Explained with ayahs 11–22
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
سورة الْبُرُوْج 6
جہنم کے عذاب سے الگ جلائے جانے کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ انہوں نے مظلوم لوگوں کو آگ کے گڑھے میں پھینک کر زندہ جلایا تھا۔ غالباً یہ جہنم کی عام آگ سے مختلف اور اس سے زیادہ سخت کوئی آگ ہوگی جس میں وہ جلائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…
Read the full tafseer →ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت:
یہ ان اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہے جو ان پُر محن حالات کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ فعل ’اٰمَنُوْا‘ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ان مظالم کے علی الرغم جو اہل ایمان اپنے ایمان پر جمے اور عمل صالح کی روش پر قائم و دائم رہیں گے ان کے لیے بے شک ایسے باغ ہوں گے جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
’ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ‘۔ یعنی کوئی اس کامیابی کو معمولی کامیابی نہ سمجھے۔ یہ دائمی اور ابدی کامیابی ہے، جس کو حاصل ہو گی وہی جانے گا کہ اس نے چند دنوں کی آزمائشوں کے صلے میں کیسی عظیم بادشاہی حاصل کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
واقعہ اصحاب الا خدود : گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ کا جادوگر اور کاہن تھا، جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک ذہین لڑکا دو ، جسے میں یہ علم سکھا دوں، چناچہ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کر کے اس کے سپرد کردیا۔ لڑکے کے راستے میں ایک راہب کا بھی مکان تھا، یہ لڑکا آتے جاتے اس کے پاس بھی بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا، جو اسے اچھی لگتیں، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا، ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بہت بڑے جانور (شیر یا سانپ وغیرہ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا، لڑکے نے سوچا، آج میں پتہ کرتا ہوں کہ جادوگر صحیح ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا اے اللہ، اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…
Read the full tafseer →ان الذین ................................ انھر (11:85) ”” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، یقینا ان کے لئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “۔ یہ ہے حقیقی نجات اور کامیابی۔
ذلک الفوزالکبیر (11:85) ” یہ ہے بڑی کامیابی “۔ فوز کے معنی نجات اور کامیابی کے ہیں۔ آخرت کے عذاب سے نجات پانا ہی بڑی کامیابی ہے اور باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ تو کامیابی پر کامیابی ہے۔ آخرت کے اس انجام پر اب یہ واقعہ مکمل ہوتا ہے اور یہی ہے حقیقی خاتمہ اور انجام دونوں فریقوں کے موقف کا۔ زمین میں جو واقعات ہوتے ہیں وہ حقیقی واقعات کا ایک حصہ ہوتے ہیں ، یہ تمام واقعہ نہیں ہوتے ، اس واقعہ پر…
Read the full tafseer →1 یعنی یہاں کی تکلیفوں اور ایذاؤں سے نہ گھبرائیں۔ بڑی اور آخری کامیابی ان ہی کے لئے ہے۔ جس کے مقابلہ میں یہاں کا عیش یا تکلیف سب ہیچ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10{ اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا } ”یقینا جن لوگوں نے ظلم و ستم توڑا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر پھر انہوں نے توبہ بھی نہیں کی“
اگر ان میں سے کسی نے مرنے سے پہلے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا تو اس کا یہ جرم معاف ہوسکتا ہے۔
{ فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ۔ } ”تو ان کے لیے ہوگا جہنم کا عذاب اور جلا ڈالنے والا عذاب۔“
Read the full tafseer →7 ساتھ ہی مومن مردوں اور عورتوں کو تسلی دی گئی کہ وہ کفار کی ایذا رسانیوں سے گھبرائیں نہیں۔ ان سے پہلے بھی مومنوں پر بڑے بڑے مصائب ڈھائے جاچکے ہیں۔ ان مصائب کو برداشت کرنے کے عوض انہیں اللہ کے ہاں سے جو باغات اور نعمتیں ملنے والی ہیں۔ جن کے مقابلہ میں اس دنیا کی سب تکلیفیں اور مصیبتیں ہیچ ہیں۔
