Al-Burooj 85:9

Al-Burooj · from ayah 9

85:9

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَاللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ۟ؕالَّذِىۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ

وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

To whom belongs the dominion of the heavens and the earth. And Allah, over all things, is Witness.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:9

جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس کے لئے آسمان وزمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے ہر چیز

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس کے قبضے میں سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کے اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللہ ہر چیز پر گواه ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی (ساری) بادشاہت ہے، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اس کی ہے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین پر حکومت اسی کی ہے اور اللہ ہر چیز پر شاید ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس کی ہی بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ کہ اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہر چیز سے پوری طرح آگاہ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور اللہ تو ہرچیز پر خود گواہ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. Allah witnesses everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the One to whom belongs the Kingdom of the heavens and the earth. And Allah is witness over every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

the One to whom belongs the Kingdom of the heavens and the earth. And Allah is witness over every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To Whom belongs the dominion of the heavens and the earth! And Allah is Witness over everything.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Him unto Whom belongeth the Sovereignty of the heavens and the earth; and Allah is of all things the Witness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To whom belongs the dominion of the heavens and the earth. And Allah, over all things, is Witness.

— Saheeh International

and the One to whom belongs the heavens and the earth. God is the Witness of all things.

— Muhammad Sarwar

Whose is the kingdom of the heavens and the earth; and Allah is a Witness of all things.

— Muhammad Habib Shakir

Him, Whose is the dominion of heavens and the earth. And Allah is over everything a Witness.

— Abdul Majid Daryabadi

Him to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth! And Allah is Witness to all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 85:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبُرُوْج 5 ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ان اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے جن کی بنا پر وہی اس کا مستحق ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے اور وہ لوگ ظالم ہیں جو اس بات پر بگڑتے ہیں کہ کوئی اس پر ایمان لائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–9

والیوم المرعودہ وشاھد ومشھود خلاصہ تفسیر میں ترمذی کی مرفوع حدیث کے حوالہ سے ان الفاظ کی تفسیر لکھدی گئی ہے کہ یوم موعود سے مراد روز قیامت اور شاہد سے مراد روز جمعہ اور مشہود سے مراد روز عرفہ ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی اول برجوں والے آسمان کی۔ پھر قیامت کے روز کی پھر جمعہ اور عرفہ کے دنوں کی۔ مناسبت ان چیزوں کی قسم کی جواب قسم کیساتھ یہ کہ یہ سب چیزیں حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ پر اور پھر قیامت کے روز حساب کتاب اور جزا سزا پر دلیل ہیں اور روز جمعہ و عرفہ مؤمنین کے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرنے کے مبارک دن ہی، آگے جواب قسم میں ان کفار پر لعنت آئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ مذکورہ بالا بشارت اور وعید دونوں پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جس کی بادشاہی ہے وہی حق دار ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے اور جو اس پر ایمان لائے ان کے لیے اسی کی پناہ کافی ہے۔ ’وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدٌ‘۔ یعنی جو مسلمان اعدائے ایمان کے ہاتھوں دکھ اٹھا رہے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ان کے مصائب سے بے خبر نہیں ہے بلکہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ تو جب وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے تو اپنی بادشاہی میں اپنے باایمان بندوں پر اعداء کے ظلم و ستم کو کب تک گوارا کرے گا! ساتھ کفار کے لیے اس میں وعید ہے کہ خدا کی ڈھیل سے مغرور نہ ہوں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–11

واقعہ اصحاب الا خدود : گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ کا جادوگر اور کاہن تھا، جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک ذہین لڑکا دو ، جسے میں یہ علم سکھا دوں، چناچہ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کر کے اس کے سپرد کردیا۔ لڑکے کے راستے میں ایک راہب کا بھی مکان تھا، یہ لڑکا آتے جاتے اس کے پاس بھی بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا، جو اسے اچھی لگتیں، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا، ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بہت بڑے جانور (شیر یا سانپ وغیرہ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا، لڑکے نے سوچا، آج میں پتہ کرتا ہوں کہ جادوگر صحیح ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا اے اللہ، اگر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–18

