Ayahs 86:1–3ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے آسمان کی اور اس چیز کی جو رات کو نمودار ہونے والی ہے طارق اصل میں رات میں ہر آنے والے کو کہتے ہیں اور اسی میں ستارے ہیں اس لئے کہ یہ بھی رات ہی کو طلوع ہوتے ہیں، اور آپ ﷺ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ رات کو نمودار ہونے والیچیز کیا ہے ؟ (ما الطارق) مبتداء اور خبر ہیں جو کہ ادری کے مفعول ثانی کے محل میں ہے اور پہلے ما کا مابعد اس کی خبر ہے اور اس میں طارق کی شان کی تعظیم ہے جس کی مابعد کے ذریعہ تفسیر کی گئی ہے (اور طارق) روشن ثریا یا ہر روشن ستارہ ہے جو اپنی روشنی کے ذریعہ تاریکی کو پھاڑنے کی وجہ سے ثاقب کہلاتا ہے اور جواب قسم محذوف ہے، کوئی جان ایسی نہیں کہ جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو، ما کی تخفیف کے ساتھ، سو وہ زائدہ ہے اور ان ثقلیہ سے مخففہ ہے اور اس اسم محذوف ہے ای انہ اور لام (مخففہ اور نافیہ) کے درمیان فارقہ ہے اور لما تشدید کے ساتھ بھی ہے سو ان نافیہ ہے اور لما بمعنی الا ہے اور نگرانی کرنے والے فرشتے ہیں جو کہ ہر نفس کے اچھے برے عمل کی نگرانی کرتے ہیں پھر ذرا انسان اسی پر عبرت کی نظر کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اس کا جواب خلق من ماء دافق ہے (یعنی) مرد اور عورت کے رحم میں اچھلنے والی پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کی پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے اور ترائب سینے کی ہڈیوں کو کہتے ہیں، یقینا اللہ تعالیٰ انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے پس جب انسان اپنی اصل میں نظر عبرت سے غور کرے گا تو یہ بات سمجھ لے گا کہ جو ذات اس (ابتداء تخلیق) پر قادر ہے وہ اس کے اعادہ پر بھی قادر ہے، جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی اور ظاہر کئے جائیں گے، یعنی عقیدے اور نیتوں کے بارے میں دلوں کے مخفی رازوں کی (جانچ پڑتال ہوگی) تو اس وقت اس منکر بعث کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا کہ جس کے ذریعہ عذاب سے بچ سکے اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا جو اس کا دفاع کرسکے اور قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی مطر کو رجع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بار بار رجوع کرتی ہے اور شگاف والی زمین کی یعنی وہ شگاف جو نباتات کے نکلنے سے ہوتے ہیں بلاشبہ یہ قرآن ایک قول حاصل ہے، (جو) حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے یعنی لہو و لعب اور باطل نہیں ہے، یہ کفار کچھ چالیں چل رہے ہیں یعنی نبی ﷺ کے ساتھ مکر کر رہے ہیں اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں، یعنی انکو ڈھیل دے رہا ہوں اس طریقہ پر کہ وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں پس اے محمد ﷺ ان کافروں کو چھوڑ دو امھلھم تاکید ہے لفظی الفت نے اس میں حسن پیدا کردیا ہے یعنی ان کو کچھ وقت مہلت دیجیے (رویدا) معنی عامل کے لئے مئوکد ہے اور روداً حذف زوائد کے ساتھ ارود کا مصغر ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدر میں پکڑ لیا، اور مہلت آیت سیف سے سوخ ہوگئی، یعنی قتال و جہاد کے حکم سے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اصلہ کل آت لیلاً ، طارق، طارق لغت میں کھٹکھٹانے والے کو کہتے ہیں رات میں آنے والے کو اسی لئے طارق کہتے ہیں کہ وہ بھی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، پھر اس میں وسعت کر کے رات میں ہر ظاہر ہونے والی چیز پر الاق ہونے لگا، پھر اس میں بھی توسیع دے کر مطلقاً ظاہر ہونے والی چیز کو کہا جانے لگا خواہ دن میں ظاہر ہو یا رات میں، اسی سے یہ حدیث ہے ” اعوذ بک من شر طارق اللیل و النھار الا طارقاً یطرق بخیریا رحمٰن “
قولہ : وما ادرک استفہام انکاری ہے اور ما الطارق میں استفہام تعظیم و تضحیم کے لئے ہے۔
قولہ : النجم، ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے اور یہ اس ابہام کی تفسیر بھی ہے جو استفہام سے پیدا ہوا ہے۔
قولہ : الثریا اور کل نجم یہ النجم کی تفسیر کے تین اقوال میں سے دو ہیں تیسرا قول زحل کا ہے اور زحل کا مقام ساتواں آسمان ہے زحل آسمان کی خوبصورت ترین چیزوں میں سے ہے۔
قولہ : ان کل نفس الخ جواب قسم یہ، قسم اور جواب قسم کے درمیان وما ادرک الخ جملہ معترضہ ہے جو کہ مقسم بہ کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔
قولہ : بتخفیف ما، لما میں دو قراءتیں ہیں اول ما کی تخفیف کے ساتھ زائدہ اس صورت میں ان مخففہ عن الثقلیہ ہوگا اور اس کا اسم محذوف ہوگا، ای انہ اور لما کالام ان مخففہ اور نافیہ کے درمیان فارقہ ہوگا۔
قولہ : بتشدیدھا یہ لما کی دوسری قرأت کا بیان ہے اس صورت میں لما مشدد بمعنی الا ہوگا اور ان نافیہ ہوگا۔
قولہ : ذی اندفاق یہ دافق کی تفسیر ہے اس تفسیر کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ دافق اس فالع برائے نسبت ہے جیسا کہ لابن دودھ فروخت کرنے والا، تامر تمر فروخت کرین والا، دافق اچھلنے والا