Read the full tafseer →6۔ جنت اور جنت کی نعمتوں کو حقیر سمجھنے والے خواہ وہ قدیم صوفیہ غیرمحققین ہوں، یاجدیدقسم کے ” روشن خیال “ بہرحال اگر ان کا ایمان قرآن پر ہے تو دیکھیں کہ قرآن مجید جنت اور نعمائے جنت کا ذکر کیسے کیسے شوق ورغبت دلانے والے الفاظ میں کرتا رہتا ہے، اور کس طرح جنت ہی کو انسانی کوشش کا منتہائے مقصود بتلاتا ہے، حقیقی کامیابی صرف اخروی کامیابی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دنیا کی ہر ” علمی تحقیق “ ہر ” سیاسی “ ہر ” ملکی فتح مندی “ ہیچ اور بےمایہ۔ جو اہل ایمان آج بھی ظلم وستم کے ہدف ہیں۔۔ ان کے لیے بھی آیت سرمایہ تسکین وتشفی ہے، دنیوی تکلیفوں کی پرواہ بھی بہت زیادہ ہی کیوں کی جائے، پائیدار و حقیقی کامیابی اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا و عملوا الصلحت . یعنی نیکو کار مؤمنوں کے لیے۔
لھم جنت تجری من تحتھا الانھار . ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے دریا جاری ہیں۔
ذلک الفوز الکبیر . یہی بڑی کامیابی ہے دنیا اور دنیا کی ہر چیز اسکے مقابلہ میں حقیر ہے۔
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کا ذکر فرماتے ہیں جو اس قدر سخت عذاب کے بعد ہی ایمان پر قائم رہے کہ ان ایمانداروں کے لیے بہشت کے باغ ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی یہ بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وعملوا الصلحت …: یہاں ایمان و عمل صالح والے لوگوں کے لئے جنت کی بشارت کے ذکر کی دو مناسبتیں ہیں، ایک تو یہ کہ اگر مسلمانوں کو ستانے والے لوگ بھی ایمان لا کر صالح عمل والے بن جائیں تو ان کے لئے بھی وہ باغتا ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ دوسری یہ کہ ایمان اور عمل صالح کے حالم جن مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹیوں میں جھونکا جا رہا ہے وہ غم نہ کریں، یہ وقت گزر جانے والا ہے، آخرت میں ان کے لئے وہ عظیم الشان باغات تیار ہیں جن کے تلے نہیں بہ رہی ہیں اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان والوں کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ثبت قدم رکھنے والی چیز اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں…
Read the full tafseer →ان الذین آمنوا وعملوالصالحات لھم جنت تجری من تحتھا الانھار، ذالک الفوز الکبیر۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، اس کی تصدیق کی، اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں جن کا پانی بدبودار نہیں ہوتا ایسے دودھ کی نہریں رواں ہیں جن کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا، ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے لذت کا باعث ہیں اور صاف و شفاف شہد کی نہریں ہیں، یہ ایسی کامیابی ہے جس کی مثل کامیابی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
31۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین فتنوا لمومنین والمومنت بیشک جنہوں نے ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو جلایا۔
32۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) نے ان الذن فتنوا المومنین والمومنت کے بارے میں روایت کیا کہ جن لوگوں نے عذاب دیا۔
33۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک ظالم اور جابر حکمران تھا اس نے زمین میں خندقیں کھدوائیں ان میں آگ جلائی اور مومنین کو ان میں ڈالا۔ اور جو ان کی کفر پر تابعداری کرتا تھا اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جو انکار کرتا اس کو آگ میں ڈال دیتے۔ پس وہ آگ میں ڈالتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک عوت کے پاس آیا…
Read the full tafseer →[ان الَّذِينَ اٰمَنُوْا : بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ][ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انھوں نے عمل کیے نیکیوں کہ ][ لَهُمْ جَنّٰتٌ: ان کے لیے ہی ایسے باغات ہیں ][ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا : بہتی ہیں جن کے نیچے سے ][ الْانهٰرُ : نہریں ][ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْر : یہ ہی سب سے بڑی کامیابی ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 11) اَلْفَوْزُ الْکَبِیْرُ مرکب توصیفی ہے۔ لیکن یہ ذٰلِکَ کا مُشَارٌ اِلَیْہِ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی خبر معرفہ ہے اور اس سے پہلے ضمیر فاصل ھُوَ محذوف ہے۔ پورا جملہ اس طرح ہے ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوُزُ الْکَبِیْرُ ۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کو بشارت دی ہے کہ ان لوگوں کو باغات ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، آیت کو ﴿ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْرُؕ0011﴾ پر ختم فرمایا ہے جس میں یہ بتادیا کہ مذکورہ باغات کامل جانا بڑی کامیابی ہے۔ دنیا میں جیسی بھی کوئی تکلیف پہنچے وہ اس کامیابی کے سامنے ہیچ ہے اگر ایمان کی وجہ سے کوئی شخص آگ میں ڈالا گیا تو وہ ایک دو منٹ کی تکلیف ہوگی ﴿ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ 1ۣؕ۬﴾ دائمی اور ابدی نعمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…
