Ayahs 85:1–2ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے برجوں والے آسمان کی سبع سیارہ کے بارہ برج ہیں (جن کی تفصیل سورة فرقان میں گذر چکی ہے) اور قسم ہے یوم موعود (یعنی) قامت کے دن کی اور حاضر ہونے والے جمعہ کے دن کی قسم اور اس دن کی قسم جس میں حاضری ہوتی ہے یعنی یوم عرفہ کی، حدیث شریف میں تینوں کی ایسی ہی تفسیر کی گئی ہے اول معودبہ ہے دوسرا (یعنی جمعہ) اپنے اندر ہونے والے عمل کی شہادت دینے والا ہے اور تیسرا (یعنی) یوم عرفہ کہ اس میں انسان اور ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور جواب قسم کا صدر محذوف ہے اور وہ لقد ہے ای لقد قتل اصحب الاخدود، ہلاک کئے گئے گڑھے والے یعنی زمین میں خندق والے، وہ ایک آگ تھی ایندھن والی، النار، اخدود سے بدل الا شتمال ہے وقود اس ایندھن کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے، جب کہ وہ لوگ اس خندق کے اردگرد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور مومنین کے ساتھ ایمان سے باز نہ آنے کی صورت میں آگ میں ڈالنے کا جو عمل کر ہرے تھے اس کو اپنے ساتمنے دیکھ رہے تھے روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آگ میں ڈالے جانے والے مومنین کو آگ میں ڈالے جانے سے پہلے روح قبض کر کے نجات دی اور آگ ان لوگوں کی طرف نکلی جو وہاں موجود (تماشہ دیکھ رہے) تھے اور ان کو جلا ڈالا اور الہ ایمان سے ان کی دشمنی کی وجہ سے اس کے سواء کچھ نہ تھی کہ وہ اس اللہ پر جو اپنے ملک میں غالب اور محمود ہے ایمان رکھتے تھے اور آسمانوں اور زمین کی ملکیت اسی کی ہے اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے یعنی کافروں کو مومنین کی سوائے ان کے ایمان لانے کے اور کوئی بات ناپسند نہیں تھی، یقینا ان لوگوں کے لئے جنہموں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر آگ میں جال کر ظلم ڈھایا پھر توبہ نہ کی تو ان کے لئے ان کے کفر کی وجہ سے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے آخرت میں جلانے کا یعنی مومنین کو آگ میں جالنے کی وجہ سے عذاب ہے اور کہا گیا ہے کہ دنیا ہی میں ہے، اس طریقہ پر کہ (خندق سے) آگ نکلی اور ان کو جلا دیا جیسا کہ ماسبق میں گذرا، جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے یقینا ان کے لئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی بیشک کافروں پر تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اس کے ارادے کے مطابق وہی مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی پیدا کرے گا اس کو اس کے ارادہ سے کوئی چیز باز نہیں رکھ سکتی وہ گنہگار مومنین کو بخشنے والا ہے اور اکرام کے ذریعہ اپنے اولیاء سے محبت کرنے والا ہے اور عرش کا مالک ہے یعنی اس کا خلاق ہے، اور مالک ہے، اور بزرگ و برتر ہے (المجید) کے رفع کے ساتھ، وہ صفات کمالات عالیہ کا مستحق ہے اور جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے اس کو کوئی شئی عاجز نہیں کرسکتی، کیا اے محمد ﷺ ! تمہیں فرعون اور ثمود کے لشکروں کی خبر پہنچی ؟ یہ جنود سے بدل ہے، اور فرعون کے ذکر کی وجہ سے اس کے اتباع کے ذکر کی ضرورت نہیں رہی، اور ان کا واقعہ یہ ہے کہ ان کو ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کردیا گیا اور (در اصل) ان لوگوں کو تنبیہ ہے جنہوں نے نبی ﷺ اور قرآن کا انکار کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر جنہوں نے کفر کیا وہ مذکور کے جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ نے ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے، اس سے ان کو کوئی نہیں بچا سکتا، بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے اس لوح میں جو فضا میں ساتویں آسمان کے اوپر ہے محفوظ ہے اور اس کا طول آسمان اور زمین کے فاصلہ کے برابر ہے اور اس کا عرض مشرق سے مغرب تک کی مسافت کے برابر ہے اور وہ (لوح) سفید موتی کی ہے یہی حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
