Ayah 86:1والسماء والطارق . آسمان کی اور ٹوٹنے والے تارے کی قسم۔ الطارق ‘ اصل میں لغت کے اعتبار سے راستہ
پکڑنے والا۔ عرف عام میں رات کو آنے والا۔ پھر استعمال میں نمودار ہونے والے کو بھی طارق کہہ لیا جاتا ہے۔ اس جگہ الطارق مجمل ہے۔ تشریح اگلی آیت میں کی گئی۔
Ayah 86:2وما ادراک ما الطارق . تارے ٹوٹنے کے فوائد چند درچند ہیں۔ شیطانوں کو مار کر نکالنا۔ آسمان کی سجاوٹ
(نشان قدرت دکھا کر) بندوں کو ڈرانا وغیرہ۔ پس ممکن ہے کہ اسی امر کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے استفہام کا استعمال کیا گیا ہو (اور اگر استفہام کو تعظیم کے لیے نہ قرار دیا جائے تو بہرحال کلام مجمل ہوگا ‘ جس کی تشریح آئندہ آیت میں ہے) ۔
Ayah 86:3النجم الثاقب . النجم : کوئی تارہ۔ الف لام جنسی ہے یا کوئی ٹوٹنے والا تارہ جو شیطانوں کے مارا جاتا ہے (اس
وقت بھی الف لام جنسی ہوگا) یا الف لام عہدی ہے اور ثریا مراد ہے۔ یہ قول ابن زید کا ہے۔ عرب ثریا کو النجم کہتے ہیں یا زحل مراد ہے۔ زحل چونکہ بلند ہے اس لیے اس کو ” النجم الثاقب “ کہا گیا۔ پرندہ اگر اونچا اڑ کر بہت بلندی تک پہنچ جائے تو عرب کہتے ہیں : قَدْ ثَقَبَ ۔ اس قول کی صحت یونانی حکماء کے اس خیال پر مبنی ہے کہ زحل ساتویں آسمان میں ہے۔
ظاہر یہ ہے کہ الثاقب کا معنی ہے چمک دار ‘ جگمگاتا ہوا (کیونکہ ثقب کا معنی ہے سوراخ کرنا ‘ پار ہوجانا) ٹوٹنے والا تارہ اپنی روشنی سے تاریکی میں سوارخ کردیتا ہے۔ روشنی تاریکی کے پار ہوجاتی ہے۔ مجاہد کا یہی قول ہے۔
Ayah 86:4ان کل نفس لما علیھا حافظ . ابن عامر ‘ عاصم اور حمزہ کی قراءت میں لَمَّا میم کی تشدید کے ساتھ آیا ہے
اور بنی ہذیل کے محاورہ میں لَمَّا استثنائیہ آتا ہے۔ اس صورت میں اِنْ نافیہ ہوگا۔ ترجمہ اس طرح ہوگا ‘ نہیں ہے کسی حالت میں کوئی نفس مگر اس پر نگراں موجود ہے۔ دوسرے اہل قراءت نے لما بغیر تشدید کے پڑھا ہے اس وقت انکو مخففہ کہا جائیگا۔ اصل میں انّ (حرف مشبہ بلفعل) تھا۔ انکا اسم محذوف ضمیر ہے۔ لمَّا میں لام تاکیدی ہے اور مَا کو مزید تاکید کیلئے ذکر کیا گیا (یعنی مَا موصولہ نہیں ‘ نہ نافیہ ہے)
مطلب اس طرح ہوگا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نفس انسانی پر بلاشک و شبہ رب کی طرف سے کوئی نگراں مقرر ہے جو اس کے اعمال کی نگرانی کرتا اور ہر نیکی ‘ بدی کو احاطہ کے ساتھ لکھ لیتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ نگراں ملائکہ میں سے ہیں۔
بعض نے حافظ کا ترجمہ نگہبان کیا ہے یعنی ہر شخص کا ایک نگہبان موجود ہے جو آفات سے اس کی حفاظت کرتا ہے اور جب اس کی مدت زندگانی اور رزق کی تکمیل ہو چکتی ہے تو وہ مرجاتا ہے۔ حَافِظٌ سے مراد مفہوم جنسی ہے ایک حافظ ہو یا زیادہ (گویا حافظ سے صیغۂ اسم فاعل مذکر مفرد مراد نہیں بلکہ نگرانی یا نگہبانی رکھنے والی شخصیت مراد ہے خواہ وہ ایک ہو یا چند ہوں) اب اس آیت میں اور آیت : وان علیکم لحٰفظین میں کوئی تضاد نہیں رہا (اگرچہ مذکورۂ بالا آیت میں حافظ صیغۂ مفرد ہے اور مؤخر الذکر آیت میں حافظین بصیغۂ جمع ہے) یا یہ مراد ہے کہ حافظ تو خدا ہے اور حفاظت کرنے والے (ملائکہ) اسی کے حکم سے نگرانی رکھتے ہیں۔ پس فرشتوں کے عمل کی اللہ کی طرف نسبت کردی گئی۔ دونوں قراءتوں پر یہ جملہ جواب قسم ہے۔