Read the full tafseer →7:۔ ” ان الذین امنوا “ یہ بشارت اخرویہ ہے جو لوگ ایمان لائے نیک کام کیے اور اپنے دین کی خاطر ایذائیں برداشت کیں ان کے لیے نعمتوں کے باغ ہیں جن میں تمام انواع و مشروبات کی نہریں جاری ہوں گی دوزخ سے بچ جانا اور ایسی نعمتوں کے باغوں میں داخل ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے جو قیامت کے دن مومنوں کے لیے مخصوص ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
(سابقہ سورة کے ساتھ ربط)
اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔
حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ 0ۥۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْرُ 11 ۭ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ترکیب ¦ فلہم الخ الجملۃ خبران ‘ ولھم الجملۃ الثانیۃ معطوفۃ علیھا الذین آمنوا الخ اسم ان لہم جنات الجملۃ خبرھا تجری الخ صفۃ جنات ‘ المجید قرء الجمہور بالرفع علی انہ لغت لذو وقریٔ بالکسر علی انہ لغت للعرش و مجدہ علوہ وعظمہ وقیل ھو لغت لربک وقال مکی ھو خبر بعد خبر۔ فعال مرفوع علی انہ خبر مبتدء محذوف وقال الفرا مرفوع علی التکریر والا ستیناف وقیل مرفوع علی الاتباع۔
تفسیر ¦ کفار قریش کو اصحاب الاخدود کا مآل کارسنا کر کہ ان پر لعنت پڑی دنیا میں بھی برباد ہوئے۔ تخت بخت سب جاتا رہا۔ ذلت سے مرے آخرت میں بھی رسوا ہوئے اپنا دائمی قانون سناتا ہے۔ فقال ان الذین فتنوا المومنین والمومنات کہ جنہوں نے ایماندار…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ 5 ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْـکَبِیْرُ ۔ (البروج : 11)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی۔ )
ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت
جن لوگوں نے آگ میں کود کر ایمان کی قیمت ادا کی، ان کی پختگی ایمان کا کیا کہنا۔ جو ایمان کو بچانے کے لیے جلنے کا عذاب برداشت کرلیتا ہے اس کے دل میں اللہ تعالیٰ سے محبت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے یہاں ان کے جس ایمان کا ذکر ہورہا ہے وہ یقینا عام ایمان نہیں، بلکہ ایسا ایمان ہے جو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : جن ظالموں نے مومنوں اور مومنات کو آگ کی خندقوں میں ڈالا ان کی سزا اور انجام۔
مفسرین نے اس واقعہ کے بارے میں کئی قسم کے خیالات کا اظہار فرمایا ہے لیکن ان میں مستند واقعہ وہ ہے جس کا ذکر حدیث کی معتبر کتاب جامع ترمذی میں پایا جاتا ہے۔
حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک جادوگر تھا اس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کہ مجھے کوئی ایسا لڑکا دیں جو مجھ سے جادو سیکھ لے بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا مگر وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی ملنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا حتی کہ اس…
Read the full tafseer →جنت بڑی کامیابی :
1 1 : اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی۔ یہ بڑی کا میابی ہے) اس سے وہ ایمان والے مراد ہیں جنہوں نے اصحاب اخدود کی تکالیف و ایذاء رسانی پر صبر کیا۔ نمبر 2۔ عام مراد ہے ہر زمانہ کے مسلمان مراد ہیں۔
Read the full tafseer →11 ۔ پھر ذکر کیا جو مومنین کے لئے تیار کیا ہے۔ پس فرمایا ” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات لھم جنات تجری من تحتھا الانھار ذلک الفوز الکبیر “ اور انہوں نے جواب قسم میں اختلاف کیا ہے۔ پس ان میں سے بعض نے کہا اس کا جواب ” قتل اصحاب الاخدود “ یعنی لقدقتل ہے اور کہا گیا ہے اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اسکی تقدیر قتل ” اصحاب الاخدود والسماء ذات البروج “ ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کا جواب