-1 الحمل -2 الثور -3 الجوزاء -4 السرطان -5 الاسد -6 السنبلۃ -7 المیزان -8 العقرب -9 القوس -10 الجدی -11 الدلو -12 الحوت، یہ مذکورہ بارہ برج، سات سیاروں کے ہیں، مریخ کے دو برج ہیں، حمل اور عرقب اور زہرہ کے بھی دو ربج ہیں، ثور اور میزان، اور عطارد کے بھی دو دو برج ہیں، اجلزاء اور سنبلہ، قمر کا ایک برج ہے اور وہ سرطان ہے اور شمس کا بھی ایک ہی ہے اور وہ اسد ہے، اور مشتری کے دو ہیں، القوس اور حوت، اور زحل اس کے بھی دو ہیں، الجدی اور دلو
قولہ : الموعود ای موعود بہ ھو القیامۃ
قولہ : محذوف صدرہ یعنی ماضی مثبت جس کا معمول مقدم نہ ہو جب جواب قسم واقع ہو تو اس پر لام اور قد داخل کرنا ضروری ہے ایک پر اکتفا جائز نہیں ہے البتہ طول کلام یا ضرورت کی وج ہ سے ایک پر اکتفا کرسکتے ہیں، جیسا کہ قد افلاح میں طول کلام کی وجہ سے صرف قد پر اکتفا کیا ہے قتل اصحاب الاخدود، ای لقد قتل اصحب الاخدود، اخدود مفرد ہے جمع اخادید بمعنی خندق
قولہ : النار بدل الاشتمال منہ، النار، اخدود سے بدل اشتمال ہے اس لئے کہ اخدود، نار پر مشتمل ہے۔
قولہ : الوقود، وائو کے فتحہ کے ساتھ بمعنی ایندھن اور ضمہ کے ساتھ مصدر ہے، جلانا۔
قولہ : اذھم علیھا قتل مقدم کا ظرف مئوخر ہے، یعنی مومنین کو خندق کی آگ میں جالیت وقت خندقوں کے کنارے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، شھود بعض نے کہا ہے کہ شھادۃ بمعنی گواہی سے مشتق ہے یعنی بادشاہ کے حضور بعض بع کی حسن کارکردگی کی شہادت دیتے تھے یا شھادۃ بمعنی حضور سے مشتق ہے، مفسر علام نے یہی معنی مراد لئے ہیں مطل یہ ہے کہ مومنین کے ساتھ تعذیب اور احراق فی النار کا جو معاملہ کیا جاتا تھا اس کو کرسیوں پر بیٹھ کر تماشہ کے طور پر دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔
قولہ : الذی لہ ملک السموات والارض یہ العزیز الحمید کا بیان ہے۔
قولہ : فلھم عذاب جھنم یہ ان الذین فتنوا کی خبر ہے، مبتداء چونکہ متضمن بمعنی شرط ہے اس لئے خبر پر فاء داخل ہوئی ہے۔
قولہ : بدل من الجنود، فرعون حذف مضاف کے ساتھ جنود سے بدل ہے، ای جنود فرعون، فرعون کو ذکر کرنے کے بعد اتباع فرعون کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
قولہ : بما ذکر، ای القرآن و النبی ﷺ ما سے مراد قرآن یا نبی ﷺ ہیں۔
تفسیر و تشریح
سورة بروج مکہ معظمہ کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب ظلم و ستم پوری شدت کے ساتھ برپا تھا اور مشرکین مکہ مسلمانوں کو سخ سے سخت اذیتیں دے کر ایمان سے منحرف کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سورة بروج کے نزول کی حکمت :
کفار کو اس ظلم و ستم کے برے انجام سے آگاہ کرنا ہے جو وہ ایمان لانے والوں پر توڑ رہے تھے، اور اہل ایمان کو یہ تسلی دینا ہے کہ اگر وہ ان مظالم کے مقابل ہمیں ثابت قدم رہیں گے تو ان کو بہترین اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں سے بدلہ لے گا۔
بروج، برج کی جمع ہے، بڑے محل یا قلعہ کو کہتے ہیں، قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے ” ولو کنتم فی بروج مشیدۃ “ برج کے اصل معنی ظہور کے ہیں، تبرج بےپردہ کھلے پھرنے کو کہتے ہیں اس آیت میں جمہور مفسرین کے نزدیک بڑے بڑے ستارے مراد ہیں، حضرت ابن عباس، مجاہد، ضحاک، حسن بصری، قتادہ، سدی ؓ ان سب حضرات کا یہی قول ہے، یعنی قسم ہے ستاروں والے آسمان کی اور بعض نے آسمان کے دروازے یا چاند کی منزلیں مراد لی ہیں۔ (فتح القدیر)
Ayah 85:3وشاھدو مشھود، شاہد اور مشہود کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے، علامہ شوکانی (رح) تعالیٰ نے آثار و روایات کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، یعنی اس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے جس میں لوگ 9/ذی الحجہ کو عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔
Ayahs 85:4–9اصحاب اخدود کا واقعہ :
اس سورت میں ” اصحاب اخدود “ کا واقعہ بیان ہوا ہے اور یہی واقعہ اس سورت کے نزول کا سبب ہے، گڑھوں میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں ڈال کر جلا دینے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں متعدد مرتبہ اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں۔
ان میں سے ایک واقعہ صہیب رومی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا، (بعض روایتوں میں کاہن کا لفظ ہے) جب وہ ساحر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں لہٰذا مجھے ایک ذہین لڑکا دے دیا جائے تاکہ میں اس کو اپنا علم سحر سکھا دوں میرے مرنے کے بعد اس علم کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے بادشاہ نے ایک ذہین لڑکا مقرر کردیا وہ لڑکا ساحر کے پاس جاتے آتے ایک راہب سے بھی راستہ میں ملنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا حتی کہ اس کی تربیت سے صاحب کشف و کرامات ہوگیا، جس بادشاہ کا ذکر اس واقعہ میں آیا ہے وہ ملک یمن کا بادشاہ تھا جس کا نام حرضت ابن عباس ؓ کی روایت میں سوف ذونواس بتایا گیا ہے اس کا زمانہ آپ ﷺ کی ولادت با سعادت سے ستر سال پہلے تھا اور اس لڑکے کا نام جس کو سحر سیکھنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا عبدا للہ بن تامر تھا اور وہ راہب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مذہب کا پیرو کار تھا، وہ لڑکا کشف و کرامات کے ذریعہ اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا، اللہ ت عالیٰ نے اسے ایسا پختہ ایمان نصیب فرمایا کہ ایمان کی خاطر لوگوں کی تاخیر کی وجہ سے مارتا تھا اور واپسی کے وقت بھی راہب کے پاس بیٹھتا جس کی وجہ سے گھر پہنچنے میں دیر ہوجاتی تو گھر والے اس کی پٹائی کرتے، مگر اس نے کسی کی پرواہ کئے بغیر راہب کی صحبت اور مجالست نہ چھوڑی اور خفیہ طور پر مسلمان ہوگیا، ایک بار اس لڑکے نے دیکھا کہ شیر وغیرہ کسی درندے نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں تو اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعاء کی کہ اے اللہ ! اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے اور اگر کاہن کا دین سچا ہے تو نہ مارا جائے، یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا جس کی وجہ سے وہ شیر ہلاک ہوگیا، اس واقعہ سے لوگوں میں یہ مشہور ہوگیا کہ اس لڑکے کو کوئی عجیب علم آتا ہے ایک نابینا نے جب یہ سنا تو آ کر درخواست کی کہ میری آنکھیں اچھی ہوجائیں گیڈ لڑکے نے کہا بشرطیکہ تو مسلمان ہوجائے۔ نابینا نے یہ شرط قبول کرلی، لڑکے نے اللہ سے دعاء کی چناچہ وہ نابینا بینا ہوگیا اسی قسم کے بہت سے واقعات و کرامات ظاہر ہوئیں، جب بادشاہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے راہب کو اور لڑکے کو اور نابینا کو گرفتار کر کے حاضر کرنے کا حکم دیا چناچہ تینوں گرفتار کر کے بادشاہ کی خدمت میں حاضر کئے گئے راہب اور نابینا کو تو فوراً ہی قتل کر ادیا، اور لڑکے کے لئے حکم دیا کہ اس کو پہاڑ کے اوپر سے گرا کر ہلاک کردیا جائے، مگر جو لوگ اس کو لے کر پہاڑ پر گئے تھے وہ سب ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح سلامت واپس آگیا، اس کے بعد بادشاہ نے دریا میں غرق کرنے کا حکم دیا وہ اس سے بھی بچ گیا اور جو لوگ اس کو لے کر گئے تھے وہ سب غرق ہوگئے غرضیکہ کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ کارگر نہ ہوا آخر کار لڑکے نے بادشاہ سے کہا اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمع عام میں ” باسم اللہ رب ھذا الغلام “ کہہ کر تیر مار میں مر جائوں گا، چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مرگیا، لوگ پکاراٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے، بادشاہ کے مصاحبوں نے بادشاہ سے کہہ دیا کہ یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے، لوگوں نے آپ کے دین کو چھوڑ کر لڑکے کے دنی کو قبول کرلیا، بادشاہ یہ دیکھ کر غصے میں بھر گیا، اس نے خندقیں کھدوائیں اور ان کو آگ سے بھر دیا اور اشتہار دیا کہ جو اسلام سے نہ پھرے گا اس آگ میں جلا دیا جائے گا چناچہ ایک ایک مسلمان کو لایا جاتا اور اس سے ہا جاتا کہ یا تو ایمان ترک کردو ورنہ اس خندق میں جلنا پڑے گا، اللہ تعالیٰ نے ان مومنین کو ایسی استقامت بخشی کہ ان میں سے ایک بھی ایمان چھوڑنے پر راضی نہ ہوا اور آگ میں جل کر مرجانا قبول کیا صرف ایک عورت جس کی گود میں شیر خوار بچہ تھا وہ جھجکی تو فوراً ہی وہ بچہ بولا اے اماں ! تو صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے، جن لوگوں کو اس ظالم بادشاہ نے اس طرح آگ میں جلا کر ہلاک کیا ان کی تعداد بعض روایات میں بارہ ہزار اور بعض میں اس سے بھی زیادہ آئی ہے۔
(روح المعانی، احمد، مسلم، ترمذی، ابن جریر، عبدالرزاق ابن ابی سیبہ وغیرہ)
عجیب تاریخی واقعہ :
محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ یہ لڑکا جس کا نام عبداللہ بن تامر تھا جس جگہ مدفون تھا حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں کسی ضرورت سے جب وہ زمین کھودی گئی تو اس میں سے عبداللہ بن تامر کا جسم صحیح سالم اس طرح برآمد ہوا کہ ان کا ہاتھ تیر لگنے کی جگہ کنپٹی پر رکھا ہوا ہے، کسی شخص نے ان کا ہاتھ کنپٹی سے ہٹایا تو زخم سے خون جاری ہوگیا جب ہاتھ اسی جگہ رکھ دیا تو خون بند ہوگیا ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی جس پر ” اللہ ربی “ لکھا ہوا تھا، یمن کے حاکم نے اس واقعہ کی اطلاع مدینہ منوروہ فاروق اعظم حضرت عمر ؓ کو دی تو آپ نے جواب میں لکھا کہ ان کو ان کی ہئیت پر مع انگوٹھی کے اسی جگہ دفن کردیا جائے جہاں وہ ظاہر ہوئے ہیں۔ (معارف، ابن کثیر)
فائدہ :۔ ابن کثیر نے بحوالہ ابن ابی حاتم نقل کیا ہے کہ آگ کی خندق کے واقعات دنیا میں مختلف ملکوں اور مختلف زمانوں میں پیش آئے ہیں، ابن ابی حاتم نے خصوصیت کے ساتھ تین واقعات کا ذکر کیا ہے۔
پہلا واقعہ،
یہی ہے جو اوپر مذکور ہوا جو کہ آپ ﷺ کی ولادت با سعادت سے ستر سال قبل ملک یمن میں پیش ایٓا، دوسرا واقعہ شام میں، تیسرا فارس میں، اس سورت میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ ملک یمن نجران کے علاقہ میں پیش آیا تھا، یہ عرب کا علاقہ تھا۔ (معارف)
دوسرا واقعہ :
حضرت علی ؓ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ ایران کے ایک بادشاہ نے شراب پی کر اپنی بہن سے زنا کیا اور دونوں کے درمیان تعلقات استوار ہوگئے جب بات کھل گئی اور لوگوں میں اس کا بہت چرچا ہوگیا تو بادشاہ نے اعلان کرایا کہ خدا نے بہن سے نکاح حلال کردیا ہے لوگوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تو اس نے لوگوں کو طرح طرح کے عذاب دے کر یہ بات ماننے پر مجبور کیا یہاں تک کہ وہ آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ہر اس شخص کو ڈلوا دیتا تھا جو اس بات کو ماننے سے انکار کرتا، حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ اسی وقت سے مجوسیوں میں محرمات سے نکاح کا طریقہ رائج ہوا ہے۔ (ابن جریر)
تیسرا واقعہ :
حضرت ابن عباس نے غالباً اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ بابل والوں نے یہودیوں کو دین موسیٰ سے منحرف ہوجانے پر مجبور کیا تھا یہاں تک کہ انہوں نے آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ان لوگوں کو پھینک دیا جو اس سے انکار کرتے تھے۔ (ابن جریر، عبد بن حمید)
Ayahs 85:10–22ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ خندق کی حدود سے نکل کر شہر میں پھیل گئی اور ان سب لوگوں کو جو مسلمانوں کے جلنے کا تماشہ دیکھ رہے تھے اس آگ نے جلا دیا صرف بادشاہ یوسف ذونو اس بھاگ نکلا اور آگ سے بچنے کے لئے دریا میں کود گیا جس کی وجہ سے غرق ہو کر مر یا۔ (مظہری)