Ayah 85:11 : وَالسَّمَآ ئِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ (قسم ہے برجوں والے آسمان کی) وہ برج بارہ ہیں۔
ایک قول :
یہ ہے اس سے ستارے مراد ہیں۔ نمبر 2۔ بڑے ستارے مراد ہیں۔
Ayah 85:22 : وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ (اور وعدہ کیے ہوئے دن کی) وعدہ کے دن سے قیامت کا دن مراد ہے۔
Ayah 85:3شاہد و مشہود :
3 : وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ (اور حاضرہونے والے کی اور جس میں حاضری ہوئی ہے) اور اس دن میں حاضر ہونے والے کی قسم اور مشہودؔ جس میں حاضری ہوئی ہے شاہد سے وہ تمام مخلوق مراد ہے جو اس میں حاضر ہوگی اور مشہود فیہؔ سے اس دن کے عجائبات مراد ہیں جو پیش آئیں گے۔ ان دونوں کو نکرہ یا تو اسی طریق سے لائے جیسا علمت نفس ما احضرت میں گویا اس طرح کہا گیا وما افرطت کثرتہ من شاہد و مشہود۔ نمبر 2۔ یا پھر وصف میں ابہام کے لئے نکرہ لائے گویا اس طرح کہا گیا اور قسم ہے شاہدو مشہود کی جن کی حقیقت بیان میں نہیں آسکتی۔ مفسرین کے اقوال اس سلسلہ میں کثرت سے وارد ہیں۔ نمبر 1۔ حضرت محمد ﷺ اور قیامت کا دن نمبر 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نمبر 3۔ امت محمد ﷺ اور تمام امتیں۔ نمبر 4۔ حجر اسود اور حج۔ نمبر 5۔ دن اور راتیں اور اولاد آدم اس حدیث کی بناء جس کو دیلمی نے 6160 میں روایت کیا۔ ہر روز یہ آواز دی جاتی ہے میں نیا دن ہوں۔ اور جو مجھ میں کیا جائے گا وہ گواہ ہے۔ پس تم مجھے غنیمت جانو ! نمبر 6۔ حفاظتی فرشتے اور اولاد آدم (علیہ السلام) نمبر 7۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کفی باللہ شھیدا ] الفتح : 28[ نمبر 8 انبیاء (علیہم السلام) اور محمد علیہ السلام۔ قسم کا جواب محذوف ہے جس پر قتل اصحب الاخدود دلالت کرتا ہے۔ ای لعن گویا اس طرح کہا گیا مجھے ان چیزوں کی قسم ہے کہ وہ ملعون ہیں یعنی کفار ِقریش جیسا اصحاب اخدود ملعون ہوئے۔
Ayah 85:4واقعہ راہب و غلام :
4 : قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ (خندق والے ملعون ہوئے) الاخدود جمع خدٌ کی ہے زمین میں بڑے گڑھے کو کہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ایک بادشاہ کے ہاں ایک جادوگر تھا۔ جب وہ بوڑھا ہوا تو ایک لڑکا اس کے ساتھ ملا دیا۔ تاکہ وہ اپنا جادو اس کو سکھلا دے۔ اس لڑکے کی راہ گزر پر ایک راہب کا جھونپڑا تھا۔ اس نے راہب کی باتیں سن پائیں۔ ایک دن اس نے اپنے راستہ میں ایک جانور پایا جس نے لوگوں کا راستہ بند کردیا تھا لڑکے نے ایک پتھر لیا اور کہا اللھم ان کان الراھب احب الیک من الساحر فاقتلھا۔ چناچہ وہ جانور اس پتھر سے ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد وہ غلام مادر زاد اندھوں کی آنکھیں اور کوڑھیوں کو درست کرنے لگا۔ بادشاہ کا ہم مجلس اندھا ہوچکا تھا۔ اس کو بھی شفاء مل گئی۔ بادشاہ نے اس کو صحیح سالم پایا تو پوچھا۔ تیری آنکھوں کی بصارت کس نے واپس کی تو اس نے کہا میرے رب نے بادشاہ ناراض ہوا اور اس کو سزادی۔ دوران سزا اس نے لڑکے کے متعلق بتلادیا۔ لڑکے کو سزا دی تو اس نے راہب کی اطلاع دی۔ راہب کو دین سے لوٹ جانے کا کہا گیا مگر وہ نہ لوٹا۔ بادشاہ نے اس کو آرے سے دو ٹکڑے کردیا۔ لڑکے نے مذہب چھوڑنے سے انکار کیا۔ تو اس کو پہاڑ پرلے جایا گیا تاکہ چوٹی سے نیچے پھینک دیاجائے۔ لڑکے نے دعا کی۔ زلزلہ آیا وہ تمام تباہ اور یہ بچ کر آگیا۔ پھر وہ ایک بڑی کشتی میں بٹھا کر سمندر میں غرق کرنے گئے۔ اس نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی۔ کشتی الٹ گئی جس سے وہ تمام ڈوب مرے اور لڑکا بچ کر آگیا۔ اس نے بادشاہ کو کہہ دیا۔ تو مجھے قتل نہیں کرسکتا یہاں تک کہ تو ایک میدان میں لوگوں کو جمع کر اور مجھے ایک اونچے کھجور کے تنے پر سولی دو ۔ اور میرے تھیلے میں سے ایک تیر لے کر اس طرح کہو۔ بسم اللّٰہ رب الغلام۔ پھر تیرچلا دو ۔ بادشاہ نے اسی طرح کردیا۔ اس کو تیر مار دیا وہ اس کی کنپٹی میں لگا۔ لڑکے نے کنپٹی پر اپنا ہاتھ رکھا اور مرگیا۔ لوگوں نے کہا ہم لڑکے کے رب پر ایمان لائے بادشاہ کو کہا گیا جس بات کا تجھے خطرہ تھا وہ واقع ہوگئی۔ بادشاہ نے بہت سی خندقیں کھدوائیں۔ اور ان کو آگ سے پر کیا اور اعلان کیا جو اقرار رب العالمین سے انکار نہ کرے اس کو آگ میں جھونک دو ۔ یہاں تک کہ ایک عورت بچے سمیت آئی۔ وہ آگ میں گرنے سے ہچکچائی بچہ بول اٹھا۔ یا اماہ ! اصبری انک علی الحق چناچہ بچے کو ماں سمیت آگ میں ڈال دیا گیا۔ ] مسلم : 3005، احمد : 1/5/13[۔
Ayah 85:55 : النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ (بہت سے ایندھن کی آگ والے)
نحو : یہ الاخدود سے بدل الاشتمال ہے۔
ذات الوقودؔ یہ النار کی صفت ہے کیونکہ وہ بہت بڑی آگ تھی۔ زیادہ لکڑیاں ڈالنے اور لوگوں کے ابدان سے بہت بلند لپٹ مارنے والی تھی۔
Ayah 85:66 : اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ (جس وقت وہ لوگ آگ کے آس پاس بیٹھے تھے) اذؔ یہ قتل کا ظرف ہے وہ ملعون ہوئے جب انہوں نے آگ سے ایمان والوں کو جلا دیا۔ اس حال میں کہ وہ آگ کے کنارے پر بیٹھے تھے۔ ہم علیھاؔ وہ کفار خندقوں کے کناروں کے قریب کر سیاں ڈالے بیٹھے تھے۔
Ayah 85:77 : وَّھُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدٌ (اور وہ جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے) ھمؔ سے کفار مراد ہیں۔ ما یفعلون سے جلانے والا فعل۔ شہودؔ وہ ایک دوسرے پر بادشاہ کے ہاں گواہی دے رہے تھے کہ جو اس کو حکم ملا ہے۔ اس نے اس کے نفاذ میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اور جن کو سزا دینا اس کے ذمہ کیا گیا تھا اس نے اس میں کمی نہیں کی۔
نصیحت :
اس میں ایمان والوں کو صبر کی تلقین اور اہل مکہ کی طرف سے آنے والی تکالیف برداشت کرنے کیلئے آمادہ کیا جارہا ہے۔
Ayah 85:8انتقام کا سبب ایمان باللہ :
8 : وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّآاَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ (اور ان کافروں نے ان مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہ پایا تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے) ان کی ناپسندیدہ بات اور بڑا عیب مسلمانوں کے متعلق ایمان باللہ تھا۔ جیسا کہ شاعر کے اس قول میں ہے۔
لا عیب فیھم غیران سیوفھم
وما نقموا من بنی امیہ اِلَّا انہم یحلمون ان غضبوا
ان کی ناراضگی بنو امیہ سے صرف اسی بناء پر ہے کہ وہ غصہ کے وقت حلم سے کام لیتے ہیں۔
قراءت : نقِموا کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا۔ زیادہ فصیح فتحہ ہے۔ باللہ العزیز الحمید۔ ان صفات باری تعالیٰ کا ذکر کیا گیا۔ جن کی وجہ سے وہ ایمان لانے کا حقدار ہے اور وہ اس کا عزیز، یعنی غالب اور قادر ہونا ہے کہ جس کی سزاکا خطرہ ہو۔ اور الحمید حمد والا انعام والا ہونا ہے کہ جس کی نعمتوں پر حمد ضروری اور اس کے ثواب کی امید لازم ہے۔
