Ayah 85:1قسم ہے برجوں والے آسمان کے رب کی
1 ؎ (ذات) والی ۔ صاحب مؤنث ہے ذو کا جس کے معنی صاحب ہی کے ہوں اور ذوات اس کی جمع ہے ( بروج) برجیں برج کی جمع ہے جس کے معنی بلند عمارات اور محل کے ہیں ۔ آسمان کے برجوں سے کیا مراد ہے ؟ کہا گیا ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں اور ان کا نام برج ہے اور ہر ایک پرستاروں کا پتہ چلتا ہے اور یہ حد میں رکھی گئی ہیں ، حساب کے لیے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے کے بارہ خانے اور برج مقرر کیے گئے ہیں اور ان برجوں میں سورج کا طلوع تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یہ آسمان کے مشرق کی طرف ہیں ۔ ان بارہ برجوں کے الگ الگ نام بھی رکھے گئے ہیں ۔ کسی نے ان ناموں کو اس طرح جمع کیا ہے ؎
بر جہا دیدم کہ از مشرق بر آور دند سر جملہ در تسبیح و در تہلیل حی لا یموت
چوں حمل چوں ثور و چوں جو زا و سرطان و اسد سنبلہ ، میزان و عقرب ، قوس و جدی ، دلو ، حوت
( بروج) کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء کی آیت 78 جلد پنجم سورة الحجر کی آیت 16 جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 61 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ آنے والے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر مضمون مؤکد کرنے کے لیے قاعدہ کے مطابق قسمیں کھائی گئی ہیں اور یہ ان قسموں میں پہلی قسم ہے ۔ برجوں والے آسمان کی تخصیص سے اور اس سے اس کائنات کے موسموں کے تغیر و تبدل میں جو حکمت پنہاں ہے اس کی طرف اشارہ مقصود ہے ۔
Ayah 85:2اس دن کے رب کی قسم جس کا وعدہ کیا گیا ہے
2 ؎ ( الموعود) اس مفعول واحد مذکر وعد مصدر۔ وعدہ کیا ہوا دن یعنی روز قیامت جس کے آنے کا وعدہ پختہ کیا گیا ہے اور اس کے آنے میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہ دوسری قسم ہے آنے والے مضمون کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے جو مضمون آگے آنے والا ہے۔
Ayah 85:3اور دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے رب کی قسم
3 ؎ ( شاھد) گواہ ، حاضر ہونے والا ، بتانے والا شھادۃ اور مشھود سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ایک اسم مبارک بھی ہے کیونکہ آپ ﷺ قیامت کے روز امت کے گواہ اور دنیا میں تعلیم ربانی کے بتانے والے ہیں اور مراد اس کائنات کی ہر ایک چیز بھی ہے اور خصوصاً وہ نشانات بھی جو قوموں کی امتیازی حیثیت کو بتانے والے اور ان کا کھوج ظاہر کرنے والے ہیں اور اس کے معنوں میں بہت وسعت پائی جاتی ہے ( مشھود) اسم فاعل واحد مذکر مجرور حاضر کیا گیا ۔ جس دن کی شہادت میں بہت سے لوگ پیش کیے جاسکیں یا بہت سے نشانات پائے جاتے ہیں اور اس سے مراد عرفہ کا دن بھی لیا گیا ہے کہ سب حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور ہوتے آ رہے ہیں ، ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ وہ گری پڑی عمارتیں ، قلعے اور دوسری ساری یادگاریں جو گزشتہ اقوام کا پتہ بتاتی ہیں اور ان کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کبھی وہ بھی اس دنیا میں اسی طرح آباد تھے جس طرح آج تم اور ہم ہیں لیکن آج ان کے کارہائے نمایاں کے کھنڈرات کے سوا کچھ بھی باقی موجود نہیں ہے۔ وہ بھی زندہ لوگوں کے لیے بطور گواہ کام دے رہے ہیں ۔ اس طرح ( شاھد) اور ( مشھود) کہہ کر اس مضمون میں بہت وسعت رکھ دی گئی ہے جس وسعت کو اگر کھولنے لگیں تو آدم (علیہ السلام) سے لے کر جتنی قومیں آئی ہیں جن کے تذکار قرآن کریم میں محفوظ ہیں اور ان کی تفصیل سیرت کی کتابوں اور احادیث میں بھی ایک حد تک محفوظ ہے اگر صرف ان اقوام عالم ہی کا تجزیہ کیا جائے تو اس کے لیے بیسیوں صفحات درکار ہیں لیکن تفصیل کی اس جگہ ضرورت نہیں ، ان میں سے ایک ایک واقعہ معہ اپنی حیثیت کے محفوظ ہے۔ اگر کوئی صاحب عبرت حاصل کرنا چاہتے ہوں تو ان کے قصص کو اٹھا کر ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور وہ سارے واقعات آسانی سے دستیاب ہیں ، مفسرین اسی وسعت کے پیش نظر جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اس سے مراد یوم جمعہ اور یوم عرفہ ، نبی اعظم و آخر ﷺ اور روز قیامت ، بعض نے سارے انبیاء و رسل کا گروہ اور ذات اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے خصوصاً کراماً کاتبین اور تمام انبیاء و رسل (علیہ السلام) کلمہ توحید اور تمام دوسری اسلامی صداقتیں بھی مراد لی ہیں اور یہ وسعت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ابھی اس میں گنجائش ہے کہ آنے والے زمانہ میں اس سے مراد کوئی مزید مشاہدہ میں آنے والی چیزیں بھی لی جاسکیں۔ اس طرح قیامت کے روز پر (شاھد ) اور ( مشھود) دوسری چیزوں کو بھی بطور شہادت پیش کیا جاسکتا ہے اور اب اصل مضمون کی طرف پھر رہے ہیں۔
Ayah 85:4خندقوں والے ہلاک ہو گئے
4 ؎ ( اخدود) کے معنی گڑھ یا کھائیوں کے ہیں جن کو خندقیں بھی کہا جاتا ہے چونکہ زیر بحث واقعہ میں ایک کافر بادشاہ اور اس کے امراء و اعیان سلطنت نے خندقیں اور گڑھے کھدوا کر انکے اندر آگ دھکا کر عیسائی مؤمنوں کو ان خندقوں اور گڑھوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا اسی نسبت سے ان کافروں کو (اصحب الاخدود) کہا گیا ہے۔ قرآن کریم نے اس قصہ کو نہایت اختصار کے ساتھ صرف اسی قدر بیان کیا ہے جو رشد و ہدایت کے لیے باعث مؤعطف اور بصیرت ہے۔ ہم اس جگہ پہلے اس کا اختصار بیان کرتے ہیں پھر اس کی تفصیل میں جو قصے بیان کیے گئے ہیں وہ تقریباً 14 ، 15 قصے ہیں جن میں سے بعض کو تفصیل کے ساتھ اور بعض کو بہت مختصر صورت میں مفسرین اور سیرت نگاروں نے درج کیا ہے لیکن ہم ان میں سے صرف ایک کو بیان کریں گے تاکہ بات کی ذرا وضاحت ہوجائے اور ان سب میں سے جو زیادہ بہتر اور مختصر ہم کو معلوم ہوا وہ درج کریں گے۔ اس وقت اختصار کے ساتھ اسی طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت سے قبل ایک مقام پر حق و باطل کا معرکہ پیش آیا کہ ایک جانب خدا کے مومن بندے تھے جن کے پاس اگرچہ مادی قوت و طاقت نہیں تھی اور وہ اس لحاظ سے ضعیف و کمزور تھے مگر ایمان اور حق و صداقت کی قوت اور خدا کے نام پر ایثار و فدا کاری کی طاقت کے مالک تھے۔ دوسری جانب میں ایمان باللہ اور قبول حق سے محرومی تھی مگر مادی شوکت و صولت اور قاہرانہ طاقت کی فروانی تھی ۔ ان حالات میں کافر و مشرک طاقت نے مومنوں کی ایمان قوت اور قبول حق کی طاقت کو دعوت مبارزت دی کہ با وہ ایمان باللہ کو ترک کر کے شرک و کفر پر واپس آجائیں ورنہ دنیا سے فنا ہوجانے کے لیے ہوجائیں ۔ مومنین صادقین نے اس دعوت مبارزت (Challange) کو ایمانی جرأت کے ساتھ قبول کیا اور ایمان باللہ کی روشنی سے نکل کر شرک و کفر کی تاریکی میں داخل ہونے سے انکار کردیا ۔
