85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsانوار البیان

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

آسمان کی قسم جس میں برج ہیں

(85:1) والسماء ذات البروج : واؤ قسمیہ، السماء مقسم بہٖ ونیز موصوف۔ ذات البروج : مضاف مضاف الیہ مل کر صفت السماء کی۔ برجوں والا۔ برجوں سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) آسمان کے بارہ حصے۔ ان کا نام برج۔ ہر ایک پرستاروں کا پتہ، حدیں رکھی ہیں حساب کو۔ (موضح القرآن از شاہ عبد القادر 25:61) ۔ علم نجوم کو جاننے والوں نے ستاروں کے حساب سے آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے ہر ایک برج کی اپنی خصوصیات ہیں جن کے حساب سے ماہرین علم نجوم پیشین گوئیاں کرتے ہیں یہ برج یہ ہیں :۔ برج یا دیدم کہ از مشرق برآور دند سر جملہ در تسبیح و در تہلیل حق لایموت چوں حمل چوں ثور چوں جوزاء و طان و اسد سنبلہ، میزان و عقرب، و قوس وجدی و حوت (2) بعض کے نزدیک یہ بروج منازل قمر ہیں۔ (3) بعض کا خیال ہے کہ بروج بڑے ستاروں کو کہتے ہیں ۔ کیونکہ بروج کے لغوی معنی ظہور کے ہیں اور جو ستارے روشن اور ظاہر ہوں ان کو بروج کہتے ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ و مجاہد و ضحاک ، حسن، قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ اور یہ معنی مذاق عرب العرباء سے زیادہ چسپاں ہیں۔ (4) منھال بن عمرو کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں عمدہ پیدائش۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور قسم ہے آسمان برجوں والے کی۔
Ayah 85:2

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے

(85:2) والیوم الموعود۔ واؤ عاطفہ ، واؤ قسم محذوف ہے۔ اور قسم ہے الیوم الدعود کی۔ موصوف و صفت۔ وعدہ کئے ہوئے دن کی۔ یعنی روز قیامت کی۔
Ayah 85:3

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی

(85:3) وشاہد ومشھود یہ جملہ بھی عطفیہ ہے۔ اس کا عطف بھی السماء پر ہے۔ واؤ قسم محذوف ہے۔ اور قسم ہے شاہد اور مشہود کی۔ شاھد سے کیا مراد ہے :۔ لغت میں شاہد کے معنی سامنے ہونے والے کے ہیں۔ اور پاس آنے والے کے اور گواہی دینے والے کے۔ لفظ وسیع المعنی ہے اور اس کے کئی معنی ہیں۔ اس کے متعلق علماء کے متعدد اقوال ہیں :۔ (1) بعض علماء نے فرمایا کہ شاہد جمعہ کا دن ہے کہ ہر شہر اور ہر مسجد میں آتا ہے اور مشہور عرفہ کا دن ہے کہ تمام بلاد و اطراف سے حاجی وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ چونکہ جمہ ہر ہفتہ میں ایک بار اور عرفہ ہر سال آتا ہے اس لئے ان کو نکرہ لایا گیا ہے اور قیامت کا دن چونکہ ایک ہی ہے اس لئے معرف باللام لایا گیا ہے۔ (2) بعض مفسرین نے ہر ایک مجمع کو جو ذکر الٰہی اور دین کے لئے ہو مشہود اور جماعت کو شاہد بتایا ہے اس میں عیدین و جمعہ و عرفہ بھی شامل ہیں۔ (3) بعض علماء نے شاہد اور مشہود میں صرف گواہی کے معنی کا لحاظ کرکے کہا ہے کہ :۔ شاہد سے مراد حق سبحانہ و تعالیٰ بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ خود اس نے فرمایا ہے وکفی باللہ شھیدا (48:28) ب۔ نیز جملہ پیغمبر اور خاص آنحضرت ﷺ ہیں کیونکہ وہ قیامت میں گواہی دیں گے۔ ج۔ اور سورتوں میں مشہود توحید اور امت ہیں۔ د۔ انسان کے اعضاء بھی شاہد ہیں جیسا کہ فرمایا یوم تشھد علیہم السنتھم وایدیہم و ارجلہم (24:34) اس صورت میں مشہود انسان کی ذات ہوگی۔ وغیرہ۔ فائدہ : آیت 1 تا 2 میں جو قسمیں آئی ہیں ان کا جواب محذوف ہے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں بیان کی گئی ہیں :۔ (1) اس کا جواب محذوف ہے لتبعثن اونحوہ۔ یعنی جواب قسم لتبعثن (تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے) ہے یا ایسا کوئی اور کلام۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ جواب قسم ہے قتل اصحب الاخدود النار۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ کیونکہ قسم کا جواب بغیر لام کے بہت کم آتا ہے۔ (3) بعض کے نزدیک ان بطش ربک لشدید۔ جواب قسم ہے۔
Ayah 85:4

