Explained with ayahs 1–10
تخلیق انسان
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھتا ہے طارق کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بیخبر آجائے یہاں بھی لفظ طروق ہے، آپ کی ایک دعا میں بھی طارق کا لفظ آیا ہے ثاقب کہتے ہیں چمکیلے اور روشنی والے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے جیسے اور جگہ ہے کہ آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →سورة الطَّارِق 4
یعنی جس طرح وہ انسان کو وجود میں لاتا ہے اور استقرار حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے، یہی اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ وہ اسے موت کے بعد پلٹا کر پھر وجود میں لا سکتا ہے۔ اگر وہ پہلی چیز پر قادر تھا اور اسی قدرت کی بدولت انسان دنیا میں زندہ موجود ہے، تو آخر کیا معقول دلیل یہ گمان کرنے کے لیے پیش کی جاسکتی ہے کہ دوسری چیز پر وہ قادر نہیں ہے۔ اس قدرت کا انکار کرنے کے لیے آدمی کو سرے سے اس بات ہی کا انکار کرنا ہوگا کہ خدا اسے وجود میں لایا ہے، اور جو شخص اس کا انکار کرے اس سے کچھ بعید نہیں کہ ایک روز اس کے دماغ کی خرابی اس سے یہ دعوی بھی کرا دے کہ دنیا کی تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
انہ علی رجعہ لقادر، رجع کے معنے لوٹا دینے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس خالق کائنات نے اول انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے وہ اس کو دوبارہ لوٹا دینے یعنی مرنیکے بعد زندہ کردینے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔
یوم تبلی السرائر، تبلی کے لفظی معنے امتحان لینے اور آزمانے کے ہیں اور سرائر کے معنی ہیں مخفی امور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز انسان کے تمام عقائد و خیالات اور نیت وعزم جو دل میں پوشیدہ تھی دنیا میں اس کو کوئی نہ جانتا تھا اسی طرح وہ اعمال و افعال جو اس نے چھپ کر کئے دنیا میں کسی کو ان کی خبر نہیں، محشر میں سب کا امتحان لیا جائے گا یعنی سب کو ظاہر کردیا جائے گا، حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →’اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ‘۔ یعنی جس خدا نے انسان کو پیدا کرنے میں اپنی قدرت و حکمت کی یہ شانیں دکھائی ہیں وہ اس کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی ضرور قادر ہے۔ ’رَجْعِہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع انسان ہے جس کو آیت ’فَلْیَنۡظُرِ الْإِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ‘ (۵) میں غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اگرچہ لفظ عام استعمال ہوا ہے لیکن اصل روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے جو اس قسم کے لاطائل شبہات پیدا کر کے قرآن کے انذار کو غیر مؤثر بنا دینا چاہتے تھے۔
Read the full tafseer →8۔ 1 یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحییح قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
2: اس سے مراد وہ مادہ منویہ ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے، اور اس کے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دھڑ کا یہ درمیانی حصہ ہی اس مادے کا اصل مرکز ہے۔
Read the full tafseer →یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی نگہداشت کی۔ لہٰذا اس پر قادر ہے کہ موت کے بعد اسے زندگی بخشے اور مرکر مٹی میں مل جانے کے بعد اسے حیات جدید دے۔ اللہ کی پہلی تخلیق جس کا اوپر ذکر ہوا ، یہ شہادت دے رہی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ پہلی زندگی اللہ کی تدبیر اور اللہ کی قدرت پر شاہد عادل ہے کیونکہ پہلی تخلیق میں نہایت حکیمانہ ٹیکنالوجی پوشیدہ ہے۔ اگر انسان کو دوبارہ زندہ کرنے اور حساب و کتاب لینے کو تسلیم نہ کیا جائے تو پہلی تخلیق کا پورا نظام عبث ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →4 یعنی اللہ پھیر لائے گا مرنے کے بعد (موضح القرآن) حاصل یہ کہ نطفہ سے انسان بنادینا بہ نسبت دوبارہ بنانے کے زیادہ عجیب ہے جب یہ امر عجیب اس کی قدرت سے واقع ہو رہا ہے تو جائز نہیں کہ اس سے کم عجیب چیز کے وقوع کا خواہ مخواہ انکار کیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 8{ اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ۔ } ”یقینا وہ اسے لوٹانے پر بھی قادر ہے۔“
