Ayahs 87:1–5ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کر یعنی اپنے رب کی ان چیزوں سے پاکی بیان کر جو اس کی شایان شان نہیں ہیں اور لفظ اسم زائد ہے (الاعلیٰ ) رب کی صفت ہے جس نے پیدا کیا اور اپنی مخلوق کو درست کیا (یعنی) متناسب الاعضاء بنایا نہ کہ غیر متناسب جس نے جیسی چاہی تقدیر بنائی پھر اس نے اس خیر و شر کی راہ بتائی جو اس نے مقدر فرمائی جس نے نباتات گھاس اگائی پھر اس کو ہریالی کے بعد سوکھا سیاہ کوڑا کرکٹ کردیا ہم قرآن آپ کو پھڑھوا دیں گے پھر آپ ﷺ جو پڑھیں گے اس کو نہ بھولیں گے سوائے اس کے کہ جس کو اللہ بھلانا چاہے گا اس حکم اور اس کی تلاوت کو منسوخ کر کے اور آپ ﷺ جبرائیل ﷺ کی قرأت کے ساتھ ساتھ بھولنے کے خوف سے زور زور سے قرأت کرتے تھے گویا آپ ﷺ کو یہ فرمایا گیا کہ جلدی نہ کیجیے، آپ ﷺ بھولیں گے نہیں، اس لئے زور سے پڑھ تعب نہ اٹھایئے، اور اللہ تعالیٰ ظاہر قول و فعل کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ قول و فعل کو بھی (جانتا ہے) اور ہم آپ ﷺ کو آسان شریعت کی سہولت دیتے ہیں اور وہ اسلام ہے، سو آپ ﷺ قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت نافع ہو اس شخص کو جس کو آپ ﷺ نصیحت فرمائیں جو کہ سیذکر من یخشی میں مذکور ہے جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے نصیحت حاصل کرے گا جیسا کہ آیت فکر بالقرآن من یخاف وعید میں ہے، یعنی آپ ﷺ اس شخص کو نصیحت فرمائیں جو وعید سے ڈرتا ہے اور نصیحت کو وہ شخص درکنار کرے گا یعنی اس کی طرف توجہ نہ کیر گا جو انتہائی بدبخت ہوگا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا اور اشقی بمعنی شقی، یعنی کافر ہے اور وہ (بڑی آگ) آخرت کی آگ ہے اور چھوٹی آگ و نیا کی آگ ہے، پھر وہ اس میں نہ مرے گا کہ راحت پا جائے اور نہ خوشگواری کی زندگی جئے گا، وہ شخص کامیاب ہوگا جس نے ایمان کے ذریعہ پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا تکبیر کہتے ہوئے پھر پنج و قتہ نماز پڑھی اور یہ امور آخرت میں سے ہیں اور مکہ کے کافر روگردانی کرتے ہیں تم لوگ دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہو (تئوثرون) یا اور تاء کے ساتھ ہے حالانکہ آخرت جو کہ جنت پر مشتمل ہے بہتر اور باقی رہنے والی ہے بلاشبہ یہی بات یعنی پاکیزگی حاصل کرنے والے کی فلاح اور آخرت کا بہتر اور دائمی ہونا پہلے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) اور موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے صحیفوں میں بھی جو قرآن سے پہلے نازل ہوئے ہیں اور وہ ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے دس صحیفے اور موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی تورات ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : صفۃ لربک یعنی الاعلی، رب کی صفت ہے اس کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ الاعلیٰ ، اسم کی صفت نہیں ہے اسلئے کہ الذی، ربک کی صفت ہے ورنہ تو یہ خرابی لازم آئے گی کہ موصوف ربک اور صفت الذی خلق کے درمیان غیر صفت یعنی الاعلی کا فصل ہے جو کہ درست نہیں ہے۔
قولہ : غشاء، غشاء اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو سطح آب پر بہہ کر چلا آتا ہے، یہاں مطلقاً سوکھا سیاہ کوڑا کرکٹ مراد ہے یعنی مقید کو معنی میں مطلق کے استعمال کیا ہے۔
قولہ : من تذکرہ المذکور، فی سیذکر من موصولہ ہے اور نفعت کا مفعول ہے اور تذکر کی ضمیر مرفوع مخاطب یعنی آپ ﷺ کی طرف راجع ہے اور ضمیر منصوب (ہ) موصول کی طرف راجع ہے اور المذکور موصول کی صفت ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نصیحت کریں اگر نصیحت اس شخص کو فائدہ دے جس کو آپ ﷺ نصیحت کریں اور جس کا ذکر سیذکر من یخشی میں ہے، من تذکرہ کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ ان نفعت الذکریٰ میں جو نفع کے بارے میں تردد ہے وہ ذکری کے مفعول کی نسبت سے ہے نہ کہ فاعل کی نسبت سے اس لئے کہ فاعل کی نسبت سے ذکر کا فائدہ متحقق ہے۔ (کمالا یخفی)
