Al-Burooj 85:10

Al-Burooj · from ayah 10

85:10

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ۟ؕاِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَـنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِؕ

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who have tortured the believing men and believing women and then have not repented will have the punishment of Hell, and they will have the punishment of the Burning Fire.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:10

جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم و ستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقیناً اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو کہ جن لوگوں نے مومن مردوں عورتوں کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے، پھر توبہ نہیں کی ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کو آگ میں جلنے کی سزا دی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بے شک جنھو ں نے ایذا دی مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر تو بہ نہ کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے آگ کا عذاب

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لئے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ظلم و ستم ڈھایا پھر تو یہ (بھی) نہ کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے ایسا عذاب ہے جو جلا کے رکھ دے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو ستایا، پھر توبہ نہ کی، ان کے لئے لازماً جہنم کی سزا اور جلنے کا عذاب ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ جن لوگوں نے ظلم و ستم ڈھایا ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں پر پھر انہوں نے توبہ بھی نہیں کی (اپنے اس جرم سے) تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور مزید یہ کہ ان کے لئے (وہاں خاص طور پر) جلائے جانے کا عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جن لوگوں نے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ستایا اور پھر توبہ نہیں کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا جن لوگوں نے ظلم و ستم توڑا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر پھر انہوں نے توبہ بھی نہیں کی تو ان کے لیے ہوگا جہنم کا عذاب اور جلا ڈالنے والا عذاب۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا اور عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely those who tormented the believing men and the believing women and then did not repent, theirs shall be the chastisement of Hell, and theirs shall be the chastisement of burning.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent, __for them there is the torment of Jahannam (Hell) , and for them there is the torment of burning.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent, __for them there is the torment of Jahannam (Hell) , and for them there is the torment of burning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who put into trial the believing men and believing women, and then do not turn in repentance, then they will have the torment of Hell, and they will have the punishment of the burning Fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! they who persecute believing men and believing women and repent not, theirs verily will be the doom of hell, and theirs the doom of burning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who have tortured the believing men and believing women and then have not repented will have the punishment of Hell, and they will have the punishment of the Burning Fire.

— Saheeh International

Those who persecute the believing men and women without repenting will suffer the torment of hell and that of the burning fire.

— Muhammad Sarwar

Surely (as for) those who persecute the believing men and the believing women, then do not repent, they shall have the chastisement of hell, and they shall have the chastisement of burning.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who affected the believing men and the believing women, and then repented not, theirs shall be the torment of Hell, and theirs shall be the torment of burning.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who persecute (or draw into temptation) the Believers, men and women, and do not turn in repentance, will have the Penalty of Hell: They will have the Penalty of the Burning Fire.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 85:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–15

سورة الْبُرُوْج 6 جہنم کے عذاب سے الگ جلائے جانے کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ انہوں نے مظلوم لوگوں کو آگ کے گڑھے میں پھینک کر زندہ جلایا تھا۔ غالباً یہ جہنم کی عام آگ سے مختلف اور اس سے زیادہ سخت کوئی آگ ہوگی جس میں وہ جلائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مسلمانوں کو ستانے والوں کو واضح الفاظ میں وعید: اوپر جو وعید اشارات کے پردے میں سنائی گئی ہے اس آیت میں وہ بالکل بے نقاب کر دی گئی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لانے والے مردوں اور ایمان لانے والی عورتوں کو دین سے پھیرنے کے لیے نشانۂ ستم بنائیں گے اور پھر توبہ نہیں کریں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے جہنم کا عذاب، خاص کر آگ کا عذاب ہے۔ لفظ فتنہ یہاں خاص کر اس ظلم و ستم کے لیے آیا ہے جو کسی پر اس کے دین سے اس کو پھیرنے کے لیے کیا جائے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بار بار آیا ہے جس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ ’مُؤْمِنِیْنَ‘ کے پہلو بہ پہلو ’مُؤْمِنٰتٌ‘ کا ذکر یہاں خاص اہتمام سے اس لیے ہوا ہے کہ جس دور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–11