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دئیے گئے

(85:4) قتل افعل ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب ہے قتل کیا گیا۔ مارا گیا۔ برباد ہوا۔ بددعائیہ جملہ ہے۔ قتل ہو۔ مارا جائے۔ برباد ہو۔ کلام الٰہی میں بددعا سے مراد ہوتا ہے اللہ نے ان کے لئے قتل کیا جانا مقرر کردیا۔ یا اللہ کی رحمت سے ان کو دور کردیا گیا۔ اصحب الاخدود النار : اصحب مفعول مالم یسم فاعلہ ۔ مضاف ، الاخدود النار۔ موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ اخدود۔ کھائی، خندق۔ اخادید جمع۔ آگ کی خندق والے لوگ ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے خندقیں کھود کر ان میں آگ جلائی اور اپنا صحیح دین نہ چھوڑنے والوں کو ان میں جھونک دیا۔ فائدہ : اصحاب الاخدود کون تھے اس کے متعلق قرآن حکیم نے صریحا کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ محض ایک فرقہ مذہب کے دوسرے فرقہ مذہب پر ظلم و استبداد کی وضاحت کے لئے ایک عام مثال کو بیان کردیا ہے قرون وسطی کے یورپ میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں اسلئے جب قرآن نے متعین کرنے کی ضرورت کو چنداں اہمیت کرنے کی کوشش کی ہے اور اکثریت نے اسے ذونواس کے طرف منسوب کیا ہے ذونواس حمیری خاندان سے یمن کا آخری حکمران تھا۔ مذہب کا یہودی تھا۔ اس نے بخران کے عیسائی مذہب کے پیروکاروں کو جبرا اپنے دین سے منحرف ہوکر یہودیت قبول کرنے کی کوشش کی اور ان کے انکار پر بڑی بڑی خندقیں کھود کر اس میں آگ بھڑکا کر ان کو اس میں پھینک دیا
Ayah 85:5

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس کا ایندھن (جھونک رکھا) تھا

(85:5) النار ذات الوقود : ذات الوقود مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے النار کی۔ یعنی ایسی آگ جو ایندھن سے بھڑکائی گئی ہو۔ وقود بمعنی ایندھن۔ جیسے اور جگہ آتا ہے فاتقوا النار التی وقود ھا الناس والحجارۃ (2:24) تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے۔
Ayah 85:6

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جبکہ وہ ان (کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے

(85:6) اذھم علیہا قعود : اذ ظرف زمان ہے بمعنی جب، جبکہ ، جس وقت ، ظرف مکان یا حرف مفاجات میں بھی مستعمل ہے لیکن حق یہ ہے کہ اذ اور اذا دونوں اسم ظرف ہیں۔ جن کے لئے ظرفیت لازمی ہے یعنی اکثر مواقع ہو مفعول فیہ ہوتے ہیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع اصحب الاخدود ہے۔ یعنی ’ جب کہ وہ خود “ علیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع الاخدود ہے۔ قعود (باب نصر) مصدر بھی اور قاعد کی جمع بھی۔ بیٹھنے والے۔ قعود اور جلوس میں یہ فرق ہے کہ قعود کے اندر طول مکث کی قید معتبر ہے۔ یعنی قعود کا اطلاق دیر تک بیٹھنے کے لئے ہوتا ہے اور جلوس مطلق بیٹھنا ہے خواہ دیر تک ہو یا جلدی ختم ہوجائے۔ قرآن مجید میں جہاں بھی قعود آیا ہے یا اس کے مشتقات کا استعمال ہوا ہے وہاں یہی معنی ملحوظ ہیں۔ اذ ہم علیہا قعود۔ جب کہ وہ خود اس پر بیٹھے تھے۔
Ayah 85:7

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

(85:7) وہم علی ما یفعلون بالمؤمنین شھود : جملہ حالیہ ہے ترجمہ ہوگا :۔ درآنحالیکہ جو وہ مومنوں کے ساتھ کر رہے تھے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ما موصولہ یفعلون اس کا صلہ۔ بالمؤمنین شھود متعلق یفعلون ۔ شھود اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے۔ موجودین ، حاضرین۔ شاھد کی جمع، جیسے ساجد کی جمع سجود۔
Ayah 85:8

