچے مسلمانوں کو ایذائیں پہنچانے اور خندق میں ڈالنے والے بھی ذونواس اور اس کے کرتا دھرتا درباری لوگ تھے جو عیسائیت کو ہر جائز و ناجائز حربہ سے ختم کرنا چاہتے تھے۔ چناچہ ایمان لانے والوں کے مکمل استیصال کے لیے انہوں نے یہ آگ میں جلا ڈالنے کا حربہ اختیار کیا تھا۔
Ayah 85:106 اگرچہ احادیث میں ان اصحاب الاخدود کے انجام کے متعلق کچھ صراحت مذکور نہیں تاہم مفسرین لکھتے ہیں کہ یہی آگ ان آگ میں جلانے والوں کے کنٹرول سے باہر ہوگئی اور ان کے گھروں تک پہنچ کر ان کے گھروں کو خاکستر کر ڈالا اور یہ بھی ممکن ہے کہ (وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ 10ۭ ) 85 ۔ البروج :10) کا جملہ عذاب جہنم ہی کی صفت کے طور پر مذکور ہوا ہو۔ علاوہ ازیں یہ آیت صرف اصحاب الاخدود سے ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ عام ہے اور اس میں کفار مکہ کو انتباہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ بھی مومن مردوں اور عورتوں کو صرف اس لیے ایذائیں پہنچاتے ہیں کہ وہ ایک اللہ پر ایمان لائے ہیں۔ ان کا بھی یہی انجام ہوگا۔
Ayah 85:117 ساتھ ہی مومن مردوں اور عورتوں کو تسلی دی گئی کہ وہ کفار کی ایذا رسانیوں سے گھبرائیں نہیں۔ ان سے پہلے بھی مومنوں پر بڑے بڑے مصائب ڈھائے جاچکے ہیں۔ ان مصائب کو برداشت کرنے کے عوض انہیں اللہ کے ہاں سے جو باغات اور نعمتیں ملنے والی ہیں۔ جن کے مقابلہ میں اس دنیا کی سب تکلیفیں اور مصیبتیں ہیچ ہیں۔
Ayahs 85:12–138 ایسے مجرموں کو یہ بات خوب ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ گرفت کرنے پر آتا ہے تو یہ گرفت اتنی شدید ہوتی ہے کہ ایسے مجرموں کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ گرفت آتی ضرور ہے خواہ جلد آئے یا بدیر۔ اور اگر کوئی شخص اس دنیا میں ایسی گرفت سے بچ بھی جائے تو آخرت میں کبھی بچ نہیں سکے گا۔
Ayah 85:149 یعنی ایسے مجرموں میں سے بھی اگر کوئی شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دینے والا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے بےحد محبت ہے۔ وہ کسی کو خواہ مخواہ مبتلائے عذاب نہیں کرتا۔ وہ سزا صرف اس وقت دیتا ہے جب کوئی شخص بار بار سمجھانے کے باوجود اللہ سے سرکشی اور بغاوت سے باز نہیں آتا۔
Ayah 85:1510 عرش کا مالک ہونے سے مراد پوری کائنات کا مالک ہونا ہے اس لیے کہ اس کا عرش پوری کائنات کو محیط ہے اور مجید بمعنی شان و شوکت میں بڑا کہہ کر انسان کو اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی ہستی کے مقابلہ میں گستاخانہ رویہ چھوڑ دے ورنہ اسے اس کا بہت برا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 85:16–1711 یعنی پوری کائنات میں کسی کی بھی یہ طاقت نہیں کہ اللہ جس کام کا ارادہ کرلے اس میں وہ مانع یا مزاحم ہوسکے۔
Ayah 85:1812 فرعون کو بھی اپنی سلطنت، حکومت اور لاؤ لشکر پر بڑا گھمنڈ تھا اور قوم ثمود بھی اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھے بیٹھے تھے جنہوں نے اپنے مکانات تک پہاڑوں کے اندر بنا رکھے تھے بلکہ شہروں کے شہر پہاڑوں کے اندر آباد کر رکھے تھے۔ اور کہتے تھے کہ قوت میں ہم سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے ؟ مگر جب ان لوگوں نے گھمنڈ میں آکر اللہ کے مقابلے میں سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے انہیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔
Ayahs 85:19–2113 یعنی ان کفار مکہ کا شغل اور وطیرہ ہی یہ بن گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو آیات نازل ہوتی ہیں یہ انہیں جھٹلانے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ فرعون اور ثمود کے لشکر بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے اور یہ قریش مکہ تو قوت اور جمعیت کے لحاظ سے ان کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ پھر یہ بیچارے آخر کس کھیت کی مولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور کسی وقت بھی انہیں برے انجام سے دوچار کرسکتا ہے۔
Ayah 85:2214 یہ لوگ جس قرآن کو جھٹلانے کے درپے ہو رہے ہیں وہ بڑی بلند شان والا ہے۔ جس کو جھٹلا دینا ان کے بس کا روگ نہیں۔ البتہ اپنی اس حرکت کی پاداش میں یہ خود تباہ ہوسکتے ہیں۔ قرآن کا لکھا ہوا اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی اور ہر طرح کی دستبرد سے، رد و بدل اور ترمیم و تنسیخ سے پاک ہے۔