یہ دیکھ کر کافر جماعت کی جانب سے حاکمانہ طاقت اور قاہرانہ جبروت کے ساتھ شہر کے مختلف حصوں میں خندقیں کھودی جا رہی ہیں ۔ خندقوں کے اندر آگ دہک رہی ہے ، شعلے بھڑک رہے ہیں اور زمین کا اکثر حصہ کرؤ ناربنا ہوا ہے۔ اب مومن جماعت کے غیور اور فدا کا انسان کشا کشاں لائے جا رہے ہیں ۔ وہ جگہ جگہ خندقوں کے دہانے پر کھڑے کردیئے گئے ہیں اور کفر و شرک اپنی مادی قوت کے بل پر کہہ رہا ہے کہ بامجھ کو قول کرو ورنہ بھڑکتی ہوئی آگ اور دہکتے ہوئے گڑھوں کی نذر کردیئے جائو گے ، یہ سن کر مومن جماعت کہتی ہے کہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں تمہارا آگ کا یہ عذاب ایک کھیل ہے اس لیے ایمان باللہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں بخوشی اس کو قبول کرلیتا ہے مگر شرک و کفر کو ایک لمحہ کو ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتا ، کفر و شرک کی طاقت یہ سن کر لا جواب ہوجاتی ہے مگر غیظ و غضب میں آ کر فدا کاران توحید کو زندہ نذر آتش کردیتی ہے اور اس طرح حق کو فتح و کامرانی اور باطل کو شکست و ناکامی ہوجاتی ہے کیونکہ جو دنیا والوں کی نظر میں خندقوں کے اندر دہکتی آگ میں جلا دیئے گئے ، وہ چلے اور مرے نہیں بلکہ زندہ جاوید بن کر ابدی جنت اور سرمدی بہشت سے نوازے گئے اور جو اپنی دنیوی طاقت کے گھمنڈ پر نیکو کار انسان پر بجھ جانے اور فنا جانے والی آگ دہکا رہے تھے وہ ابدی اور دائمی آگ ” جہنم “ کے مستحق قرار پائے۔ انہوں نے دنیا میں آگ کی بھٹی روشن کی اور مومنین صادقین کو اس کا ایندھن بنایا ۔ خدائے تعالیٰ نے عالم آخرت میں ایک ہولناک بھٹی ( جہنم) روشن کر رکھی ہے جس کا ایندھن کافر و مشرک ہوں گے ، جابرو ظالم ہوں گے۔ ان کی بھٹی کو بہ عجلت یا بہ دیر بجھ جانا ہے ، فنا ہو ہے لیکن خدا کی دہکائی ہوئی بھٹی کو خلود اور ہمیشگی حاصل ہے ، وہ نہ بجھے گئی اور نہ فنا ہوگی ۔ کفر و شرک نے دنیا کی طاقت پر گھمنڈ کیا مگر اس کا نتیجہ ” عذاب الحریق “ اور ” عذاب جہنم ‘ ‘ ہے اور ایمان باللہ نے خدا کی طاقت پر بھروسہ کیا تو اس کا نتیجہ ( الفوز الکبیر) اور ( جنت تجری من تحتھا الانھار) کی صورت میں ظاہر ہوا۔ (قتل) واحد مذکر غائب ماضی مجہول ، مارا گیا اور اس جگہ ماضی بمعنی مستقبل ہے یعنی مارا جائے۔ یہ بددعائیہ کلمہ ہے لیکن قرآن کریم میں یہ بد دعا کے طور پر نہیں بلکہ خبر کے طور پر بیان کیا ہے یعنی ان لوگوں کا قتل ہونا لازم کردیا گیا ہے یا یہ کہ ان لوگوں کو جنہوں نے یہ کام یا یہ فعل کیا ان کی رحمت الٰہی سے محروم کردیا گیا ہے اور یہ بات محض حکایت نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اس کردار کے لوگ رحمت الٰہی سے محروم کردیئے گئے ہیں (مفردات) اس جگہ کون لوگ مراد ہیں ؟ وہی کھائیوں والے اور خندقیں کھودنے والے کافر جن کے کفر کی داستان صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ صہیب رومی ؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گزشتہ زمانہ میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ایک جادوگر تھا۔ جب وہ بہت بوڑھا ہوگیا تو ایک روز اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں اور موت کا وقت قریب ہے اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ ایک فہیم و زیرک لڑکا میرے حوالے کردیں تاکہ میں اس کو اپنا یہ فن ( سحر) سکھا کر اپنی زندگی ہی میں کامل کر دوں ، چناچہ بادشاہ نے ایک لڑکے کو اس کے سپرد کردیا اور اس نے ساحر سے سحر کی تعلیم شروع کردی ۔ بادشاہ کا محل اور ساحر کے مکان کے درمیان ایک راہب کی کٹیا تھی ۔ ایک مرتبہ لڑکا اس راہب کے پاس چلا گیا اور اس کی باتوں اور اس کے طریقوں کو دیکھ کر بہت مسرور ہوا اور اس کے پاس آنے جانے لگا ۔ یہاں دیر ہونے لگی تو ساحر اور بادشاہ مقررہ آمدورفت میں تاخیر کرنے پر براہ فروختہ ہوئے۔ لڑکے نے راہب سے اس کی شکایت کی ۔ راہب نے کہا کہ اس معاملہ کے مخفی رکھنے کی صرف یہ صورت ہے کہ جب بادشاہ باز پرس کرے تو یہ عذر کردینا کہ ساحر کے یہاں تاخیر ہوگئی اور جب ساحر ناراض ہو تو یہ کہہ دینا کہ بادشاہ کے پاس تاخیر ہوگئی۔
غرض یہ سلسلہ عرصہ تک یوں ہی جاری رہا کہ یہ ایک مرتبہ لڑکے نے دیکھا کہ راہ میں بہت ہیبت ناک اور عظیم الجثہ درندہ لوگوں کی راہ روکے ہوئے ہے اور کسی کو یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کے سامنے سے گزر جائے ۔ لڑکے نے سوچا کہ یہ بہترین وقت ہے اس بات کا کہ میں جانچ کروں آیا کہ آیا ساحر کا مذہب سچا ہے یا راہب کا ( دین) ؟ یہ سوچ کر اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہنے لگا ” خدایا ! اگر تیرے نزدیک ساحر کے مقابلہ میں راہب کا دین سچا ہے تو میرے اس پتھر سے تو اس جانور کو ہلاک کر دے ‘ ۔ یہ کہہ کر اس نے جانور کو پتھر مارا۔ پتھر کا لگنا تھا کہ وہ وہیں ہلاک ہوگیا ۔ لڑکا چل دیا اور راہب سے جا کر سارا ماجرا کہہ سنایا ۔ راہب نے کہا صاحبزادے تم مجھ پر فضلیت لے گئے۔ مجھے ڈر ہے کہ تم آزمائش میں ڈالے جائو گے۔ دیکھو وہ وقت آئے تو میرا ذکر نہ کرنا ۔ لوگوں نے لڑکے کی اس جرأت کو دیکھ کر چرچا کیا اور کہنے لگے کہ اس کو عجیب و غریب علم آتا ہے۔ یہ سن کر اس کے پاس اندھے اور جذامی آنے لگے اور انہوں نے کہا کہ اپنے علم کے زور سے ہم کو اچھا کر اور وہ خدا کے فضل سے اچھا کردیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک درباری مصاحب نابنیا ہوگیا تھا۔ اس نے جو لڑکے کا چرچا سنا تو تحفے تحائف کا بہت بڑا سامان لے کر اس کے پاس آیا اور تحفے پیش کرتے ہوئے بینا کردینے کی درخواست کی ۔ لڑکے نے جواب دیا میں کچھ نہیں ہوں اور نہ مجھ میں یہ طاقت ہے بلکہ شافی مطلق تو خدائے واحد ہے پس اگر تو ایمان لے آئے اور اس واحد و یکتا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرے تو میں ضرور تیری سفارش کے لیے دعا کروں گا ۔ درباری سن کر خدائے واحد پر ایمان لے آیا اور مسلمان ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شفاء عطا فرمائی اور وہ بینا ہوگیا ۔ اگلے دن جب بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے نابینا کو بینا پایا ۔ تب بادشاہ نے سوال کیا کہ اپنے بینا ہونے کی حقیقت بیان کر ۔ اس نے جواب دیا میرے رب نے مجھ کو شفا بخش دی ۔ بادشاہ نے کہا تیرا رب تو میں ہوں ، میں نے تجھ کو اچھا کردیا ؟ درباری نے جواب میں کہا نہیں ، تیرے ، میرے اور کل جہان کے پروردگار نے اچھا کردیا ؟ بادشاہ نے ( غصہ میں آ کر) کہا ” کیا میرے سوا بھی کوئی تیرا رب ہے “ ؟ درباری نے کہا ، جی ہاں ! اللہ تیرا اور میرا دونوں کا رب ہے۔ تب بادشاہ نع اس کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کیا ۔ آخر اس نے لڑکے کا ماجرا کہہ سنایا ۔ بادشاہ نے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا ” بیٹا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو سحر کے ذریعہ سے اندھوں کو بینا اور مبروص اور جذامی کو شفا دیتا ہے “ ۔ لڑکے نے کہا مجھ میں یہ طاقت کہاں ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کے شفا دینے سے شفا یاب ہوتے ہیں ۔ ” بادشاہ نے کہا کیا میرے علاوہ بھی تیرا اور کوئی رب ہے ؟ “ لڑکے نے کہا وہ خدا جو واحدویکتا ہے ، تیرا اور میرا دونوں کا رب ہے۔ تب بادشاہ نے اس کو عذاب میں مبتلا کرنا شروع کردیا ۔ آخر اس نے راہب سے متعلق تمام واقعہ کہہ سنایا ۔ تب بادشاہ نے راہب کو بلایا اور اس کو مجبور کیا کہ وہ دین حق سے پھرجائے لیکن اس نے کسی طرح اس کو قبول نہیں کیا تب بادشاہ نے اس کے سر پر آرہ چلوایا اور اس طرح اس کو شہید کر ڈالا ۔ اب لڑکے سے کہا کہ تو راہب کے دین سے پھر جا ۔ لڑکے نے بھی صاف انکار کردیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو پہاڑ کی چوٹی پرلے جا کر وہاں سے گرا دو کہ پاش پاش ہوجائے۔ جب سرکاری آدمی لڑکے کو پہاڑ پر لے کر چڑھے تو لڑکے نے دعا کی ” الٰہی تو ان لوگوں کے مقابلہ میں میرے کافی ہوجا “ چناچہ اسی وقت پہاڑ زلزلہ میں آگیا اور سرکاری آدمی گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح وسالم بچ کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوگیا ۔ بادشاہ نے یہ دیکھا تو کہا کہ تیرے ساتھ والے کہاں گئے ؟ لڑکے نے کہا اللہ نے ان کے مقابلہ میں میری مدد کی ۔ تب بادشاہ نے غضب ناک ہو کر حکم دیا کہ اس کو لے جائو اور دریا میں لے جا کر غرق کر دو ۔ سرکاری آدمی جب اس کو دریا کے بیچ میں لے کر پہنچے تو لڑکے نے پھر وہی دعا کی ” خدایا ان سے مجھ کو نجات دے “۔ فوراً ہی دریا میں جوش آیا اور وہ سب غرق ہوگئے اور لڑکا پھر بچ گیا اور صحیح و تندرست بادشاہ کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔ بادشاہ نے پھر وہی سوال کیا اور لڑکے نے پھر وہی جواب دیا اور اس مرتبہ وہ کہنے لگا ” بادشاہ اس طرح تو ہرگز مجھ پر کامیابی حاصل نہیں کرسکتا البتہ جو ترکیب میں بتائوں اگر اس کو اختیار کرے تو بیشک تو مجھ کو قتل کرسکتا ہے “ بادشاہ نے لڑکے سے وہ ترکیب دریافت کی ۔ لڑکے نے کہا ” تو شہر کی تمام مخلوق کو بلند جگہ پر جمع کر ، جب سب جمع ہوجائیں تو اس وقت مجھ کو درخت پر سولی دینا اور میرے ترکش سے تیرے لے کر اور یہ پڑھ کر میرے سینہ پر مارنا بسم اللہ رب العلام اللہ کے نام پر جو اس لڑکے کا پروردگار ہے۔ تب میں مر سکتا ہوں ، بادشاہ نے لڑکے کے قول پر عمل کیا اور جب تمام شہر جمع ہوگیا تو لڑکے کو سولی پر لٹکا کر اور لڑکے کی بتائی ہو عبارت پڑھ کر اس کے تری مرا اور لڑکا تیر کھا کر جاں بحق ہوگیا ۔ مخلوق نے یہ دیکھا تو سب نے ایک دم بآواز بلند نعرہ لگایا : امنا برب العلام امنا برب الغلام ہم لڑکے کے پروردگار پر ایمان لائے۔ اور سب مسلمان ہوگئے۔ درباری کہنے لگے ” بادشاہ جس بات کا تجھ کو خوف تھا آخر وہی ہو کر رہی اور یہ تمام رعایا مسلمان ہوگئی ۔ بادشاہ یہ دیکھ کر آپے سے باہرہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ شہر کے ہر ایک محلہ اور گلی کو چہ میں خندقیں کھودو اور ان میں خوب آگ دھکائو اور پھر ہر محلہ کے لوگوں کو جمع کرو اور ان سے کہو کہ وہ اس دین سے باز آجائیں ۔ جو باز آجائے اس کو چھوڑ دو اور جو انکار کرتا جائے اس کو دھکتی آگ میں ڈالتے جائو ۔ لوگ جوق در جوق جمع ہوتے تھے اور دین حق سے باز نہ رہنے کا اقرار کرتے اور دھکتی آگ میں بخوشی ڈالے جاتے تھے اور اس جاں گسل اور ہولناک نظارہ کو بادشاہ اور اس کے مصاحسین مسرت کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ یہ واقعہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس لیے اس سے مفید سبق سیکھا جاسکتا ہے ، موضوع بحث نہیں بنایا جاسکتا ۔
Ayah 85:5جن میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی
5 ؎ مطلب یہ ہے کہ ( اصحب الاخدود) نے جو کھائیاں کھدوائی تھیں ان میں خوب ایندھن ڈال کر اس کو جلایا گیا ۔ یہ گویا ان کی ترکیب تھی اس مقصد کے لے اہل ایمان کو ڈرایا جائے کہ وہ اس جلتی ہوئی آگ کے الائو کو دیکھ کر ڈر جائیں اور اپنے مؤقف سے باز آجائیں ۔ عین ممکن ہے کہ ان کے خیال میں یہ تجویز کارگر ہونے کے امکانات ہوں لیکن اس معاملہ میں حکومت کے اعوان و انصار بری طرح ناکام ہوئے جب کہ لوگوں نے بخوشی اس عذاب کو قبول کرلیا کہ آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں اس آگ کی کچھ حیثیت نہیں ہے۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق بھی موجود ہے کہ مصلحت اندیشانہ اسلام کہ جس طرح کی سوسائٹی (Society) دیکھی فوراً ڈھل کر ویسے ہی ہوگئے یہ اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ یہ منافقت ہے جو کفر سے بھی بری چیز ہے اور یہ سبق بھی ہم کو ملتا ہے کہ ہمارے مفتیوں نے جو یہ فتویٰ معروف کردیا ہے کہ جب کوئی شخص کفر پر مجبور کیا جائے تو وہ جان بچانے کے لیے اس کو قبول کرلے کہ جان بچانا فرض ہے یہ سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ اسلام نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی بلکہ اس نے جہاں جان پر بن جائے ، ایک طرف اسلام ہو اور دوسری طرف جان تو جان لڑانے ، جان دے دینے ہی کو اسلام کی تعلیم بتایا ہے ، جان بچانے کی کبھی تلقین نہیں کی بلکہ یہ فرمایا ہے کہ جان بچانے والے ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں کیونکہ کبھی بھی کوئی جان بچانے والا اپنی جان کو بچا نہیں سکا اور نہ ہی بچا سکے گا ۔
