At-Taariq 86:13

At-Taariq · from ayah 13

86:13

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ۟ۙاِنَّهٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌۙ

کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the Qur'an is a decisive statement,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taariq

All translations of 86:13

کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ یہ (قرآن) ایک فیصلہ کن بات ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک قرآن ضرور فیصلہ کی بات ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک یہ فیصلہ کن (قطعی) فرمان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ بیشک یہ یقینا ایک دو ٹوک بات ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ وہ (قرآن) حق کو باطل سے الگ کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلاشبہ یہ (قرآن) قطعی طور پر ایک فیصلہ کن کلام ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ یہ (قرآن) ایک قول فیصل ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ یہ کلام حق کو باطل سے جدا کرنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

this (Qur'an) is surely a decisive Word,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

this is a decisive word,

— Muhammad Taqi Usmani

this is a decisive word,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, this is the Word that separates.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! this (Qur'an) is a conclusive word,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the Qur'an is a decisive statement,

— Saheeh International

the Quran is the final word,

— Muhammad Sarwar

Most surely it is a decisive word,

— Muhammad Habib Shakir

Verily, it is a discourse distinguishing.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold this is the Word that distinguishes (Good from Evil):

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 86:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–17

صداقت قرآن کا ذکر رجع کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہوجائیں سورج چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں اے نبی تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24؀) 31۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–14

سورة الطَّارِق 7 یعنی جس طرح آسمان سے بارشوں کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے، اسی طرح قرآن جس چیز کی خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے، یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے، ایک سنجیدہ حقیقت ہے، ایک اٹل قول حق ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–17

انہ لقول فصل، یعنی قرآن کریم ایک فیصلہ کن قول ہے جو حق و باطل میں فیصلہ کرتا ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ قرآن کے متعلق فرمایا کتاب فیہ خبر ما قبلکم وحکم ما بعد کم وھو الفصل لیس بالھزل یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلی امتوں کے حالات واخبار ہیں اور تمہارے بعد آنیوالوں کے لئے احکام ہیں وہ فیصلہ کن قول ہے ہنسی مذاق نہیں۔ تمت سورة الطارق بحمد اللہ تعالیٰ 71 شوال 9131

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

مکذبین قیامت کو تنبیہ: جس طرح سابق سورہ کے آخر میں مکذبین قیامت کو متنبہ فرمایا ہے کہ قرآن کے اس انذار کا مذاق نہ اڑاؤ، یہ لوح محفوظ سے اترا ہوا نہایت برتر کلام ہے، اسی طرح اس سورہ کے آخر میں بھی ایک نئے اسلوب سے آگاہ فرمایا کہ یہ قرآن جس روز حساب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک امرقطعی اور اٹل ہے جس سے تمہیں لازماً سابقہ پیش آنا ہے تو اس کو مذاق کا موضوع نہ بناؤ بلکہ دانش مندی اور عاقبت بینی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو توجہ سے سنو، سمجھو اور آنے والے دن کی تیاری کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کرنے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

3: یعنی اس زمین کی جو پانی برسنے کے بعد کونپل کو باہر نکالنے کے لیے پھٹ پڑتی ہے۔ یہاں بارش اور زمین کے پھٹ پڑنے کی قسم کھانے سے بظاہر یہ اشارہ مقصود ہے کہ بارش کے پانی سے وہی زمین فائدہ اٹھاتی ہے جس میں اگنے کی صلاحیت ہو، اسی طرح قرآن کریم سے وہی شخص فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں حق کو قبول کرنے کی گنجائش ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–14

الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

9 یعنی قرآن اور جو کچھ وہ معاد کے متعلق بیان کرتا ہے، کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں۔ بلکہ حق و باطل اور صدق و کذب کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ اور لاریب وہ سچا کلام اور ایک طے شدہ معاملہ کی خبر دینے والا ہے جو یقینا پیش آکر رہے گا۔ (تنبیہ) قسم کو اس مضمون سے یہ مناسبت ہوئی کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت ہو مالا مال کردیتا ہے جیسے بارش آسمان کی طرف سے آتی ہے اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے۔ نیز قیامت میں ایک غیبی بارش ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے جس طرح یہاں بارش کا پانی گرنے سے مردہ اور بےجان زمین سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–14

