86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 86:1–2

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

قسم ہے آسمان کی اور اس چیز کی جو رات کو نمودار ہو

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور آپ کو معلوم ہے وہ رت کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے

1۔ ابن الضریس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ والسماء طارق مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ احمد والبخاری فی التاریخ وابن مردویہ والطبرانی نے خالد العدوانی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثقیف کے بازار میں دیکھا اور آپ کھڑے ہوئے تھے کمان پر یا لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ ان سے مدد طلب فرما رہے تھے پس اس نے آپ کو والسماء والطارق پڑھتے ہوئے سنا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کو ختم فرمایا۔ راوی نے کہا کہ میں نے اس سورة کو زمانہ جاہلیت میں یاد کرلیا تھا پھر میں نے زنانہ اسلام میں یہ سورة پڑھی۔ 3۔ النسائی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ معاذ ؓ نے مغرب کی نماز پڑھائی اور میں سورة بقرہ اور نساء پڑھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا اے معاذ کیا تو لوگوں میں فتنہ ڈالنا چاہتا ہے کیا تجھے یہ کافی نہیں تھا کہ تو والسماء والطارق اور والشمس وضحٰہا اور اس طرح کی سورة پڑھتا۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسماء والطارق سے مراد ہے کہ تیرے رب نے قسم کھائی ہے رات کو نمودار کی اور ہر وہ چیز جو تیرے پاس رات کو آئے وہ طارق ہے۔ 5۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ والسماء والطارق سے کیا مراد ہے آیت وما ادرک مالطارق آپ کو کیا معلوم کہ رات کو آنے والا کیا ہے۔ پھر میں نے پوچھا آیت فلا اقسم بالخنس۔ (التکویر آیت 15) پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے کی فرمایا آیت الجوارالکنس۔ سیدھے چلنے غائب ہوجانے والے ستارو کی۔ پھر میں نے پوچھا آیت والمحصنت من النساء (النساء آیت 14) اور خاوند والی عورتیں۔ فرمایا آیت الا ما ملکت ایمانکم مگر تمہارے ہاتھ جن کے مالک ہوجائیں۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا میں اس میں سے زیادہ نہیں جانتا مگر جو تو سن رہا ہے۔ 6۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت والسماء والطارق کے بارے میں فرمایا کہ ہر وہ چیز جو رات کے وقت نمودار ہوتی ہے۔ ان کل نفس لما علیہا حافظ۔ ایسی کوئی بھی جان نہیں کہ جس پر ایک محافظ مقرر نہ ہو۔ یعنی ہر جان پر ایک حفاظت کرنے والا فرشتوں میں سے مقرر ہے 7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت النجم الثاقب۔ ستارہ چمکتا ہوا۔ یعنی چمکتا ہوا ستارہ۔ آیت ان کل نفس لما علیہا حافظ فرمایا کوئی نفس نہیں مگر اس پر حفاظت کرنے والا ہے۔ 8۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء والطارق سے مراد ہے وہ ستارہ جو دن کو چھپ جاتا ہے اور رات کو ظاہر ہا جاتا ہے۔ آیت ان کل نفس لما علیہا حافظ۔ یعنی ہر جان کی حفاظت کی اس کے عمل نے اس کی مدت عمر نے اور اس کے رزق نے۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء والطارق میں طارق سے مراد ہے رات کو ستارہ کا ظاہر ہونا اور کہتے ہیں یطرقک باللیل کہ وہ تیرے پاس رات کے وقت آئے گا آیت النجم الثاقب یعنی چمکنے والا ستارہ آیت ان کل نف لما علیہا حافظ یعنی ہر جان پر ایک حفاظت کرنے والا ہے اور فرمایا کہ وہ حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں جو تیرے عمل کی اور تیرے رزق کی اور تیری موت کے وقت حفاظت کرتے ہیں اور اے ابن آدم جب وہ تجھ کو فوت کرتے ہیں تو وہ تیری روح کو تیرے رب کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔
Ayah 86:3

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

وہ روشن ستارہ ہے

10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت النجم الثاقب یعنی وہ ستارہ جو شعلے مارتا ہے۔ 11۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت النجم الثاقب سے مراد ہے ثریا ستارہ۔ 12۔ ابن المنذر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ آیت النجم الثاقب سے مراد ہے ان میں سے وہ ستارہ ہے جو چوری چھپے گفتگو سننے والے شیاطین کو جلا دیتا ہے۔
Ayah 86:4

