86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsسراج البیان

Ayah 86:1

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

آسمان کی قسم اور اندھیرا پڑے آنے والے کی قسم

Ayah 86:2

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور تو کیا جانے اندھیرا پڑے آنے والا کیا ہے

Ayah 86:3

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

وہ چمکتا تارا ہے

Ayah 86:4

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

بیشک ہر شخص پر ایک نگہبان مقرر ہے

Ayah 86:5

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

سو چاہئے کہ انسان دیکھے کہ وہ کس شے سے بنایا گیا ہے

Ayah 86:6

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

اچھلتے پانی سے بنایا گیا ہے

Ayahs 86:7–10

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو پیٹھ (یعنی بواسط حرام مغز دماغ) کے بیچ سے اور چھاتیوں (یعنی اعضائے رئیسہ (ف 1) کے بیچ سے نکلتا ہے)

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک وہ اسے پھیر لانے پر قادر ہے

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

جس دن بھید آزمائے جائیں گے

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

سو اس کے لئے نہ طاقت ہوگی نہ مددگار

حشر ونشر پر استدلال 1: قرآن حکیم کے انداز بیان کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ وہ پا افتادہ حقائق کو پیش کرتا ہے اور ان سے علم الٰہی کے نہایت دقیق مسائل کا استنباط کرتا ہے اور بتلاتا ہے کہ اگر تم لوگ کوتاہی نظر سے کام نہ لو تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ فرماتے ہیں ، وہ بالکل درست اور واقعہ ہے ۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ تم یہ روز مرہ دیکھتے ہو کہ وہ چھلکتا ہوا پانی جو بدن کے ہر حصے سے نچڑ کر نکلتا ہے ، وہ بےجان پانی ہوتا ہے مگر ایک جیتے جاگتے انسان کو منصہ شہود پر جلوہ گر کردیتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ حلیم و حکیم خدا نے یہی مناسب اور موزوں سمجھا کہ اس معزز اور مفتخر انسان کو سا طریق اور اس نہج سے پیدا کیا جائے ۔ پھر تمہیں جب اس میں تعجب نہیں ہوتا اور تم کبھی اس حقیقت کا انکار نہیں کرتے کہ محض قطرہ آب ایک انسان کی تخلیق کا باعث ہوسکتا ہے ۔ تو پھر اس میں کیوں تعجب ہے کہ جب وہ چاہے گا تو موت کو زندگی سے بدل دے گا ۔ کیا موت اور حیات کے واقعات روزانہ تمہارے سامنے نہیں ہیں ؟ ایک وقت ضرور آئے گا جب کہ تمام راز ہائے سربستہ امتحان کی کسوٹی پر کسے جائیں گے اور دیکھا جائے گا کہ کون حق وصداقت کے مطابق ہیں اور کون مخالف ۔ پھر جن لوگوں کے متعلق وہ عذاب کا فیصلہ دے گا ۔ دنیا کی کوئی قوت اس کی اعانت نہیں کرسکے گی ۔ حل لغات :۔ الطرق ۔ رات کو آنے والا ۔ نمودار ہونے والا ۔ لما ۔ بمعنی الا ہے ماء دافق ۔ اچھل کر نکلنے والا پانی ۔
Ayahs 86:11–17

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

آسمان (ف 1) مینہ والے کی قسم

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور زمین پھٹنے والے کی قسم

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

کہ یہ قرآن قول فیصل (دوٹوک بات) ہے

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

اور وہ بےفائدہ بات نہیں

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ ایک داؤ میں لگے ہوئے ہیں

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور میں بھی ایک داؤ میں لگا ہوا ہوں

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

تو کافروں کو مہلت دے ، زیادہ نہیں بلکہ انہیں تھوڑے دنوں کی مہلت دے

ف 1: والسماء ذات الرجع سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واشگاف طور پر موجود تھی کہ بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد یہی بخارات ابر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر یہی برستے ہیں ۔ اسی لئے اس کو ذات الرجع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایسے ابر جو اس امانت کو جو انہوں نے سمندروں سے لی ہے ۔ پھر سمندروں کو لوٹا دیتے ہیں ۔ زمین کو بھی تمثیل میں پیش کیا ہے ۔ جس میں سبزیاں نکلتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہہ یہ ہے کہ جس طرح ابر برستا ہے اور کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور جس طرح زمین بوقلمون سبزیوں کو اگلتی ہے ، اسی طرح قرآن فیضان الٰہی ہے اور اس سے دلوں کے کھیت شگفتہ و شاداب ہوجاتے ہیں اور جس طرح بوقلمون سبزیاں زمین سے پھوٹتی ہیں اور انسان ان سے استفادہ کرتا ہے ۔ اسی طرح یہ حق وصداقت کی کونپلیں جن کو قرآن کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے ۔ قلب پیغمبر ﷺ سے پھوٹی ہیں حل لغات :۔ من بین الصلب والترائب ۔ صلب کے معنی پشت کے ہیں اور ترائب سینے کی ہڈیوں کو کہتے ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ سارے بدن سے پانی نچڑ کر نکلتا ہے ۔