واقعہ اصحاب الا خدود : گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ کا جادوگر اور کاہن تھا، جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک ذہین لڑکا دو ، جسے میں یہ علم سکھا دوں، چناچہ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کر کے اس کے سپرد کردیا۔ لڑکے کے راستے میں ایک راہب کا بھی مکان تھا، یہ لڑکا آتے جاتے اس کے پاس بھی بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا، جو اسے اچھی لگتیں، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا، ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بہت بڑے جانور (شیر یا سانپ وغیرہ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا، لڑکے نے سوچا، آج میں پتہ کرتا ہوں کہ جادوگر صحیح ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا اے اللہ، اگر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–18

3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جو کچھ اس زمین پر ہوا ، وہ یہاں ختم نہیں ہوجاتا کہ جو ہونا تھا بس ہوچکا اور اس کے آثار بھی یہاں ختم ہوگئے۔ اس کے آثار باقی ہوتے ہیں۔ ہر کام کی سزا اور جزاء ہوتی ہے جس کے واقع ہونے پر ہی واقعہ ختم ہوتا ہے۔ اس لئے ان سرکشوں نے اہل ایمان کے ساتھ جو سلوک کیا اس کا نتیجہ ابھی نکلنے والا ہے۔ اور اللہ قیامت کے دن فیصلہ کرنے والا ہے۔ ان الذین ............................ والمومنت (10:85) ” جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم کیا “۔ اور وہ اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتے رہے۔ ان کو کوئی شرمندگی لاحق نہ ہوئی۔ ثم لم ........................ الحریق (10:85) ” اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے یقینا ان کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی کچھ اصحاب الاخدود پر منحصر نہیں۔ جو لوگ ایمانداروں کو دین حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ (جیسے کفار مکہ کر رہے تھے) پھر اپنی ان نالائق حرکات سے تائب نہ ہوں گے اس سب کے لئے دوزخ کا عذاب تیار ہے جس میں بیشمار قسم کی تکلیفیں ہوں گی اور بڑی تکلیف آگ لگے کی ہوگی جس میں دوزخی کا تن من سب گرفتار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10{ اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا } ”یقینا جن لوگوں نے ظلم و ستم توڑا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر پھر انہوں نے توبہ بھی نہیں کی“ اگر ان میں سے کسی نے مرنے سے پہلے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا تو اس کا یہ جرم معاف ہوسکتا ہے۔ { فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ۔ } ”تو ان کے لیے ہوگا جہنم کا عذاب اور جلا ڈالنے والا عذاب۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 اگرچہ احادیث میں ان اصحاب الاخدود کے انجام کے متعلق کچھ صراحت مذکور نہیں تاہم مفسرین لکھتے ہیں کہ یہی آگ ان آگ میں جلانے والوں کے کنٹرول سے باہر ہوگئی اور ان کے گھروں تک پہنچ کر ان کے گھروں کو خاکستر کر ڈالا اور یہ بھی ممکن ہے کہ (وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ 10۝ۭ ) 85 ۔ البروج :10) کا جملہ عذاب جہنم ہی کی صفت کے طور پر مذکور ہوا ہو۔ علاوہ ازیں یہ آیت صرف اصحاب الاخدود سے ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ عام ہے اور اس میں کفار مکہ کو انتباہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ بھی مومن مردوں اور عورتوں کو صرف اس لیے ایذائیں پہنچاتے ہیں کہ وہ ایک اللہ پر ایمان لائے ہیں۔ ان کا بھی یہی انجام ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (آیت) ” عذاب جھنم “۔ عام ہے جن ہم میں عذاب طرح طرح کے ہوں گے۔ جلنے کا عذاب شدید ترین ہے، اسے تخصیص کے ساتھ بیان کیا۔ (آیت) ” ان الذین فتنوا “۔ فتنہ یہاں عذاب کے معنی میں ہے۔ ومعنی فتنوھم عذبوھم بالنار واحرقوھم (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین فتنوا المومنین والمومنت . جن لوگوں نے مؤمن مردوں اور عورتوں کو عذاب دیا۔ عذاب دینے والوں میں اصحاب الاخدود بھی تھے اور دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔ مؤمن ہوں یا کافر بہرحال مؤمنوں کو انہوں نے دکھ دیا ہو۔ اسی طرح المؤمنین اور المؤمنات کا لفظ ان لوگوں کو بھی شامل ہے جن کو اصحاب اخدود نے جلایا تھا اور وہ مؤمن بھی اس میں داخل ہیں جن کو کوئی شخص دکھ پہنچائے۔ ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم . پھر انہوں نے اس معصیت سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں انہی لوگوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے یعنی وہ عذاب آخرت کے مستحق ہیں۔ یہ قول اس بات کے منافی نہیں کہ اگر عذاب دینے والے مؤمن ہوں تب بھی ان کی مغفرت نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) اور ان کافروں نے مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہیں پایا تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے تھے جن لوگوں نے سچے ایماندار مردوں اور سچی ایماندار عورتوں کو جلایا اور ان کو تکلیف پہنچائی اور پھر انہوں نے اپنے کفر و شرک سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اور دوزخ میں ان کے لیے جلنے کا سخت عذاب ہے۔ یا یہ کہ دنیا میں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آگ میں جلایا اور یہ نجرانی یا موصل والے تھے ان لوگوں نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو پکڑ کر ان کو تکلیف دی اور آگ میں جلا دیا تاکہ ان کا دین اختیار کرلیں اور ان لوگوں کا بادشاہ یوسف یا ذالنواس تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان الذین فتنوا المومنین…:”فتنہ“ کا معین ہے، کھرے کھوٹے کی آزمائش کے لئے سونے کو آگ میں ڈالنا۔ پھر یہ لفظ جلانے، ستانے ، عذاب دینے اور حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔”ان الذین فتنوا“ سے مراد اصحاب الاخدودبھی ہیں، جنہوں نے اہل ایمان کو آگ کی خندقوں میں ڈالا اور کفار قریش اور بعد میں آنے والے وہ تمام ظالم بھی جو انواع و اقسام کے عذاب دے دے کر اہل ایمان کو ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے۔”فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریق“ جہنم میں کئی طرح کا عذاب ہے، سب سے سخت عذاب جلنے کا ہے، اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا، اس کے علاوہ اہل ایمان کو جلانے والوں کے حسب حال جلنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان الذین فتنوالمومنین۔۔۔ تا۔۔۔ الکبیر۔ ان الذین فتنوالمومنین والمومنت۔ جنہوں نے مومنوں کو آگ میں جلایا عرب کہتے ہیں، فتن فلان الدرھم، والدینار۔ جب اسے بھٹی میں داخل کیا تاکہ اس کی عمدگی کو جانے، اس طرح یہ لفظ کہا جاتا ہے، دنیار مفتون دراہم، ودنانیر بنانے والے کو ختان کہتے ہیں اسی طرح شیطان کو فتان کہتے ہیں۔ ورق فتین، ایسی چاندی جس میں کھوٹ جلادیا گیا ہوحرہ کو فتین کہتے ہیں گویا اس سرزمین نے آگ کے ساتھ پتھروں کو جلادیا، یہ نام ان پتھروں کے سیاہ ہونے کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ ثم لم یتوبو افلھم عذاب جہنم ولھم عذاب الحریق۔ انہوں نے اپنے قبیح اعمال پر توبہ نہ کی جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس بادشاہ اور اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

31۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین فتنوا لمومنین والمومنت بیشک جنہوں نے ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو جلایا۔ 32۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) نے ان الذن فتنوا المومنین والمومنت کے بارے میں روایت کیا کہ جن لوگوں نے عذاب دیا۔ 33۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک ظالم اور جابر حکمران تھا اس نے زمین میں خندقیں کھدوائیں ان میں آگ جلائی اور مومنین کو ان میں ڈالا۔ اور جو ان کی کفر پر تابعداری کرتا تھا اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جو انکار کرتا اس کو آگ میں ڈال دیتے۔ پس وہ آگ میں ڈالتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک عوت کے پاس آیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الَّذِينَ فَتَنُوا : یقینا جن لوگوں نے مشکل میں ڈالا ][ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ : ایمان لانے والوں کو اور ایمان لانے والیوں کو ][ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا : پھر توبہ (بھی) نہیں کی ][ فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ : تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے ][ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ہی ][ عَذَابُ الْحَرِيْقِ : شعلے کا عذاب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف میں ڈالا الفاظ کا عموم اصحاب الاخدود کو بھی شامل ہے اور ان کے علاوہ دیگر دشمنان اہل ایمان کو بھی۔ ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے درمیان میں ﴿ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ﴾ بھی فرمایا، یعنی ان لوگوں کے لیے مذکورہ عذاب اس صورت میں ہے جبکہ موت سے پہلے توبہ نہ کی ہو، کسی بھی کافر نے کسی بھی مومن کو کچھ بھی اور کیسی بھی تکلیف دی ہو اور کیسے بھی گناہ کیے ہوں اگر توبہ کرلی، ایمان قبول کرلیا تو زمانہ کفر میں جو کچھ کیا وہ سب ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی کتنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” ان الذین فتنوا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جن کفار و مشرکین نے مومن مردوں اور عورتوں کو محض توحید کی وجہ سے مختلف قسم کی تکلیفوں اور ایذاؤں میں مبتلا کیا اور پھر اس کے بعد توبہ نہیں کی اور ایمان نہیں لائے ان کے لیے جہنم کا اور سخت ترین عذاب آگ کا ہے۔ فلھم عذاب جہنم بسبب کفرہم ولھم عذاب الحریق بسفتنتہم المومنین والمومنات (روح ج 30 ص 91) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ۝ 10 ۭ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] (ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–16

ترکیب ¦ فلہم الخ الجملۃ خبران ‘ ولھم الجملۃ الثانیۃ معطوفۃ علیھا الذین آمنوا الخ اسم ان لہم جنات الجملۃ خبرھا تجری الخ صفۃ جنات ‘ المجید قرء الجمہور بالرفع علی انہ لغت لذو وقریٔ بالکسر علی انہ لغت للعرش و مجدہ علوہ وعظمہ وقیل ھو لغت لربک وقال مکی ھو خبر بعد خبر۔ فعال مرفوع علی انہ خبر مبتدء محذوف وقال الفرا مرفوع علی التکریر والا ستیناف وقیل مرفوع علی الاتباع۔ تفسیر ¦ کفار قریش کو اصحاب الاخدود کا مآل کارسنا کر کہ ان پر لعنت پڑی دنیا میں بھی برباد ہوئے۔ تخت بخت سب جاتا رہا۔ ذلت سے مرے آخرت میں بھی رسوا ہوئے اپنا دائمی قانون سناتا ہے۔ فقال ان الذین فتنوا المومنین والمومنات کہ جنہوں نے ایماندار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَھُمْ عَذَابُ جَنَھَّمَ وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ۔ (البروج : 10) (بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں پر ظلم و ستم توڑا، پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقینا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلائے جانے کی سزا ہے۔ ) ظالموں کو وعید ْٓجن لوگوں نے ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کو آگ کی خندقوں میں پھینک کر نہایت سنگدلی سے جلایا تھا، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کسی کو ایمان سے پھیرنے کے لیے اذیت دی جائے تاکہ وہ پھر کفر اختیار کرلے، اسی کو فتنہ کہتے ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–11

