Ayah 85:11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ البروج سے آسمان میں محلات مراد ہیں۔
2۔ ابن المنذر نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کے اصحاب اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والسماء ذات البروج کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اس سے مراد ہے کہ قسم ہے آسمان کی جو محلات والا ہے۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ ذات البروج سے مراد ہے بڑے بڑے ستارے۔
4۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے آیت والسماء ذات البروج کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہیں ستارے یعنی قسم ہے آسمان کی جو ستاروں والا ہے اور آیت الذی جعل فی السماء بروجا (الفرقان آیت 61۔ ) جس نے آسمان میں ستارے بنائے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد ہیں ستارے پھر پوچھا گیا آیت بروج مشیدہ (النساء آیت 78) سے کیا مراد ہے فرمایا ان سے محلات مراد ہیں۔
5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات البروج (آسمان کی قسم جس میں برج ہیں) میں اس بروجوں سے اس کے ستارے مراد ہیں آیت والیوم الموعود۔ اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یعنی قیامت کے دن آیت وشاہد ومشہود اور اس دن کی جو حاضر ہوتا ہے اور اس کی کہ جس کے پاس حاضر ہوتے ہیں سے مراد دو عظیم دن ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایام دنیا میں سے عظمت اور شان عطا فرمائی اور ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ شاہد سے مراد قیامت کا دن ہے اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے۔
6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات البروج سے مراد ہے کہ آصمان کو خوبصورت اور عمدہ تخلق کے ساتھ مضبوط کیا پھر اس کو ستاروں کے ساتھ مضبوط کیا آیت والیوم الموعود یعنی قیامت کے دن آیت وشاہد ومشہود میں شہاد سے مراد ہے جمعہ کے دن اور مشہود سے مراد ہے قیامت کے دن۔
7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات البروج سے مراد ہے ستاروں والا آیت وشاہد ومشہود میں شاہد سے مراد ہے ابن آدم والمشہود سے مراد ہے قیامت کا دن۔
Ayah 85:28۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والیوم الموعود وشادہد ومشہود کے بارے میں روایت کیا کہ آیت والمیوم الموعود سے مراد ہے قیامت کا دن اور الشاہد سے مراد ہے جمعہ کا دن اور المشہود سے مراد ہے عرفہ کا دن اور وہ حج اکبر سے ہے اور جمعہ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ اور ان کی امت کے لیے عید بنایا اور اس کے ذریعے ساری مخلوق پر ان کو فضیلت دی اور وہ اللہ کے نزدیک سارے دنوں کا سردار ہے اور اس میں کیے جانے والے اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب اور پسندیدہ ہیں۔ اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی بندہ اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمادیتے ہیں۔
Ayah 85:3شاہد ومشہود کی تعیین
10۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابوہریرہ ؓ نے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ آیت وشاہد ومشہود میں الشاہد سے مراد ہے عرفہ کا دن اور جمعہ کا دن اور المشہود ہی الیوم الموعود اور اس سے مراد ہے قیامت کا دن۔
11۔ عبد بن حمید وابن المنذر علی ؓ سے روایت کیا کہ الیوم الموعود سے مراد ہے قیامت کا دن اور الشاہد سے مراد ہے جمعہ کا دن اور والمشہود سے مراد ہے قربانی کا دن
12۔ ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے شریح بن عبید کے طریق سے ابو مالک اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الیوم الموعود سے مراد ہے قیامت کا دن اور الشاہد سے مراد ہے جمعہ کا دن اور والمشہود سے مراد ہے عرفہ کا دن اور جمعہ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ذخیرہ بنایا۔ اور درمیانی نما عصر کی نماز ہے۔
13۔ سعید بن منصور نے شریح بن عبید (رح) سے مرسلا اسی طرح روایت کیا۔
14۔ ابن مردویہ وابن عساکر نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت وشاہد ومشہود میں الشاہد سے مراد ہے جمعہ کا دن اور والمشہود سے مراد ہے عرفہ کا دن۔