آیت 14{ وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ۔ } ”اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔“ جیسے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا : { وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَط } آیت 105 ”اور اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–14

11 یعنی بارش کے بار بار نزول اور زمین سے نباتات کے اگنے کا پیہم عمل یہ ایک مربوط نظام ہے۔ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت اور تمہارے مشاہدہ کی بات ہے۔ اسی طرح قرآن بھی جو حقائق پیش کر رہا ہے اور جسے دو ٹوک فیصلے بتارہا ہے وہ بھی ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ کوئی ہنسی مذاق کی باتیں نہیں ہیں بلکہ انہیں پورا ہو کے رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–13

4۔ قول فیصل حق اور باطل کے باب میں بھی، اور قول فیصل اپنے ثبوت اعجاز کے اعتبار سے بھی .... تاکید اور زور کے موقع پر قسمیں کھانا اسلوب عرب میں عام تھا۔ (آیت) ” ذات الصدع “۔ زمین جو بیج نکلتے وقت شق ہوجاتی ہے، اس کی طرف اشارہ ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ جس طرح بارش آسمان سے آتی ہے، اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے، اس طرح قرآن مجید بھی آسمان ہی سے اترا ہے، اور جس سینہ میں قبول کی قابلیت ہوگی، اسے مالا مال کردے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–14

انہ لقول فصل یہ جواب قسم ہے یعنی کھول کر بیان کرنے والا جس سے حق و باطل میں امتیاز ہوجائے وما ھو بالھزل یعنی جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کو اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے، اسی طرح قرآن خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے اور ایک سنجیدہ حقیقت ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 13) قسم ہے آسمان کی جس سے بار بار بارش ہوتی ہے، اور زمین کی جو نباتات کے لیے پھٹ جاتی ہے یا یہ کہ جو میخوں والی ہے یہ قرآن کریم ایک فیصلہ کردینے والا کلام ہے یا یہ کہ منجانب اللہ ایک حکم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(انہ لقول فصل) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ قرآن قول فصل ہے، اس میں شک نہیں کہ قرآن قول فصل ہے، مگر پچھلی آیت ا اور قسموں کی مناسبت کو مدنظر رکھیں تو یہاں مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ قول فصل سے مراد قیامت بپا کرنے اور انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی بات ہے، یعنی آسمان سے بار بار برسنے والی بارش اور اس کی نمی سے پھٹ کر بیج کو اگا کر باہر لے آنے والی زمین شاہد ہے کہ تمہارے دوبارہ زندہ کئے جانے کی بات دو ٹوک بات ہے۔ قیامت کے دن تم بھی اسی طرح زندہ ہو کر زمین سے نکل آؤ گے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(مابین النفختین اربعون …ثم ینزل اللہ من السماء ماء…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انہ لقول فصل۔ یہ جواب قسم ہے، یعنی قرآن حق اور باطل میں فرق کرتا ہے، کتاب کے مقدمہ میں یہ گزرچکا ہے جسے حارث نے حضرت علی شیر خدا سے روایت نقل کی کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، یہ ایسی کتاب ہے جس میں پہلوں کی خبریں ہیں اور مابعد کا حکم ہے یہ فیصلہ کن ہے ان میں سے کوئی بھی ہنسی مذاق نہیں۔ جبار میں سے جس نے بھی اسے ترک کیا اللہ تعالیٰ اسے توڑ کر رکھ دے گا جس نے کسی اور میں ہدایت کو چاہاتو اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، لقول فصل سے مراد اس سورت میں جو وعید گزری، وہ ہے انہ علی رجعہ لقادر، یوم تبلی السرائر۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–13

5۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے وادیوں کا پھٹ جانا۔ 6۔ ابن مندہ والدیلمی نے معاذ بن انس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے کہ زمین پھٹ جاتی ہے اللہ کی اجازت سے اموال اور نباتات کے ساتھ۔ آسمان سے رزق کا اترنا 7۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت والسماء ذات الرجع۔ کے بارے میں روایت کیا کہ قسم ہے آسمان کی جو ہر سال بندوں کی طرف ان کے رزق کے ساتھ لوٹتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو لوگ بھی اور ان کے مویشی بھی ہلاک ہوجائیں آیت والارض ذات الصدع۔ اور زمین جو نباتات اور پھلوں کے ساتھ پھٹ جاتی ہے جیسے تم دیکھتے ہو آیت انہ لقول فصل۔ یعنی یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انهٗ : بیشک یہ (قرآن)][ لَقَوْلٌ فَصْلٌ : یقینا ایک فیصلہ کن بات ہے ] (آیت۔ 13 ۔ 14) اِنَّہٗ میں ہٗ اور مَاھُوَ میں ھُوَ ، یہ دونوں ضمیریں قرآن مجید کے لیے ہیں۔ فَصْلٌ اور اَلْھَزْلِ ، یہ دونوں قولٌ کی صفت ہیں۔ اَلْھَزْلِ سے پہلے اَلْقَوْلِ محذوف ہے۔ یعنی پورا جملہ یوں ہے وَمَا ھُوَ بِالْقَوْلِ الْھَزْلِ ۔ لَقَوْلٌ فَصْلٌ مرکب توصیفی بن کر اِنَّ کی خبر ہے جبکہ (بِالْقَوْلِ ) الْھَزْلِ مرکب توصیفی پھر مرکب جازی بن کر مَا نافیہ کی خبر ہے۔ اور یہ دونوں خبریں قرآن کے متعلق ہیں۔ (آیت۔ 17) م نوٹ 2: آیات۔ 13 ۔ 14 ۔ کا مطلب یہ کہ یہ قرآن اور جو کچھ وہ قیامت کے متعلق بیان کرتا ہے، کوئی ہنسی مذاق کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–15

﴿اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ0013﴾ (بلاشبہ یہ قرآن ایک کلام ہے فیصلہ دینے والا) اس میں جو کچھ بتایا ہے سب صحیح ہے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ﴿ وَّ مَا هُوَ بالْهَزْلِؕ0014﴾ (اور یہ کوئی لغو چیز نہیں) ۔ ﴿ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًاۙ0015﴾ (بلاشبہ یہ لوگ حق کو دبانے کے لیے قرآن سے خود دور رہنے اور دوسروں کو اس سے دور کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں آپ کو تکلیف بھی دے رہے ہیں مکہ معظمہ آنے والوں کے راستہ میں بیٹھ کر انہیں آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں۔ قرآن کو شعر اور اساطیر الاولین بتاتے ہیں اہل ایمان کو مارتے پیٹتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

6:۔ ” انہ لقول “۔ انہ کی ضمیر کلام مذکور کی طرف راجع ہے جس میں بعث بعد الموت اور جزاء وسزا کا ذکر ہے یعنی یہ دعوی کہ تم سب دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اور اپنے نیک و بد اعمال کی جزاء و سزا پاؤ گے حتمی اور فیصلہ کن بات ہے یہ ہزل اور یا وہ گوئی نہیں واقول و یجوز ان یعود الضمیر فی انہ علی الکلام الذی اخبر فیہ ببعث الانسان یوم القیامۃ وابتلاء سرائرہ ای ان ذلک القول قول جزم مطابق للواقع لاھزل فیہ (بحر ج 8 ص 456) ۔ یا یہ ضمیر قرآن سے کنایہ ہے جس میں مسئلہ توحید، حشر و نشر اور جزاء و سزا کا ذکر ہے (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–17

