Ayahs 84:1–2ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا، (یعنی اس کا حکم) سنے گا، اور پھٹنے میں اس کی تعمیل کیر گا اور اس کے لئے یہی حق ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے) یعنی اس پر لازم کردیا گیا ہے کہ سنے اور اطاعت کرے اور جب زمین ہموار کردی جائے گی۔ یعنی اس کی وسعت میں اضافہ کردیا جائے گا جس طرح چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے اور نہ اس پر کوئی عمارت رہے گی اور نہ پہاڑ، اور مردے (وغیرہ) جو کچھ اس کے اندر ہیں انہیں باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کا حکم سنے گی اور اس باہر پھینکنے میں اپنے رب کی اطاعت کرے گی اور اس کے لئے حق یہی ہے اور یہ سب کچھ قیامت کے دن ہوگا اور اذا اور اس پر معطوف کا جواب محذوف ہے جس پر اس کا مابعد دلالت کرتا ہے، اس کی تقدیر لقی الانسان عملہ ہے، اے انسان ! تو اپنے عمل میں اپنے رب سے ملنے تک کوشش میں لگا ہوا ہے اور وہ (وقت) موت ہے، سو تو اس سے ملنیوالا ہے یعنی قیامت کے دن اپنے اچھے برے مذکور عمل سے ملنے والا ہے، سو جس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامہ عمل دیا جائے گا حال یہ کہ وہ مومن بھی ہو تو اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا، اور وہ اس کے عمل کو اس پر پیش کرنا ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں تفسیر کی گئی ہے، اور حدیث میں ہے کہ جس کے حساب کی جانچ پڑتال کی گئی، وہ مارا گیا اور پیش کرنے کے بعد اس سے درگزر کردیا جائے گا، اور وہ جنت میں اپنے اہل کی جانب اس بات پر خوش و خرم لوٹے گا، لیکن رہا وہ شخص جس کا نامہ عمل اس کی پشت کی جانب سے دیا جائے گا۔ (اور) حال یہ کہ وہ کافر ہوگا، تو اس کا داہنا ہاتھ اس کی گردن سے باندھ دیا جائے گا اور اس کا بایاں ہاتھ پشت کے پیچھے کردیا جائے گا تو وہ اس سے اپنا نامہ عمل پکڑے گا تو وہ اس میں مندرجات کو دیکھ کر موت کو پکارے گا (یعنی) اپنی ہلاکت کو آواز دے گا اپنے قول یا ثبوراہ سے اور نہایت سخت آگ میں جا پڑے گا اور ایک قرأت میں یاء کے ضمہ اور صاد کے فتحہ اور لام کی تشدید کے ساتھ ہے وہ اپنے گھر والوں میں یعنی دنیا میں اپنے خاندان والوں میں مگن تھا، اس کے اپنی خواہش کی اتباع کرنے کی وجہ سے، اس نے سمجھا تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف کبھی پلٹنا نہیں ہے (ان) مخففہ عن الثقلیہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے، ہاں پلٹنا کیوں نہ ہوگا اس کی طرف پلٹے گا یقینا اس کا رب اپنی طرف اس کے لوٹنے سے بخوبی واقف تھا پس میں قسم کھاتا ہوں شفق کی لا زائدہ ہے اور وہ غروب شمس کے بعد کنارے کی رسخی ہے اور قسم ہے رات کی اور اس کی جس کو وہ سمیٹ لیتی ہے یعنی ہر اس چیز کو جمع کرلیتی ہے جس پر وہ داخل ہوتی ہے مثلاً جانور وغیرہ اور چاند کی جب کہ کامل ہوجائے اور اس کا نور کا مل ہوجائے اور یہ چاندنی راتوں میں ہوتی ہے، اے انسان ! تجھ کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گذرتے چلے جانا ہے اور صوہ حالت) موت ہے اور پھر حیات ہے اور اس کے بعد قیامت کے حالات ہیں (ترکبن) ترکبونن تھا کئی نونوں کے جمع ہونے کی وجہ سے نون رفع کو حذف کیا گیا اور واو کو التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا پھر ان کافروں کو کیا ہوگیا کہ ایمان نہیں اتے ؟ یعنی ان کو ایمان لانے سے کیا مانع ہے، یعنی ترک ایمان کی ان کے پاس کیا دلیل ہے جب کہ ایمان لان کی دلیل موجود ہے، اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے کہ جھک جائیں بایں طور کہ قرآن پر ایمان لے آئیں، قرآن کے اعجاز کی وجہ سے، بلکہ یہ کافر تو بعث وغیرہ کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ یہ جو کچھ اپنے اعمال ناموں میں جمع کر رہے ہیں اللہ اس کو بخوبی جانتا ہے ان کے کفر اور تکذیب اور ان کے اعمال بد کو، لہٰذا ان کو درد ناک عذاب کی خبر دے دو ، البتہ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے کبھی ختم اور کم نہ ہونے والا ثواب ہے اور نہ ان پر اس ثواب کا احسان جتایا جائے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وحقت ماضی مجہول واحد مئونث غائب، اس کے فاعل اور مفعول دونوں محذوف ہیں، اصل میں حق اللہ علیھا استماعھا فاعل اور مفعول دونوں کو حذف کر کے فعل کی اسناد سموات کی طرف لوٹنے والی ضمیر کی طرف کردی۔
