وَّمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ۟ؕوَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِؕ
اور بیہودہ بات نہیں ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And it is not amusement.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
وَّمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ۟ؕوَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِؕ
اور بیہودہ بات نہیں ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And it is not amusement.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah At-Taariq
ہنسی مذاق نہیں ہے
اور بیہودہ بات نہیں ہے
یہ ہنسی کی (اور بے فائده) بات نہیں
اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔
اور کوئی ہنسی کی بات نہیں
اور یہ ہنسی کی بات نہیں ہے،
اور یہ ہرگز مذاق نہیں ہے۔
وہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے
او یہ کوئی ہنسی مسخری نہیں
اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے
اور یہ کوئی لغوکلام نہیں۔
اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔
اور یہ کوئی ہنسی کی بات نہیں
not a flippant jest.
and it is not a joke.
and it is not a joke.
And it is not a thing for amusement.
It is no pleasantry.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And it is not amusement.
and it is certainly not a jest.
And it is no joke.
And it is not a frivolity.
It is not a thing for amusement.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–17
صداقت قرآن کا ذکر رجع کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہوجائیں سورج چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں اے نبی تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
سورة الطَّارِق 7 یعنی جس طرح آسمان سے بارشوں کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے، اسی طرح قرآن جس چیز کی خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے، یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے، ایک سنجیدہ حقیقت ہے، ایک اٹل قول حق ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
انہ لقول فصل، یعنی قرآن کریم ایک فیصلہ کن قول ہے جو حق و باطل میں فیصلہ کرتا ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ قرآن کے متعلق فرمایا کتاب فیہ خبر ما قبلکم وحکم ما بعد کم وھو الفصل لیس بالھزل یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلی امتوں کے حالات واخبار ہیں اور تمہارے بعد آنیوالوں کے لئے احکام ہیں وہ فیصلہ کن قول ہے ہنسی مذاق نہیں۔ تمت سورة الطارق بحمد اللہ تعالیٰ 71 شوال 9131
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
مکذبین قیامت کو تنبیہ: جس طرح سابق سورہ کے آخر میں مکذبین قیامت کو متنبہ فرمایا ہے کہ قرآن کے اس انذار کا مذاق نہ اڑاؤ، یہ لوح محفوظ سے اترا ہوا نہایت برتر کلام ہے، اسی طرح اس سورہ کے آخر میں بھی ایک نئے اسلوب سے آگاہ فرمایا کہ یہ قرآن جس روز حساب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک امرقطعی اور اٹل ہے جس سے تمہیں لازماً سابقہ پیش آنا ہے تو اس کو مذاق کا موضوع نہ بناؤ بلکہ دانش مندی اور عاقبت بینی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو توجہ سے سنو، سمجھو اور آنے والے دن کی تیاری کرو۔
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی کھیل کود اور مذاق والی چیز نہیں ہے (قصد اور ارادہ) کی ضد ہے، یعنی ایک واضح مقصد کی حامل کتاب ہے، لہو و لعب کی طرح بےمقصد نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
3: یعنی اس زمین کی جو پانی برسنے کے بعد کونپل کو باہر نکالنے کے لیے پھٹ پڑتی ہے۔ یہاں بارش اور زمین کے پھٹ پڑنے کی قسم کھانے سے بظاہر یہ اشارہ مقصود ہے کہ بارش کے پانی سے وہی زمین فائدہ اٹھاتی ہے جس میں اگنے کی صلاحیت ہو، اسی طرح قرآن کریم سے وہی شخص فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں حق کو قبول کرنے کی گنجائش ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
