86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 86:1

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم

1 : وَالسَّمَآ ئِ وَالطَّارِقِ (قسم ہے آسمان کی اور اس چیز کی جو رات کو نمودار ہونے والی ہے۔ )
Ayah 86:2

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے ؟

2 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَاالطَّارِقُ (اور آپ کو کچھ معلوم ہے وہ رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے ؟ )
Ayah 86:3

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

وہ تارا ہے چمکنے والا

یہ آسمان و ستارے کی قسم : 3 : الْنَّجْمُ الثَّاقِبُ (وہ روشن ستارہ ہے) آسمان تمام انسانوں کیلئے معدن رزق اور ملائکہ کا مسکن ہے اس وجہ سے لوگوں کی نگاہ میں اس کی عظمت بہت ہے اسی میں جنت بنائی گئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی لئے آسمان اور ستارے کی قسم اٹھائی ہے۔ مراد نمبر 1۔ اس سے جنس نجوم ہے۔ نمبر 2۔ وہ ستارے جن کے ذریعہ رجم شیاطین کیا جاتا ہے ان کے عظیم الشان فائدہ کے پیش نظر ان کی قسم اٹھائی۔ پھر النجم الثاقب سے اس کی تفسیر فرمائی۔ الثاقب ؔ کا معنی روشن۔ گویا وہ اندھیرے میں سوراخ کر کے اس کے اندر پیوست ہوجاتا ہے اور اس کو الطارقؔ کہا کیونکہ وہ رات کو ظاہر ہوتا ہے اور رات کو آنے والے کو طارق کہتے ہیں۔ اس لئے اس کو طارق کہا۔ نمبر 2۔ طارق کہنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ جنات کو جالگتا ہے کھٹکھٹانے والے کو طارق کہتے ہیں۔
Ayah 86:4

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں

4 : اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ (اور کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی یاد رکھنے والا مقرر نہ ہو) یہ جواب قسم ہے۔ کیونکہ لما باوجودیکہ مشدد ہے۔ مگر الاؔ کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ قراءت عاصم، حمزہ، ابن عامر میں آیا ہے۔ پس ان نافیہ ہوا ای ماکل نفس الا علیھا حافظ کوئی نفس ایسا نہیں جس پر محافظ نہ ہو۔ نمبر 2۔ اگر اِنْ تخفیف کے ساتھ ہو جیسے دیگر قراء کی قراءت میں ہے۔ تو یہ مخففہ من المثقلہ ہے ای ان کل نفس لعلیھاحافظ یحفظھا من الاٰفات۔ ہر نفس پر نگران مقرر ہے جو آفات سے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ نمبر 3۔ اس کے اعمال، رزق اور اجل کی حفاظت کرتا ہے جب پورا کرچکتا ہے تو مرجاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے اعمال کا کاتب فرشتہ مراد ہے۔ نحو : ماؔ زائدہ ‘ لام نافیہ اور ان مخففہ میں فرق کیلئے ہے۔ حافظ ؔ مبتدأ اور علیھاؔ اس کی خبر ہے۔ اور یہ مل کر کل کی خبر ہے۔ اور جو نسی بھی صورت سے ہو قسم کا اس سے جوڑ بن جاتا ہے۔
Ayah 86:5

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

تو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کا ہے سے پیدا ہوا ہے

وہ لکھوائے جو آخرت میں کام آئے : 5 : فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے) جب یہ بات ذکر فرمائی کہ ہر نفس پر ایک نگران مقرر ہے۔ تو انسان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی ابتداء پر غور کرے۔ تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ جو ذات اس کو ایجاد کرنے والی ہے تو وہ اس کے اعادہ پر قدرت بھی رکھتی ہے۔ پس انسان کو یوم جزاء کیلئے عمل کرنا چاہیے اسے اپنے نگران کو وہ کچھ لکھوانا چاہیے جو آخرت میں اس کو خوش کر دے۔ مم خلقؔ استفہام ہے۔ ای من ای شیٔ خلق ؟ کس چیز سے اس کو بنایا۔
Ayah 86:6

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

6 : خُلِقَ مِنْ مَّآ ئٍ دَافِقٍ (وہ ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا) یہ استفہام سابق کا جواب ہے۔ الدفقؔ۔ دفعۃً بہنا۔ یکدم بہنا۔ دافق تو اصل میں صاحب ماء ہے مگر پانی کی طرف مجازاً نسبت کردی۔ گویا اسم فاعل بمعنی مفعول ہے۔ بعض اہل لغت : کہتے ہیں : یہ دفقت الماء دفقًا میں نے پانی بہایا۔ دفق الماء بنفسہٖ پانی خود بہنے لگا۔ اس لحاظ سے نسبت حقیقی ہوئی۔ نکتہ : یہاں ایک ہی پانی فرمایا۔ ماء ین نہیں فرمایا کیونکہ ماں کے رحم میں دونوں مل جاتے ہیں۔ اور جب ابتدائی تخلیق ہوتی ہے تو ایک ہوجاتے ہیں۔
Ayah 86:7

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے

7 : یَّخْرُجُ مِنْم بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآپبِ (جو پشت و سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے) یعنی آدمی کی پشت اور عورت کے سینہ سے۔ ترائبؔ : سینہ کی ہڈیاں جہاں ہار ڈالا جاتا ہے۔ ایک قول : یہ ہے ہڈیاں اور پٹھے مرد کے پانی سے اور گوشت و خون عورت کے پانی سے۔
Ayah 86:8