فہم القرآن ربط کلام : جن ظالموں نے مومنوں اور مومنات کو آگ کی خندقوں میں ڈالا ان کی سزا اور انجام۔ مفسرین نے اس واقعہ کے بارے میں کئی قسم کے خیالات کا اظہار فرمایا ہے لیکن ان میں مستند واقعہ وہ ہے جس کا ذکر حدیث کی معتبر کتاب جامع ترمذی میں پایا جاتا ہے۔ حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک جادوگر تھا اس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کہ مجھے کوئی ایسا لڑکا دیں جو مجھ سے جادو سیکھ لے بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا مگر وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی ملنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا حتی کہ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (جنہوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو تکلیف دی) الذین فتنواؔ سے صرف اصحاب اخدود مراد ہوسکتے ہیں۔ اور الذین ٰامنوا سے وہ لوگ جن کو آگ میں ڈالا گیا۔ فتنواؔ کا معنی آگ میں جلانا اور آگ کے ذریعہ سزا دینا مراد ہے۔ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا (پھرتوبہ نہیں کی) وہ اپنے کفر سے نہیں لوٹے۔ فَلَھُمْ (ان کے لئے) آخرت میں عَذَابُ جَھَنَّمَ (جہنم کا عذاب) ان کے کفر کے باعث ملے گا وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ( اور ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے) دنیا میں اس لئے کہ مروی ہے کہ وہ آگ ان پر پلٹ پڑی اور ان سب کو خاکستر کردیا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” ان الذین فتنوا “ جن کو عذاب دیا گیا اور جن کو جلایا گیا۔ ” المومنین والمومنات “ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” فتنت الشیئ “ جب اس کو جلایا جائے ۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے ” یومھم علی النار یفتنون “… ” ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم “ عذاب جہنم سے مراد ان کا کفر ” ولھم عذاب الحریق “ مومنین کو جلایا گیا۔ بعض نے کہا کہ ” ولھم عذاب الحریق “ سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔ ان کو دنیاوی آگ میں جلایا گیا تو اللہ ان کو آخروی آگ میں جلائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–11

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عید سنائی ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی چناچہ فرمایا (اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ ) بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی اور ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اس جودوکرم کی طرف دیکھو انہوں نے اس کے اولیا اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلارہا ہے ظالموں کے لیے سزا کا ذکر کرنے کے بعد مومنوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) ظالموں کے لیے انتہائی ہولناک عذاب کا ذکر وبیان، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جنہوں نے ظلم کیا مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر، پھر انہوں نے توبہ بھی نہیں کی تو یقیان ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور ان کے لیے جلائے جانے عذاب ہے "۔ پس جن خوش نصیبوں کو توبہ کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی ان کے جرم معاف کردیے گئے کہ وہ بڑا ہی غفور بھی ہے اور انتہائی رحیم بھی، سبحانہ وتعالی۔ سو توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد ہے، وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ظالموں کے لیے اوپر جس وعید کا ذکر اشارات کے پردے میں کیا گیا تھا اب اس تصریح کے ذریعے اس کو بےنقاب فرمایا گیا، اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ’ دفتنوا “ یہ فتنہ “ سے مشتق ہے اور فتنہ کے اصل معنی ہیں کسی چیز کو آگ میں گلانا تاکہ کھوٹا الگ ہوجائے پھر یہ لفظ آگ میں جلانے کے معنی میں بھی اسعتمال ہونے لگا ہے اور سکی کو حق سے برگشتہ کرنے کے لئے ’ ستانا “ کے لئے بھی آجاتا ہے۔ اصحاب تفاسیر نے یہ دونوں معنی بیان کئے ہیں۔ یعنی جلانا اور ستانا پہلے معنی ابن عباس کی طرف منسوب ہیں اور دوسرے معنی امام شوکانی نے قیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ (ملاحظہ موقع القدیر و ابن کثیر)3 جیسا کہ کہتے ہیں کہ کھائیاں کھودنے والوں کا حشر ہوا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ داللہ کا غضب آیا وہی آگ پھیل پڑی اور بادشاہ اور امیروں کے گھر سارے پھونک دیئے۔ “ (موضح) لیکن اس کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:10) ان الذین فتنوا المومنین والمؤمنت : ان حرف تحقیق حرف مشبہ بالفعل۔ الذین اسم موصول فتنوا المؤمنین والمؤمنت اس کا صلہ موصول مل کر اسم ان۔ ثم لم یتولوا اسم ان کے متعلق۔ فلہم عذاب جنھم : ان کی خبر۔ ولہم عذاب الحریق اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے یہ پہلے جملہ کا تاکید ہے۔ فتنوا ماضی جمع مذکر غائب فتنۃ (باب ضرب) مصدر۔ انہوں نے دکھ دیا ، انہوں نے ایذا دی۔ انہوں نے عذاب دیا۔ فتن کے لغوی معنی ہیں سونے کو آگ میں تپا کر کھوٹا کھرا جانچنا۔ یا آگ میں ڈالنا۔ قرآن مجید میں فتنۃ کے لفظ اور اس کے مشتقات کو مختلف معانی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً :۔ آزمائش کرنا۔ آزمائش میں ڈالنا۔ آفت۔ مصیبت۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