3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

7 یعنی ان مسلمانوں کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کفر کی ظلمت سے نکل کر ایک زبردست اور ہر طرح کی تعریف کے لائق خدا پر ایمان لائے۔ جس کی بادشاہت سے زمین و آسمان کا کوئی گوشہ باہر نہیں۔ اور جو ہر چیز کے ذرہ ذرہ احوال سے باخبر ہے۔ جب ایسے خدا کے پرستاروں کو محض اس جرم پر کہ وہ کیوں اسی اکیلے کو پوجتے ہیں، آگ میں جلا دیا جائے تو کیا گمان ہوسکتا ہے کہ ایسا ظلم و ستم یوں ہی خالی چلا جائے گا اور وہ خداوند قہار ظالموں کو سخت ترین سزا نہ دے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جب اللہ کا غضب آیا وہی آگ پھیل پڑی۔ بادشاہ اور امیروں کے گھر سارے پھونک دیے "۔ مگر روایات صحیحہ میں اس کا ذکر نہیں۔ واللہ سبحانہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–9

آیت 7{ وَّہُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُہُوْدٌ۔ } ”اور مومنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے۔“ ان صاحب اقتدار و اختیار لوگوں نے اہل ایمان کو زندہ جلانے کے احکام جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان خندقوں کے کناروں پر انہوں نے باقاعدہ براجمان ہو کر اس دلدوز منظر کا نظارہ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ اسی طرح پچھلی صدی میں ہٹلر نے بھی بہت ”پرتکلف“ منصوبہ بندی کے ساتھ یہودیوں کے قتل عام کا اہتمام کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے بڑے بڑے گیس چیمبرز نصب کیے اور انسانی لاشوں کو سائنٹیفک انداز میں ٹھکانے لگانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 8–9

5 یمن میں حمیری خاندان کا ایک بادشاہ ذونواس بڑا متعصب یہودی تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہ بادشاہ بنا اور متعصب یہودی ہونے کی بنا پر عیسائیوں کا سخت دشمن تھا۔ اس دور تک اگرچہ عیسائی مذہب میں بہت سے مشرکانہ عقائد راہ پاگئے تھے۔ تاہم بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو بالکل صحیح عیسائی مذہب پر قائم تھے۔ اور وہ مشرکانہ عقائد کے سخت مخالف اور توحید پرست تھے جس راہب کا مندرجہ بالا حدیث میں ذکر ہے وہ اسی قسم کے صحیح العقیدہ عیسائیوں سے تعلق رکھتا تھا اور ایسے سچے مسلمانوں کو ایذائیں پہنچانے اور خندق میں ڈالنے والے بھی ذونواس اور اس کے کرتا دھرتا درباری لوگ تھے جو عیسائیت کو ہر جائز و ناجائز حربہ سے ختم کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

4۔ (اور اس لیے ظالموں کا ظلم وستم اور مظلوموں کی مظلومیت وبے کسی دونوں اس پر خوب روشن ہیں) (آیت) ” وما ..... الحمید “۔ یہ اس کی تصریح ہے کہ یہ جنگ کوئی ملکی یا سیاسی آویزش نہ تھی، خالص مذہبی واعتقادی بنیاد پر زیردستوں پر ظلم ہورہے تھے۔ (آیت) ” الذی ..... شھید “۔ یہ اس کی تصریح ہے، کہ خدائے اسلام، جاہلی مذہبوں یا مشرک فلسفیوں کے خدا کی طرح کوئی ناقص یا محدود علم یا محدود قدرت رکھے والا خدا نہیں۔ اس کی قدرت، اس کا علم، اس کے جملہ صفات کامل ولا محدود ہیں۔ ملاحظ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ قرآن مجید کے اسلوب بیان کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ بیان واقعات اور ذکر حکایات کے ضمن میں بھی مسائل کی توضیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–9