9 یعنی قرآن اور جو کچھ وہ معاد کے متعلق بیان کرتا ہے، کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں۔ بلکہ حق و باطل اور صدق و کذب کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ اور لاریب وہ سچا کلام اور ایک طے شدہ معاملہ کی خبر دینے والا ہے جو یقینا پیش آکر رہے گا۔ (تنبیہ) قسم کو اس مضمون سے یہ مناسبت ہوئی کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت ہو مالا مال کردیتا ہے جیسے بارش آسمان کی طرف سے آتی ہے اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے۔ نیز قیامت میں ایک غیبی بارش ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے جس طرح یہاں بارش کا پانی گرنے سے مردہ اور بےجان زمین سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت 14{ وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ۔ } ”اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔“ جیسے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا : { وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَط } آیت 105 ”اور اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
11 یعنی بارش کے بار بار نزول اور زمین سے نباتات کے اگنے کا پیہم عمل یہ ایک مربوط نظام ہے۔ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت اور تمہارے مشاہدہ کی بات ہے۔ اسی طرح قرآن بھی جو حقائق پیش کر رہا ہے اور جسے دو ٹوک فیصلے بتارہا ہے وہ بھی ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ کوئی ہنسی مذاق کی باتیں نہیں ہیں بلکہ انہیں پورا ہو کے رہنا ہے۔
Read the full tafseer →5۔ (جیسا کہ یہ احمق فرض کررہے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
انہ لقول فصل یہ جواب قسم ہے یعنی کھول کر بیان کرنے والا جس سے حق و باطل میں امتیاز ہوجائے وما ھو بالھزل یعنی جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کو اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے، اسی طرح قرآن خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے اور ایک سنجیدہ حقیقت ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔
Read the full tafseer →وما ھوبا لھزل . اور وہ کھیل اور دل لگی نہیں ہے بلکہ واقعی حقیقت ہے۔ قرآن کا تقاضا ہے کہ اس کو پڑھنے اور سننے کے وقت دل لگی اور مزاح میں مبتلا نہ ہو بلکہ قلبی خشوع سے اس کی طرف متوجہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
(14۔ 17) اور کوئی لغو چیز ہیں۔ یہ مکہ والے لوگوں کو اسلام سے روکنے کی یا یہ کہ دار الندوہ میں آپ کو نقصان پہنچانے کی تدابیر کر رہے ہیں اور میں بھی بدر کے دن ان کو تہ تیغ کرنے کی تدبیر کر رہا ہوں، تو آپ ان کافروں کو بدر تک یوں ہی چھوڑ دیجیے۔
Read the full tafseer →وما ھو بالھزل : یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی بات تم سے مذاق کے ساتھ نہی کہی جا رہی، یہ حکیم وعلیم کا قول ہے، کسی جاہل کا نہیں جو مذاق کر رہا ہے۔ موسیٰ علیہ الگسلام کی قوم نے گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان سے کہا کہ کیا آپ ہمیں مذاق کر رہے ہیں توا نہوں نے فرمایا :(اعوذ باللہ ان اکون من الجھلین) (البقرۃ : 68)”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔“
Read the full tafseer →وماھوا بالھزل۔ یعنی قرآن حکیم باطل اور کھیل نہیں ھزل بامقصد کی ضد ہے، یوں اس کا باب چلتا ہے، ھزل، یھزل، کمیت نے کہا، یجد، بنافی کل یوم ونھزل، ہر روز ہمارے ساتھ بامقصد بات کی جاتی ہے جب کہ ہم ہنسی مذاق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وما ہوبالہزل اور وہ ہنسی کی بات نہیں یعنی یہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے۔ آیت فمہل الکفرین امہلہم رویدا۔ پس کافروں کو تھوڑے دنوں کی مہلت دے دو ۔ یعنی الرویدا کا معنی تھوڑا۔ 8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وما ہو بالہزل کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا کہ قرآن محض باطل اور کھیل نہیں ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے قیس بن رفاعہ کو نہیں سنا وہ کہتا ہے وما ادری وسوف اخال ادری اہزل…