خدا پر ایمان لانے پر ظالم بادشاہ کی سرکشی اور انجام۔ (ف 3) اس سورت میں ایک بادشاہ کا قصہ لوگوں کو آگ میں جلانے کا بیان فرمایا ہے۔ اس قصہ کی روایت صحیح مسلم ترمذی اور نسائی وغیرہ میں ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر رہتا تھا جب جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا بھیج دو جسے میں اپناجادو سکھاسکوں، کہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ جادوگر کے پاس جاکرجادو سیکھتا تھا، راستہ میں ایک راہب رہتا تھا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کا کلام اس کے دل نشین ہوتا گیا اور خفیہ طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–10

قاتل کی توبہ 1: ایک طرف اصحاب اخدود کے مظالم ہیں کہ بارہ ہزار عیسائیوں کو محض اس پاداش میں نذر آتش کردیا کہ انہوں نے ایک خدا کو کیوں تسلیم کیا اور دوسری جانب اللہ کا عفو وکرم دیکھئے کہ وہ ان لوگوں کو توبہ مغفرت کی دعوت دیتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچانا بہت بڑا گناہ ہے اور جب تک ظالم توبہ نہیں کرتا ، اللہ کی بخشش کا حق دار نہیں ہے ، بلکہ جہنمی ہے ۔ اور عذاب احتراق کا مستحق ہے ۔ اس آیت سے بعض مفسرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ قاتل بھی اگر خلوص کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ عنداللہ مقبول ہوسکتی ہے ۔ کیونکہجب ان لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے ، جنہوں نے ہزاروں عیسائیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) بلا شبہ جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایذاء پہنچائی پھر ظلم سے توبہ نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور نیز ان کے لئے سخت جلنے کا عذاب ہے۔ یعنی اصحاب اخدود پر کیا موقوف ہے جو بھی مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایذاپہنچائیں گے اور ان کو اسلام سے بچلائیں گے اور ان کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کریں گے اور پھر توبہ بھی نہیں کریں گے تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہیں ان میں جلنے کا بھی ہے اس لئے آگ سے جلنے کا عذاب کا خاصہ طور پر ذکر فرمایا زمہریر کا عذاب ، سانپ بچھو کا عذاب ، طوق سلاسل کا عذاب وغیرہ وغیرہ۔ یہ وعید کفار مکہ کو سنائی کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کو انواع و اقسام کی تکالیف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–22

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ جن لوگوں نے مومن مرد اور عورتوں کو اذیت پہنچائی ہے وہ دوزخ کا ایندھن ہیں 10 ؎ معلوم ہوا کہ اس آزمائش میں جس طرح مرد مبتلا کیے گئے تھے عورتیں بھی ان کے ساتھ اس ظلم کا نشانہ بنائی گئی تھیں اس لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو اس آزمائش میں مبتلا کیا یعنی کھائیوں پر لا کھڑا کیا اور پھر ان کے مؤقف چھوڑنے رہنے کے نتیجہ میں جس طرح ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد بھی ان کو اس بات کا احساس نہ ہوا اور نہ ہی انہوں نے توبہ کی ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیارکھڑا ہے جو ان کے انتظار میں ہے وہ یہ نہیں سمجھیں کہ ان کی یہ خود سری گوارا کرلی جائے گی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–22

إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

6 "Punishment by burning" has been mentioned separately from the torment of Hell because they had burnt the oppressed people to death by casting them into the pits of fire. Probably this will be a different and severer kind of fire from the fire of Hell in which those people will be burnt.

Read the full tafseer →