قولہ : فی رحمھا یہ دافق سے متعلق ہے، مطلب یہ ہے کہ مرد کے نطفہ کا اندفاق، رحم مادر میں ہوتا ہے اور عورت کے نطفہ کا آلہ اندفاق تو رحم کے اندر ہوتا ہے اس طرح مرد اور عورت دونوں کے نطفہ کا اندفاق رحم ہی میں ہوتا ہے۔
قولہ : من بین الصلب میں بین زائدہ ہے اس لئے کہ بین کا استعمال متعدد میں ہوتا ہے اور صلب میں تعدد نہیں ہے الایہ کہ صلب سے مراد جزاء صلب ہوں تو تعدد کی صورت ہوسکتی ہے۔
قولہ : انہ لقول فصل، فصل بمعنی فاصل ہے یہ والسماء ذات الرجع الخ کا جواب قسم ہے۔
قولہ : تاکید حسنہ مخالفۃ اللفظ یعنی امھلھم، فمھل کی تاکید ہے مئوکد اور موکد کے درمیان لفظی اختلاف نے ایک قسم کا حسن پیدا کردیا ہے اور وہ اختلاف یہ ہے کہ مئوکد یعنی فمھل میں اسناد اسم ظاہر یعنی کافرین کی طرف ہے اور موکد یعنی امھلھم میں ضمیر ھم کی جانب ہے اس اختلاف سے افادہ جدید ہوا جو کہ حکم میں تاسیس کے ہے اور تاسیس تاکید سے بہتر ہے، اور مئوکد ومئوکد میں صیغہ کے اعتبار سے بھی اختلاف ہے یہ اختلاف بھی عبارت کے تنوع پر دلالت کرتا ہے جو کہ مطلوب ہے۔
قولہ : علی الترخیم اس کا تعلق اراداً سے ہے، اور رویدا ارواداً کی تصغیر ہے حذف زوائد کے بعد، امہال کا حکم جہاد کے حکم سے منسوخ ہوگیا۔
تفسیر و تشریح
والسماء و الطارق اس سورت میں حق تعالیٰ نے آسمان اور ستاروں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ ہر انسان پر محافظ اور نگران مقرر ہے جو اس کے تمام حرکات و سکنات وا فعال کو دیکھتا اور لکھتا ہے اور یہ لکھنا اور محفوظ کرنا حساب کے لئے جو قیامت کے دن ہوگا اس لئے عقل کا تقاضا ہے کہ انسان کبھی آخرت کی فکر سے غافل نہ ہو۔
حضرت خالد عدوانی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے بازار میں کمان یا لاٹھی کے سہارے کھڑے دیکھا آپ ﷺ میرے پاس مدد حاصل کرنے آئے تھے، میں نے وہاں آپ ﷺ سے سورة طارق سنی اور میں نے اسے یاد کرلیا حالانکہ میں ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا پھر مجھے اللہ نے ایمان کی دولت سے نواز دیا۔ (مسند احمد، مجمع الزوائد)
طارق سے کیا مراد ہے ؟ خود قرآن نے واضح کردیا کہ روشن ستارہ مراد ہے، طارق طروق سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی کھٹکھٹانے کے ہیں، رات میں آنے والے کو بھی طارق کہتے ہیں اس لئے کہ وہ بھی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ستاروں کو بھی اسی لئے طارق کہتے ہیں کہ وہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو نمودار ہوتے ہیں۔
Ayahs 86:4–5ان کل نفس لما علیھا حافظ یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے محافظ اور نگران مقرر ہیں اور وہ فرشتے ہیں جیسا کہ سورة رعد کی آیت 11 سے معلوم ہوتا ہے اور بع مفسرین نے حافظ سے مراد خود اللہ تعالیٰ کو لیا ہے۔
Ayah 86:6خلق من ماء دافق یعنی انسان کو ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے انسان کا مادہ تولید مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے خارج ہوتا ہے اور یہ مادہ انسان کے ہر عضو سے نکل کر یہاں جمع ہوتا ہے لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Ayahs 86:7–10یخرج من بین الصلب و الترائب ” صلب “ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں اور ترائب، تریبۃ کی جمع ہے سینے کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں ہار پہنا جاتا ہے، انسان کا مادہ تولید اس حصہ سے نکلتا ہے جو صلب اور سینے کے درمیان واقع ہے۔
Ayahs 86:11–12والسماء ذات الرجع، رجع کے لغوی معنی لوٹنا، پلٹنا کے ہیں، بارش کو رجع اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹ کر بار بار آی ہے۔
Ayahs 86:13–14انہ لقول فصل یہ جواب قسم ہے یعنی کھول کر بیان کرنے والا جس سے حق و باطل میں امتیاز ہوجائے وما ھو بالھزل یعنی جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کو اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے، اسی طرح قرآن خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے اور ایک سنجیدہ حقیقت ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔
Ayahs 86:15–17انھم یکیدون کیداً یعنی یہ کفار قرآنی دعوت کو شکست دینے کے لئے طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں، اپنی پھونکوں سے اس چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں، ہر قسم کے شبہات لوگوں کے دلوں میں ڈال رہے ہیں، ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر اس کے پیش کرنے والے نبی ﷺ پر لگا رہے ہیں تاکہ دنیا میں اس کی بات چلنے نہ پائے اور کفر و جہالت کی وہی تاریکی چھائی رہے جسے وہ چھانٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور خدا بھی ایک تدبیر کر رہا ہے کہ ان کی کوئی تدبیر اور مکر چلنے نہ پائے اور وہ نور پھیل کر رہے جسے یہ بجھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