قولہ : فیستریح یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ لایموت فیھا ولایحیی سے معلوم ہوتا ہے کہ موت اور حیات کے درمیان کوئی واسطہ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
قولہ : جواب کا حاصل یہ ہے کہ ایسی موت نہ آئے گی کہ یہ مرنے کے بعد راحت پا جائے اور نہ ایسی حیات ہوگی کہ اس میں خوشگواری ہو۔
تفسیر و تشریح
سبح اسم ربک الاعلی رسول اللہ ﷺ اس سورت اور سورة غاشیہ کو عیدین اور جمعہ کی نماز میں پڑھا کرتے تھے، اسی طرح وتر کی پہلی رکعت میں سورة اعلیٰ اور دوسری میں سورة کافرون اور تیسری میں سورة اخلقا پڑھتے تھے، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ سبح اسم ربک الاعلی جب نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے سجود میں داخل کرو اور جب فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے اپنے رکوع میں داخل کرو۔
سبح اسم ربک الاعلیٰ تسبیح کے معنی پاک رکھنے اور پاکی بیان کرنے کے ہیں سبح اسم ربک الاعلیٰ کے معنی یہ ہیں کہ اپنے رب کے نام کو پاک رکھئے، مطلب یہ کہ رب کے نام کی تعظیم تکریم کیجیے اور جب الللہ کا نام آئے تو ادب اور خضوع اور خشوع کا لحاظ رکھئے، اور ہر ایسی چیز سے اس کے نام کو پاک رکھئے جو اس کی شایان شان نہ ہو، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان ناموں سے پکاریئے جو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے بیان فرمائے ہیں یا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بتلائے ہیں ان کے سوا کسی اور نام سے اس کو پکارنا جائز نہیں۔
اسی میں یہ بھی دخل ہے کہ جو نام اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں وہ کسی مخلوق کے لئے استعمال کرنا اس کی تنزیہ و تقدیس کے خلاف ہے اس لئے جائز نہیں (قرطبی) جیسے رحمن، رزاق، غفار، قدوس وغیرہ، آج کل اس معاملہ میں غفلت بڑھتی جا رہی ہے۔
بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ اسم سے خود مسمی کی ذات مراد لی ہے اور لفظ اسم کو زائد کہا ہے مفسر علام کا بھی یہ خیال ہے، اور عربی زبان کے اعتبار سے اس کی گنجائش بھی ہے اور قرآن کریم میں بھی اس معنی کے لئے استعمال ہوا ہے اور حدیث میں جو رسول اللہ ﷺ نے اس کلمہ کو نماز کے سجدے میں پڑھنے کا حکم دیا اس کی تعمیل میں جو کلمہ اختیار کیا گیا وہ سبحان اسم ربک الاعلی نہیں بلکہ سبحان ربی الاعلی ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ لفظ اسم اس جگہ مقصود نہیں خود مسمی مقصود ہے۔
فجعلہ غثاء جب گھاس خشک ہوجائے تو اس کو غثاء کہتے ہیں احویٰ بمعنی سیاہ کرنا، یعنی تازہ اور سرسبز لہلہاتی گھاس کو ہم سکھا کر سیاہ کوڑا بھی کردیتے ہیں۔
Ayahs 87:6–7سنقرئک فلاتنسی حاکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ساتھ ساتھ دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں، مجاہد اور کلبیک ہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ آپ ﷺ بھول جانے کے اندیشہ سے دہرانے لگتے تھے اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ خاموشی سے سنتے رہیں ہم اسے آپ ﷺ کو پڑھوا دیں گے اور وہ ہمیشہ کے لئے آپ ﷺ کو یاد ہوجائے گا۔
Ayah 87:8ونیسرک للیسریٰ یہ عام ہے مثلاً ہم آپ ﷺ پر وحی آسان کردیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہوجائے، ہم آپ ﷺ کی اس طریقہ کی طرف رہنمائی کریں گے جو آسان ہوگا، ہم آپ ﷺ کے لئے ایسی شریعت مقرر کریں گے جو سہل، مستقیم اور معتدل ہوگی، جس میں کوئی کمی اور عسر اور تنگی نہیں ہوگی، وغیرہ۔
Ayahs 87:9–19فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)