اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًا ۟ۙاِنَّهُمۡ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا
یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, they are planning a plan,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًا ۟ۙاِنَّهُمۡ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا
یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, they are planning a plan,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah At-Taariq
یہ لوگ چالیں چل رہے ہیں
یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں
البتہ کافر داؤ گھات میں ہیں
بیشک یہ (کافر لوگ) چالیں چل رہے ہیں۔
بیشک کافر اپنا سا داؤ چلتے ہیں
بیشک وہ (کافر) پُر فریب تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں،
بیشک وہ خفیہ تدبیر کرتے ہیں، ایک خفیہ تدبیر۔
یہ لوگ ایک تدبیر کر رہے ہیں
وہ چل رہے ہیں ایک چال
(مگر پھر بھی) یہ لوگ (اس کے خلاف) طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں
یہ لوگ طرح طرح کی تدبیریں کررہے ہیں
(اے نبی ﷺ !) یہ لوگ اپنی سی چالیں چل رہے ہیں
یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں۔
They are devising a guile,
They are devising plans,
They are devising plans,
Verily, they are but plotting a plot.
Lo! they plot a plot (against thee, O Muhammad)
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, they are planning a plan,
They (disbelievers) plot every evil plan,
Surely they will make a scheme,
Verily they are plotting a plot.
As for them, they are but plotting a scheme,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–17
صداقت قرآن کا ذکر رجع کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہوجائیں سورج چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں اے نبی تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔…
Read the full tafseer →سورة الطَّارِق 8 یعنی یہ کفار اس قرآن کی دعوت کو شکست دینے کے لیے طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں۔ اپنی پھونکوں سے اس چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں۔ ہر قسم کے شبہات لوگوں کے دلوں میں ڈال رہے ہیں۔ ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر اس کے پیش کرنے والے نبی پر لگا رہے ہیں تاکہ دنیا میں اس کی بات چلنے نہ پائے اور کفر و جاہلیت کی وہی تاریکی چھائی رہے جسے چھانٹنے کی وہ کوشش کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
انہ لقول فصل، یعنی قرآن کریم ایک فیصلہ کن قول ہے جو حق و باطل میں فیصلہ کرتا ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ قرآن کے متعلق فرمایا کتاب فیہ خبر ما قبلکم وحکم ما بعد کم وھو الفصل لیس بالھزل یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلی امتوں کے حالات واخبار ہیں اور تمہارے بعد آنیوالوں کے لئے احکام ہیں وہ فیصلہ کن قول ہے ہنسی مذاق نہیں۔ تمت سورة الطارق بحمد اللہ تعالیٰ 71 شوال 9131
Read the full tafseer →پیغمبر صلعم کو تسلی: یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارے انذار کا مذاق اڑانے کے لیے لوگ جو سخن سازیاں کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں فی الواقع کچھ شبہات ہیں جو کسی جواب یا کوئی معجزہ دکھا دینے سے دور ہو جائیں گے۔ یہ شبہات محض حقیقت سے فرار کے لیے گھڑے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ نہ یہ خود تمہاری بات مانیں نہ اپنے عوام کو ماننے دیں تاکہ ان کی سیادت قائم رہے اور اپنی جن خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں بدستور ان کی پیروی کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →15۔ 1 یعنی نبی ﷺ جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی ﷺ کو دھوکا اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
3: یعنی اس زمین کی جو پانی برسنے کے بعد کونپل کو باہر نکالنے کے لیے پھٹ پڑتی ہے۔ یہاں بارش اور زمین کے پھٹ پڑنے کی قسم کھانے سے بظاہر یہ اشارہ مقصود ہے کہ بارش کے پانی سے وہی زمین فائدہ اٹھاتی ہے جس میں اگنے کی صلاحیت ہو، اسی طرح قرآن کریم سے وہی شخص فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں حق کو قبول کرنے کی گنجائش ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ان لوگوں کی حقیقت تو ہم نے بھی بتادی ہے ، یہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیے گئے ہیں جو والد کی پیٹھ اور والدہ کے سینے سے نکلتا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پانی میں نہ طاقت تھی ، نہ قوت اور نہ ارادہ۔ نہ علم اور نہ ہدایت۔ ان لوگوں کو تودست قدرت اس طویل طریقے سے وجود میں لائی ہے اور ایک دن دوبارہ ان کو اسی طرح پیدا کیا جائے گا اور ان کے تمام راز کھل جائیں گے اور پھر اسی طرح بےبس اور بےکس ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کی تحریک کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ؟ میں ان کا خالق ، ہدایت دینے والا ، حفاظت کرنے والا ، پیدا کرنے والا ، مارنے والا اور دوبارہ لوٹانے والا ہوں ، ان کو میں نے اس امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔ میں قادر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