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

کوئی شخص ایسا نہیں جس پر نگہبان مقرر نہ ہو

13۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ان کل نفس لما علیہا حافظ میں لما لام کو مشدد اور منصوب پڑھا۔
Ayahs 86:5–6

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

سو انسان غور کرلے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا

14۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلینظر الانسان مم خلق پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا سے ابو الاشدین مراد ہے جو چمڑہ پر کھڑے ہو کر کہتا تھا اے قریش کی جماعت جو مجھے اس سے ہٹادے اور اس کے لیے اتنا انعام ہوگا اور وہ کہتا تھا کہ محمد ﷺ یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے نگران فرشتے انیس ہیں میں اکیلا تم دس کے لیے کافی ہوں اور تم نو مجھے کافی ہوتے ہو۔
Ayah 86:7

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے

15۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یخرج من بین الصلب والترائب جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے نکلتا ہے یعنی جو آدمی کی پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یعنی جو آدمی کی پیٹھ اور عورت کی سینے کی ہڈیوں سے خارج ہوتا ہے اور ہر بچہ ان دونوں میں سے ہوتا ہے۔ بچہ کی تخلیق میں ماں باپ کا اجزاء شامل ہونا 16۔ عبد بن حمید نے ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ الصلب سے مراد ہے مرد کی پیٹ اور والترائب سے مراد ہے عورت کا سینہ۔ 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت یخرج من بین الصلب والترائب سے مراد ہے کہ وہ پانی گردن اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے۔ 18۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والترائب سے مراد ہے ہنسلی سے نیچے کا حصہْ 19۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ عنما سے روایت کیا کہ والترائب سے مراد ہے عورت کی سینے کی ہڈیاں اور وہ ہار پہننے کی جگہ ہے۔ 20۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یخرج من بین الصلب والترائب کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ والترائب سے مراد ہے عورت کے ہار پننے کی جگہ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا آیت والزعفران علی رائبہا شرفا بہ البات والنحر۔ ترجمہ : اور اس کے سینے کی ہڈیوں پر زعفران ہے اس کے سبب لبہ اور نحر سینے کا اوپر کا حصہ پر دونوں کو شرف حاصل ہے۔ 21۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یخرج من بی الصلب والترائب کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا وہ پانی نکلتا ہے آدمی کی پیٹھ سے اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ آیت نظام الؤلؤ علی ترائبہا شرفا بہ اللبات والنحر ترجمہ : موتیوں کا ہار اس کے سینے کی ہڈیو پر ہے اس کے سبب لبہ اور نحر دونوں کو شرف حاصل ہے 22۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والترائب سے مراد ہے سینہ۔ 23۔ عبد بن حمیدنے عکرمہ عطیہ اور ابو عیاض رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 24۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والترائب سے مراد ہے چار پسلیاں ہر جانب سے نیچے کی پسلیوں میں سے۔ 25۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ہڈیاں اور پٹھے مرد کے پانی سے اور گوشت اور خون عورت کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں۔ 26۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یخرج من بین الصلب والترائب یعنی وہ نکلتا ہے کہ وہ پانی آدمی کی پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے آیت انہ علی رجعہ لقادر بیشک وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرنے اور اس کے لوٹانے پر قادر ہے۔ آیت یوم تبلی السرائر جس دن بھید ظاہر کیے جائیں گے۔ یعنی یہ بھید آزمائش اور امتحان ہیں۔ پس تم چھپ کر اور اعلانیہ بھی خیر کا کام کرو۔ آیت فما لہ من قوۃ تو اس کے لیے کوئی طاقت نہ ہوگی۔ کہ جس کے ذریعہ وہ بچ سکے۔ آیت ولا ناصر اور نہ کوئی مددگار ہوگا کہ جو اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں۔
Ayah 86:8

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بیشک وہ ضرور اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے

27۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ علی رجعہ لقادر بیشک وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی وہ اس پر قادر ہے کہ بوڑھے کو جوان بنادے اور جوان کو بوڑھا بنادے۔ 28۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت انہ علی رجعہ لقادر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ نطفہ کو پیشان نکلنے کے سوراخ میں واپس لوٹا دے۔ 29۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے انہ علی رجعہ لقادر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ وہ اس نطفہ کو پیٹھ میں واپس لوٹا دے۔ 30۔ عبد بن حمید نے ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ اس نطفہ کو اپنے باپ کی پیٹھ میں واپس لوٹا دے۔ 31۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت انہ علی رجعہ لقادر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کے زندہ کرنے پر قادر ہے۔
Ayahs 86:9–10

