85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : سورة البروج مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب کفار و مشرکین اہل ایمان پر ہر طرح کے ظلم و ستم ڈھا رہے تھے۔ مومنوں کو بتایا گیا ہے کہ دین کی سچائیوں کو قائم کرنے کے لئے زبردست قربانیاں دینا پڑتی ہیں تب وہ حقیقی کامیابی نصیب ہوتی ہے جس سے آخرت کی لازوال نعمتوں سے ہم کنار کیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اصحاب الاخدود وہ لوگ تھے جنہوں نے مومنوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں جلا کر راکھ بنا دیا تھا۔ ان اہل ایمان نے آگ میں جلنا گوارا کیا مگر وہ اپنے ایمان سے نہیں پھرے۔ صحابہ کرام (رض) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں ثابت قدم رہے تو ان کو دنیا اور آخرت کا عظیم اجرو ثواب عطا کیا جائے گا اور یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ اسی بات کو سورة البروج میں فرمایا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے برجوں والے آسمان اور جس دن کس وعدہ کیا گیا ہے (یعنی قیامت) دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ گرھے (خندق) والے تباہ و برباد ہو کر رہے۔ ان گڑھوں میں بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ اہل ایمان کے ساتھ ظلم و ستم ہو رہا تھا وہ اسے دیکھ کر مزے لے رئے تھے۔ ان مومنووں سے عداوت اور دشمنی کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ ایک اللہ پر ایمان لے آئے تھے۔ وہ اللہ جو زبردست طاقتون کا مالک، اپنی ذات میں قابل ستائش، آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے وہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جن لوگوں نے مومن مردوں اور مون عورتوں کو اذیت پہنچائی اور اس سے توبہ نہ کی یقینا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے جلائے جانے کا عذاب بھی ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کے لئے جنت کے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جس کا ملنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے یعنی جب وہ کسی قوم یا فرد کی گرفت کرتا ہے تو اس کو اللہ سے کوئی چھڑانے والا نہیں ہوتا۔ اسی اللہ نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اللہ بخشنے والا، محبت کرنے والا، عرش عظیم کا مالک، وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے تو اسے کر ڈالتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرعون اور قوم ثمود کے لشکروں کا حال معلوم ہے ؟ جب انہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہر طرف سے اس طرح گھیر لیا کہ وہ اپنے برے انجام سے بچ نہ سکے۔ فرمایا کہ اگر آج مکہ والے قرآن کو سچائیوں کو جھٹلا رہے ہیں تو اس سے قرآن کو کوئی نقصان نہیں ہے کیونکہ وہ باعظمت قرآن لوح میں محفوظ ہے۔

Ayahs 85:1–22

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

حاضر ہونے والے دن اور جس میں ظاہری ہوگی اس کی قسم

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندق والے ہلاک کر دئیے گئے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

جس میں بھڑکتے ایندھن کی آگ ہوا کرتی تھی۔

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جس وقت وہ خندق والے آگ کے آس پاس بیٹھے ہوتے تھے۔

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور وہ جو کچھ (اہل ایمان کے ساتھ) کر رہے تھے اسے وہ خود دیکھ رہے تھے

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور ان خندق والوں کی اہل ایمان کے ساتھ دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ زبردست اور تمام تعریفوں کے مستحق اللہ پر ایمان لے آئے تھے۔

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

وہ اللہ جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے۔ اور وہ اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا پہنچائی اور پھر توبہ نہیں کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے جو جھلس دینے والا عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بیشک آپ کے رب کی گرفت بڑی سخت ہے۔

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

بیشک اسی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

وہ بڑا بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک بڑی شان والا ہے۔

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

کیا آپ کو ان لشکروں کو واقعہ پہنچا

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

جو فرعون اور ثمود کا تھا

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ جھٹلانے میں لگے ہیں

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور اللہ نے ان انکار کرنے والوں کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