ابن ابی حاتم نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ ابو اسد (مشہور پہلوان) جانور کے کچے چمڑے پر کھڑا ہو کر کہتا تھا : اے گروہ ‘ جو محمد ﷺ کو ایذاء دے گا اس کے لیے اتنا اتنا انعام ہے۔ ابو اسد یہ بھی کہتا تھا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں جہنم کے کارندے انیس ہیں۔ دس کے لیے تو میں کافی ہوں ‘ باقی نو سے تم نمٹ لینا۔ اس پر ذیل کی آیت نازل ہوئی۔
Ayah 86:5فلینظر الانسان مم خلق . فاء سببی ہے نگراں فرشتوں کا وجود (اور ہر چھوٹے ‘ بڑے عمل کے اندراج کا
اندیشہ) اس امرکا سبب ہے کہ آدمی اپنے حالات پر غور کرے تاکہ اپنے تخلیقی احوال سے دوبارہ تخلیق کی صحت پر استدلال کرسکے اور اس کے لیے اللہ اور رسول کو ماننا ‘ ان کے احکام پر چلنا اور ممنوعات سے اجتناب رکھنا لازم ہوجائے۔ مِمَّ میں مِنْ ابتدائیہ اور ما استفہامیہ ہے اور مِمَّ خُلِقَ پورا جملہ ینظر کا مفعول ہے (یعنی مادۂ تخلیق کی حالت پر غور کرے کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا) اس استفہام کے جواب میں خود ہی فرمایا۔
Ayah 86:6خلق من ماء . کودنے والا دافِقٌ اسم فاعل ہے پانی کی طرف۔ دفق کی نسبت مجازی ہے یا اسم فاعل بمعنی اسم مفعول
ہے جیسے عِیْشَۃٌ رَّاضِیَۃٌ میں راضیۃٌ (پسند کرنے والی) کا معنی مرضیۃٌ (پسندیدہ) ہے۔ دفقٌ کا معنی ہے یکدم بہنا۔ اس وقت مادہ کی طرف دافق کی اسناد حقیقی ہوگی۔
Ayah 86:7یخرج من بین الصلب والترائب . صُلْبٌ : پشت۔ صراح میں ہے صلب کا معنی ہے مضبوط۔ مضبوطی کی
وجہ سے ہی (اعضاء انسانی میں سے) پشت کو صلب کہا جاتا ہے۔ اس جگہ صلب سے مراد ہے مرد کی پشت الترائب عورت کے سینہ کی ہڈیاں۔
قاموس میں ہے۔ ترائب سینہ کی ہڈیاں یا وہ ہڈیاں جو دونوں طرف ہنسلی کی ہڈیوں سے ملی ہوئی ہیں یا وہ ہڈیاں جو چھاتیوں اور ہنسلیوں کے درمیان ہیں یا سینہ کے دائیں بائیں جانب کی چار ‘ چار پسلیاں یا دونوں ہاتھ ‘ دونوں ٹانگیں اور دونوں آنکھیں یا ہار ڈالنے کی جگہ۔ بیضاوی میں ہے کہ چوتھے ہضم کے جوہر اعلیٰ سے نطفہ بنتا ہے اور تمام اعضاء سے کھنچ کر آتا ہے ‘ اسی لیے اس میں اس قسم کے اعضاء بننے کی صلاحیت ہوتی ہے ‘ جس سے وہ کھنچ کر آتا ہے۔ دونوں خصیوں کی رگوں کا جال نطفہ کی قرارگاہ ہے۔ نطفہ کی پیدائش میں سب سے بڑا مددگار دماغ ہوتا ہے۔ اسی لیے جماع کی زیادتی سے دماغی ضعف بہت پیدا ہوجاتا ہے تو لید نطفہ کے لیے دوسرا نمبر حرام مغز کا ہے۔ حرام مغز پشت (کے مہروں) کے اندر ہوتا ہے اس کی بکثرت شاخیں سینہ کی ہڈیوں تک پھیلتی ہیں۔ ظروف منی سے زیادہ قرب ‘ صلب اور ترائب کو ہی ہوتا ہے ‘ اسی لیے خصوصیت کے ساتھ آیت میں انہی دونوں کا ذکر کیا گیا۔
Ayah 86:8انہ علی رجعہ لقادر . انہٗ میں ضمیر خالق کی طرف لوٹتی ہے۔ خالق گو لفظاً مذکور نہیں ہے مگر خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ سے
اِسکا مفہوم سمجھ میں آ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اسکو دوبارہ پیدا کرنے پر خالق یقیناً قدرت رکھنے والا ہے۔ کذا قال قتادہ۔