اصحاب اخدود کا واقعہ : اس سورت میں ” اصحاب اخدود “ کا واقعہ بیان ہوا ہے اور یہی واقعہ اس سورت کے نزول کا سبب ہے، گڑھوں میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں ڈال کر جلا دینے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں متعدد مرتبہ اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ صہیب رومی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا، (بعض روایتوں میں کاہن کا لفظ ہے) جب وہ ساحر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں لہٰذا مجھے ایک ذہین لڑکا دے دیا جائے تاکہ میں اس کو اپنا علم سحر سکھا دوں میرے مرنے کے بعد اس علم کے ضائع ہونے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی لہ ملک السموت والارض . وہ خدا کہ صرف اسی کی حکومت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ ہی کو مرکز بیم وامید ثابت کرنے کے لیے یہ جملہ فرمایا گیا۔ اللہ نے اپنے یہ اوصاف اس لیے بیان فرمائے تاکہ مؤمنوں کے ایمان کی حقانیت اور ان کے ثواب کا استحقاق ثابت ہوجائے اور کافروں کا باطل پرست ‘ ظالم ‘ ناحق کوش اور مستحق لعنت و عذاب ہونا ظاہر ہوجائے۔ واللہ علی کل شی شھید . یہ جملہ گزشتہ جملہ کے لیے تذیل ہے یا یؤمنوا کے مفعول سے حال ہے یا شہود سے حال ہے اور ما نقموا کا جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کا مشاہدہ رکھتا ہے ‘ اس لیے ہر شخص کے اچھے برے عمل کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) اور ان کافروں نے مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہیں پایا تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے تھے جن لوگوں نے سچے ایماندار مردوں اور سچی ایماندار عورتوں کو جلایا اور ان کو تکلیف پہنچائی اور پھر انہوں نے اپنے کفر و شرک سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اور دوزخ میں ان کے لیے جلنے کا سخت عذاب ہے۔ یا یہ کہ دنیا میں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آگ میں جلایا اور یہ نجرانی یا موصل والے تھے ان لوگوں نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو پکڑ کر ان کو تکلیف دی اور آگ میں جلا دیا تاکہ ان کا دین اختیار کرلیں اور ان لوگوں کا بادشاہ یوسف یا ذالنواس تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

(1) وما نقموا منھم …: ان اہل ایمان نے ان ظالموں پر یا کسی دوسرے پر کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس کا وہ بدلہ لے رہے ہوں ، ان کا جرم صرف اللہ پر ایمان لا کر اس پر قائم رہنا تھا۔ آیت میں ”الا ان یومنوا“ فرمایا ہے جو حال و استقبال پر دلالت کرتا ہے۔”الا ان امنوا“ نہیں فرمایا جو ماضی کا صیغہ ہے، یعنی ان کا جرم یہی نہ تھا کہ وہ ایمان لے آئے تھے، بلکہ یہ تھا کہ وہ اب بھی ایمان پر قائم تھے۔ (2) باللہ العزیز الحمید : یعنی ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کوئی جرم یا غلط کام نہ تھا، بلکہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے تھے جو عزیز وحمید ہے اور آئندہ آیت میں مذکور صفات کا مالک ہے اور ان صفات کی وجہ سے اس کا حق ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–9

ومانقموا منھم۔۔۔ تا۔۔۔ شھید۔ ابوحیوۃ نے نقمو پڑھا ہے یعنی قاف کے نیچے کسرہ۔ جبکہ فصیح فتحہ ہے سورة البراء میں اس بارے میں گفتگو ہوچکی ہے یعنی بادشاہ اور اس کے ساتھی ان لوگوں سے جن کو انہوں نے آگ میں جلایا تھا کسی بات پر ناراض نہ ہوتے تھے مگر یہ کہ ان لوگوں نے اللہ جو غالب اور ہر حال میں محمود ہے کی تصدیق کی، اس اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان میں کوئی شریک اور مقاتل نہیں وہ اپنی مخلوقات کے اعمال سے آگاہ ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–9

23۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن نجی کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب الاخدود گھاٹی والوں کے نبی حبشی تھے۔ اصحاب الاخدود کا ذکر 24۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر حسن کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے آیت اصحب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ اصحاب الاخدود حبشہ کے رہنے والے تھے۔ 25۔ ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے قتل اصحب الاخدود خندقوں والے ہلاک ہوئے کے بارے میں روایت کیا کہ کہ اصحاب الاخدود نبطی تھے۔ 26۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت قتل اصحاب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ بنی اسرائیل میں سے تھے کہ جنہوں نے زمین میں خندقیں کھودیں، پھر ان میں آگ جلائی، پھر ان خندقوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِي لَهٗ : وہ جس کے لیے ہی ][ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ہے ][ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور اللہ ہر چیز پر ][ شَهِيْدٌ: موجود رہنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–9