Ayah 85:99 : الَّذِیْ لَہٗ ملْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ (ایسی ذات ہے کہ اسی کی سلطنت ہے آسمانوں او زمین کی۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے) آسمانوں و زمین کے ہر رہنے والے پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور بار بار اسی کے سامنے جھکیں کیونکہ جس بات پر وہ ناراض ہوتے ہیں وہ ایسا حق ہے جس پر باطل پرست ہی ناراض ہوسکتا ہے۔ جو لوگ حق پر ناراض ہونے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے عذاب کے ذریعہ انتقام کے حقدار ہیں۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ یہ کفار کو وعید سنائی گئی یعنی اس کو ان کا فعل معلوم ہے وہ ان کو اس پر بدلہ دے گا۔
Ayah 85:1010 : اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (جنہوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو تکلیف دی) الذین فتنواؔ سے صرف اصحاب اخدود مراد ہوسکتے ہیں۔ اور الذین ٰامنوا سے وہ لوگ جن کو آگ میں ڈالا گیا۔ فتنواؔ کا معنی آگ میں جلانا اور آگ کے ذریعہ سزا دینا مراد ہے۔ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا (پھرتوبہ نہیں کی) وہ اپنے کفر سے نہیں لوٹے۔ فَلَھُمْ (ان کے لئے) آخرت میں عَذَابُ جَھَنَّمَ (جہنم کا عذاب) ان کے کفر کے باعث ملے گا وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ( اور ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے) دنیا میں اس لئے کہ مروی ہے کہ وہ آگ ان پر پلٹ پڑی اور ان سب کو خاکستر کردیا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ الذین فتنوا المؤمنین یعنی ان کو علی العموم ایذاء کے ذریعہ آزمانے والے۔ اور المؤمنین سے مفتونین و مظلومین اور فتنہ میں ڈالنے والے آخرت میں دو عذابوں کے مستحق ہونگے۔ نمبر 1۔ کفر کا عذاب۔ نمبر 2۔ ایمان کو فتنہ میں ڈالنے کا عذاب۔
Ayah 85:11جنت بڑی کامیابی :
1 1 : اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی۔ یہ بڑی کا میابی ہے) اس سے وہ ایمان والے مراد ہیں جنہوں نے اصحاب اخدود کی تکالیف و ایذاء رسانی پر صبر کیا۔ نمبر 2۔ عام مراد ہے ہر زمانہ کے مسلمان مراد ہیں۔
Ayah 85:1212 : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ (آپ کے رب کی داروگیربڑی سخت ہے) البطشؔ سختی سے پکڑنا۔ جب شدت کو اس کا وصف بنائیں تو اس کے معنی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں اور جابروں کو عذاب و انتقام سے پکڑتا ہے۔
Ayah 85:1313 : اِنَّہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَ یُعِیْدُ (وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور دوبارہ اعادہ کرے گا) ابتداء ً سب کو پیدا کرتا ہے پھر مٹی بنانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو شدت بطش کے ساتھ ساتھ ابداء و اعادہ پر کامل قدرت حاصل ہے۔ نمبر 2۔ کفار کو اس میں ڈرایا گیا ہے کہ وہ ان کا اسی طرح اعادہ کرے گا جیسا ان کو ابتداء ً پیدا فرمایا۔ تاکہ ان کو پکڑے اسلئے کہ انہوں نے ایجاد کی نعمت کی ناشکری کی اور اعادہ کی تکذیب کی۔
Ayah 85:1414 : وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ (وہ بڑا بخشنے والا بڑی محبت کرنے والا ہے) تمام عیوب کو ستاریت کے پردہ سے چھپانے والا اور الودود یعنی اپنے اولیاء سے محبت کرنے والا ہے۔
ایک قول :
یہ ہے وہ اپنے اولیاء اور نیک بندوں سے وہ سلوک کرنے والا ہے جیسا محبت کرنے والا اپنے متعلقین کو جو چاہے عطاء کرتا ہے۔
Ayah 85:1515 : ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ (عرش کا مالک عظمت والا ہے)