جس اللہ نے پانی کی ایک بوند سے انسان کی تخلیق کی ہے وہ یقینا اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے اسے اپنے پاس واپس بلا لے۔ اور یقینا وہ اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کردینے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →6 اللہ تعالیٰ نے ایک شہادت عالم بالا سے پیش فرمائی، دوسری انسان کی تخلیق سے اور یہ دونوں اس بات پر قوی دلیل ہیں جو ہستی ایسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دے رہی ہے وہ یقیناً انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور اگر انسان سوچے تو یہ کارنامے انسان کی دوبارہ زندگی سے زیادہ حیرت انگیز اور معجز نما ہیں۔ اب جو شخص ان کارناموں کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے وہ آخر یہ کیوں نہیں کہتا کہ دنیا میں انسان کے ہاتھوں بنائے ہوئے جتنے کارخانے چل رہے ہیں یہ بھی بس اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں سامنے آگئے اور کام کرنے لگے ہیں یا دنیا میں جو شہر آباد ہیں، سڑکیں ہیں اور دریا اور نہریں رواں ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
2۔ (اور اس کو مستبعد سمجھنا خود ایک تمامتر احمقانہ خیال ہے) (آیت) ” فلینظرالانسان ..... دافق “۔ یعنی انسان اپنے آغاز وابتداء پر غور کیا تو کرے۔ اس مراقبہ سے موت ومعاد کی یاد تازہ ہوتی رہے گی۔
ع :۔ بہ آغاز ردکن کہ پایاں ہمیں است :۔ (آیت) ” رجعہ “۔ ضمیر انسان کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
یخرج من بین الصلب و الترائب ” صلب “ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں اور ترائب، تریبۃ کی جمع ہے سینے کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں ہار پہنا جاتا ہے، انسان کا مادہ تولید اس حصہ سے نکلتا ہے جو صلب اور سینے کے درمیان واقع ہے۔
Read the full tafseer →انہ علی رجعہ لقادر . انہٗ میں ضمیر خالق کی طرف لوٹتی ہے۔ خالق گو لفظاً مذکور نہیں ہے مگر خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ سے
اِسکا مفہوم سمجھ میں آ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اسکو دوبارہ پیدا کرنے پر خالق یقیناً قدرت رکھنے والا ہے۔ کذا قال قتادہ۔
کیونکہ اوّل تخلیق ‘ دوبارہ تخلیق کے امکان کو بتارہی ہے جس نے پہلی بار پیدا کیا اس کی قدرت کا انکار درست نہیں جبکہ ایک مخبر صادق جس کی صداقت معجزات سے ثابت ہے۔ خالق کے وجود وقدرت کی اطلاع بھی دے رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(8۔ 10) اور اللہ تعالیٰ اس پانی کو شرمگاہ میں دوبارہ واپس کرنے پر قادر ہے، یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس روز سب کی مخفی باتیں ظاہر ہوجائیں گی پھر نہ اس انسان کو عذاب کی مدافعت کی خود قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی معین و مددگار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
انہ علی رجعہ لقادر ، یوم تبلی السرآئر :”تبلی“ ”بلایبلو“ (ن) آزمائش کرنا، جانپ ڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جان پڑتال تبھی ہوگ ی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔”السرآئر“ ”سریرۃ“ کی جمع ہے۔”سر“ اور ”سریرۃ“ اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جایئ۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہوسکتا۔ ”یوم تبلی السرآئر“ ”رجعہ“ کا ظرف ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