کیونکہ اوّل تخلیق ‘ دوبارہ تخلیق کے امکان کو بتارہی ہے جس نے پہلی بار پیدا کیا اس کی قدرت کا انکار درست نہیں جبکہ ایک مخبر صادق جس کی صداقت معجزات سے ثابت ہے۔ خالق کے وجود وقدرت کی اطلاع بھی دے رہا ہے۔
Ayah 86:9یوم تبلی السرائر . یعنی انسان کو اس روز دوبارہ پیدا کیا جائے گا جس روز پوشیدہ اعمال اور مخفی عقائد اور
ارادے اور دلوں میں چھپی باتیں ظاہر ہوجائیں گی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ہر راز کو ظاہر کر دے گا۔ پوشیدہ راز چہروں پر نمودار ہوجائے گا۔
Ayah 86:10فمالہ من قوۃ ولا ناصر . جب منکر قیامت آدمی دوبارہ پیدا ہوجائے گا تو اس کے پاس نہ اپنی ذاتی قوّ ت
ایسی ہوگی جس کی وجہ سے عذاب سے بچ سکے ‘ نہ کوئی ایسا مددگار ہوگا جو مدد کر کے عذاب سے بچا لے۔
Ayah 86:11والسماء ذات الرجع . بارش والے آسمان کی قسم ( رَجْعٌ لوٹانا) بارش کو رجع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ
ہر سال بارش لوٹ لوٹ کر آتی ہے۔ آسمان صاحب رجع ہے یعنی آسمان کے جس حصہ سے ستارے حرکت شروع کرتے ہیں ‘ 24 گھنٹہ میں یا ایک مہینہ میں یا سال بھر میں اسی مقام پر آجاتے ہیں۔
Ayah 86:12والارض ذات الصدع . اور شگاف والی زمین کی قسم ‘ سبزہ پیدا ہونے اور چشمے پھوٹنے سے اور بعض
دوسری وجوہ سے زمین میں شگاف پیدا ہوتے ہیں۔
Ayah 86:13انہ لقول فصل . بلاشبہ قرآن حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔
Ayah 86:14وما ھوبا لھزل . اور وہ کھیل اور دل لگی نہیں ہے بلکہ واقعی حقیقت ہے۔ قرآن کا تقاضا ہے کہ
اس کو پڑھنے اور سننے کے وقت دل لگی اور مزاح میں مبتلا نہ ہو بلکہ قلبی خشوع سے اس کی طرف متوجہ ہو۔
Ayah 86:15انھم یکیدون کیدا . اہل مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے مکاری کرتے ہیں۔ باطن کے خلاف اظہار کرتے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کام کو بگاڑنے اور نور حق کو بجھانے کی ہر تدبیر کرتے ہیں۔
Ayah 86:16واکیدا کیدا . اور میں بھی پوشیدہ تدبیر کرتا ہوں۔ اللہ کی تدبیر کا معنی یہ ہے کہ اللہ ان کو ڈھیل
دیتا رہتا ہے اور اللہ کی طرف سے ڈھیل دینے کا ان کو پتہ نہیں چلتا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ان کے فریب کی سزا آخرت میں ان کو دوں گا۔
Ayah 86:17فمھل الکفرین . تم بھی کافروں کو مہلت دو یعنی ان سے انتقام لینے میں مشغول نہ ہو ‘ یا بددعا کر کے ان کے ہلاک کیے جانے کی فوری طلب نہ کرو۔ اوّل مطلب پر یہ آیت قتال والی آیت سے منسوخ قرار دی جائے گی۔
امھلھم . یہ حکم مہلت کی تاکید ہے مَھِّل (باب تفعیل) اَمْھِلْ (باب افعال) میں لفظ کا تغیر محض
تحسین لفظی یا تسکین کے لیے ہے۔
رویدا . کسی قدر رویدًا کا معنی ہے اروادًا یعنی قدرے مہلت دینا ‘ یا روید ‘ ارواد کی تصغیر
ہے۔ اس میں تصغیر ترخیم ہے یعنی حروف زوائد حذف کرنے کے بعد تصغیر کی گئی ہے۔ اس کا مادہ رَوْدٌ ہے رَوْدٌ آہستہ حرکت کرنا۔ رادت الریح : ہوا آہستہ آہستہ چلی۔
بغیر تصغیر کے اس کا استعمال عربی میں نہیں آیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ کی طرف سے یہ گرفت کی دھمکی ہے چناچہ بدر کی لڑائی میں اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ سورة الطلاق ختم ہوئی ‘ بعونہ و حمدہ تعالیٰ