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

جس دن چھپے ہوئے بھیدوں کی جانچ کی جائے گی

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

سو انسان کے لیے نہ کوئی قوت ہوگی نہ کوئی مددگار

32۔ عبد بن حمید نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تبلی السرائر جس دن بھید ظاہر کیے جائیں گے یعنی وہ بھید جس کو تم لوگ سے چھپاتے ہو۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک وادی میں ہی۔ تم ان کا ان کی دوا کے ساتھ علاج کرو۔ عرض کیا ان کی دوا کیا ہے ؟ فرمایا ان کی دوا یہ ہے کہ تو توبہ کرے اور پھر ان کی طرف نہ لوٹ یعنی ان گناہوں کا اعادہ نہ کرے 33۔ ابن المنذر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تبلی السرائر سے مراد ہے روزہ، نماز اور غسل جناب۔ 34۔ ابن المنذر نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 35۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ضامنت لی اپنی مخلوق سے چار چیزوں کی، نماز، زکوٰۃ رمضان کے روزے اور جنابت سے غسل کرنا اور یہ وہ بھید ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یوم تبلی السرائر۔
Ayah 86:11

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

قسم ہے آسمان کی جس سے بارش ہوتی ہے

1۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات الرجع قسم ہے آسمان بارش والے کی یعنی ایک بارش کے بعد دوسری بارش آیت والارض ذات الصدع قسم ہے زمین کی جو پھت جای ہے یعنی نباتات سے زمین کا پھٹنا ہے۔ 2۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر، عکرمہ، ابو مالک، ابن ابزی اور ربیع بن انس رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات الرجع سے مراد وہ بادل ہے جو بارش برساتا ہے۔ پھر بارش کے ساتھ لوٹتا ہے آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے وادیوں کے علاوہ تنگ مقامات اور دریا کے کھوکھلے کنارے۔ 4۔ عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات الرجع یعنی قسم ہے آسمان کی جو ہر سال بارش کے ساتھ لوٹتا ہے۔ آیت والارض ذات الصدع۔ اور زمین کی جو نباتات کے ساتھ ہر سال پھٹ جاتی ہے۔
Ayahs 86:12–13

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور زمین کی جو پھٹ جاتی ہے

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

یہ قرآن ایک فیصلہ کردینے والا ہے

5۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے وادیوں کا پھٹ جانا۔ 6۔ ابن مندہ والدیلمی نے معاذ بن انس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ آیت والارض ذات الصدع سے مراد ہے کہ زمین پھٹ جاتی ہے اللہ کی اجازت سے اموال اور نباتات کے ساتھ۔ آسمان سے رزق کا اترنا 7۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت والسماء ذات الرجع۔ کے بارے میں روایت کیا کہ قسم ہے آسمان کی جو ہر سال بندوں کی طرف ان کے رزق کے ساتھ لوٹتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو لوگ بھی اور ان کے مویشی بھی ہلاک ہوجائیں آیت والارض ذات الصدع۔ اور زمین جو نباتات اور پھلوں کے ساتھ پھٹ جاتی ہے جیسے تم دیکھتے ہو آیت انہ لقول فصل۔ یعنی یہ قرآن قول ہے حکمت والا آیت وما ہو بالہزل اور وہ ہنسی کی بات نہیں یعنی یہ کوئی کھیل تماشہ نہیں آیت فمہل الکفرین امہلہم رویدا پس کافروں کو تھوڑے دنوں کی مہلت دے دو ۔ یعنی الرویدا کا معنی تھوڑا۔
Ayahs 86:14–16

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

اور وہ کوئی لغو چیز نہیں ہے

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور میں بھی طرح طرح کی تدبیریں کر رہا ہوں

8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وما ہوبالہزل اور وہ ہنسی کی بات نہیں یعنی یہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے۔ آیت فمہل الکفرین امہلہم رویدا۔ پس کافروں کو تھوڑے دنوں کی مہلت دے دو ۔ یعنی الرویدا کا معنی تھوڑا۔ 8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وما ہو بالہزل کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا کہ قرآن محض باطل اور کھیل نہیں ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے قیس بن رفاعہ کو نہیں سنا وہ کہتا ہے وما ادری وسوف اخال ادری اہزل زاکم ام قول جد ترجمہ : اور میں نہیں جانتا اور میں فراست سے جان لوں گا یا عمدہ اور اچھا قول ہے۔ 9۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ہو بالہزل یعنی یہ قرآن کوئی کھیل نہیں ہے۔ 10۔ ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے۔ اور فرمایا اے محمد ﷺ بیشک آپ کے بعد آپ کی امت میں اختلاف پڑجائے گا۔ پھر میں نے کہا اے جبریل (علیہ السلام) اس کے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی کتاب ! اسی کے ذریعہ ہر جابر کو توڑا جاسکتا ہے اور جس نے اس کو مضبوطی سے پکڑا وہ نجات پا گیا اور جس نے اس کو چھوڑدیا وہ ہلاک ہوا یہ قرآن فیصلہ کرنے والی بات ہے حق اور باطل کے درمیان یہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے۔
Ayah 86:17