قولہ : اذنت لربھا وحقت یہ تکرار نہیں ہے اس لئے کہ اول سموات کے بارے میں ہے اور یہ ارض کے بارے میں، اذا کا جواب محذوف ہے جس پر اس کا مابعد یعنی فملاقیہ دلالت کرتا ہے اور جواب شرط لقی الانسان عملہ ہے، اور بعض حضرات نے علمت نفس کو جواب شرط محذوف مانا ہے اور یہ زیادہ مناسب ہے اس لئے کہ سورة تکویر اور انفطار میں علمت نفس کو ہی محذوف مانا ہے۔
قولہ : کا دح، الکدح العمل والکسب والسعی کوشش کرنا۔
قولہ : الی ربک، الی حرف غایت ہے اور معنی ہیں کدحک فی الخیر والشرینتھی بلقاء ربک وھو الموت
قولہ : فملاقیہ اس کا عطف کا دح پر ہے، یا پھر فانت مبتداء محذوف کی خبر ہے، ای فانت ملاقیہ اور جملہ معطوف ہے سابقہ جملہ انک کا دح پر
قولہ : ای ملاق عملک اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ فملاقیہ کی ضمیر مفعولی کدح بمعنی عمل کی طرف راجع ہے اور مضاف محذوف ہے، ای فملاق حساب عملہ اور یہ بھی درست ہے کہ ملاقیہ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہو، ای فملاق ربہ یعنی اس کے لئے کوئی مفر نہیں ہے۔
قولہ : یدعوا ثبوراً ای یتمناہ موت کو پکارنے کا مطلب ہے موت کی تمنا کرنا اس لئے کہ لایعقل کو نداء تمنا ہی ہوتی ہے۔
قولہ : فلا اقسم یہ شرط محذوف کا جواب ہے ای اذا عرفت ھذا فلا اقسم، لا زائدہ ہے۔
تفسیر و تشریح
اس سورت میں قیامت کے احوال، حساب و کتاب جزاء و سزا کا ذکر ہے اور غافل انسان کو گرد و پیش میں غور و فکر کر کے ایمان باللہ تک پہنچنے کی ہدایت ہے اذن بمعنی سن لیا اور مراد سن کر اطاعت کرنا، ذرہ برابر سرتابی نہ کرنا ہے۔
Ayah 84:3واذا الارض مدت، زمین کو پھیلا دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیئے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیئے جائیں گے اور زمین کی ساری اونچ نیچ ختم کر کے ہموار میدان بنادیا جائے گا، سورة طہ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پائو گے۔
Ayahs 84:4–5والقت مافیھا وتخلت یعنی ہر اس چیز کو اگل دے گی جو اس کے بطن میں ہے اور بالکل خالی ہوجائے گی زمین کے بطن میں خزائن و دفائن و معاون بھی ہیں اور ابتداء آفرینش سے مرنے والوں کے اجسام و ذرات بھی، زمین ایک زلزلہ کے ساتھ یہ سب چیزیں اپنے بطن سے باہر نکال دے گی، کوئی چیز بھی چھپی ہوئی یا دبی ہوئی نہیں رہ جائے گی، یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اس لئے کہ آگے کا مضمون خود بتارہا ہے کہ اے انسانچ تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، تو اس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے تیرا اعمال نامہ تجھے دیئے جانے والا ہے اور تیرے اعمال نامہ کے مطابق تیری جزاء یا سزا کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
Ayahs 84:6–7انک کا دح کدح کے معنی کسی کام میں پوری جدوجہد اور توانائی صرف کرنے کے ہیں اور الی ربک کا مطلب ہے الی لقاء ربک یعنی ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ صرف دنیوی زندگی تک محدود ہے، لیکن حقیقت اور واقعہ یہ ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے رب کی طرف جا رہا ہے وہی انسان کی منزل اور ٹھکانہ ہے۔
Ayah 84:8فسوف یحاسب حساباً یسیراً جس کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیا جائے گا، مطلب یہ ہے کہ اس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی، اس سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں کام تو نے کیوں کیا ؟ ال بتہ جس سے سخت حساب لیا جائے گا اس سے ہر بدی کے لئے سخت مناقشہ کیا جائے گا، بخاری شریف کی ایک حدیث جو حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا من حوسب یوم القیامۃ عذب، یعنی روز قیامت جس سے حساب لیا گیا وہ مارا گیا، اس پر حضرت عائشہ ؓ نے سوال کیا کہ کیا قرآن میں حق تعالیٰ نے نہیں فرمایا یحاسب حساباً یسیراً ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آیت میں جس کو حساب یسیر فرمایا گیا درحقیقت وہ مکمل حساب نہیں ہے، بلکہ صرف رب العالمین کے روبرو پیشی ہے اور جس شخص سے اس کے اعمال کا پورا حساب لیا گیا وہ ہرگز عذاب سے نہ بچے گا۔
Ayahs 84:9–15الی اھلہ مسروراً ” اہل “ سے مراد اہل خاندان دوست و احباب بھی مراد ہوسکتے ہیں جن کو حساب یسیر کے بعد چھوڑ دیا گیا ہوگا اور جنت میں ملنے والے حور و غلمان بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 84:16–25فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