Ayah 85:6جب وہ اس آگ پر بیٹھے دیکھ رہے تھے
6 ؎ معلوم ہوا کہ انہوں نے مختلف جگہوں پر کھائیاں کھدوانے میں یہ مصلحت بھی پیش نظر رکھی ہوگی کہ بعض اوقات ایک دوسرے کو دیکھ کر انسان اپنی جان پر کھیلنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور اس طرح جذبات زیادہ بھڑک اٹھتے ہیں لہٰذا مختلف جگہوں پر ان کھائیوں کو کھودا گیا تاکہ آگ میں گرائے جانے والے جذبات میں آ کر دوسرے کو دیکھ کر جذبات کے تحت گرناقبول نہ کرلیں ان کو الگ الگ رکھا جائے تو شاید وہ عین موقعہ پر جا کر ہی خوف کھا جائیں اور ان کھائیوں میں گرنے سے باز آجائیں۔ مصلحت اندیش وہمیشہ مصلحت اندیشی کے تحت کام کرتا ہے اور محبت کے تقاضوں نے اس مصلحت کو ہمیشہ منافقت قرار دیا ہے اور لاریب یہ بات حقیقت بھی ہے اور عزت و آبرو دونوں کی حفاظت انسان کرتا ہے اور کرنی بھی چاہیے لیکن جس طرح مال و دولت اور عزت و آبرو کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح دین و ملت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ اب تینوں چیزوں کا اپنا اپنا مقام ہے۔ مال و دولت کی جائز حفاظت کرتے ہوئے اگر انسان کی جان بھی چلی جائے تو ممکن ہے لیکن اس کو شجاعت کا نام دیا جاتا ہے تا ہم بعض اوقات مال و دولت کی پروا نہ کرنا بھی شجاعت و بہادری میں داخل ہوتا ہے اور بعض کو شجاعت کا نام دیا جاتا ہے تا ہم بعض اوقات مال و دولت کی پروانہ کرنا بھی شجاعت و بہادری میں داخل ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ عزت و آبرو اور اپنی دولت دونوں میں مقابلہ ہوجاتا ہے اور ایسے حالات میں جو شخص عزت و آبرو کی پروا نہ کرتے ہوئے دین و مذہب کو بچاتا ہے وہ شجاع و بہادر کہلاتا ہے اور اس کے برعکس کرنے والابزدل ، نکما اور منافق قرار دیا جاتا ہے۔ کفار نے جب مختلف کھائیوں پر اپنے لوگ نگران مقرر کیے اور مختلف جگہوں پر ان ایمان والوں کو ان میں گرانے کا پروگرام بنایا تو کسی ایک مومن نے بھی آگ سے ڈر کر جان بچانے کو اہمتو نہ دی بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے سارے کے سارے اس امتحان سے کامیاب نکلے اور آگ کے نگران دیکھتے کے دیکھتے رہے گئے۔
Ayah 85:7جو کچھ وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے ان کے دل سمجھتے تھے
7 ؎ دنیا میں بڑے بڑے ظالم آئے ، آپ نے کتنے ظالموں کی داستانیں پڑھی ہوں گی لیکن کسی ظالم نے کبھی اپنے ظلم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں ظلم کررہا ہوں ؟ یہی کہا کہ میں نے ظلم کبھی نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ظلم کرنے والوں نے مظلوموں کو ظالم قرار دیا اگر قبول وہ کرتے ہیں تو یہ کہ ہم تو صرف ظالموں کو ان کے ظلم کا بدلہ چکا رہے ہیں ۔ فرعون بنی اسرائیل کے بچے مروانے کا کتنی بار پروگرام بنایا ، کیا اس نے کبھی تسلیم کیا کہ میں بنی اسرائیل پر یہ ظلم کر رہا ہوں ؟ ہرگز نہیں بلکہ اس نے ہمیشہ کہا تو صرف یہ کہا میں بنی اسرائیل کی اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں۔ اچھا یہ تو گزشتہ لوگوں کے حالات ہیں اس وقت دنیا میں مظالم نہیں ہو رہے اور خصوصاً اس ملک عزیز میں ظلم نہیں ڈھائے جا رہے ؟ پھر کبھی ان موجودہ ظالموں میں سے کسی ظالم نے اپنے ظالم کو تسلیم کیا ہو ؟ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کرو کہ اس وقت ہمارے اس ملک میں جتنے و ڈیرے ہیں خواہ مذہبی و ڈیرے ہیں یا سیاسی و ڈیرے ہیں ، ظالم نہیں ہیں ؟ وہ جس طرح قوم پر ظلم کر رہے ہیں کسی سے کوئی بات پوشیدہ ہے ؟ پھر کسی نے آج تک اپنے ظلم کا اعتراف کیا ہو کہ ہاں مجھ سے یہ ظلم ہوا یا میں ظالم ہوں اور ظلم کرنا چاہتا ہوں ۔ ہم تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ظالم ہیں اور ہر ایک چیخ رہا ہے کہ میرے ساتھ بہت ظلم ہو رہا ہے اور آج بھی وہ مثل ان لوگوں پر صادق آرہی ہے کہ ” چور بھی کہے چور چور “ بلا استثناء سارے چور ہیں جو وقت کا چور ہوتا ہے وہ ہمیشہ یہی شور لگاتا ہے جساہ کہ مثل میں کہا گیا ہے۔
زیر نظر آیت میں ان ظالموں کا ذکر ہے جو اپنے وقت میں مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے کہ انہوں نے جب باقاعدہ ایک پروگرام کے مطابق خندقیں کھدوائیں ، پروگرام کے مطابق ان خندقوں پر اپنے نگران مقرر کیے اور اس طرح جو ان غریب مسلمانوں پر انہوں نے ظلم ڈھانے کا پروگرام بنایا کیا انہوں نے مان لیا تھا کہ ہم ظالم ہیں اور اپنی ہی قوم کے لوگوں پر ظلم کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے یہ پروگرام بنایا ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو یہ سمجھنے تھے کہ یہ سارے تخریب کار ہیں اور ہم ان کو ان کی تخریب کاری کی سزا دینا چاہتے ہیں اور وہ بھی ہم اندھا دھند نہیں دے رہے بلکہ ایک خاص طریقہ سے ان کو باور کرا رہے ہیں کہ وہ اپنی تخریب کاری سے باز آجائیں اور اگر وہ باز آجائیں تو ہم ان کا خیر مقدم کریں گے بلکہ ان کی پذیرائی کرتے ہوئے ان کو انعام و اکرام سے بھی نوازیں گے وہ اپنی بدل لیں اور اپنے سرغنوں سے الگ ہوجائیں تو ہمارے دلوں میں آج بھی ان کے لیے نرم گوشہ موجود ہے ۔ لیکن جب یہ تخریب کار اپنی تخریب سے باز ہی نہ آئیں تو ہم مجبور ہیں ہم کیا کرسکتے ہیں ؟ بلا شبہ وہ ظلم تھے اور ظلم کر رہے تھے لیکن جس وقت وہ یہ سب کچھ کر رہے تھے اس وقت وہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یہ ثابت بھی کر رہے تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں محض ہماری مجبوری ہے ۔ وہ تو ایک قوم کے لوگ تھے جو کسی ایک بستی میں ایسا کر رہ تھے لیکن آج کے ظالم تو پوری دنیا میں ظلم کا جال بچھا چکے ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک ظلم ڈھا رہے ہیں اور پھر ان کو کوئی ظالم نہیں کہتا ، کیوں ؟ اس لے کہ ان کے ظلم کا طریقہ ہی ایسا ہے کہ ان کو ظالم نہ کہا جائے بلکہ مظلوموں کے خیر خواہ کہا جائے اگر آپ غور کریں گے تو آج دنیا میں جو ادارہ اقوام متحدہ (United Nations) کے نام سے قائم کیا گیا ہے وہ یہی کردار ادا کررہا ہے اور اس کے جتنے ضمنی ادارے ہیں ایک سے بڑھ کر ایک ظلم ڈھا رہے ہیں اور سب لوگ ان کو مظلوموں کے نگہبان کہتے ہیں حالانکہ وہ ظالم ہیں اور اپنے سے چھوٹے ظالموں کے نگہبان ہیں تاکہ وہ ظلم میں کوئی کوتاہی نہ کریں اور چند ملکوں کو چھوڑ کر جو ان کے برابر کے ہیں باقی سب ملکوں کے مقامی ڈیرے ان کے نمائندے ہیں جن کے ذریعہ وہ قوموں پر ظلم روا رکھتے ہیں ۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے ہم اس ادارے کے ضمنی اداروں سے پوری نہیں تو کسی حد تک ضرور واقفیت رکھتے ہیں اور خصوصاً بڑے سات اداروں سے اور ان میں سے ایک ایک ادارہ جس طرح پوری دنیا میں ظلم و ستم کر رہا ہے اور ان کے مظالم کی خندقوں پر جس طرح ان کے نمائندے بیٹھ کر ان کے مظالم کی نگرانی کر رہے ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ ہاں ! فرق ہے تو یہ کہ اس وقت کے مسلمان ان کی کھودی ہوئی خندقوں میں جینے مرنے کے لے تیار تھے اس لیے وہ جل کر اور مر کر زندہ ہوگئے اور آج کل کے مسلمانوں کے نمائندے جل کر اور مر زندہ ہونے کی بجائے اس پہلی زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے کہنے پر سر تسلیم خم کر رہے ہیں۔
Ayah 85:8وہ ان سے بدلہ لے رہے تھے کہ وہ ایک اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے
8 ؎ فرمایا خندقیں کھودنے والوں نے مسلمانوں سے کس بات کا انتقام لیا ؟ اس بات کا کہ وہ ایک اللہ پر جو سب پر غالب اور صحیح معنوں میں تعریف کیا گیا ہے اس پر سچے دل سے کیوں ایمان لائے اور قوم کے وڈیروں کی خدائی کا کیوں انکار کیا ؟ زیر نظر آیت میں ان پاکبازوں کا جرم بتایا جا رہا ہے کہ وہ کیا جرم تھا جس کی ان کو اس طرح سزا دی گئی ؟ فرمایا ان کا جرم یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آئے تھے۔ اس کے احکام کی تعمیل کرتے تھے ، بےجان مجسموں یا اپنے فرعون صفت حکمرانوں کو خدا ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، وہ ایک اللہ کو اپنا خالق ومالک اور پروردگار سمجھتے تھے لیکن آج ان ظالموں کے ظلم کی تاب نہ لا کر مسلمان ان کو اپنا محافظ و نگہبان اور پرورش کندہ سمجھنے ہیں اور ان کی پناہ میں آنے کو امن و سلامتی میں آنے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہ ان کی عیاریوں اور مکاریوں کے جال میں اس طرح پھنس کر رہ گئے ہیں کہ کسی کے سمجھانے سے بھی نہیں سمجھ سکتے ، کیوں ؟ اس لیے کہ ان کا طریقہ کار ان سے زیادہ پیچیدہ اور ان کا مکر ان کے مکر سے زیادہ سنجیدہ ہے۔
Ayah 85:9جس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر ہے اور اللہ ہرچیز سے خوب واقف ہے
9 ؎ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو دیکھنے والا ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ( شیء) چیز ، کچھ ہے۔ لفظ (شیء) اپنے مفہوم لغوی کے اعتبار سے ہر اس چیز کے لیے آتا ہے کہ جس کو معلوم کیا جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے خواہ وہ کچھ بھی ہو ۔ یہ اصل میں شاء کا مصدر ہے جو ایک مفہوم کے لیے بولاجاتا ہے اور اس مفہوم میں صرف اسی پر اکتفا کیا گیا ہے کہ اس سے مشیئۃ کے تعلق کا اعتبار ہو خواہ علم کی حیثیت سے ، خواہ خبر دینے کی حیثیت سے۔ ( ابو المسعود) لفظ شئی عم العام ہے جس طرح اللہ تعالٰ اخبص الخاص ہے ۔ یہ جوہر و عرض قدیم و حادث بلکہ محال و معدوم تک کے لیے آتا ہے۔ ( الروض الانف ج 2 ص 151 طبع مبصر 1333 ھ) ( شھید) گواہ ، شاہد ، نگران ، احوال کہنے والا ، اقرار کرنے والا ، امام راغب کہتے ہیں کہ شہید شاہد کو بھی کا 3 جاتا ہے اور کسی چیز کے مشاہدہ کرنے والے کو بھی ۔ علامہ ابن الاثیر جزری رقمطراز ہیں کہ ” حق تعالیٰ کے اسماء میں ( شھید) وہ ذات ہے جس کے علم سے کوئی چیز غائب نہ ہو اور شاہد کے معنی حاضر کے ہیں ۔ فعیل فاعل کے معنی میں مبالغہ کے اوزان میں سے ہے جب مطلق علم کا اعتبار ہو تو اللہ تعالیٰ ( علیم) ہے اور امور باطنہ کا خیال کیا جائے تو ( خبیر) ہے اور امور ظاہرہ کی طرف نسبت ہو تو ( شھید) ہے اور کبھی اس معنی کے ساتھ یہ بھی ملحوظ ہوتا ہے کہ وہ قیامت میں خلق پر گواہ ہے۔ ( نہایہ باب الاثیر) اور عرف شرع میں ( شھد) وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا گیا ہے۔ زیر نظر آیت میں ( شھید) اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام کے طور پر استعمال ہوا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی وہ ذات والا صفات ہے جس کی حکمرانی کا ملکہ آسمانوں اور زمین میں چل رہا ہے ، کائنات اراضی و سماوی میں کوئی پتہ ، کوئی ذرہ اسکے حکم کے بغیر جنبش نہیں کرسکتا ، بلندیوں اور پستیوں میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کا اسے علم نہ ہو ۔ وہ ظالموں کے ظلم کو بھی دیکھ رہا ہے اور مظلوموں کے ظلم سہنے کا سارا حال بھی اس کے سامنے ہے اور دونوں کو ان کے کردار دینے پر بھی وہ قادر ہے اور اس میں جو حکمت پوشیدہ ہے اس سے بھی وہ اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 85:10بلا شبہ جن لوگوں نے مومن مرد اور عورتوں کو اذیت پہنچائی ہے وہ دوزخ کا ایندھن ہیں