Read the full tafseer →[وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ : اور یہ لاحاصل (بات) نہیں ہے ] ھـ ز ل (ن۔ س) ھَزْلاً لاغر و کمزور ہونا۔ (ض) ھَزْلاً مذاق وٹھٹھا کرنا۔ بےنتیجہ یا لاحاصل بات کرنا۔ ھَزْلٌ اسم صفت بھی ہے۔ کمزور۔ لاحاصل۔ بےنتیجہ۔ (جب یہ قول کی صفت کے طور پر آئے تو کمزور بات کا مطلب ہے ایسی بات جس کی کوئی سند یا دلیل نہ ہو اور لاحاصل بات کا مطلب ہے ایسی بات جس کا اچھا یا برا کوئی بھی نتیجہ نکلنے والا نہ ہو۔ (زیر مطالعہ آیت۔ 14)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
﴿اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ0013﴾ (بلاشبہ یہ قرآن ایک کلام ہے فیصلہ دینے والا) اس میں جو کچھ بتایا ہے سب صحیح ہے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ﴿ وَّ مَا هُوَ بالْهَزْلِؕ0014﴾ (اور یہ کوئی لغو چیز نہیں) ۔ ﴿ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًاۙ0015﴾ (بلاشبہ یہ لوگ حق کو دبانے کے لیے قرآن سے خود دور رہنے اور دوسروں کو اس سے دور کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں آپ کو تکلیف بھی دے رہے ہیں مکہ معظمہ آنے والوں کے راستہ میں بیٹھ کر انہیں آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں۔ قرآن کو شعر اور اساطیر الاولین بتاتے ہیں اہل ایمان کو مارتے پیٹتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6:۔ ” انہ لقول “۔ انہ کی ضمیر کلام مذکور کی طرف راجع ہے جس میں بعث بعد الموت اور جزاء وسزا کا ذکر ہے یعنی یہ دعوی کہ تم سب دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اور اپنے نیک و بد اعمال کی جزاء و سزا پاؤ گے حتمی اور فیصلہ کن بات ہے یہ ہزل اور یا وہ گوئی نہیں واقول و یجوز ان یعود الضمیر فی انہ علی الکلام الذی اخبر فیہ ببعث الانسان یوم القیامۃ وابتلاء سرائرہ ای ان ذلک القول قول جزم مطابق للواقع لاھزل فیہ (بحر ج 8 ص 456) ۔ یا یہ ضمیر قرآن سے کنایہ ہے جس میں مسئلہ توحید، حشر و نشر اور جزاء و سزا کا ذکر ہے (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…
Read the full tafseer →وَّمَا ہُوَبِالْہَزْلِ 14 ۭ هزل قال تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَما هُوَ بِالْهَزْلِ [ الطارق/ 13- 14] الْهَزْلُ : كلّ کلام لا تحصیل له، ولا ريع تشبيها بِالهُزَالِ. ( ھ ز ل ) الھزل کے معنی لا حاصل اور بےنتیجہ بات کے ہیں گویا وہ ھزال ( لاغری ) ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَما هُوَ بِالْهَزْلِ [ الطارق/ 13- 14] کہ یہ کلام ( حق کو باطل سے ) جدا کرنے والا ہے اور بہیودہ بات نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۔ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ۔ اِنَّـہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۔ وَّمَا ھُوَبِالْھَزْلِ ۔ (الطارق : 11 تا 14) (قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔ اور پھٹ جانے والی زمین کی۔ کہ یہ دوٹوک بات ہے۔ یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں۔ ) قرآن کے قول فیصل ہونے پر آفاقی شہادت رَجْعٌ … اس کے لغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، لیکن مجازاً اس لفظ کا استعمال المطربعدالمطر کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ایسی بارش جو پے درپے ہو، کہ ایک مرتبہ بارش ہو کر ختم ہوجائے اور پھر لوٹے۔ اس لیے اس میں رجع کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ صَدْعٌ … اس کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ “ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بےمقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع “ اور زمین کے لیے ” ذَات…
Read the full tafseer →14 : وَّمَا ھُوَ بِالْھَزْلِ ( اور وہ کوئی لغو چیز نہیں ہے) الھزلؔ : کھیل، باطل، بلاشبہ قرآن مجید تمام کا تمام وقار والی باتیں ہیں۔ اور اس کا حق بھی یہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ تعریف فرمائی ہے۔ کہ وہ دلوں میں ہیبت پیدا کرنے والا ہے۔ دلوں میں قابل تعظیم ہے۔ اس کا پڑھنے اور سننے والا سننے کے وقت دل لگی اور مزاح میں مبتلا ہونے سے باز رہے۔