﴿وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ﴾ میں یہ بتایا کہ لوگوں نے جن اہل ایمان کو تکلیف دی آگ میں ڈالا انہوں نے کوئی چوری نہیں کی ڈاکہ نہیں ڈالا، کسی کا مال نہیں لوٹا، ان سے ناراض ہونے کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، ایمان لانا کوئی جرم کی بات نہیں ہے انسان کے فرائض میں سے ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک پر ایمان لائے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کرے، بجائے اس کے کہ خندقیں کھودنے والے خود ایمان لاتے، ایمان لانے والوں پر اپنا غصہ اتارا اور انہیں آگ میں ڈالا یہاں پہنچ کر حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی ؓ کا واقعہ یاد آگیا جسے حافظ ابن حجر ؓ نے الاصابہ میں لکھا ہے اور یہ ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–9

تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

5:۔ ” وما نقموا “ ان مسلمانوں پر ان کی غیظ و غضب کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ شرک کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لا چکے تھے وہ اللہ جو سب پر غالب ہے ہر خوبی کا مالک اور حمد وثنا کا مستحق ہے۔ ” الذی لہ ملک السموت “ یہ توحید کا بیان ہے علی سبیل الترقی وہ ساری کائنات کا بادشاہ ہے، سارے جہان میں اسی کا تصرف و اختیار نافذ ہے وہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہے اس لیے حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو اور اس کے سوا کسی اور کو مت پکارو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ۝ 9 ۭ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–9

ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الَّذِیْ لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (البروج : 9) (جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی مذکورہ بالا صفات کو مزید نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ وہی ذات ہے جس کے لیے آسمان و زمین کی حکومت اور بادشاہی ہے۔ ہر مخلوق اسی کی مملوک ہے، سب اسی کے فیضان سے زندہ اور قائم ہیں۔ ایسی ذات کے سوا اور کون حقدار ہوسکتا ہے جس پر ایمان لایا جائے۔ تو جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں وہ درحقیقت راہ معرفت سے آشنا ہوجاتے ہیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے ان ظالموں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–9

فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : الَّذِیْ لَہٗ ملْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ (ایسی ذات ہے کہ اسی کی سلطنت ہے آسمانوں او زمین کی۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے) آسمانوں و زمین کے ہر رہنے والے پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور بار بار اسی کے سامنے جھکیں کیونکہ جس بات پر وہ ناراض ہوتے ہیں وہ ایسا حق ہے جس پر باطل پرست ہی ناراض ہوسکتا ہے۔ جو لوگ حق پر ناراض ہونے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے عذاب کے ذریعہ انتقام کے حقدار ہیں۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ یہ کفار کو وعید سنائی گئی یعنی اس کو ان کا فعل معلوم ہے وہ ان کو اس پر بدلہ دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔”(الذی لہ ملک السموات والارض واللہ علی کل شیئ) ان کے تمام افعال میں (شھید) گوا ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ ) زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ( وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع وبصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار، اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کا علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں ؟ یا ان پر حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(7) منکرین کے لیے دھمکی اور ایمان والوں کے لیے تسلی و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایمان لائے اس اللہ پر جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کی بادشاہی ہے، اور اللہ ہر چیز سے پوری طرح آگاہ ہے "۔ پس نہ ان ظالموں کا ظلم اس سے پوشیدہ رہ سکتا ہے، اور نہ اپنے ایماندار بندوں کی مظلومیت سے وہ بیخبر ہوسکتا ہے ولا تَحْسَبَنَّ اللّہَ غَافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الأَبْصَارُ ( ابراہیم 42 پ 12) پس وقت آنے پر ہر کسی کو اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور بھر پورے طریقے سے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق بھگتنا ہوگا،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–9