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عید سنائی ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی چناچہ فرمایا (اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ ) بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی اور ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اس جودوکرم کی طرف دیکھو انہوں نے اس کے اولیا اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلارہا ہے ظالموں کے لیے سزا کا ذکر کرنے کے بعد مومنوں کے…
Read the full tafseer →(9) اہل ایمان کے لیے جنت سے سرفرازی کے انعام کا ذکرو بیان : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و عمل صالح ہی باعث نجات اور ذریعہ فوز و فلاح ہے، اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو اخلاص نیت اور اتباع سنت کے ساتھ ہو کہ عمل کی قبولیت کے لیے عقیدہ و ایمان کی صحت کے ساتھ ساتھ ان دونوں شرطوں یعنی اخلاص اور اتباع سنت کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ فایک نسال اللھم التوفیق لذالک والسداد۔ سو ایمان و یقین صادق اور عمل صالح کی پونجی ہی باعث نجات اور ذریعہ فوزو فلاح ہے، پس اللہ تعالیٰ کے یہاں قوم قبیلے یا فلاں ابن فلاں کی بات نہیں ہوگی، بلکہ مدار نجات اپنا ایمان اور عمل ہوگا۔ وباللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام
تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 4 معلوم ہوا کہ سارا اختیار اسی کا ہے لہٰذا اس کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یا یہ کہ وہی مجرموں کو دنیا میں سزا دیتا ہے اور وہی آخرت میں سزا دیگا ابن جریر نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں :’ د یعنی دنیا کا عذاب اور (پھر) آخرت کا
Read the full tafseer →(58:11) ان الذین امنوا وعملوا الصلحت لہم جنت تجری من تحھا الانھر : ان حرف تحقیق، حرف مشبہ بالفعل۔ الذین امنوا وعلموا الصلحت اسم ان۔ لہم جنت خبر ان۔ تجری من تحتھا الانھر۔ صفت جنت کی ھا ضمیر کا مرجع جنت ہے۔
ذلک الفوز الکبیر : ذلک یعنی باغات اور ان کے نیچے جاری نہروں کا حصول یہ بڑی کامیابی ہے۔ الفوز الکبیر موصوف و صفت مل کر صفت ذلک کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔
تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 2: اس آیت میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے اور فوز کبیر سے وہ لوگ بہرہ مند ہوں گے جو ایمان لے آئیں اور دل سے تسلیم کرلیں گے کہ اسلام کا نظام عمل صحیح اور درست ہے اور اس کے بعد عزیمت و استقلال کے ساتھ اس نظام پر عمل پیرا ہوں گے ۔ وہ نہیں جنہوں نے مال و دولت کی فراوانی کو کافی سمجھا ۔ اور سیم وزر کے انبار کو گھروں میں جمع کرکے رکھا اور اللہ کے ہر حکم کی مخالفت کی ۔
Read the full tafseer →(11) البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے تو ان کے لئے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی یہ بڑی کامیابی اور بڑی مراد ملنی ہے ۔ یعنی بہشت کے باغ عنایت ہوں گے جن میں نہریں بہتی ہونگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…
Read the full tafseer →جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ان کے لیے آخرت میں باغات ہیں
11 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی حکمتوں کو وہی سمجھ سکتا ہے کسی دوسرے کی سمجھ میں آنے والی یہ باتیں نہیں ہیں کہ ظالموں کو اس قدر ظلم کرنے کی جو اجازت دی جاتی ہے اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے اور کس حکمت کے تحت وہ ظلم پر ظلم کرتے جاتے ہیں لیکن ان پر مواخذہ نہیں ج ہوتا اور دوسری طرف مظلوموں کی اس حالت زار کو دیکھ کر کیونکر یہ برداشت کرلیا جاتا ہے اس میں جو حکمت پوشیدہ ہے اس کو کوئی نہیں جانتا اور اگر کوئی کچھ جانتا ہے تو وہ یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک آزمائش ہے اور امتحان ہے اور اس آزمائش اور امتحان سے کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہونے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
6 "Punishment by burning" has been mentioned separately from the torment of Hell because they had burnt the oppressed people to death by casting them into the pits of fire. Probably this will be a different and severer kind of fire from the fire of Hell in which those people will be burnt.
Read the full tafseer →