15۔ عبد بن حمید نے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے موقوفا اسی طرح روایت کیا ہے۔
16۔ سعید بن منصور وابن جریر وعبد بن حمید وابن مردویہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب دونوں کے سردار جمعہ کے دن ہے اور آیت وشاہد ومشہود سے عرفہ کا دن مراد ہے۔
17۔ ابن جریر نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر جمعہ کے دن کثرت سے درود بھیجو۔ کیونکہ وہ یوم مشہود ہے۔ جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
18۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے علی بن ابی طالب ؓ سے آیت وشاہد ومشہود کے بارے میں روایت کیا کہ آیت الشاہد سے مراد ہے جمعہ ا دن اور المشہود سے مراد ہے عرفہ کا دن۔
19۔ ابن جریر وابن مردویہ نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے وشاہد مشہود کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے فرمایا کیا تو نے مجھ سے پہلے کسی اور سے پوچھا۔ اس نے کہا ہاں ! میں نے ابن عمرو اور ابن الزبیر ؓ سے پوچھا تھا۔ تو ان دونوں نے فرمایا کہ ان س ہوا کا دن اور جمعہ کا دن مراد ہے۔ حسن ؓ نے فرمایا یہ معنی نہیں لیکن الشاہد سے مراد محمد ﷺ ہیں پھر یہ آیات انا ارسلنک شاہدا ومبشرا (الاحزاب آیت 25) ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا اور آیت وجئنا بک شہید اعلی وئلاء (النحل آیت 89) اور ہم نے آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجا اور المشہود سے مراد ہے قیامت کا دن پھر یہ آیت پڑھیں۔ آیت ذالک یوم مجموع لہ الناس یہ ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے آیت وذلک یوم مشہود (ہود آیت 102) اور ہی دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے۔
20۔ الطبرانی فی الاوسط وعبد بن حمید وابن مردویہ اور ابن عساکر نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والیوم الموعد سے مراد ہے قیامت کا دن آیت وشاہد ومشہود میں الشاہد سے مراد ہے محمد ﷺ اور المشہود سے مراد ہے قیامت کا دن اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ذلک یوم مجموع لہ الناس اور آیت وذلک یوم مشہود۔
21۔ ابن جریر نے علی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الشاہد سے مراد ہے اللہ تعالیٰ اور المشہود سے مراد ہے قیامت کا دن۔
22۔ سعید بن منصور وعبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ الشاہد سے مراد و فرشتہ ہے جو انسان پر اس کے عمل کے بارے میں گواہی دے گا۔ اور المشہود سے مراد ہے قیامت کا دن۔
Ayahs 85:4–923۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن نجی کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب الاخدود گھاٹی والوں کے نبی حبشی تھے۔
اصحاب الاخدود کا ذکر
24۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر حسن کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے آیت اصحب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ اصحاب الاخدود حبشہ کے رہنے والے تھے۔
25۔ ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے قتل اصحب الاخدود خندقوں والے ہلاک ہوئے کے بارے میں روایت کیا کہ کہ اصحاب الاخدود نبطی تھے۔
26۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت قتل اصحاب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ بنی اسرائیل میں سے تھے کہ جنہوں نے زمین میں خندقیں کھودیں، پھر ان میں آگ جلائی، پھر ان خندقوں پر مردوں اور عورتوں کو کھڑا کردیا اور ان کو آگ میں ڈال دیا۔
27۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الاخدود سے مراد ہے کہ نجران میں دو خندقیں ہیں جن میں وہ لوگوں کو عذاب دیتے تھے۔
28۔ ابن عساکر نے عبدالرحمن بن نقیر (رح) سے روایت کیا کہ یہ خندقیں تبع کے زمانہ میں تھیں۔
29۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت قل اصحاب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ قوم ہے جو زمین میں خندق کھودتی تھی پھر ان میں آگ جلاتی تھی۔ پھر اسلام والوں کو لاتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا انکار کرو اور ہمارے دین کی اتباع کرو ورنہ ہم تم کو اس آگ میں ڈال دیں گے۔ لیکن ان لوگوں نے آگ کو ترجیح دی کفر پر اور پسند کیا چناچہ ان کو آگ میں ڈال دیا گیا۔
30۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت قتل اصحب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو بیان کیا گیا کہ علی بن ابی طالب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لوگ یمن کے آس پاس کے رہنے وال لوگ تھے ان میں سے مومن اور کافر آپس میں لڑ پڑے تو ان کے مومن ان کے کافروں پر غالب ہوگئے۔ پھر انہوں نے آپ میں ایک دوسرے سے عہد کیا کہ نہ کوئی وعدہ خلافی کرے گا اور نہ معاہدہ کو توڑے گا۔ مگر کافروں نے ان سے دھوکہ کرتے ہوئے ان کو پکڑ لیا پھر مومنین میں سے ایک آدمی نے کہا کیا تمہارے لیے کوئی خیر اور نیکی ہے تم آگ جلاؤ گے پھر تم ہم کو اس پر پیش کرو پس جو تمہارے دین پر تمہاری بیعت کرے گا۔ اور یہی تم چاہتے ہو اور جو شخص نہیں کرے گا وہ آگ میں کود جائے گا۔ سو تم اس سے راحت اور سکون پاؤ گے پھر انہوں نے ان کے لیے آگ بھڑکائی۔ اور ان کو اس پر پیش کیا تو وہ اس میں کودنے لگے یہاں تک کہ ایک بڑھیا باقی رہ گئی گویا اس نے تھوڑی سی دیر کی تو اس کی گود میں شیر خوار بچے نے کہا تو جلدی کر اور دیر نہ کر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تم کو خبر دیتے ہوئے اور ان کی باتوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت النار ذات الوقود اذہم علیہا قعود۔ یعنی یہ مومنین کے بارے میں آیت وہم علی ما یفعلون بالمومنین۔ یعنی وہ کفار جو کچھ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے۔
Ayahs 85:10–1131۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین فتنوا لمومنین والمومنت بیشک جنہوں نے ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو جلایا۔
32۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) نے ان الذن فتنوا المومنین والمومنت کے بارے میں روایت کیا کہ جن لوگوں نے عذاب دیا۔
33۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک ظالم اور جابر حکمران تھا اس نے زمین میں خندقیں کھدوائیں ان میں آگ جلائی اور مومنین کو ان میں ڈالا۔ اور جو ان کی کفر پر تابعداری کرتا تھا اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جو انکار کرتا اس کو آگ میں ڈال دیتے۔ پس وہ آگ میں ڈالتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک عوت کے پاس آیا اور اس کے ساتھ ایک شیر خوار بچہ بھی تھا اس عورت نے آگ میں کودنے سے تاخیر کی اسے بچے نے اس سے بات کی اور کہا اے میری ماں ! آگ میں کود جا اور تاخیر نہ کر۔ چناچہ اسے آگ میں پھینک دیا گیا اللہ کی قسم ! یہ آگ کا تو فقط ایک نقطہ تھا یہاں تک کہ وہ فورا پہنچادئیے گئے اللہ کی رحمت کی طرف۔ حسن ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جب بھی اصحب الاخدود کا ذکر کرتا ہوں مگر اللہ تعالیٰ سے آزمائش کی مشقت سے پناہ مانگتا ہوں۔
اصحاب الاخدود کا واقعہ
34۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن نجی (رح) سے رویت کیا کہ میں حضرت علی ؓ کے پاس حاضر تھا ور ان کے پاس نجران کا ایک عالم آیا تو آپ نے ان سے اصحب الاخدود کے بارے میں پوچھا تو اس نے ایک واقعہ آپ کے سامنے بیان کیا۔ علی ؓ نے فرمایا : میں ان کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں حبشہ میں سے ایک نبی کو ان کی قوم کی طرف بھیجا پھر علی ؓ نے یہ آیت ولقد ارسلنا رسلا من قبلک منہم من قصصنا علیک ومنہم من لم نقصص علیک (غافر آیت 78) اور ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے تھے۔ بعض میں سے وہ ہیں کہ ہم نے آپ پر ان کا حال بیان کردیا اور بعض وہ کہ ہم نے آپ پر بیان نہیں کیا۔ پس اس نبی نے ان کو بلایا لوگوں نے اس کی تابیداری کی پھر لوگوں کے ساتھ اس کی جنگ ہوئی اور اس کے اصحاب کو قتل کردیا گیا پھر انہوں نے اس اللہ کی نبی کو پکڑ لیا اور اس کو باندھ دیا پھر وہ رہا ہوئے تو اور لوگ ان کی طرف مانوس ہوئے۔ وہ کہنے لگے کہ اس کی طرف اور لوگ جمع ہوئے ہیں ان سے قتال کرو تو انہوں نے ان سے قتال کیا اور اللہ کے نبی کو پکڑ لیا اور باندھ دیا۔ اور انہوں نے زمین میں خندقیں بنادیں اور اس میں آگ بھڑکا دی اور لوگوں کو اس میں ڈالنا شروع کیا جو نبی کی تابعداری کرتا اس کو اس میں پھینک دیتے اور جو ان کفار کی تابعداری کرتا اس کو چھوڑدیتے اور آخر میں ایک عورت آئی اس کے ساتھ ایک شیر خوار بچہ بھی تھا وہ گھبرائی تو بچے نے کہا اے میری ماں کود جا اور اس میں ذرا بھی تردد نہ کر تو وہ عورت آگ میں واقع ہوگئی۔