ف 1 ” اصحاب الاخدود “ (کھائیاں کھودنے والوں) کا قصہ کتب صحاح وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن رہتا تھا جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے عرض کی کہ کوئی زیرک قسم کا لڑکا مجھے دو تاکہ میں اسے اپنا علم سکھلا دوں بادشاہ نے ایک لڑکا اس کے حوالے کردیا۔ وہ لڑکا ہر روز کاہن کی خدمت میں جا کر جادو کا علم حاصل کرنے لگا۔ اس کے راستہ میں ایک راہبر رہتا تھا جو مسلمان تھا ہوتے ہوتے وہ لڑکا خفیہ طور پر اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ ایک روز اس نے دیکھا کہ ایک بڑے جانور (شیر یا سانپ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے جسے راستہ سے ہاٹنے سے وہ عاجز ہیں اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:9) الذی لہ ملک السموت والارض : یہ بھی باری تعالیٰ کی صفت ہے۔ اللہ وہ ذات ہے کہ جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ واللہ علی کل شیء شھید۔ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ جملہ سابقہ کی تاکید میں آیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

خدا پر ایمان لانے پر ظالم بادشاہ کی سرکشی اور انجام۔ (ف 3) اس سورت میں ایک بادشاہ کا قصہ لوگوں کو آگ میں جلانے کا بیان فرمایا ہے۔ اس قصہ کی روایت صحیح مسلم ترمذی اور نسائی وغیرہ میں ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر رہتا تھا جب جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا بھیج دو جسے میں اپناجادو سکھاسکوں، کہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ جادوگر کے پاس جاکرجادو سیکھتا تھا، راستہ میں ایک راہب رہتا تھا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کا کلام اس کے دل نشین ہوتا گیا اور خفیہ طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–10

قاتل کی توبہ 1: ایک طرف اصحاب اخدود کے مظالم ہیں کہ بارہ ہزار عیسائیوں کو محض اس پاداش میں نذر آتش کردیا کہ انہوں نے ایک خدا کو کیوں تسلیم کیا اور دوسری جانب اللہ کا عفو وکرم دیکھئے کہ وہ ان لوگوں کو توبہ مغفرت کی دعوت دیتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچانا بہت بڑا گناہ ہے اور جب تک ظالم توبہ نہیں کرتا ، اللہ کی بخشش کا حق دار نہیں ہے ، بلکہ جہنمی ہے ۔ اور عذاب احتراق کا مستحق ہے ۔ اس آیت سے بعض مفسرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ قاتل بھی اگر خلوص کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ عنداللہ مقبول ہوسکتی ہے ۔ کیونکہجب ان لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے ، جنہوں نے ہزاروں عیسائیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع اور ہرچیز سے خوب واقف ہے - یعنی ایسے مالک الملوک پر ایمان لانا نہ کوئی عیب ہے نہ کوئی جرم پھر جو ان کو سزا دی تو یہ لوگ دنیا میں بھی ہلاک ہوئے اور آخرت میں بھی عذاب کے مستحق ہوں گے۔ آگے ان لوگوں کے لئے عام وعید ہے جو مسلمانوں پر ظلم کرنے کے خوگر ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–22

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر ہے اور اللہ ہرچیز سے خوب واقف ہے 9 ؎ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو دیکھنے والا ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ( شیء) چیز ، کچھ ہے۔ لفظ (شیء) اپنے مفہوم لغوی کے اعتبار سے ہر اس چیز کے لیے آتا ہے کہ جس کو معلوم کیا جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے خواہ وہ کچھ بھی ہو ۔ یہ اصل میں شاء کا مصدر ہے جو ایک مفہوم کے لیے بولاجاتا ہے اور اس مفہوم میں صرف اسی پر اکتفا کیا گیا ہے کہ اس سے مشیئۃ کے تعلق کا اعتبار ہو خواہ علم کی حیثیت سے ، خواہ خبر دینے کی حیثیت سے۔ ( ابو المسعود) لفظ شئی عم العام ہے جس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–9

وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (and by the Promised Day, and by that which attends, and that which is attended...85:2-3) With reference to a prophetic Hadith reported by Tirmidhi, the phrase 'the Promised Day' refers to the Day of Judgment; the phrase 'that which attends' refers to 'Friday'; and the phrase 'that which is attended' refers to the day of ` Arafah. Thus in this verse, Allah has taken oath by four objects: [ 1] 'the sky, the one having stellar formations'; [ 2] 'the Day of Judgment'; [ 3] 'Friday'; and [ 4] 'the Day of ` Arafah'. The relationship between the objects of oath and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 In these verses those of Allah Almighty's attributes have been mentioned on account of which He alone deserves that one should believe in Him, and the people who feel displeased at one's believing in Him, are wicked and unjust.

Read the full tafseer →