قراءت : حمزہ اور علی نے اس کو عرش کی صفت قرار دے کر مکسور پڑھا ہے۔ مجد اللہؔ کا مطلب اس کی عظمت ہے اور مجد العرشؔ سے اس کی بلندی اور بڑائی مراد ہے۔
Ayah 85:1616 : فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (وہ جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے)
نحو : یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ یرید ؔ سے مرادجو بنانا چاہے وہ ہوجاتا ہے۔ اس میں افعال عباد کے پیدا کرنے پر بھی دلالت موجود ہے۔
Ayah 85:1717 : ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ (کیا آپ کو ان لشکروں کا قصہ پہنچا ہے) حدیث سے یہاں ان تمام اقوام طاغیہ کی خبریں مراد ہیں جو گزشتہ زمانوں میں ہوئیں۔
Ayah 85:1818 : فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ (یعنی فرعون اور ثمود کا) الجنودؔ سے بدل ہے۔ فرعون سے فرعون اور اس کے حامی تمامی مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے تمہیں ان کے بارے میں معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور تکذیب کی وجہ سے ان پر کیا اترا اور انجام کیا ہوا۔
Ayah 85:1919 : بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ (بلکہ کافر تکذیب میں ہیں) الذین کفروا سے کفار قریش مراد ہیں۔ یعنی یہ کفار فی تکذیبؔ تکذیب میں مبتلا ہو کر عذاب کو اپنے لئے لازم کررہے ہیں۔ اور ان سابقہ اقوام سے کچھ عبرت نہیں لیتے۔ اس بناء پر نہیں کہ ان اقوام کے حالات پورے طور پر ان کے سامنے نہیں بلکہ وہ عناد و ضد کی وجہ سے آپ کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔
Ayah 85:2020 : وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآ ئِہِمْ مُّحِیْطٌ (اللہ تعالیٰ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے) ان کے حالات سے باخبر ہے۔ اور ان پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے احاطہ من وراء ھم یہ ایک تمثیل ہے جس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کبھی باہر نہیں ہوئے جیسا کہ وہ شخص جو کسی چیز پر قابو رکھتا ہو وہ چیز اس کے قابو میں ہوتی ہے۔ (باقی اللہ تعالیٰ کی گرفت و علم ذاتی ہے، جو بلا کیف ہے)
Ayah 85:2121 : بَلْ ھُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ (بلکہ وہ ایک باعظمت قرآن ہے) ھوؔ سے قرآن مجید کی طرف اشارہ ہے کہ جس کو انہوں نے جھٹلایا وہ قرآن مَّجِیْدٌ شرف والا ہے۔ کتابوں میں اعلیٰ طبقہ والا ہے اپنے نظم میں بےمثل اور اعجاز میں بےمثال ہے۔ اس طرح نہیں جس طرح کفار کا خیال ہے کہ اس کو گھڑ لیا گیا ہے اور یہ پہلے لوگوں کے خیالاتی قصے ہیں۔
Ayah 85:22عظمت قرآن :
22 : فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (جو لوح محفوظ میں ہے) جو لوح شیاطین کی پہنچ سے محفوظ ہے۔
قراءت : نافع نے اس کو قرآن کی صفت قرار دیا۔ اور مضموم پڑھا ہے یعنی یہ قرآن تغیر و تبدل سے پاک ہے۔
قولِ حسن (رح) :
ایک ایسی چیز ہے جو فرشتوں کے سامنے چمکتی ہے پس وہ اس کو پڑھتے ہیں۔
قولِ ابن عباس ؓ :
یہ سفید موتی سے بنی ہے۔ اس کی طولانی آسمان و زمین کے مابین کا فاصلہ ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے مابین فاصلہ کے برابر ہے۔ اس کا قلم نور کا ہے اس میں ہر چیز لکھی ہے۔
قولِ مقاتل :
یہ عرش کے دائیں جانب ہے۔
ایک قول :
یہ ہے اس کا بالائی حصہ عرش سے معلق ہے۔ اور اس کا نچلا حصہ ایک معزز فرشتے کی گود میں ہے۔