85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے برجوں والے آسمان کی،

[1] برج کے معنی قلعے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد آسمان کے وہ قلعے ہیں جن میں فرشتے برابر پہرہ دیتے ہیں تاکہ شیاطین ایک خاص حد سے آگے ملاء اعلیٰ میں داخل نہ ہونے پائیں۔ اگر وہ اس حد سے آگے بڑھنے کی جسارت کرتے ہیں تو جیسا کہ پچھلی سورتوں میں مذکور ہے ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔
Ayah 85:2

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے،

[2] یعنی قیامت کی۔
Ayahs 85:3–6

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ (کافر انجام کار ہلاک ہوں گے جس طرح) ہلاک ہوئے خندق والے،

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

(وہ خندق) جس میں (بھڑکتے ہوئے) ایندھن کی آگ (تھی) ۔

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جبکہ وہ خود اس (خندق کے کنارے) پر بیٹھے ہوئے تھے۔

[3] دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں لیکن جو قول رائج اور سلسلہ کلام کے مناسب ہے وہ یہ ہے کہ دیکھنے والے سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قیامت کے روز حاضر ہوگا اور دیکھی جانے والی چیز سے مراد خود قیامت ہے جس کی ہولناکیاں سب دیکھنے والے دیکھیں گے۔
Ayahs 85:7–22

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو (ظلم و ستم) وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے، (اس کا تماشا) دیکھ رہے تھے۔

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور ان (اہل ایمان) سے ان کی دشمنی محض اس وجہ سے تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست (اور) سب خوبیوں والا ہے۔

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

(اور) جس کے لئے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی اور (وہ) اللہ ہر چیز (کے حال) سے واقف (بھی) ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذائیں دیں (اور) پھر توبہ نہ کی ان کے لئے جہنم کے (طرح طرح کے) عذاب ہیں اور (ان کے علاوہ) ان کے لئے جلنے کا عذاب (بھی) ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کے لئے (بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تمہارے رب کی پکڑ بلاشبہ بڑی سخت (پکڑ) ہے۔

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

بیشک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی (قیامت کے دن) دوبارہ (پیدا) کرے گا۔

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہی بخشنے والا (اور) محبت کرنے والا ہے۔

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

مالک عرش (بریں) ہے، عظمت والا ہے

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

(اور) جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بھلا لشکروں کی خبر تمہیں پہنچی ہے ؟

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی ؟

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

مگر جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ (قرآن کے) جھٹلانے میں (لگے) ہیں

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور اللہ ان کو سب طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(یہ قرآن جھٹلانے کی چیز نہیں) بلکہ یہ بڑے مرتبے کا قرآن ہے۔

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

(اور ہمارے ہاں) لوح محفوظ میں (ثبت) ہے (جس کے اندر کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا) ۔

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ یہاں اسی واقعے کی طرح اشارہ ہے جس سے مقصود قریش مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو خندق والوں کا ہوا۔ اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے، ایک برجوں والے آسمان کی، دوسری روز قیامت کی، تیسری قیامت کے ہولناک منظر کی اور اس ساری مخلوق کی جو ان مناظر کو دیکھے گی۔ پہلی چیز اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر گواہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کی قدرت کا یہ عالم ہے اس کی گرفت سے بچ کر یہ کفار کہاں جاسکتے ہیں۔ دوسری چیز کی قسم اس بناء پر کھائی گئی کہ کفار دنیا میں جتنا ظلم چاہیں کرلیں لیکن ایک دن آنے والا ہے جس میں مظلوم کی دادرسی اور ظالم کی پکڑ ہوگی۔ اس دن کافر بچ کر نہ جاسکیں گے۔ تیسری چیز کی قسم اس لئے کھائی گئی ہے کہ ان خندق والوں نے جس طرح بےبس اہل ایمان کے جلنے کا تماشا دیکھا اسی طرح قیامت کے دن ساری خلقت جہنم میں ان کفار کے جلائے جانے کا تماشا دیکھے گی۔