10 یعنی منکرین داؤ پیچ کرتے رہتے ہیں کہ شکوک و شبہات ڈال کر یا اور کسی تدبیر سے حق کو ابھرنے اور پھیلنے نہ دیں۔ اور میری تدبیر لطیف بھی (جس کا انہیں احساس نہیں) اندر اندر کام کر رہی ہے کہ ان کے تمامی مکرو کید کا جال توڑ پھوڑ کر رکھ دیا جائے اور ان کے سب داؤ پیچ ان ہی کی طرف واپس کئے جائیں۔ اب خود سوچ لو کہ اللہ کی تدبیر کے مقابلہ میں کسی کی چالاکی اور مکاری کیا کام دے سکتی ہے لا محالہ یہ لوگ ناکام اور خائب و خاسر ہو کر رہیں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ آپ ان کی سزا دہی میں جلدی نہ کریں اور ان کی حرکات شنیعہ سے گھبرا کر بد دعا نہ فرمائیں بلکہ تھوڑے دن ڈھیل دیں پھر دیکھیں نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17{ فَمَہِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا۔ } ”تو آپ ان کافروں کو ذرا مہلت دے دیجیے ‘ تھوڑی دیر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے !“ ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں حضور ﷺ کے لیے یہ ہدایت بہت تکرار کے ساتھ آئی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے لیے جلدی نہ کریں ‘ ان کے بارے میں تھوڑی دیر انتظار کریں : { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْط } الاحقاف : 35 ”تو اے محمد ﷺ ! آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول علیہ السلام صبر کرتے رہے ہیں اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے !“ اس دور میں چونکہ مشرکین ِمکہ ّنے اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا تھا ‘ اس لیے ان آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
12 کفار یہ چاہتے ہیں کہ ایسی چالیں چلیں، ایسی سازشیں تیار کریں، ایسے کارنامے سرانجام دیں جس سے قرآن کی دعوت کو شکست دی جاسکے۔ وہ اپنی پھونکوں سے اسلام کی شمع کو گل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے برعکس اللہ بھی ان کے مقابلہ میں ایک چال چل رہا ہے کہ وہ اس روشنی کو مکمل کرکے رہے گا اور کافروں کی کسی چال کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ واضح رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی چال یا خفیہ تدبیر کو لفظ کید سے تعبیر فرمایا پھر اس کے رد عمل کو اپنی طرف منسوب فرما کر اس کے لیے بھی کید کا لفظ استعمال فرمایا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو کسی چال یا خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل عرب کا محاورہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
6۔ (اور نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیے، اور نہ ان کے جلد ہی معذب ہونے کی کوشش کیجئے) (آیت) ” ان یکیدون کیدا “۔ یعنی یہ حق کی مخالفت میں ہر طرح کا زور لگا رہے اور ساری ہی چالیں چل رہے ہیں۔ (آیت) ” و اکیدکیدا “۔ یعنی ادھر سے خدائی تدبیریں انکے انتقام و عقوبت کی ہورہی ہیں۔ کید پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں، حق تعالیٰ کی جانب منسوب ہو کر جب یہ لفظ آتا ہے، تو مراد ہوتی ہے، معاندین کی چالوں کو الٹ دینے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
انھم یکیدون کیداً یعنی یہ کفار قرآنی دعوت کو شکست دینے کے لئے طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں، اپنی پھونکوں سے اس چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں، ہر قسم کے شبہات لوگوں کے دلوں میں ڈال رہے ہیں، ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر اس کے پیش کرنے والے نبی ﷺ پر لگا رہے ہیں تاکہ دنیا میں اس کی بات چلنے نہ پائے اور کفر و جہالت کی وہی تاریکی چھائی رہے جسے وہ چھانٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور خدا بھی ایک تدبیر کر رہا ہے کہ ان کی کوئی تدبیر اور مکر چلنے نہ پائے اور وہ نور پھیل کر رہے جسے یہ بجھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →انھم یکیدون کیدا . اہل مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے مکاری کرتے ہیں۔ باطن کے خلاف اظہار کرتے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کام کو بگاڑنے اور نور حق کو بجھانے کی ہر تدبیر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