35۔ عبد بن حمید نے سلمہ کہیل (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ کے پاس آیت اصحب الاخدود کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا بلاشبہ تم میں ان کی مثل ہیں اور تم ہرگز کسی قوم سے عاجز اور کمزور نہیں ہو۔
36۔ عبد بن حمید نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ مجوس، اہل کتاب تھے اور وہ اپنی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے۔ ور وہ اپنی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور شراب ان کے لیے حلال کردی گئی تھی۔ ان کے بادشاہوں میں سے ایک نے شراب پی اور اس کی عقل پر غالب آگئی پس اس حال میں اس نے اپنی بہن یا اپنی بیٹی کو پکڑا اور اس کے ستھ بدکاری کار ارتکاب کیا جب اس کا نشہ جاتار رہا تو بہت نادم ہوا اور اس نے اسے کہا تیری ہلاکت ہو۔ تو نے یہ کیا کرلیا ہے اور اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟ اس نے کہا اس سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ تو لوگوں کو خطبہ دے اور تو کہہ اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بہنوں اور بیٹیوں کا نکاح حلال کردیا ہے پھر جب تو اس حال میں لوگوں کے پاس جائے گا تو کچھ مدت بعد وہ لوگ اس کے خطبہ کو بھول جائیں گے تو پھر تو اسے حرام قرار دے دینا۔ پھر وہ خطبہ دینے کے یے کھڑا ہوا اور کہا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بہنوں اور بیٹیوں کا نکاح حلال کردیا ہے۔ لوگوں کی ایک جماعت نے کہا اللہ کی پناہ کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لائیں یا ہم اس کے ساتھ اقرار کریں یہاں تک کہ ہمارے کوئی نبی یہ پیغام لے کر آئے یا ہم پر کسی کتاب میں یہ حکم نازل ہو وہ اپنی بیوی کی طرف لوٹا اور کہا تیری ہلاکت ہو کہ لوگوں نے مجھ پر اس بات کا انکار کردیا ہے۔ بیوی نے کہا جب انہوں نے تجھ پر اس بات کا انکار کیا ہے تو ان پر کوڑے برسا پس اس نے ان میں کوڑے برسانا شروع کردیا تو لوگوں نے پھر بھی اقرار کرنے سے انکار کردیا وہ پھر بیوی کی طرف لوٹا اور کہا میں نے ان میں کوڑے بھی برسائے ہیں مگر انہوں نے اقرار کرنے سے انکار کردیا۔ بیوی نے کہا تو ان میں تلوار چلا۔ یعنی ان کو قتل کر۔ تو اس نے ان کے اندر تلوار بھی چلائی۔ تو انہوں نے پھر بھی قرار کرنے سے انکار کردیا۔ پھر اس کی بیوی نے کہا ان کے لیے خندقیں کھود دے پھر ان میں آگ جلا دے سو جو شخص تیری تابعداری کرے اس کا راستہ چھوڑدے چناچہ اس نے خندقیں کھدوائی اور ان میں آگ جلائی۔ اور اپنی رعایا کو اس پر پیش کیا پس جس نے انکار کیا اس کو آگ میں پھینک دیا اور جس نے انکار نہیں کیا اس کا راستہ چھوڑدیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں آیت قتل اصحب الاخدود سے لے کر آیت ولہم عذاب الحریق تک۔ اور ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔
37۔ ابن ابی شیبہ نے عوف (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آیت اصحب الاخدود کا ذکر فرماتے تو آپ اس سخت مصیبت سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
بادشاہ، کاہن اور لڑکا
38۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید ومسلم والنسائی ولترمذی نے صہیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب عصر کی نماز پڑھی تو آپ نے چپکے سے گفتگو فرمائی۔ آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! جب آپ نے عصر کی نماز پڑھی۔ تو آپ نے چپکے سے گفتگو فرمائی آپ نے فرمایا کہ انبیاء میں سے ایک نبی تھے انہوں نے امت کے ساتھ فخر کا اظہار کیا اور کہا کون ان کے مقابلے میں کھڑا ہوسکتا ہے واللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ آپ ان کو اختیار دے دیں یا انہیں سزا دی جائے گی یا پھر ان کے دشمن کو ان پر مسلط کردیا جائے گا۔ تو انہوں نے اپنے لیے سزا اور عذاب کو اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کو مسلط کردیا کہ ان میں سے ایک ہی دن میں ستر ہزار افراد مرگئے۔ راوی نے کہا کہ ایک دوسری حدیث میں اس طرح بیان ہوا اور کہا کہ بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ اور اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو اس کو غیب کی خبریں بتاتا تھا۔ اس کاہن نے اس بادشاہ سے کہا کہ ایک ایسا لڑکا میرے پاس لے آؤ جو سمجھدار ہو یا کہا جو تیز فہم اور ذہن ہو میں اس کو اپنا یہ علم سکھادوں کیونکہ مجھے یہ خوف ہونے لگا ہے کہ میں مرجاؤں گا تو یہ علم تم سے ختم ہوجائے۔ اور تم میں اس کو جاننے والا نہ ہو۔ راوی نے کہا کہ انہوں نے اس کاہن کے لیے ایسی صفات والا بچہ تلاش کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کرے اور وہ اس کی طرف میل جول رکھے۔ چناچہ وہ بچہ اس کے پاس آنے جانے لگا۔ اس لڑکے کے راستہ پر ایک راہب اپنے گرجے گھر میں رہتا تھا۔ اور وہ لڑکا اس راہب سے بھی کچھ پوچھتا رہتا تھا جب بھی وہ اس کے پاس سے گذرتا۔ وہ لڑکا برابر اس کے پاس آتا جاتا رہا یہا تک کہ راہب نے اس کو بتایا کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ لڑکے نے راہب کے ساتھ ٹھہرنا شروع کردیا اور کاہن کے پاس آنے سے دیر کرنے لگا کاہن نے لڑکے گھر والوں کی طرف پیغام بھیجا کہ قریب ہی یہ بچہ میرے پاس حاضر نہیں ہوگا لڑکے نے راہب کو جب اس بات کی خبردی اور راہب نے اس سے کہا جب کاہن تجھ سے کہے تو کہاں تھا تو کہہ دینا کہ میں اپنے گھروالوں کے پاس تھا اور جب تجھ سے تیرے گھر والے پوچھیں تو کہاں تھا تو کہہ دینا کہ میں کاہن کے پاس تھا وہ لڑکا اسی حال پر تھا۔ کہ ایک دن اس کا گذر کثیر لوگوں کی ایک جماعت کے پاس ہوا جن کو ایک جانور نے روک رکھا تھا کہا جاتا ہے کہ وہ شیر تھا۔ لڑکے نے ایک پتھر لیا اور کہا اے اللہ ! جو راہب کہتا ہے کہ اگر وہ سچ ہے تو میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ اس جانور کو ہلاک کردے اور اگر وہ سچ ہے جو کاہن کہتا ہے تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اس کو ہلاک نہ کر۔ پھر اس سے پتھر پھینکا تو وہ جانور ہلاک ہوگیا لوگوں نے کہا کس نے اس کو قتل کیا۔ تو انہوں نے کہا لڑکے نے۔ تو لوگ ڈر گئے اور کہنے لگے کہ اس لڑکے نے ایسا علم جان لیا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں جانا۔ ایک اندھے نے سنا تو اس کے پاس آیا اور اس سے کہا اگر میری نظر کو لوٹا دے تو تیرے لیے اتنا اور اتنا مال ہوگا۔ لڑکے نے کہا میں تجھ سے اس مال کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن تو بتا اگر تجھ پر تیری بصارت لوٹ آئے۔ کیا تو اس ذات پر ایمان لائے گا جو اسے واپس لوٹانے والا ہے۔ اس نے کہا ہاں میں ایمان لاؤں گا۔ اس لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اس پر اس کی بصارت لوٹ آئی وہ اندھا ایمان لے آیا پھر ان کی خبر بادشاہ تک پہنچی اس نے ان کو بلوایا ان کو لایا گیا بادشاہ نے کہا میں تم میں سے ہر ایک کو ایک ہی بار قتل کروں گا۔ لیکن اس کے ساتھ اس علم کے جاننے والے کو قتل نہیں کروں گا چناچہ اس نے راہب اور اس آدمی کو جو اندھا تھا حکم دیا اور ان میں سے ہر ایک کے سر پر آرا رکھ کر قتل کردیا گیا اور دوسرے کو دوسرے طریقے سے قتل کردیا۔ پھر اس لڑکے بارے میں حکم دیا کہ اس کو فلاں پہاڑ کی فلاں جگہ پر لے جاؤ اور وہاں سے اس کو اس کے سر کے بل پھینک دو وہ لوگ اس لڑکے کو اس پہاڑ کی طرف لے کر چل دئیے جب وہ اس جگہ کی طرف پہنچے جس کا انہوں نے ارادہ کیا کہ اس کو اس جگہ سے نیچے ڈال دیں تو وہ لوک خود اس پہاڑ سے گرنے لگے اور لڑھکنے لگے۔ یہاں تک کہ ان میں سے سوائے لڑکے کوئی باقی نہ رہا۔ پھر لڑکا لوٹ آیا بادشاہ نے حکم دیا اس کو سمندر کی طرف لے جاؤ اور اس کو اس میں ڈال دو اس کو سمندر کی طرف لے گئے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو غرق کردیا جو اس کے ساتھ تھے۔ اور اللہ نے اس کو محفوظ رکھا لڑکے نے بادشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا مگر یہ مجھے سولی پر لٹکا کر تیر ماردے اور تیرے مارتے وقت یوں کہہ اللہ کے نام کے ساتھ جو اس لڑکے کا رب ہے۔ بادشاہ نے اس کا حکم دیا۔ اس کو سولی پر لٹکایا اور اس کو تیر مارا اور کہا اللہ کے نام کے ساتھ جو اس لڑکے کا رب ہے۔ لڑکے نے اپنے ہاتھ کو اپنی کنپٹی پر رکھ دیا جب تیر مارا گیا پھر وہ مرگیا۔ لوگوں نے کہا تحقیق اس لڑکے نے ایسا علم حاصل کیا جو کسی اور نے حاصل نہیں کیا بلاشبہ ہم اس لڑکے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ بادشاہ سے کہا گیا۔ کیا تو گھبراتا تھا کہ تین آدمیوں نے تیرے مخالفت کی۔ یہ تو سارا جہاں تیرا خلاف ہوگیا ہے راوی کا بیا ہے کہ اس نے خندقیں کھدوائیں پھر اس میں لکڑیاں ڈالی گئیں اور آگ جلائی گئی۔ پھر لوگوں کو جمع کیا اور کہا جو اپنے دین سے لوٹ آئے اس کو ہم چھوڑدیں گے۔ اور جو نہیں لوٹے گا ہم اس کو اس آگ میں ڈال دیں گے پس اس نے ان کو آگ میں ڈالنا شروع کیا تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت قتل اصحب الاخدود النار ذات الوقود۔ خندقوں والے ہلاک ہوئے جس میں آگ تھی بہت ایندھن والی حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت العزیز الحمید زبردست خوبیوں والا۔ لڑکے کو دفن کردیا گیا پھر نکالا گیا۔ اور یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانہ میں اس کو نکالا گیا۔ اور اس کی انگلی اس کی کنپٹی پر تھی جیسا کہ قتل کے وقت اس نے رکھی تھی۔
39۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا اس کا ایک جادوگر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا میں بوڑھا گیا ہوں اور قریب الموت ہوں۔ لہٰذا تو ایک لڑکا میرے حوالے کردے جس کو جادو سکھادوں۔ چناچہ بادشاہ نے ایک لڑکے کو اس کے سپرد کردیا اور اس کو جادو سکھانے لگا اس جادوگر اور بادشاہ کے درمیان ایک راہب تھا وہ لڑکا اس راہب کے پاس آیا اس نے کلام کو سنا تو اس نے اس راہب اور اس کے کلام کو زیادہ پسند کیا۔ وہ لڑکا جب جادوگر کے پاس آتا تو اس کو مارتا اور کہتا کس چیز نے تجھے روک دیا تھا کہ تو دیر لگا کر آیا۔ اور جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس آتا تو راستے میں راہب کے پاس بیٹھ جاتا اور آنے میں دیر لگا دیتا پھر جب وہ اپنے گھوالوں کے پاس آتا تو وہ بھی اس کو مارتے اور کہتے کہ تجھے کس چیز نے روک دیا تھا اس نے راہب کو شکایت کی اس نے کہا جب جادوگر تجھے مارنے کا ارادہ کرے تو تو کہہ دینا کہ مجھے میرے گھروالوں نے روک لیا تھا اور جب تیرے گھر والے تجھے مارنے کا ارادہ کریں تو کہہ دینا مجھے جادوگر نے روک لیا تھا اس درمیان کہ وہ اسی حال میں تھا کہ اچانک ایک دن وہ ایک بڑے خوفناک جانور کے پاس آیا جس نے لوگوں کو روک رکھا تھا کہ وہ اس سے آگے گذرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ لڑکے نے کہا آج مجھے معلوم ہوجائے گا کہ راہب کا امر اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے یا جادوگر کا امر۔ تو اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا اے اللہ ! اگر راہب کا امر تیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور تیرے لیے رضا مندی کا باعث ہے۔ جادوگر کے امر سے تو اس جانور کو قتل کردے یہاں تک کہ لوگ گذر جائیں پھر اس لڑکے نے وہ پتھر مارا اور اس کو قتل کردیا اور لوگ گذر گئے۔ راہب کو یہ خبر دی گئی تو اس نے کہا اے میرے بیٹے تو مجھ سے زیادہ افضل ہے اور بیشک تو عنقریب آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا اگر تجھے آزمائش میں ڈالا جائے تو میرا نہ بتانا اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے کو اور کو اور برص کے مریضوں اور دیگر تمام بیماریوں کا علاج کرتا تھا اور لوگوں کو شفا یاب کرتا تھا اور بادشاہ کے پاس ایک بیٹھنے والا اندھا تھا۔ اس نے اس لڑکے کا سنا تو اس کے پاس بہت سے ہدایا لے کر آیا اور اس نے کہا مجھے شفا عطا کردے تو جو کچھ میں نے جمع کیا ہے وہ سب تیرا ہے۔ لڑکے نے کہا میں کسی کو شفا نہیں دیا مگر اللہ تعالیٰ شفا عطا فرماتے ہیں اگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھ کو شفا دے وہ ایمان لے آیا تو اس نے اس کے لیے دعا کی تو اس کو شفا ہوگئی۔ پھر وہ اندھا بادشاہ کے قریب وہاں آکر بیٹھ گیا جہاں وہ بیٹھا کرتا تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ میں نے شفا دی اس نے کہا نہیں۔ بادشاہ نے کہا کیا میرے علاوہ تیرا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ بادشاہ اسے مسلسل اذیتیں اور سزا دیتا را۔ یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا بتادیا۔ بادشاہ نے اس کو بلوایا اور کہا اے لڑکے تیرے جادو کی خبر مجھ تک پہنچی ہے کہ تو مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور دیگر بیماریوں کا شافی علاج کرتا ہے۔ لڑکے نے کہا میں کسی کو شفا نہیں دیتا اور اللہ کے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا۔ بادشاہ نے کہا میں شفا دیتا ہو۔ لڑکے نے کہا نہیں۔ بادشاہ نے کہا کیا میرے علاوہ تیرا کوئی اور رب ہے ؟ لڑکے نے کہا ہاں میرا بھی اور تیرا بھی رب اللہ ہے پس بادشاہ نے اسے بھی اذیتیں دینی شروع کیں پس وہ اسے مسلسل عذاب دیت ارہا یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بتادیا بادشاہ نے اس سے کہا اپنے دین کی طرف لوٹ جا اس نے انکار کیا تو ایک آرا اس کے سر میں رکھا یہاں تک کہ وہ دو حصوں میں کٹ کر زمین پر جاگرا۔ اور لڑکے سے کہا اپنے دین سے رجوع کرے لیکن اس نے انکار کردیا۔ تو اس کو ایک جماعت کے ساتھ فلاں پہاڑ کی فلاں جگہ کی طرف بھیج دیا اور کہا جب تم اس کی چوٹی پر پہنچو۔ اگر یہ اپنے دین سے لوٹ جائے تو ٹھیک ورنہ اس کو اس کے اوپر سے گرادو۔ وہ لوگ اس کو لے گئے جب اس کو پہاڑ کے اوپر لے کر گئے تو لڑکے نے کہا اے اللہ میری طرف سے ان کو کافی ہوجا جیسے تو چاہے تو پہاڑ ان کے ساتھ ہلنے لگا اور وہ سب نیچے گرگئے۔ وہ لڑکا چلتا چلاتا رہا یہاں تک کہ بادشاہ کے پاس آگیا۔ بادشاہ نے پوچھا تیرے ساتھیو کا کیا ہوا اس نے اللہ میری جانب سے ان کو کافی ہوگیا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ماردیا۔ پھر بادشاہ نے اس کو ایک جمات کے ساتھ لمبی کشتی میں بھیجا۔ اور کہا جب تم اس کو سمندر کی گہرائی میں لے جاؤ اگر یہ اپنے دین سے لوٹ آئے تو ٹھیک اور نہ اس کو غرق کردو۔ چناچہ وہ اسے لے کر گہرے سمندر میں پہنچے تو لڑکے دعا مانگی اور کہا اے اللہ ! میری طرف سے تو ان کو کافی ہوجا جیسے تو چاہے۔ وہ لوگ سب غرق ہوگئے اور لڑکا تلاش کرتے کرتے آگیا یہاں تک کہ بادشا کے پاس آگیا۔ بادشاہ نے پوچھا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا اس نے کہا اللہ ان کو کافی ہوگیا۔ پھر بادشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا۔ بادشاہ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ لڑکے نے کہا ایک کھلے میدان میں لوگوں کو جمع کر پھر مجھے کھجور کے تنے پر سولی لٹکا۔ اور میرے ترکش میں سے ایک تیر کو لے کر یوں کہہ بسم اللہ رب الغلام اللہ کے نام کے ساتھ جو لڑکے کا رب ہے۔ اگر تو نے ایسا کرلیا تو مجھے قتل کردے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ کمان کے درمیان میں تیر کو رکھا پھر پھینکا اور کہا اس اللہ کے نام کے ساتھ جو لڑکے کا رب ہے۔ وہ تیر اس کی کنپٹی میں لگ گیا لڑکے نے اپنے ہاتھ کو تیر کی جگہ پر رکھا اور مرگیا۔ لوگوں نے کہا ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ سے کہا گیا تو بتا جس چیز سے تو ڈر رہا تھا اللہ کی قسم یہ سارے کے سارے لوگ تیرے خلاف اتر آئے ہیں یعنی سب لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور تیری خدائی سے انکار کردیا۔ پھر چناچہ اس نے تنگ مونہوں والے کنووں کے بارے میں حکم دیا چناچہ وہاں خندقیں کھوددی گئیں پھر ان میں آگ بھڑکا دی گئی۔ اور اس نے کہا جو اپنے دین سے لوٹ جائے اس کو چھوڑ دو ورنہ اس کو آگ میں ڈال دو ۔ تو لوگ آپس میں قرعہ ڈال رہے تھے اس آگ میں جانے کے لیے اور ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے۔ ایک عورت آئی جس کا ایک شیر خوار بچہ تھا۔ وہ تھوڑا سا خوفزدہ ہوئی آگ میں داخل ہونے سے تو بچے نے کہا اے میری ماں صبر کر بیشک تو حق پر ہے۔
Ayah 85:121۔ ابن المنذر والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات البروج سے لے کر آیت تو شاہد ومشہود تک قسم ہے اور فرمایا یہ قسم ہے اس بات پر کہ تیرے رب کی پکڑ سخت ہے اس کے آخر تک۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان بطش ربک لشدید۔ بیشک تیرے رب کی پکڑ سخت ہے سے یہاں قسم مراد ہے آیت انہ ہو یبدء ویعید۔ بیشک وہی پہلے پیدا کرتا ہے اور دوبارہ پیدا کرے گا۔ یعنی مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا پھر دوبارہ بھی پید اکرے گا۔ آیت وہو الغفور الودود۔ اور وہی ہے بخشنے والا اور محبت کرنے والا یعنی وہ محبت کرتا ہے اپنی اطاعت پر جو اس کی اطاعت کرے۔
Ayah 85:133۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت انہ ہو یبء ویعید کے بارے میں روایت کیا کہ وہ پہلی مرتبہ عذاب لانے والا ہے اور وہی دوبارہ بھی لائے گا۔