10 ؎ معلوم ہوا کہ اس آزمائش میں جس طرح مرد مبتلا کیے گئے تھے عورتیں بھی ان کے ساتھ اس ظلم کا نشانہ بنائی گئی تھیں اس لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو اس آزمائش میں مبتلا کیا یعنی کھائیوں پر لا کھڑا کیا اور پھر ان کے مؤقف چھوڑنے رہنے کے نتیجہ میں جس طرح ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد بھی ان کو اس بات کا احساس نہ ہوا اور نہ ہی انہوں نے توبہ کی ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیارکھڑا ہے جو ان کے انتظار میں ہے وہ یہ نہیں سمجھیں کہ ان کی یہ خود سری گوارا کرلی جائے گی اور قانون قدرت ان کے معاملہ میں بےاثر ہو کر رہ جائے گا ۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا بلکہ درد ناک سزا ملے گی اور زندہ جل جانے پر جس طرح انہوں نے اللہ کے نیک بندوں کو مجبور کیا اس کے بدلے میں ان کو جلانے کا عذاب بھی دیا جائے گا اور وہ عذاب ایسا ہوگا کہ جلنے کے باوجود ان کی جان نہیں نکلے گی اور ان کو درست کرنے کے بعد دوبارہ اور سہ بارہ بھون کر رکھ دیا جائے گا اور ہر بار نئے سے نئے عذاب میں وہ مبتلا کیے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ ان کی خندقوں کی آگ نے ان کا وہ کچھ نہیں بگاڑا ہوگا جو ان کے دوزخ کی آگ بگاڑ دے گی کیونکہ اس جگہ تو وہ زیادہ دیر نہیں جلیں ہوں گے ، دو منٹ نہیں تو چار منٹ میں ان کی جان نکل گئی ہوگی لیکن جہاں جا کر مرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس عذاب کی نوعیت تو لاریب بہت ہی زبردست ہوگی جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؎
اب تو گھیرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
Ayah 85:11جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ان کے لیے آخرت میں باغات ہیں
11 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی حکمتوں کو وہی سمجھ سکتا ہے کسی دوسرے کی سمجھ میں آنے والی یہ باتیں نہیں ہیں کہ ظالموں کو اس قدر ظلم کرنے کی جو اجازت دی جاتی ہے اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے اور کس حکمت کے تحت وہ ظلم پر ظلم کرتے جاتے ہیں لیکن ان پر مواخذہ نہیں ج ہوتا اور دوسری طرف مظلوموں کی اس حالت زار کو دیکھ کر کیونکر یہ برداشت کرلیا جاتا ہے اس میں جو حکمت پوشیدہ ہے اس کو کوئی نہیں جانتا اور اگر کوئی کچھ جانتا ہے تو وہ یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک آزمائش ہے اور امتحان ہے اور اس آزمائش اور امتحان سے کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہونے والوں کے لیے وہ انعامات رکھے گئے ہیں جو ان کو جنت میں داخل کرنے کے بعد دیئے جائیں گے اور زندگی کی کامیابی کے لیے یہ سب کچھ نہایت ضروری ہے اگر یہ کچھ نہ ہوتا تو یہ دنیا آخرامتحان گاہ کیوں ہوتی اگر یہ دنیا امتحان گاہ ہے تو وہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اس طرح امتحان کرے اور اس امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو انعامات دیئے جائیں اور ان لوگوں کو جو دنیا میں انعامات دنیوی میں مبتلا ہو کر اخرو زندگی بھرول بیٹھے تھے ان کو عذاب میں مبتلا کر کے اور سزا دے کر اپنی قدرت و جبروت کا سکہ منوایا جائے اور ان کو اس دنیوی زندگی میں فیل ہونے کے باعث اس عذاب میں مبتلا کیا جائے جس عذاب میں مبتلا ہو کر وہ جان سے بیزار ہوجائے اور پھر وہ جان اس کا پیچھا نہ چھوڑے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مرنا چاہے لیکن مر نہ سکے ۔ اس کے برعکس وہ لوگ باغات میں رکھے جائیں اور جنت میں وہ وہ انعامات ان کو دیئے جائیں جن میں رہ کر وہ اپنی کامیابی پر خوش ہوں اور دنیا کے غم ان کو یاد ہی نہ رہیں کہ کبھی ہم گرفتار عذاب بھی تھے اور یہ بھی کہ دکھ کے بعد جو سکھ نصیب ہوتا ہے وہ سکھ کو دوبالا نہیں بلکہ بہت ہی بالا کردیتا ہے جس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو کسی دکھ میں مبتلا رہ کر سکھ کو حاصل کرے اور یہ بھی کہ اگر دکھ نام کی کوئی شے دنیا میں موجود نہ ہوتی تو سکھ کے نام سے بھی کوئی واقف نہ ہوتا اور اگر دوزخ نہ ہوتی تو جنت کا کوئی لطف کوئی نہ رہتا ۔ انسان کی پوری زندگی مجموعہ ٔ اضداد ہے اور زندگی کا ہر لطف اس کی ضد کے باعث ہے۔
Ayah 85:12بلا شبہ تیرے رب کی گرفت بہت ہی سخت ہے
12 ؎ فرمایا تیرے رب کی حکمت کو وہی جانتا ہے اس لیے ان لوگوں کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ ان ظالموں کو فوراً نہیں پکڑ رہا اور وہ ظلم ڈھاتے چلے جا رہے ہیں تو اس کی وجہ اس کی کوئی کمزوری ہے ، ہرگز نہیں وہ کمزوری کے باعث نہیں بلکہ آزمائش کے باعث اور ان کو ڈھیل دی جانے کے باعث خاموش ہے کہ اس کے قانون میں جو ڈھیل دی جا چکی ہے اس کو وہ کیش سے واپس نہیں لینا چاہتا اور نہ ہی وہ ایسا کرتا ہے ۔ وہ اپنے قانون کا خود احترام کرتا ہے اور جب ان کو دی گئی ڈھیل کا وقت ختم ہوجاتا ہے تو اس کی پکڑ آجاتی ہے اور پھر آپ کوئی مثال اس کی نہیں پیش کرسکتے کہ اس نے کسی کو پکڑا ہو اور پھر وہ اس کی پکڑ سے خود بخود چھوٹ گیا ہو یا کسی نے آگے بڑھ کر اس کا چھیڑ والیا ہو ، ہاں ! اس کا قانون مکافات دیر تک حرکت میں نہ آئے تاکہ ظلم کرنے والے ظلم کو کر کر کے تھک جائیں اور مظلوموں کی برداشت کو وہ تھکا نہ سکیں تو یہ مظلوموں کو انعامات سے دو چار کرنے کے لیے ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ انعامات الٰہی کے مستحق ٹھہریں اور مثل ہے کہ میٹھا اتنا ہی ہوگا جتنا کہ گڑ ڈالیں گے۔
Ayah 85:13بلا شبہ وہ پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا ہے اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا
13 ؎ جو تسلیم نہیں کرتے وہ نہ کریں اور اس کا انجام وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ حقیقت اپی جگہ حقیقت ہی ہے اس کو کوئی نہیں بدل سکتا اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہے مع انسان کے سب کو وہی پیدا کرنے والا ہے اور جب یہ بات حق ہے کہ پیدا کرنے والا وہی ہے تو یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ جو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے وہی دوسری بار بھی پیدا کرنے والا ہے اور اگر تم اس کے پہلی بار پیدا کرنے کو ماننے اور تسلیم کرتے ہو تو دوسری بار پیدا کرنے سے کیونکر انکار کرسکتے ہو ؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ پہلی بار پیدا کر کے اتنا تھک چکا ہے کہ اب دوسری بار پیدا کرنے کی اس میں ہمت نہیں رہی ؟ اگر ایسی بات نیں اور یقینا نہیں تو پھر اس کے دوبارہ زندہ کرنے کے پروگرام کو بھی مان لو اور تسلیم کرلو ، پھر یہ بھی کہ اگر تم اس نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے یا نہیں کرنا چاہیے تو تمہارے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے جب کہ حقیقت میں چاہنے والا چاہ رہا ہو۔