(14۔ 17) اور کوئی لغو چیز ہیں۔ یہ مکہ والے لوگوں کو اسلام سے روکنے کی یا یہ کہ دار الندوہ میں آپ کو نقصان پہنچانے کی تدابیر کر رہے ہیں اور میں بھی بدر کے دن ان کو تہ تیغ کرنے کی تدبیر کر رہا ہوں، تو آپ ان کافروں کو بدر تک یوں ہی چھوڑ دیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(انھم یکیدون کیداً …:”رویداً“ مختار الصحاح میں ہے : ”فلان یمشی علی رود بوزن عود ای علی مھل و تصغیرہ روید“ یعنی ”روید“ ”رود“ بروزن ”عود“ کی تصغیر ہے جس کا معنی مہلت ہے۔ گویا ”رویداً کا معنی تھوڑی سی مہلت ہے۔ آیت میں یہ ”امھلھم“ کے مصدر محذوف ”مھالا“ کی صفت ہے۔ یہ لوگ قیامت کو جھٹلانے اور حق کو مٹانے کے لئے خفیہ تدبیریں کر رہے ہیں اور میں خفیہ طور پر ان کے توڑ کے لئے ان سے بھی بڑی تدبیر کر رہا ہوں۔ آپ نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیں، نہ جلد عذاب کی دعا کرئیں اور میرے کہنے پر انہیں تھوڑی سی مہلت دیں، آخر انہوں نے میرے ہی پاس آنا ہے، پھر میں جانوں اور یہ جانیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
انھم یکیدون کیدا۔ واکید کیدا۔ اللہ کے دشمن ہیں، حضرت محمد اور آپ کے صحابہ کے ساتھ مکروفریب کرتے ہیں اور میں ان کے مکر کی انہیں جزا دیتا ہوں، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں غزوہ بدر کے موقع پر قتل اور قید کی صورت میں دی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعایل نے انہیں غزوہ بدر کے موقع پر قتل اور قید کی صورت میں دی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، کیداللہ سے مراد ان کے ساتھ استدراج ہے جسے وہ نہ جانتے تھے، سورة بقرہ میں اللہ یستھزی بھم، البقرہ 15) کے ضمن میں اس پر مفصل بحث گزرچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وما ہوبالہزل اور وہ ہنسی کی بات نہیں یعنی یہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے۔ آیت فمہل الکفرین امہلہم رویدا۔ پس کافروں کو تھوڑے دنوں کی مہلت دے دو ۔ یعنی الرویدا کا معنی تھوڑا۔ 8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وما ہو بالہزل کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا کہ قرآن محض باطل اور کھیل نہیں ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے قیس بن رفاعہ کو نہیں سنا وہ کہتا ہے وما ادری وسوف اخال ادری اہزل…
Read the full tafseer →[انهُمْ يَكِيْدُوْنَ : بیشک یہ لوگ چالبازی کرتے ہیں ][ كَيْدًا : جیسے چالبازی کرنے کا حق ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
﴿اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ0013﴾ (بلاشبہ یہ قرآن ایک کلام ہے فیصلہ دینے والا) اس میں جو کچھ بتایا ہے سب صحیح ہے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ﴿ وَّ مَا هُوَ بالْهَزْلِؕ0014﴾ (اور یہ کوئی لغو چیز نہیں) ۔ ﴿ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًاۙ0015﴾ (بلاشبہ یہ لوگ حق کو دبانے کے لیے قرآن سے خود دور رہنے اور دوسروں کو اس سے دور کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں آپ کو تکلیف بھی دے رہے ہیں مکہ معظمہ آنے والوں کے راستہ میں بیٹھ کر انہیں آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں۔ قرآن کو شعر اور اساطیر الاولین بتاتے ہیں اہل ایمان کو مارتے پیٹتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
7:۔ ” انہم یکیدون “ یہ شکوی ہے اور اس حصے کی تمام سورتوں سے متعلق ہے۔ کفار و مشرکین حشر و نشر اور جزاء و سزا کے انکار و ابطال کے لیے کئی حیلے بہانے اور تدبیریں سوچتے رہتے ہیں مگر ہم اپنی لطیف تدبیروں سے اور کافی بیانات اور شافی جوابات سے ان کے ہر حیلے کو باطل کردیتے ہیں۔ یا اللہ کی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو بطور استدراج دے رہے ہیں اور وہ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ یہ مہلت ان کے لیے باعث عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اِنَّہُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًا 15 ۙ وَّاَكِيْدُ كَيْدًا 16 كيد الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] ( ک ی د ) الکید ( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر بھی کبھی اچھے معنوں میں فرمایا : ۔ كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا۔ وَّاَکِیْدُکَیْدًا۔ (الطارق : 15، 16) (وہ چل رہے ہیں ایک چال۔ اور میں بھی ایک دائو چل رہا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی ان آیات کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت کے مخالفین اور اللہ تعالیٰ کے دین کا انکار کرنے والے آپ ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے مختلف قسم کی چالیں چل رہے ہیں۔ کہیں لوگوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں تاکہ وہ سراسیمہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے دین کو چھوڑ دیں اور جاہلیت کی طرف پلٹ جائیں۔ اور کہیں لوگوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔ ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر کبھی آپ ﷺ پر لگایا جارہا ہے اور کبھی آپ ﷺ کے ساتھیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ “ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بےمقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع “ اور زمین کے لیے ” ذَات…