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے) پر قادر ہے

8 : اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ (وہ اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے) ہٗ کی ضمیر خالق کی طرف ہے۔ کیونکہ خلق خالق کی دلیل ہے۔ معنی یہ ہے : بیشک وہ ذات جس نے ابتداء ًانسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ علی رجعہٖؔ اس کے اعادہ پر خاص طور پر لقادرؔ ضرور قدرت رکھتا ہے تاکہ اس کی قدرت تم پر واضح ہوجائے۔ اور وہ اس سے عاجز نہیں ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ اِنَّنِیْ لفقیر۔
Ayah 86:9

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

9 : یَوْمَ تُبْلٰی السَّرَآ ئِرُ (جس روز سب کی قلعی کھل جائے گی) یومؔ یہ رجعہٖ کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اس فعل مضمر کی وجہ سے جس پر رجعہ دلالت کرتا ہے۔ ای مبعثہٗ ۔ تبلی کا معنی ظاہر کرنا ‘ کھول دیا جانا۔ السرائر ؔ دلوں میں چھپے عقائد اور نیات اور مخفی اعمال۔
Ayah 86:10

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہوگا

10 : فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّ لَانَاصِرٍ (پھر اس انسان کو نہ تو خود قوت ہوگی اور نہ کوئی اس کا حمایتی ہوگا) لَہٗ سے مراد انسان کیلئے من قوۃ ؔ اس کی ذات میں کوئی قوت جو آئی مصیبت کو ٹال سکے۔ ولا ناصرؔ ایسا مددگار جو مدد کر کے اس سے یہ مصیبت ہٹا سکے۔
Ayah 86:11

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے

11 : وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ (اور قسم ہے آسمان کی جس سے بارش ہوتی ہے) الرجعؔ بارش۔ اس کو رجع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بار بار لوٹتی ہے۔
Ayah 86:12

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے

12 : وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (اور زمین کی جو پھٹ جاتی ہے) وہ زمین جس میں نبات کی وجہ سے شگاف پڑجاتا ہے۔
Ayah 86:13

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے۔

13 : اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (کہ یہ قرآن ایک فیصلہ کردینے والا کلام ہے) ہٗ سے قرآن مجید مراد ہے۔ فصلؔ۔ حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا۔ جیسا کہ اس کا نام فرقان بھی ہے۔
Ayah 86:14

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

اور بیہودہ بات نہیں

14 : وَّمَا ھُوَ بِالْھَزْلِ ( اور وہ کوئی لغو چیز نہیں ہے) الھزلؔ : کھیل، باطل، بلاشبہ قرآن مجید تمام کا تمام وقار والی باتیں ہیں۔ اور اس کا حق بھی یہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ تعریف فرمائی ہے۔ کہ وہ دلوں میں ہیبت پیدا کرنے والا ہے۔ دلوں میں قابل تعظیم ہے۔ اس کا پڑھنے اور سننے والا سننے کے وقت دل لگی اور مزاح میں مبتلا ہونے سے باز رہے۔
Ayah 86:15

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں

قرآن باوقار باتیں : 15 : اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا (یہ لوگ طرح طرح کی تدبیریں کررہے ہیں) ھمؔ سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ یکیدون کیدًا اللہ تعالیٰ کے اوامر کو باطل کرنے کیلئے جو مختلف تدبیر کرتے ہیں اور اس نور حق کو بجھانے کی کوشش میں ہیں۔
Ayah 86:16

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں

16 : وَّ اَکِیْدُ کَیْدًا (اور میں بھی طرح طرح کی تدبیریں کر رہا ہوں) میں ان کے کید کا بدلہ اپنی طرف سے استدراج کے انداز سے دونگا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ یہاں جزائے کید کو خود کیدؔ کہہ دیا گیا۔ جیسا کہ جزائے اعتداء اور سیئہ کو اعتداء و سیئہ کہہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اعتداء و سیئہ نہیں ہوتی اس وصف کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر درست نہیں۔ مگر بطور جزاء کے جیسا کہ قول نسوا اللہ فنسیہم ] التوبہ : 67[ یخادعون اللہ وھو خادعھم ] النساء : 142[ اللہ یستہزأ بہم ] البقرہ : 15[ کہ ان تمام آیات میں جزائے فعل کو اصل فعل سے تعبیر کردیا گیا ہے۔
Ayah 86:17

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

تو تم کافروں کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو ۔

17 : فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْھِلْہُمْ رُوَیْدًا (تو آپ ان کافروں کو یونہی رہنے دیجئے۔ ان کو تھوڑے دنوں رہنے دیجئے) فمھل الکافرین ان کی ہلاکت کی دعا نہ کریں اور نہ ان کے سلسلے میں جلد بازی کریں۔ امھلھم ان کو مہلت دیں۔ یہ لفظ دوبارہ لائے تاکہ تسکین و تصبیر زیادہ ہو۔ رویدًا مہلت دینا معمولی۔ یہ لفظ چھوٹائی کو ظاہر کرنے کیلئے بولا جاتا ہے۔ یہ رادت الریح ترود رودًاسے ہے۔ جس کا معنی ہوا آہستہ آہستہ چلی۔