Ayah 85:14وہ بڑا ہی بخشنے والا ، بہت ہی محبت کرنے والا ہے
14 ؎ وہ رب ذوالجلال والاکرام ہے ، اس کی مغفرت کا دامن بڑا ہی وسیع ہے اور بلا شبہ اس کو اپنے فرمانبردار بندوں سے بڑی محبت ہے اور اس کے پیار کا کوئی حد و حساب نہیں ہے ، اس کی غیرت ان عذاب پہنچانے والوں کو اچھی طرح جانتی اور پہچانتی ہے ان کو زیادہ دیر وہ مہلت نہیں دے گی ۔ اس کی بےپایاں محبت کا کون اندازہ کرسکتا ہے جو وہ اپنے نیک بندوں سے رکھتا ہے جب وہ اپنے بد کار بندوں سے اتنی دیر در گزر فرماتا ہے اور یہ بھی اس کی محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ وہ الودود ہے اور اپنے بندوں سے محبت کرنے میں اور ثواب دینے میں کوئی اس کا ثانی نہیں ہے۔ وہ اپنی صفات میں یکتا و بےتنہا ہے۔
Ayah 85:15وہ عرش کا مالک اور اونچی شان والا ہے
15 ؎ (ذوالعرش المجید) وہ تخت کا مالک ہے ، وہ بڑی شان والا ہے (رفیع الدرجات ذوالعرش) ” درجنوں کا بلند کرنے والا ، تخت کا مالک “ یہ اور اس طرح کی جو آیات کریمات بیان ہوئی ہیں ان کے متعلق کہا گا ہے کہ یہ حق تعالیٰ شانہ کی سلطنت و مملکت کی طرف اشارہ ہے اور ان میں اس کے مستقر کا بیان نہیں ہے کیونکہ اس کی ذات عالی اس سے بالا تر ہے کہ وہ کسی ایک جگہ قرار پائے اور کسی مقام پر وہ ٹھہیر اس سے وہ پاک ہے کہ اس کو کسی عرش پر مقید کیا جائے۔ بات بالکل صاف ہے کہ اس سے مراد قدرت خداوندی کی وسعت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات پر اس کی بادشاہی ہے اور وہی حاکم اعلیٰ ہے ، اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کائنات کا بنانے والا اس کا نظام چلانے والا ہو ( لہ الملک ولہ الحمد)
Ayah 85:16جس بات کا ارادہ کرے اس کو کر کے رہتا ہے
16 ؎ اس کائنات میں جو جو قوانین اس نے بنائے ہیں اپنی مرضی اور رضا سے بنائے ہیں کسی دبائو کے تحت نہیں بنائے اور نہ ہی کسی کے مشورہ سے اس نے بنائے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کوئی بات اس کے قانون کے خلاف نہیں ہوتی جو اس نے چاہا وہ کیا اور جو چاہتا ہے کرتا ہے لکن اس کے چاہنے اور کرنے میں کبھی اس کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف نہیں ہوا کیونکہ نہ تو وہ خلاف کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آج وہ سورج طلوع نہ کرے یا وقت سے 10 منٹ پہلے طلوع کر دے اور اس پر اس کے قانون کی گرفت نہ ہو کہ اس نے چاہا وہ کردیا کبھی کچھ اور کبھی کچھ اور کبھی کچھ اس کی چاہت ایک امر کر مطابق ہے اور اس کا امر اس کی چاہت کے خلاف اور اس کی چاہت امر کے خلاف ہو نہ کبھی ہو اور نہ آئندہ کبھی ہوگا ۔ بلکہ جو طریقہ اس نے بنایا ہے وہ اسی کے مطابق کرتا آتا ہے اور کر رہا ہے اور کرتا رہے گا ۔ اس کے خلاف نہ ممکن ہے ، نہ ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا ۔ بلا شبہ وہ خود مختار ہے لیکن جو کچھ اس نے کیا ہے وہ بھی تو خود مختاری ہی کے باعث کیا ہے اور وہ ایسا نہیں ہے کہ اپنے اختیار کو موم کی ناک کی طرح ادھر سے ادھر سے ادھر کرتا رہے بلکہ وہ جو کرتا ہے ایک ہی بار کردیتا ہے اور اس کی مرضی کے خلاف ممکن نہیں ہے۔
Ayah 85:17کیا آپ کو ان لشکروں کی خبر نہیں پہنچی
17 ؎ اوپر جو دلائل نہ ذکر کیے گئے ہیں ان کی تصدیق کے لیے گزشتہ قوموں کے تذکار کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ گزشتہ قوموں میں اپنے اپنے دور کے لحاظ سے بڑا بڑا زور تھا اور اس دور کی وہ بڑی صاحب طاقت قومیں تھیں ، کیا آپ ﷺ کے پاس ان قوموں کی خبریں نہیں پہنچیں ، تم نے نہیں سنا کہ وہ کتنے صاحب سطوت لوگ تھے اور ان کے لائو لشکر کا کیا حال تھا ؟ لیکن جب ان کے مٹنے کا وقت آیا تو ان کی طاقت و قوت ، ان کی حکومت و سطوت ، ان کا مال و دولت ، ان کی عزت و جاہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی بساط کو الٹ دیا گیا اور پھر جب رب کریم کی پکڑ کا وقت آیا تو ان کی جمعیت ان کے کچھ کام نہ آئی۔
Ayah 85:18فرعون اور ثمود کے لشکروں کی خبر نہیں پہنچی
18 ؎ فرعون مصر بھی ان ظالموں اور صاحب طاقت و قوت لوگوں میں سے ایک تھا اور اس کی خدائی کا ڈنکا مصر اور اس کے مضافات میں بجتا تھا اور قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کو میخوں والا کہہ کر پکارا اور یاد کیا ہے اور اس طرح اپنے زمانہ کی قوم ثمود بھی بڑی ہیکڑ قوم تھی ۔ وہ قوم عاد کے جانشین ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنی آبادی قوم کو بیوقوف سمجھا کیونکہ انہوں نے پہاڑوں کے درمیان جہاں کہیں بھی ہموار میدان ان کو نظر آئے تو بڑے بڑے محلات کھڑے کردیئے ، وہ عمارتوں کے شوقین بھی تھے اور ماہر بھی لیکن قدرت کا کام دیکھیں کہ جوں ہی زلہل آیا تو ان کی بنائی ہوئی بڑی بڑی بلڈنگیں زمین بوس ہوگئیں لیکن جب ثمود کی باری آئی تو انہوں نے اپنے آبائو اجداد کے خلاف پہاڑ کھود کر پہاڑوں کے اندر دور تک بڑے بڑے محلات بنانا اور تیار کرنا شروع کردیئے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے آبائو اجداد کو یہ غلطی لگی کہ انہوں نے پہاڑوں کے درمیان بڑے بڑے محلات تیار کیے اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کے گھر کبھی منہدم نہ ہوتے اس لیے انہوں نے پہاڑوں کو کھود کر ان کے اندر بڑے بڑے محلات بنانا شروع کردیئے لیکن جونہی ان کی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو ان کے علاقے کے آتش فشاں پھٹے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ وہاں پہاڑ ہی ٹک سکے اور نہ ان کے محلات محفوظ رہ سکے اور اس طرح اس قوم کی عقل و فکر بھی اس کے کچھ کام نہ آئی اور ان کی ساری سکیمیں بھی دھری کی دھری رہ گئیں اور اللہ تعالیٰ کا امرغالب آ کر رہا ۔
Ayah 85:19بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کا کام ہی جھٹلانا ہے