Ayah 85:144۔ ابو الشیخ نے حسین بن واقد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہو الغفور الودود۔ سے مراد ہے کہ وہ بخشنے والے ہیں ایمان والوں کو اور بہت محبت کرنے والے اپنے اولیاء سے۔
Ayahs 85:15–215۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الودود سے مراد ہے حبیب یعنی بہت محبت کرنے والا آیت ذوالعرش المجید۔ عرش کا مالک بڑی شان والا۔ یعنی وہ صاحب عرش ہے اور کریم ہے۔
Ayah 85:226۔ ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوح محفوظ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مید میں اپنے اس قول میں فرمایا بل ہو قرآن مجید فی لوح محفوظ۔ بلکہ وہ قرآن ہے بڑی شان والا لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اور وہ اسرافیل کی پیشانی میں ہے۔
لوح محفوظ کا ذکر
7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی لوح محفوظ میں لوح محفوظ سے مراد ام الکتاب ہے۔
8۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی لوح محفوظ سے مراد ہے کہ مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ جس لوح کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک ہی لوح ہے جس میں قرآن مجید ہے اور یہ لوح نور کی ہے اس کی لمبائی تین سو سال کی مسافت ہے۔
9۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ محفوظ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محفوظ ہے۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی لوح محفوظ سے مراد ہے کہ وہ ایمان والوں کے دلوں میں محفوظ ہے۔
11۔ ابن المنذر نے عبداللہ بن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی لوح محفوظ سے مراد ہے کہ وہ قرآن ایک لوح میں لکھا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہی ام الکتاب ہے۔
12۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں جید سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو پیدا فرمایا اور اس کی لمبائی ایک سو سال کی مسافت کی طرح تھی پھر اس نے قلم سے فرمایا مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے کہ تو میری مخلوق کے بارے میں علم کو لکھ دے پس اس نے قیامت تک جو ہونے والا ہے سب کچھ لکھ دیا۔
13۔ ابن ابی الدنیا نے مکارم الاخلاق میں والبیہقی فی الشعب وابوالشیخ فی العظمہ وابن مردویہ نے حلال القسلی کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے ایک تختی ہے سبز زبرجد سے اس میں سے جس کو اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے رکھ دیا ہے۔ اور اس میں لکھ دیا ہے کہ بیشک میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے تین سو اور دس سے کچھ اوپر قسموں کی مخلوق پیدا کی۔ اس مخلوق میں سے جو بھی لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہوا ائے گا جنت میں داخل ہوگا۔
14۔ ابن مردویہ فی مسندہ اور ابویعلی نے ضعیف سند کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک رحمن تبارک وتعالیٰ کے سامنے ایک تختی ہے جس میں تین سو پندرہ شریعتیں ہیں رحمن فرماتے ہیں : میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میرے بندوں میں سے کوئی بندہ اس حال میں میرے پاس آئے گا کہ یہ میرے ساتھ کسی چیز کو شرک نہ کرتا ہوگا تم میں سے کوئی ایک ہوگا جس کو میں جنت میں داخل کروں گا۔
15۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ کے لیے ایک ایسی تختی ہے کہ اس کا ایک جانب یاقوت کی ہے اور دوسری جانب سبز زبرجد کی ہے اور اس کا قلم نور کا ہے کہ اس میں سے وہ پیدا کرتا ہے اور اس میں سے وہ رزق دیتا ہے۔ اور اس میں وہ زندہ کرتا ہے اور اور اس میں وہ مارتا ہے اور اس میں وہ عزت دیتا ہے اور اس میں ہر دن اور رات میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
16۔ ابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک تختی کو سفید موتی سے پیدا فرمایا اس کی دونوں طرفیں سبز زبرجد کی ہیں اس کی کتابت نور سے ہے وہ ہر دن میں تین سو ساٹھ مرتبہ اس کی طرف ایک دیکھتا ہے زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے پیدا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے۔ عزت دیتا ہے اور ذلت دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