Read the full tafseer →14 ۔” وما ھو بالھزل “ لعب و باطل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ رجع سے مراد بارش ہے چناچہ حاکم کی روایت میں صحیح سند سے یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ثابت ہوا ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے صحیح 1 ؎ بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد کی روایت سے اس قول کو لیا ہے ترجمہ میں چکر مارنے والا آسمان جو ترجمہ کیا گیا ہے سلف میں سے یہ قول عبد الرحمن بن زید بن اسلم تبع تابعی کا ہے ان عبد الرحمن نے تفسیر کی روایات اپنے باپ زید بن اسلم کوفی سے لی ہیں یہ زید بن اسلم مشہور مفسر اہل مدینہ میں سے ہیں لیکن عبد الرحمن کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے غرض یہ قول پہلے قول کے مرتبہ کا نہیں ہے…
Read the full tafseer →(وَّمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ) یہ بےہودہ کلام نہیں۔ بلکہ سنجیدہ کلام ہے یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیاز کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(11) منکرین کی چالبازی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایک چال چل رہے ہیں "۔ یہ لوگ چال چل رہے ہیں اس نور حق کو مٹانے، اس کا راستہ روکنے اور اس کو نیچا دکھانے کے لیے یُرِیْدُونَ أَن یُطْفِؤُواْ نُور اللّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَی اللّہُ إِلاَّ أَن یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ( التوبہ 32 پ 10) یعنی اللہ انکار کرتا ہے مگر یہ کہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے، اگر یہ بات بری لگے کافروں کو، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ دعوت حق و ہدایت کے مقابلے میں جو سخن سازیاں کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے دلوں میں فی الواقع کچھ ایسے شبہات ہیں جو کسی جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
قرآن کی سچائی اور کامیابی کی خوشخبری تشریح : یہاں آسمان کی یہ ڈیوٹی کہ بارش برساتا ہے اور زمین کا یہ فرض کہ نباتات کو اگاتی ہے (اللہ کے حکم سے) تو یہ دونوں کام ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معمول کا کام ہے مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر عجیب و غریب ' مشکل اور انسان کی قدرت سے باہر کام ہے۔ تو ان دونوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک بڑی محکم ' مقدس اور سچی کتاب ہے اس کا ہر ہر لفظ ہر ہر مضمون اور ہر ہر بات اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے جس طرح تم یہ تمام مظاہر قدرت دیکھ رہے ہو۔ تو اس قرآن حکیم میں دی گئی یہ خبر ہے کہ کفار کی تمام تدبیریں دھری رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →ف 8 بلکہ ہر شک و شبہ سے بالا سنجیدہ کلام ہے۔ اس کی ایک ایک بات پر ایمان لانا ضروری اور اس کی بتائی ہوئی کسی حقیقت میں شک کرنا کفر ہے۔
Read the full tafseer →(86:14) وما ھو بالھزل۔ یہ قول کی صفت ثانی ہے۔ ھزل (باب سمع، ضرب) مصدر ہے بمعنی کھیل کرنا۔ بےہودگی کرنا۔ یہاں بطور اسم مستعمل ہے بمعنی بیہودہ کھیل۔ اور یہ (کلام) بیہودہ یا کھیل اور دل لگی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 4) ان سب کی قسم کہ قرآن قول فیصل وحکم الٰہی ہیے یہ قران باطل و خرافات نہیں یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتلانے اور بدی سے روکنے اور عقبی میں جزا وسزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکروفریب تو ان لوگوں کو قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیرکا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، چناچہ نبی ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت و خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[8] یعنی جس طرح آسمان سے پانی کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات کا اپنے اندر سے اگلنا کوئی مذاق نہیں ہے اسی طرح قرآن کا یہ خبر دینا کہ مرنے کے بعد پھر اپنے اللہ کی طرف لوٹنا ہے کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ اور دوٹوک بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ف 1: والسماء ذات الرجع سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واشگاف طور پر موجود تھی کہ بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد یہی بخارات ابر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر یہی برستے ہیں ۔ اسی لئے اس کو ذات الرجع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایسے ابر جو اس امانت کو جو انہوں نے سمندروں سے لی ہے ۔ پھر سمندروں کو لوٹا دیتے ہیں ۔ زمین کو بھی تمثیل میں پیش کیا ہے ۔ جس میں سبزیاں نکلتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہہ یہ ہے کہ جس طرح ابر برستا ہے اور کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور جس طرح زمین بوقلمون سبزیوں کو اگلتی ہے ، اسی طرح قرآن فیضان الٰہی ہے اور اس سے دلوں کے کھیت شگفتہ و شاداب…
Read the full tafseer →(14) اور یہ کوئی لغو اور ہنسی کی بات نہیں ہے۔ یعنی بارش والے آسمان اور پھٹ جانے والی زمین کی قسم کھاتا ہوں۔ رجع کے معنی مینہ اور بارش کے ہیں یا چکر کھانے اور گھومنے والا، جیسا بعض حضرات نے کہا ہے چکر کھانے والا آسمان۔ بہرحال چکر کھانے والا یا بارش والا آسمان، زمین کا پھٹ جانا اور دڑاڑ کا پڑجانا، جیسا کھیتی آگتے وقت ہوتا ہے۔ جب دانہ پھوٹتا ہے تو ساتھ ساتھ زمین ابھرجاتی ہے اور اس میں شگاف پڑجاتا ہے یہ بات دوٹوک فیصل شدہ ہے یعنی معاد کی اور دوبارہ زندہ ہونے کی جو بات کہی ہے وہ دو ٹوک ہے جیسا کہ بعض نے کہا ہے یا یہ کہ یہ قرآن دوٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے جیسا کہ بعض اہل تحقیق نے فرمایا ہے بہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 1۔ جس طرح قرآن اپنی دلالت سے واقعات وغیرہ واقعیات میں فیصلہ کردینے والا ہے اسی طرح اپنی صفت اعجاز سے ان دو احتمالوں کا بھی کہ یہ منجانب اللہ ہے یا نہیں فیصلہ کردینے والا ہے اور منجانب اللہ ہونے کی شق کو متعین کردینے والا ہے۔ اور اخیر کی قسم کو اخیر کے مضمون سے یہ مناسبت ہے کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت ہوتی ہے اس کو ہدایت وسعادت سے مالا مال کرتا ہے، جیسے بارش آسمان سے آتی ہے، اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے۔
Read the full tafseer →اور یہ کوئی لغو چیز نہیں ہے 14 ؎ گزشتہ بات کی مزید تائید کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کوئی ہنسی اور مذاق کی بات نہیں ہے کہ قیامت آئے گی اور سب انسان اپنے اپنے اعمال کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ (الھرل) کھیل ۔ باطل ھزل بیہودگی ، بیہودہ کام ھزال لاغری ۔ ھزالۃ اچھی عادت ، عقل مندی ، بیہودہ کھیل کرنے والا ، غیر سنجیدہ بات ھیزلۃ چوپائے مھازل قحط سالیاں وغیرہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں کوئی آوارہ بات نہیں ہے کہ جو اس نے کہہ دیا ہے ہوا تو ہوا نہ ہوا تو خیر ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں جس کے ہونے کی اس نے پیش گوئی کی ہے اس کا ہونا اپنے وقت پر لازم اور فرض ہے یہ اس نے محض دل لگی کی بات نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (this is a decisive word..86:13) In other words, the Qur'an is truly a Decisive Word that decides between truth and falsehood, and there is no room for any doubt in it. Sayyidna ` Ali ؓ says that he heard the Holy Prophet ﷺ as saying about the Holy Qur'an: کتاب فیہ خبرما قبلکم و حکم مابعدکم وھو الفصل لیس بلھزل '[ It is ] a book which describes the stories of past communities and [ it contains ] injunctions for future generations. It is truly a Decisive Word. It is no joke.' Alhamdulillah The Commentary on Surah At-Tariq Ends here
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
7 That is, just as the falling of rain froth the sky and the splitting of the earth to put out shoots is no jest but a serious reality, so also the news which the Qur'an gives that ntan has to return to his God is no jest but a definite and decisive reality and an unchangeable truth which has to be fulfilled.
Read the full tafseer →