(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۝ 13 ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] (ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–17

ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–14

وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۔ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۔ وَّمَا ھُوَبِالْھَزْلِ ۔ (الطارق : 11 تا 14) (قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔ اور پھٹ جانے والی زمین کی۔ کہ یہ دوٹوک بات ہے۔ یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں۔ ) قرآن کے قول فیصل ہونے پر آفاقی شہادت رَجْعٌ … اس کے لغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، لیکن مجازاً اس لفظ کا استعمال المطربعدالمطر کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ایسی بارش جو پے درپے ہو، کہ ایک مرتبہ بارش ہو کر ختم ہوجائے اور پھر لوٹے۔ اس لیے اس میں رجع کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ صَدْعٌ … اس کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–17

فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ “ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بےمقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع “ اور زمین کے لیے ” ذَات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (کہ یہ قرآن ایک فیصلہ کردینے والا کلام ہے) ہٗ سے قرآن مجید مراد ہے۔ فصلؔ۔ حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا۔ جیسا کہ اس کا نام فرقان بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔ اور جواب قسم اللہ تعالیٰ کا قول ” انہ “ ہے یعنی قرآن ” لقول فصل “ حق جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–17

11۔ 17۔ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ رجع سے مراد بارش ہے چناچہ حاکم کی روایت میں صحیح سند سے یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ثابت ہوا ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے صحیح 1 ؎ بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد کی روایت سے اس قول کو لیا ہے ترجمہ میں چکر مارنے والا آسمان جو ترجمہ کیا گیا ہے سلف میں سے یہ قول عبد الرحمن بن زید بن اسلم تبع تابعی کا ہے ان عبد الرحمن نے تفسیر کی روایات اپنے باپ زید بن اسلم کوفی سے لی ہیں یہ زید بن اسلم مشہور مفسر اہل مدینہ میں سے ہیں لیکن عبد الرحمن کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے غرض یہ قول پہلے قول کے مرتبہ کا نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(10) قرآن قطعی طور پر ایک فیصلہ کن کلام : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ یہ ایک قطعی اور فیصلہ کن کلام ہے " یہ کوئی ہنسی مذاق والا کلام نہیں، یعنی جس طرح آسمان کا مینہ برسانا، زمین کا پھٹ کر طرح طرح کی پیداواریں نکالنا، کوئی ہنسی مذاق یا فرضی اور خیالی چیز نہیں، بلکہ ٹھوس واقعات اور اٹل و قطعی اور واضح حقائق ہیں، اسی طرح یہ قرآن مجید بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں بلکہ یہ ٹھوس اٹل اور ابدی حقائق و واقعات کا آئینہ دار کلام اکہی اور قانون خداوندی ہے، اور جس روز قیامت سے یہ قرآن دنیا کو آگاہ کر رہا ہے وہ ایک قطعی امر اور اٹل حقیقت ہے۔ جس نے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–17

قرآن کی سچائی اور کامیابی کی خوشخبری تشریح : یہاں آسمان کی یہ ڈیوٹی کہ بارش برساتا ہے اور زمین کا یہ فرض کہ نباتات کو اگاتی ہے (اللہ کے حکم سے) تو یہ دونوں کام ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معمول کا کام ہے مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر عجیب و غریب ' مشکل اور انسان کی قدرت سے باہر کام ہے۔ تو ان دونوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک بڑی محکم ' مقدس اور سچی کتاب ہے اس کا ہر ہر لفظ ہر ہر مضمون اور ہر ہر بات اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے جس طرح تم یہ تمام مظاہر قدرت دیکھ رہے ہو۔ تو اس قرآن حکیم میں دی گئی یہ خبر ہے کہ کفار کی تمام تدبیریں دھری رہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–17

سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی دو ٹوک کلام جس سے حق و باطل الگ الگ ہوجاتے ہیں اور کسی کو دن کے پہچاننے میں دقت نہیں رہتی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(86:13) انہ لقول فصل۔ جملہ جواب قسم ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ (روح المعانی، الخازن ، بیضاوی) ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر اسم ان لقول فصل اس کی خبر، قول فصل موصوف و صفت فصل باطل سے حق کو الگ کرنے والا کلام۔ بلاشبہ یہ (قرآن ) حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–17

لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–17

(ف 4) ان سب کی قسم کہ قرآن قول فیصل وحکم الٰہی ہیے یہ قران باطل و خرافات نہیں یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتلانے اور بدی سے روکنے اور عقبی میں جزا وسزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکروفریب تو ان لوگوں کو قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیرکا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، چناچہ نبی ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت و خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[8] یعنی جس طرح آسمان سے پانی کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کا اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے اسی طرح قرآن کا یہ خبر دینا کہ مرنے کے بعد پھر اپنے اللہ کی طرف لوٹنا ہے کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ اور دوٹوک بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–17

ف 1: والسماء ذات الرجع سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واشگاف طور پر موجود تھی کہ بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد یہی بخارات ابر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر یہی برستے ہیں ۔ اسی لئے اس کو ذات الرجع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایسے ابر جو اس امانت کو جو انہوں نے سمندروں سے لی ہے ۔ پھر سمندروں کو لوٹا دیتے ہیں ۔ زمین کو بھی تمثیل میں پیش کیا ہے ۔ جس میں سبزیاں نکلتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہہ یہ ہے کہ جس طرح ابر برستا ہے اور کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور جس طرح زمین بوقلمون سبزیوں کو اگلتی ہے ، اسی طرح قرآن فیضان الٰہی ہے اور اس سے دلوں کے کھیت شگفتہ و شاداب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–13

ف 4۔ یعنی سب مخفی باتیں از قبیل عقائد باطلہ و نیاة فاسدہ ظاہر ہوجائیں گی اور دنیا میں جس طرح موقع پر جرم سے مکر جاتے ہیں اس کو چھپا لیتے ہیں یہ بات وہاں ممکن نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ قرآن کریم ایک فیصلہ کن کلام ہے 13 ؎ قرآن کریم نے جو نظریات تم کو دیئے ہیں بلا شبہ وہ قول فیصل ہیں ساری دنیا مل کر ان کو جھٹلانا چاہے تو نہیں جھٹلا سکتی جن کا تم بھی بار بار مشاہدہ کرتے رہے تم انجان اور بھولے بننے کی کوشش کرو پھر بھی اس حقیقت سے تم انکار نہیں کرسکتے کیونکہ قرآن کریم نے جن حقائق کو بیان کیا ہے وہ فیصلہ کن حقائق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے قطعی اور اٹل ہوتے ہیں جس چیز کو اس نے حق کہہ دیا ہے بس وہ حق ہی ہے اور جس کو اس نے باطل کہہ دیا ہے وہ باطل ہی ہے۔ زمانہ کے تغیرات اور حالات کے تقاضے قرآن کریم کے حقائق کو الٹ پلٹ نہیں سکتے یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جو ازراہ مذاق محض دل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–17

إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (this is a decisive word..86:13) In other words, the Qur'an is truly a Decisive Word that decides between truth and falsehood, and there is no room for any doubt in it. Sayyidna ` Ali ؓ says that he heard the Holy Prophet ﷺ as saying about the Holy Qur'an: کتاب فیہ خبرما قبلکم و حکم مابعدکم وھو الفصل لیس بلھزل '[ It is ] a book which describes the stories of past communities and [ it contains ] injunctions for future generations. It is truly a Decisive Word. It is no joke.' Alhamdulillah The Commentary on Surah At-Tariq Ends here

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

7 That is, just as the falling of rain froth the sky and the splitting of the earth to put out shoots is no jest but a serious reality, so also the news which the Qur'an gives that ntan has to return to his God is no jest but a definite and decisive reality and an unchangeable truth which has to be fulfilled.

Read the full tafseer →