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

تو آپ ان کافروں کو مہلت دیجیے ان کو تھوڑے دنوں رہنے دیجیے

11۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول فصل بیشک قرآن قطعی بات ہے۔ بلاشبہ یہ قول حق ہے آیت وما ہو بالہزل اور وہ ہنسی کی بات نہیں ہے۔ یعنی یہ جھوٹی بات نہیں ہے آیت امہلہم رویدا تھوڑے دنوں کی مہلت یعنی آپ ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجیے۔ 12۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمہل الکفرین امہلہم رویدا پس کافروں کو تھوڑے دنوں کی مہلت دیدوں یعنی ان کو مہلت دے دو یہاں تک کہ میں ان سے لڑنے کا حکم کروں۔ 13۔ ابن ابی شیبہ والدارمی والترمذی ومحمد بن نصر وابن الانبار نے المصاحف میں الحارث الاعور (رح) سے روایت کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگ احادیث کے بارے میں عیب اور نقائص بیان کرنے لگے تو میں علی ؓ کے پاس آیا اور ان کو اس کی خبردی۔ انہوں نے فرمایا کیا انہوں نے ایسا کیا ہے ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب فتنہ برپا ہوگا میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب ہے اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں اور تمہارے بعد آنے والوں کی بھی اور تمہارے لیے بھی حکم ہے۔ یہ قول فیصل ہے مذاق اور ہنسی کی بات نہیں ہے جب کسی جابر نے اس کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑے دے گا۔ اور جو شخص اس کے سوا کسی اور سے ہدایت طلب کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کردے گا۔ اور وہ اللہ کی مضبوط رسی ہے اور یہی ذکر حکیم ہے اور وہ سیدھا راسہ ہے اور یہ وہ کتاب ہے کہ اس کے ذریعہ خواہشات حق سے نہیں ہٹا سکتیں اس سے علماء سیر نہیں ہوں گے اور نہ اس سے زبانیں متلبس ہوں گی۔ اور نہ بار بار پڑھنے سے اکتاہٹ کا سبب ہوگا۔ اور اس کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے۔ اور یہ وہ کتاب ہے کہ جسے جونہی جنات نے سنا تو وہ رک گئے یہاں تک کہ انہوں نے کہا آیت ان اسمعنا قراٰنا عجبا یہدی الی الرشد ( سورة جن) کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جس نے اس کے ذریعہ کہا سچ کہا اور جس نے اس کے ذریعہ فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا۔ اور جس نے اس کے ساتھ عمل کیا اس نے اجر پایا۔ اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے سیدھے راستے کی طرف راستہ دکھایا۔ 14۔ محمد بن نصر والطبرانی نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فتنوں کا ذکر فرمایا اور ان کو بڑا عظیم اور شدید قرار دیا۔ علی بن ابی طالب ؓ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ! اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی کتاب کہ اس میں نکلنے کا راستہ ہے۔ اس میں تم سے پہلے لوگوں کا ذکر ہے اور تم سے بعد والے لوگوں کی خبر بھی ہے اور اس میں تمہارے بارے میں فیصلے بھی ہیں۔ بس جس جابر نے اس کو چھوڑا ہدایت کو طلب کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی کمر توڑدے گا اور جو شخص اس کے سوا کسی اور سے ہدایت کا خواہش مند ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کردے گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور یہ ذکر حکیم ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے اور یہ وہی کلام ہے کہ جب اس کو جنات نے سنا تو رکے رہے یہاں تک کہ انہوں نے کہا آیت انا سمعنا قراٰنا عجبا یہدی الی الرشد سورة الجن اور یہ وہی قرآن ہے کہ اس کے ساتھ زبانیں نہیں تھکتیں اور نہ ہی بار بار کثرت کے ساتھ پڑھنے سے اکتا ہٹ ہوتی۔