Read the full tafseer →قرآن باوقار باتیں : 15 : اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا (یہ لوگ طرح طرح کی تدبیریں کررہے ہیں) ھمؔ سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ یکیدون کیدًا اللہ تعالیٰ کے اوامر کو باطل کرنے کیلئے جو مختلف تدبیر کرتے ہیں اور اس نور حق کو بجھانے کی کوشش میں ہیں۔
Read the full tafseer →15 ۔ پھر مشرکین کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ” انھم یکیدون کیدا “ وہ نبی کریم ﷺ سے ڈرتے ہیں اور اس کا خلاف ظاہر کرتے ہیں جس پر وہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ رجع سے مراد بارش ہے چناچہ حاکم کی روایت میں صحیح سند سے یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ثابت ہوا ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے صحیح 1 ؎ بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد کی روایت سے اس قول کو لیا ہے ترجمہ میں چکر مارنے والا آسمان جو ترجمہ کیا گیا ہے سلف میں سے یہ قول عبد الرحمن بن زید بن اسلم تبع تابعی کا ہے ان عبد الرحمن نے تفسیر کی روایات اپنے باپ زید بن اسلم کوفی سے لی ہیں یہ زید بن اسلم مشہور مفسر اہل مدینہ میں سے ہیں لیکن عبد الرحمن کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے غرض یہ قول پہلے قول کے مرتبہ کا نہیں ہے…
Read the full tafseer →(اِنَّهُمْ ) یعنی رسول اللہ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ( يَكِيْدُوْنَ كَيْدًا) سازشیں کرتے ہیں۔ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مدد کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(11) منکرین کی چالبازی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایک چال چل رہے ہیں "۔ یہ لوگ چال چل رہے ہیں اس نور حق کو مٹانے، اس کا راستہ روکنے اور اس کو نیچا دکھانے کے لیے یُرِیْدُونَ أَن یُطْفِؤُواْ نُور اللّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَی اللّہُ إِلاَّ أَن یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ( التوبہ 32 پ 10) یعنی اللہ انکار کرتا ہے مگر یہ کہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے، اگر یہ بات بری لگے کافروں کو، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ دعوت حق و ہدایت کے مقابلے میں جو سخن سازیاں کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے دلوں میں فی الواقع کچھ ایسے شبہات ہیں جو کسی جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
قرآن کی سچائی اور کامیابی کی خوشخبری تشریح : یہاں آسمان کی یہ ڈیوٹی کہ بارش برساتا ہے اور زمین کا یہ فرض کہ نباتات کو اگاتی ہے (اللہ کے حکم سے) تو یہ دونوں کام ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معمول کا کام ہے مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر عجیب و غریب ' مشکل اور انسان کی قدرت سے باہر کام ہے۔ تو ان دونوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک بڑی محکم ' مقدس اور سچی کتاب ہے اس کا ہر ہر لفظ ہر ہر مضمون اور ہر ہر بات اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے جس طرح تم یہ تمام مظاہر قدرت دیکھ رہے ہو۔ تو اس قرآن حکیم میں دی گئی یہ خبر ہے کہ کفار کی تمام تدبیریں دھری رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 9 یعنی ایسی تدبیر کر رہا ہوں جس سے ان کے تمام مکر و فریب ناکام ہو کر رہ جائیں اور وہ اپنے جاں میں خود پھنس جائیں۔ مراد وہ استدراج ہے جس کے متعلق فرمایا : سنستدرجھم من حیث لایعمون و املی لھم ان کیدی مبین انہیں ہم درجہ بدرجہ اس طرح تباہی کی طرف لے جائیں گے کہا نہیں خبر تک نہ ہوگی میں انہیں مہلت دے رہا ہوں میری چال بڑی پختہ ہے۔ “ (اعراف 183-182) ہجرت سے پہلے کفار مکہ نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کی خفیہ اسکیم بنائی لیکن اللہ تعالیٰ نے بری طرح ناکام بنایا۔
Read the full tafseer →(86:15) انھم یکیدون کیدا : انھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع مشرکین مکہ ہیں۔ (الخازن) یکیدون مضارع جمع مذکر غائب کید (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی خفیہ تدبیر کرنا۔ کیدا مفعول مطلق (تاکید کے لئے) ای یحتالون بالمکر بالنبی ﷺ وذلک حین اجتمعوا فی دار الندوۃ وتشاور وافیہ (الخازن) ۔ یعنی جب وہ اپنے چوپال میں جمع ہوتے ہیں اور باہم مشورہ کرتے ہیں تو نبی کریم ﷺ کے خلاف مکرو فریب کی خفیہ تدبیریں سوچتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 4) ان سب کی قسم کہ قرآن قول فیصل وحکم الٰہی ہیے یہ قران باطل و خرافات نہیں یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتلانے اور بدی سے روکنے اور عقبی میں جزا وسزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکروفریب تو ان لوگوں کو قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیرکا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، چناچہ نبی ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت و خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔
Read the full tafseer →[9] قرآن کی دعوت کو شکست دینے اور نور حق کو بجھانے کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ف 1: والسماء ذات الرجع سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واشگاف طور پر موجود تھی کہ بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد یہی بخارات ابر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر یہی برستے ہیں ۔ اسی لئے اس کو ذات الرجع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایسے ابر جو اس امانت کو جو انہوں نے سمندروں سے لی ہے ۔ پھر سمندروں کو لوٹا دیتے ہیں ۔ زمین کو بھی تمثیل میں پیش کیا ہے ۔ جس میں سبزیاں نکلتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہہ یہ ہے کہ جس طرح ابر برستا ہے اور کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور جس طرح زمین بوقلمون سبزیوں کو اگلتی ہے ، اسی طرح قرآن فیضان الٰہی ہے اور اس سے دلوں کے کھیت شگفتہ و شاداب…
Read the full tafseer →(15) بے شک یہ دین حق کے منکر مختلف چالیں چل رہے ہیں اور مختلف تدابیر اور مختلف دائوں کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 1۔ جس طرح قرآن اپنی دلالت سے واقعات وغیرہ واقعیات میں فیصلہ کردینے والا ہے اسی طرح اپنی صفت اعجاز سے ان دو احتمالوں کا بھی کہ یہ منجانب اللہ ہے یا نہیں فیصلہ کردینے والا ہے اور منجانب اللہ ہونے کی شق کو متعین کردینے والا ہے۔ اور اخیر کی قسم کو اخیر کے مضمون سے یہ مناسبت ہے کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت ہوتی ہے اس کو ہدایت وسعادت سے مالا مال کرتا ہے، جیسے بارش آسمان سے آتی ہے، اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے۔
Read the full tafseer →بلا شبہ وہ لوگ اپنی اپنی تدبروں میں لگے ہوئے ہیں 15 ؎ ( یکیدون) کی اصل ک ی د ہے جس کے معنی خفیہ تدبیر کے ہیں جمع مذکر غائب مضارع بمعی حال کید مصدر یعنی وہ خفیہ تدبیر بھی کرتے ہیں کید عربی کا لفظ ہے جس کے معنی خفیہ تدبیر کے ہیں خواہ وہ تدبیر اچھی ہو یا بری لیکن اردو میں کید کا لفظ بری تدبیر میں مستعمل ہے جس کو دھوکا یا فریب کہتے ہیں ۔ جس کا فاعل کبھی نیک اور صالح انسان نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ یا اللہ تعالیٰ کا رسول ہو ۔ ان کی خفیہ تدبیروں کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! یہ لوگ حق کے مقابلہ کے لیے اور حق کے جھٹلانے کے لے جو مکاریاں اور فریب کاریاں کر رہے ہیں ہم ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (this is a decisive word..86:13) In other words, the Qur'an is truly a Decisive Word that decides between truth and falsehood, and there is no room for any doubt in it. Sayyidna ` Ali ؓ says that he heard the Holy Prophet ﷺ as saying about the Holy Qur'an: کتاب فیہ خبرما قبلکم و حکم مابعدکم وھو الفصل لیس بلھزل '[ It is ] a book which describes the stories of past communities and [ it contains ] injunctions for future generations. It is truly a Decisive Word. It is no joke.' Alhamdulillah The Commentary on Surah At-Tariq Ends here
Read the full tafseer →8 That is, these disbelievers are devising every kind of plan to defeat the invitation of the Qur'an; they wish to blow out this candle; they are creating aII sorts of doubts In the people's minds: they are inventing false accusations against the Prophet who has brought it, so as to frustrate his mission in the world and perpetuate the darkness of ignorance and unbelief which hr is struggling so hard to remove.
Read the full tafseer →