بلکہ یہ ایک عظمت والا قرآن ہے۔

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

جو لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) ہے۔

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں پر صبر کرنے اور شدید حالات کے مقابلے میں ڈتے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی میں ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ وہ کسی کی طاقت و قوت کی پرواہ نہ کریں کیونکہ اہل یمان سے یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہی غالب رہیں گے اور ظلم و ستم کرنے والے اپنے کیفرکردار کو پہنچ کر رہیں گے۔ اس سلسلہ میں خندق والوں کا، قوم فرعوں اور قوم ثمود کا خاص طرو پر ذکر کرے ہوئے فرمایا ہے کہ ان سب نے ایمان والوں کو بری طرح ستایا۔ ذونو اس بادشاہ جو ہر شخص کو اپنے بتوں کے آگے جھکنے پر مجبور کردیتا تھا اس نے ایسی خندقیں اور گڑھے تیار کرائے تھے جو آگ اور اس میں جلائے جانے والے ایندھن سے بھرے ہوئے تھے۔ لمبے چوڑے گڑھے جن کی مقدار لمبائی میں ایک سوبیس فٹ اور چوڑائی میں چالیس فت اور بےانتہا گہرے تھے۔ جو شخص بھی اس کے بتوں کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کرتا اور اپنے ایمان پر قائم رہتا اس کو ان آگے سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک کر زندہ جلا دیا کرتا تھا۔ اس کے نزدیک ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اس اللہ پر ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہوچکے تھے جو آسمانوں اور زمین میں ہر طرح کی طاقت و قوت کا مالک ہے۔ جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ وہ بخشنے والا، محبت کرنے والا، عرش کا مالک، بڑی شان والا اور ہر چیز پر اس کی ایسی قدرت ہے کہ وہ جو چاہے جیسے چاہے اس کو اسی طرح کرتا ہے۔ فرعون کا حال بیا کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگوں سے کہلواتا تھا کہ وہی رب اعلیٰ ہے۔ وہ زبردستی ہر شخص کو اپنے سامنے سجدہ کراتا تھا اور جو اس سے انکار کرتا اس کو سخت اذیتیں دیا کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نیچا دکھانے کے لئے جب پورے ملک کے جادوگروں کو جمع کیا اور فرعون نے ان جادوگروں سے کہا کہ جب وہ کامیاب ہوجائیں گے تو ان کو نہ صرف انعام و اکرام سے نواز اجائے گا بلکہ وہ بادشاہ کے مقرب بن جائیں گے لیکن جب ان جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا معجزہ دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ عصا کا اژدھا بن جانا معجزہ ہے جادو نہیں ہے تو سارے جادوگروں نے اس بات کا اعلان کردیا کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ فرعون اس ذلت اور بےعزتی کو برداشت نہ کرسکا اور اس نے مومنوں سے کہا کہ اگر وہ اپنے ایمان پر قائم رہے تو وہ ان کے مخالف سمتوں سے ہاتھ پیر کاٹ کر سولی پر چڑھا دے گا۔ مومن ہوجانے والے جادوگروں نے کہا اے فرعون ہمیں اللہ نے ہدایت عطا فرما دی ہے اب ہمیں کسی سزا کی پرواہ نہیں ہے تیرا جو جی چاہے وہ کرلے ہمارے دلوں میں جو ایمان کی شمع روشن ہوچکی ہے اسے کوئی بجھا نہیں سکتا۔ خندق والوں اور فرعون کے ظلم و ستم کا ذکر کرتے ہوئے قوم ثمود کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اللہ نے ان کو بےانتہا صلاحتیں اور مال و دولت عطا کیا تھا مگر وہ اپنے کفر وشرک میں اس قدر آگے بڑھ چکے تھے کہ جو بھی اپنے ایمان کا اعلان کرتا اس کو ذلیل و خوار کرتے اور ہر طرح کی اذیتیں دینے میں حد سے گزر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل ایمان نے آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں جلنا گوارا کیا، فرعون کے ظلم و ستم اور قوم ثمود کی اذیتوں کو برداشت کیا لیکن اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔ یہی ثابت قدمی اور ایمان کی مضبوطی تھی جس نے انہیں اس جنت کا مستحق بنا دیا جس میں ان کو وہ تمام راحتیں اور نعمتیں عطا کی جائیں گی جن کا وہ اس دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اہل ایمان کو بتایا گیا کہ اہل ایمان و ظلم و ستم کرنے والے بہت جلد مٹ جائیں گے لیکن دنیا اور آخرت میں ان ہی لوگوں کو ہر طرح کی راحتیں عطا کی جائیں گی جو اپنے ایمان پر پختگی کے ساتھ قائم رہیں گے۔ زیر مطالعہ آیات میں اللہ نے آسمان کے مضبوط قلعوں، قیامت کے دن، اس میں حاضری اور قیامت کا مشاہدہ کرنے والوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ خنق والے اللہ کی لعنت کے مستحق بن گئے جنہوں نے آگ سے بھرے ہوئے گڑھے تیار کئے تھے اور وہ لوگ بھی مارے گئے جو اہل ایمان کی آگ میں پھین کر ان کا تماشا دیکھا کرتے تھے۔ ان اہل ایمان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو تمام قوتوں، طاقتوں کا مالک، ہر طرح کی تعریفوں کا مستحق، زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک اور ہر چیز کو ہر آن دیکھنے والا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ آج اپنی قوت و طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کے مومن بندوں اور مومن بندیوں کو ستار ہے ہیں اگر انہوں نے توبہ نہ کی اور اپنی حرکتوں سے نہ آئے تو وہ وقت بہت دور نہیں ہے جب ان کو جہنم کی ایسی آگ میں جھونکا جائے گا جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی۔ لیکن اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آئے اور عمل صالح کی روش اختیار کی تو ان کو ایسی جنتوں میں راحت و آرام کی نعمتیں عطا کی جائیں گی کہ ہرے بھرے باغوں کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہی زبردست کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمادیا کہ اللہ ہر آدمی کو برداشت کرتا ہے اس کو ڈھیل اور مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جو لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے جب وہ ان کو پکڑتا ہے تو پھر اس سے چھڑانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ وہ ہے جو سب کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے وہی انسان کے مر جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ بہت بخشنے والا، بندوں سے محبت کرنے والا، عرش کا مالک اور بڑی عزت و عظمت کا مالک ہے۔ قوم فرعون اور قوم ثمود بھی اگر توبہ کرلیتے تو وہ ان کو معاف کردیا جاتا لیکن وہ تو ہر طرح سمجھانے کے باوجود انکار کرنے کی روش پر قائم رہے حالانکہ وہ اللہ کے اختیار میں تھے اور اس نے ان کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا بچ کر وہ کہیں نہ جاسکتے تھے اور نہ جاسکیں گے۔ اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے جس قرآن کو نازل کیا ہے وہ اللہ کے ہاں بالکل محفوظ ہے۔ اہل ایمان اس قرآن سے مکمل رہنمائی حاصل کریں اسی میں ان کی اور ساری کائنات میں بسنے والے انسانون کی کامیابی کا رازہ چھپا ہوا ہے۔