Read the full tafseer →انہ علی رجعہ لقادر۔ مجاہد اور ضحاک نے اس طرح کہا ہے ان دونوں سے یہ بھی مروی ہے، اس کا معنی ہے وہ پانی کو ریڑھ کی ہڈی میں لوٹانے پر قادر ہے، یہ عکرمہ کا قول ہے ضحاک سے بھی اسی طرح کا قول مروی ہے کہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو پانی کی طرف لوٹانے پر قادر ہے جس طرح وہ پہلے تھا ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے وہ انسان کو بڑھاپے سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کی طرف لوٹانے پر قادر ہے، مہدوی نے کہا، ماوردی اور ثعلبی نے کہا، بچپنے کی طرف اور بچپنے سے نطفہ کی طرف لوٹانے پر قادر ہے، حضرت ابن عباس قتادہ، حسن بصری اور عکرمہ نے یہ بھی کہا وہ انسان کو موت کے بعد لوٹانے پر قادر ہے، یہ طبری کا پسندیدہ…
Read the full tafseer →27۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ علی رجعہ لقادر بیشک وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی وہ اس پر قادر ہے کہ بوڑھے کو جوان بنادے اور جوان کو بوڑھا بنادے۔
28۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت انہ علی رجعہ لقادر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ نطفہ کو پیشان نکلنے کے سوراخ میں واپس لوٹا دے۔
29۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے انہ علی رجعہ لقادر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ وہ اس نطفہ کو پیٹھ میں واپس لوٹا دے۔
30۔ عبد بن حمید نے ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ اس نطفہ کو اپنے باپ کی پیٹھ میں…
Read the full tafseer →[انهٗ عَلٰي رَجْعِهٖ : بیشک وہ اس کی واپسی پر ][ لَقَادِر : یقینا قدرت رکھنے والا ہے ]
(آیت۔ 8) اِنَّہٗ میں ہٗ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جبکہ رَجْعِہٖ میں ہٖ کی ضمیر اَلْاِنْسَانُ کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
﴿ يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِؕ007﴾ (وہ پانی پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے) ۔
اس میں یہ بتایا ہے کہ انسان نطفہ منی سے پیدا کیا گیا ہے جسے سورة ٴ الم سجدہ میں ماء مھین (ذلیل پانی) سے تعبیر فرمایا ہے۔
انسان جو قیامت کا منکر ہے اور یوں کہتا ہے کہ موت کے بعد کیسے اٹھائے جائیں گے اور مٹی میں ملے ہوئے ذرات آپس میں کیسے ملیں گے اس کا جواب دے دیا کہ تو دیکھ لے تیری اصل کیا ہے تجھے اپنی حقیقت اور نشوونما کا علم ہے پھر بھی ایسی باتیں کرتا ہے جس نے تجھے نطفہ سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ بھی پیدا فرما سکتا ہے، اسی کو فرمایا : ﴿ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ008﴾ (بلاشبہ وہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔
(ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4:۔ ” انہ علی رجعہ “ جس طرح اللہ تعالیٰ ابتداءً انسان کو نطفہ سے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اسی طرھ وہ اس کو دوبارہ زندہ کرنے اور موت سے حیات کی طرف لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ ” یوم تبلی السرائر “ ظرف ” رجعہ “ کی متعلق ہے۔ (کشاف) بعض نے کہا ہے اس کا متعلق ” یرجعہ “ محذوف ہے۔ جس پر ” رجعہ “ دلالت کرتا ہے۔ ” تبلی “ تکشف (مدارک) ۔ انسان کی دوبارہ حیات اس دن ہوگی جس میں تمام چھپے بھید بھی ظاہر کردئیے جائیں گے اس دن انسان کے پاس کوئی قوت نہیں ہوگی جس سے وہ اپنی جان کی حفاظت نہ کرسکے اور نہ کوئی اس کا مددگار ہی ہوگا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے )
ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔
(دیگر معانی )
عربی زبان میں…
Read the full tafseer →اِنَّہٗ عَلٰي رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ 8 ۭ
رجع
الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود،
( ر ج ع ) الرجوع
اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے
قادر
الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ وللقسم۔ السماء محبرور معطوف علیہ والطارق عطف علیہ۔ والطارق ما یاتی لیلا سوا کان کو کبا وغیرہ لطروق بشب آمدن (ععا ض 2) طارق بشب آیندہ و ستارہ و کشتی کردن فحل۔ از صراح) وما ادراک الجملۃ الاستفہامیۃ لتفخیم الطارق النجم الثاقب مستانفہ جواب سوال کانہ قیل ما ھو فقال النجم الثاقب۔ ثقوب افروختہ شدن آتش۔ ص۔ ان کل نفس لما علیہا حافظ قرء ابن کثیر و ابی عمر و نافع وکسائی لما بالتخفیف و قرء عاصم وحمزۃ والنخعی بالتشدید فمن خفف کانت ان عندہ الخففۃ من المثقلۃ واللام فی لماتد خل مع ان المخفۃ للفرق بین النافیۃ والمخفۃ وما صلۃ کما فی قولہ فبما رحمۃ ومن اثقل فان عندہ النافیۃ ولما بمعنی الاحافظ مبتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فَلْیَنْظُرِالْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۔ خُلِقَ مِنْ مَّـآئٍ دَافِقٍ ۔ یَّخْرُجُ مِنْ م بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ ۔ اِنَّـہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ۔ (الطارق : 5 تا 8)
(پس انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔ جو نکلتا ہے ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے۔ بیشک وہ اس کے لوٹا سکنے پر پوری طرح قادر ہے۔ )
دوسری زندگی پر انسان کے وجود سے استدلال
عالمِ بالا میں اپنی قدرت کی شانوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ خود اپنی ہستی پر غور کرے تاکہ اسے اندازہ ہو جس ذات کے بارے میں اسے یہ بدگمانی ہے کہ وہ اس عالم کو دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
فہم القرآن
ربط کلام : جس خالق نے انسان پر نگران مقرر کیے ہیں وہی انسان کو ٹپکتے ہوئے پانی سے پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے اسے قیامت کے دن زندہ کرنا اور اپنے حضور کھڑا کرنا ہے۔
قرآن مجید نے کئی مقامات پر انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں متوجہ کیا اور فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنی پیدائش پر غور کرنا چاہیے کہ تیرے رب نے تجھے کن مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیری ابتدا اچھلتے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ یقین جان ! کہ تیرا رب تجھے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے نہ صرف تجھے دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ اس دن دلوں کے تمام راز…
Read the full tafseer →8 : اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ (وہ اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے) ہٗ کی ضمیر خالق کی طرف ہے۔ کیونکہ خلق خالق کی دلیل ہے۔ معنی یہ ہے : بیشک وہ ذات جس نے ابتداء ًانسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ علی رجعہٖؔ اس کے اعادہ پر خاص طور پر لقادرؔ ضرور قدرت رکھتا ہے تاکہ اس کی قدرت تم پر واضح ہوجائے۔ اور وہ اس سے عاجز نہیں ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ اِنَّنِیْ لفقیر۔
Read the full tafseer →8 ۔” انہ علی رجعہ لقادر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں نطفہ کو ذکر (شرمگاہ) میں لوٹانے پر اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں پانی کو اس پشت میں لوٹانے پر جس سے وہ نکلا ہے اور ضحاک (رح) نے فرمایا ہے کہ وہ انسان کو پانی بنا کر لوٹانے پر قادر ہے جیسا کہ اس سے پہلے تھا اور مقاتل بن حیان فرماتے ہیں۔ اگر میں چاہوں تو اس کو بڑھاپے سے جوانی کی طرف لوٹا دوں اور جوانی سے بچپن کی طرف اور بچپن سے نطفہ کی طرف اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اس پانی کے روکنے پر قادر ہے حتیٰ کہ وہ نہ نکل سکے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اٹھانے اور اس کی موت کے بعد لوٹانے پر قادر ہے اور تمام اقوال میں اولیٰ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاۗىِٕبِ ) جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ یہ منی مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کرنکلنے والی منی جو کہ مرد کی منی ہے اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے صلب اور سینے کے درمیان ہے۔ شاید یہ معنی صحیح زیادہ ہے، کیونکہ اللہ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والی پانی (منی) کا وصف بیان کیا ہے۔ جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے اسی طرح (الترآئب) کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی…
Read the full tafseer →(5) انسان کا وجود خود اس کے عادہ خلق پر دلیل : سو انسان کے ان مراحل تخلیق وتکوین کی تذکیر و یاد دہانی کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ اس کو دوبارہ پیدا کردینے پر بھی پوری طرح قادر ہے " کہ جس قادر مطلق نے اس قدر لطف و عنایت اور ایسی حکمت بےغایت سے اسے وجود بخشا اور بےجان مادوں سے اسے اس طرح نکال کر موجود کیا، اس کو ہیست سے ہست کیا، طرح طرح کی قوتوں اور صلاحیتوں سے اس کو نوازا۔ آخر اس کے لیے اس انسان ضعیف کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کردینا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ انسان اگر اپنی اس خلقت کو بھول کر اس قادر مطلق کی قدرت اور اس کے وعدے کا انکار کرے اور اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا
تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔
آیات 1 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کیونکہ عقل خود تسلیم کرتی ہے ؟ کہ کس چیز کو دوبارہ بنانا اسے ابتداء بنانے کی بہ نسبت کہیں آسان ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(86:8) انہ علی رجعہ لقادر : انہ میں ضمیر ہ خالق کی طرف لوٹتی ہے گو لفظا مذکور نہیں ہے مگر خلق من ماء سے اس کا مفہوم سمجھ میں آرہا ہے۔ اور رجعہ میں ضمیر ہ کا مرجع الانسان ہے رجعہ میں رجع مصدر مضاف ہے اور ہ ضمیر مضاف الیہ ہے۔
لقادر میں لام تاکید کا ہے قادر : قدرۃ (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ اور مذکر ہے زبردست قدرت رکھنے والا۔
ترجمہ ہوگا :۔ وہ اس کے لوٹانے پر بھی قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔
الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔
اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
انسان کی پیدائش کا ذکر۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو غور کرے کہ وہ کس شے سے پیدا کیا گیا ہے پھر خود بتلادیا کہ وہ پانی یعنی منی سے پیدا کیا گیا ہیی جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کی ہڈیوں سے نکلتا ہے ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہک عورت کے سینہ کے اس مقام سے جہاں ہار پہناجاتا ہے اور انہیں سے منقول ہے کہ عورت کی دونوں چھاتیوں کے درمیان سے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے تمام اعضا سے برآمد ہوتی ہے اور اس کا زیادہ حصہ دماغ سے مرد کی پشت پر آتا ہے اور عورت کے بدن کے اگلے حصہ میں بہت سی رگوں میں جو سینہ کے مقام پر ہیں نازل ہوتا ہے اسی لیے ان دونوں مقاموں کا ذکر خصوصیت سے…
Read the full tafseer →[6] یعنی جو اللہ انسان کو حقیر قطرے سے پیدا کرسکتا ہے وہ اس کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
حشر ونشر پر استدلال
1: قرآن حکیم کے انداز بیان کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ وہ پا افتادہ حقائق کو پیش کرتا ہے اور ان سے علم الٰہی کے نہایت دقیق مسائل کا استنباط کرتا ہے اور بتلاتا ہے کہ اگر تم لوگ کوتاہی نظر سے کام نہ لو تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ فرماتے ہیں ، وہ بالکل درست اور واقعہ ہے ۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ تم یہ روز مرہ دیکھتے ہو کہ وہ چھلکتا ہوا پانی جو بدن کے ہر حصے سے نچڑ کر نکلتا ہے ، وہ بےجان پانی ہوتا ہے مگر ایک جیتے جاگتے انسان کو منصہ شہود پر جلوہ گر کردیتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ حلیم و حکیم خدا نے یہی مناسب اور موزوں سمجھا کہ اس معزز اور مفتخر انسان کو سا طریق اور اس…