19 ؎ قوم قریش کے کفار ہوں یا ان سے پہلے ساری قوموں میں سے کوئی ایک قوم ہو دراصل بات تو یہ ہے کہ کافروں کا کام ہی کیا ہے ؟ یہی کہ وہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو جھٹلائیں پھر یہ کام انہوں نے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اس لیے ہر قوم کو کفار نے رسولوں اور نبیوں کو جھٹلایا اور اسی باعث وہ کافر کہلائے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے کفار اسی باعث کفار تھے کہ انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور اس تکذیب کے باعث وہ عذالت الٰہی کے مستحق ٹھہرے ، نتیجہ کیا رہا ؟ یہی کہ ان کو اس صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا گزشتہ قوموں کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کو کوئی بیر تھا اور ان لوگوں سے بہت پیار ہے کہ ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی تکذیب کے باعث عذاب کی زد میں آئے اور یہ لوگ بھی تکذیب کے باعث مٹا دیئے جائیں گے اور جب ان کی ڈھیل کا وقت گزرا تو ان کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا ۔ نہ گزشتہ لوگوں کی طاقت و سطوت ان کے کام آئی اور نہ ان کی طاقت و سطوت ان کے کام آئے گی ۔ یہ صرف فرعون اور ثمود کی قوم ہی کا قصہ نہیں ہے بلکہ جب سے انسانیت نے اس دنیا میں قدم رکھا یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے۔
Ayah 85:20اور اللہ تعالیٰ ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے
20 ؎ کوئی قوم ہو اور کین علاقہ میں رہتی ہو ، کہاں ہو اور کیسی ہو آخر رب ذوالجلال والاکرام کے قبضہ قدرت سے تو وہ باہر نہیں ہے لیکن پوری کائنات کے اندر بادشاہی صرف اور صرف اسی رب کریم کی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا گھیرے ہوئے ہونا ہے اور جب یہ بات طے ہے کہ وہ سب کے سب اللہ رب کریم کے قبضہ میں ہیں اور وہ چاروں طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے پھر آخر وہ بھاگ کر جائیں گے تو کہاں جائیں گے اور یہ غلط فہمی ان کو کیسے لگ گئی ہے کہ وہ خواہ جس طرح بھی جھٹلاتے رہیں ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ اگر یہ لوگ اللہ کی زمین کو بےگناہوں کے خون سے رنگین بنا چکے ہیں تو ان کا بھی عنقریب نام و نشان مٹنے والا ہے بس اس ڈھیل کا انتظار کریں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو دی جا چکی ہے جونہی اس کا وقت ختم ہوا تو سمجھو کہ وہ دھر لیے گئے اس کی تفصیل دیکھنا ہو تو سورة الرحمن کی آیت 33 کی تفسیر دیکھیں ، سورة الرحمن جلد ہشتم میں ملے گی۔
Ayah 85:21بلکہ یہ قرآن کریم تو بڑی ہی عظمت والا ہے
21 ؎ جو دلائل تم کو دیئے گئے ہیں تم ایک ایک کو نگاہ میں رکھ کر ان پر غور و فکر کرو اس لیے یہ حقائق قرآن کریم کے بیان کردہ ہیں اور یاد رکھو کہ قرآن کریم نے جو باتیں اور جو قصے بھی بیان کیے ہیں محض لوگوں کی دل لگی کے لیے نہیں بیان کیے بلکہ ان کے اندر نصیحت و مؤعظت کے سبق موجود ہیں ۔ اگر تم ان کو حرز جان بنائو اور قرآن کریم کی مثالی راہ حیات پر چلنے لگو تو تم بہت جلد منزل تک پہنچ جائو اور تم کو راستہ میں پھسلنے اور بھٹک جانے کا کسی بھی خطرہ لاحق نہ ہو ۔ تم اس کو کیا سمجھو یہ نہایت عظمت والی اور اونچی شان والی کتاب ہے۔ اس کے اندر جو کچھ بیان ہوا ہے سب کا سب حق ہے ، پھر حق ہے تو سچ ہے اور سچ ہمیشہ شک و شبہ سے پاک ہوتا ہے کیونکہ سچ اور شک کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے بلکہ حق اور سچ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ ( مجید) صفت مشبہ نکرہ ، بزرگ ، اصل لغت میں مجد کا معنی وسعت کثرت ہے مجدت الا بل وسیع اور بڑے سبزہ زار میں اونٹ پہنچ گئے ، چناچہ عرب کہتے ہیں کہ :
فی کل شجر نار واستمجد المرح والعقار
ہر درخت میں آگ ہے لیکن مرخ اور عقارسب سے بڑھ چڑھ کر ہیں ۔ عرف عام میں وسعت کرم اور رفعت عزت کا معنی ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ وسیع الفضل ہے ، کیثر الخیر ہے ، سب سے بڑھ کر بزرگ ہے ، رقیع الشان ہے اسی لیے ( مجید) ہے ۔ قرآن کریم تمام مکارم دنیویہ و اخرویہ کو حاوی ہے ، تعبیر اور بیان میں یگانہ ہے ، اچھوتے اسلوب کا حامل ہے اسی لیے ( مجید ) ہے۔
Ayah 85:22جو لوح محفوظ میں بھی محفوظ ہے
22 ؎ ( لوح) مفرد ۔ الواح جمع ہے کشتی کا تختہ ۔ ہر تختہ۔ لکھنے کی جوڑی تختی خواہ وہ کسی چیز کی ہو ۔ لوح محفوظ وہی ہے جس کو دوسری جگہ ام ال کتاب سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ وہ کیسی ہے ؟ اور کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی حقیقت کوئی نہیں جانتا ۔ ابن عباس ؓ مجاہد اور مقاتل (رح) سے کچھ اقوال نقل کیے گئے ہیں لیکن وہ بھی ناقابل فہم ہیں جن کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسوں کے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ بلا شبہ تفسیر ابن کیثر ، معالم التنزیل اور تفسیر کبیر میں بہت کچھ درج کیے گئے ہیں ۔ لیکن ان کا نقل کرنا طائل ہے۔ مراد سب کی اللہ تعالیٰ کی علمی کتاب ہی ہے جس میں ہرچیز موجود ہے سابق و لا حق اور حاضر و غائب اور کوئی ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے جس طرح لوح اپنی تحریر کو ظاہر کرتی ہے ، واقعات گزر جاتے ہیں لیکن وح پر تحریر باقی رہتی ہے اور اپنے مضمون کو ظاہر کرتی رہتی ہے۔ ( لوح) کا معنی ہی ظہور کے ہیں ۔ اسی مناسب سے شاید اللہ تعالٰ کے صحیفہ علمی کو ( لوح) کہا جاتا ہے جو کمی بیش اور بقول بعض شیطان کی دست رسی اور بقول محققین مخلوق کی علمی رسائی سے محفوظ ہے۔ زیر نظر آیت میں ارشاد خداوندی ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ میں بھی محفوظ ہے جس کا مطلب گزشتہ تفصیل کے مطابق یہی ہے کہ قرآن کریم علم الٰہی میں محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا جو ذمہ لیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں بھی اس کا محفوظ رہنا لازم و ضروری ہے اس لیے اگر اس میں کوئی کمی بیشی اور رد و بدل کرنا بھی چاہے تو نہیں کرسکتا اور قرآن کریم کا یہ معجزہ آج بھی زندہ وجاوید بدستور اسی طرح قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا کہ اس کا قائم رہنکا رب ذوالجلال والاکرام کا فیصلہ ہے جس کا اس نے اعلان کردیا ہے۔
اسی مضمون پر ہم سورة البروج کی تفسیر ختم کرتے رہیں رب اوزعنی ان اکشر نعمتک التی انعمت علی وعل والدی وان اعمل صالحا ترضاہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