Read the full tafseer →(8) بے شک وہ اللہ تعالیٰ اس انسان کے پھیرلانے پر قادر ہے یعنی دوبارا زندہ کرنے پر قادر ہے اور جب دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے تو قیامت کا وقوع مستبعد نہ رہا اب آگے قیامت کے وقوع اور اس کے حالات کا ذکر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ پھیر لانے پر قادر ہے۔
بعض حضرات نے آیت کی اور طرح بھی تفسیر کی ہے لیکن ہم نے مشہور قول اختیار کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 3۔ اس پانی سے منی مراد ہے خواہ صرف مرد کی یا مرد اور عورت دونوں کی ہو، اور عورت کی منی میں گواند فاق مرد کی منی کے برابر نہیں ہوتا لیکن کچھ اندفاق ضرور ہوتا ہے، اور دوسری تقدیر پر لفظ ماء کا مفرد لانا اس بنا پر ہے کہ دونوں مادے مخلوط ہو کر مثل شے واحد کے ہوجاتے ہیں اور پشت اور سینہ چونکہ بدن کی دو طرفیں ہیں اس لئے کفائیہ جمیع بدن سے ہوسکتا ہے، اور یہ اس لئے مراد لیا گیا کہ منی تمام بدن میں پیدا ہو کر پھر منفعل ہوتی ہے اور اس کذایہ میں تخصیص صلب و ترائب کی شاید اس لئے ہو کہ حصول مادہ منویہ میں اعضاء رئیسہ یعنی قلب و دماغ و کبد کو خاص دخل ہے اور کبد و قلب کا تعلق تلبس و ترائب سے اور دماغ کا…
Read the full tafseer →بلا شبہ وہ اس کے دوبارہ لوٹانے پر بھی قادر ہے
8 ؎ جس اللہ نے انسان کی تخلیق کے لیے یہ اسباب مہیا کیے اور اس کے لیے جتنی اس کی ضرورتیں ہیں ان کو بھی پیدا کیا اور ان کا ازالہ کے اسباب بھی بہم پہنچائے اور جو کچھ کیا سب کچھ انسان کی مانگ پر نہیں کیا بلکہ بن مانگے ان کا بندوست فرمایا اور ابھی اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کا اس نے بندوست کردیا ہوا ہے لیکن انسان کو نہ تو ابھی ان ضرورتوں کا احساس ہے اور نہ ان کا ازالہ پھر جس نے یہ سب کچھ کیا کیا وہی یہ بات فرما دے کہ ہم نے تم انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا ہے اور تم سے اس کا حساب کتاب بھی لیتا ہے تو تم کو اس بات پر یقین نہ آئے تو تم پر تعجب نہ کیا جائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ (Surely He is Powerful to bring him back...86:8) The word raj means 'to bring back'. The verse signifies that Allah Who has created him from a drop of seminal fluid is well able to bring him back to life after death a fortiori.
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ (on a day when all the secrets will be searched out.. 86:9). The word tubla literally means 'to test/examine' and sara'ir means 'secrets'. On the Day of Reckoning, the secrets will be tested and examined and laid bare. Man's beliefs, his thoughts, and his motives and intentions that were hidden in this…
Read the full tafseer →4 That is, His bringing tnan into existence and watching over him from the tithe conception takes place until death, is a clear proof that He can create him once again after death. If He had the power to create him in the first instance and man stays alive in the world by His power alone, what rational arguments can be presented for the conjecture that He dces not have the power to do the same thing a second time? To deny this power man will even have to deny that God has brought him into existence, and the one who denies this may well come out one day with the claim that aII books in the…
Read the full tafseer →