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے

(85:8) وما نقموا منھم : واؤ عاطفہ، ما نافیہ نقموا منھم : نقموا ماضی جمع مذکر غائب ۔ نقم باب ضرب مصدر۔ نقم ۔۔ منہ وعلیہ : کسی کو کسی چیز کا مجرم گرداننا۔ ملامت کرنا ۔ باب افتعال سے بمعنی انتقام لینا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور انہوں نے ان کو (یعنی مومنین کو) کسی عیب کا مجرم نہ پایا۔ الا (حرف استثنائ) سوائے اس کے کہ۔ ان یؤمنوا ماضی ہے اس لئے یؤمنوا مضارع (منصوب بوجہ عمل ان ) جمع مذکر غائب۔ اور ب تاویل مصدر مفعول ہے فعل نقموا کا۔ کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے۔ (چونکہ نقموا ماضی ہے اس لئے یؤمنوا (مضارع) بھی ماضی کے معنی میں ہے باللہ جار مجرور۔ اللہ پر۔ مطلب یہ ہے کہ ان مؤمنین کا جن کو آگ کی کھائیوں میں پھینک کر کفار نطارہ کر رہے تھے اور کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے۔ العزیز (ایسا غالب اور جو اتنا با اقتدار ہے کہ اس کے عذاب کا اندیشہ کیا جاتا ہے) الحمید (ایسا مستحق حمد محسن کہ اس سے ثواب کی امید کی جاتی ہے) دونوں باری تعالیٰ کی صفات ہیں۔
Ayah 85:9

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

وہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(85:9) الذی لہ ملک السموت والارض : یہ بھی باری تعالیٰ کی صفت ہے۔ اللہ وہ ذات ہے کہ جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ واللہ علی کل شیء شھید۔ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ جملہ سابقہ کی تاکید میں آیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔
Ayah 85:10

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

(85:10) ان الذین فتنوا المومنین والمؤمنت : ان حرف تحقیق حرف مشبہ بالفعل۔ الذین اسم موصول فتنوا المؤمنین والمؤمنت اس کا صلہ موصول مل کر اسم ان۔ ثم لم یتولوا اسم ان کے متعلق۔ فلہم عذاب جنھم : ان کی خبر۔ ولہم عذاب الحریق اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے یہ پہلے جملہ کا تاکید ہے۔ فتنوا ماضی جمع مذکر غائب فتنۃ (باب ضرب) مصدر۔ انہوں نے دکھ دیا ، انہوں نے ایذا دی۔ انہوں نے عذاب دیا۔ فتن کے لغوی معنی ہیں سونے کو آگ میں تپا کر کھوٹا کھرا جانچنا۔ یا آگ میں ڈالنا۔ قرآن مجید میں فتنۃ کے لفظ اور اس کے مشتقات کو مختلف معانی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً :۔ آزمائش کرنا۔ آزمائش میں ڈالنا۔ آفت۔ مصیبت۔ فساد ، ایذاء دکھ عذاب وغیرہ۔ المؤمنین والمؤمنات دونوں فتنوا کے مفعول ہیں۔ ثم لم یتبوا۔ ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ لم یتوبوا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر غائب۔ توب (باب نصر) مصدر۔ پھر توبہ نہیں کی۔ فلہم :بمعنی پھر۔ انجام کار۔ تو۔ عذاب الحریق : مضاف مضاف الیہ۔ حریق۔ آگ جلانے والی ۔ حرق باب نصر) مصدر سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے فاعل مفعول دونوں کے معنی دیتا ہے۔ یہاں اس آیت میں بمعنی آگ مستعمل ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک جن لوگوں نے ایداء دی مومن مردوں اور مومن عورتوں کو پھر تو بہ بھی نہ کی ۔ تو ان کے لئے جہنم کا عذاب اور جلانے والا عذاب بھی ہے۔
Ayah 85:11

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

(58:11) ان الذین امنوا وعملوا الصلحت لہم جنت تجری من تحھا الانھر : ان حرف تحقیق، حرف مشبہ بالفعل۔ الذین امنوا وعلموا الصلحت اسم ان۔ لہم جنت خبر ان۔ تجری من تحتھا الانھر۔ صفت جنت کی ھا ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ ذلک الفوز الکبیر : ذلک یعنی باغات اور ان کے نیچے جاری نہروں کا حصول یہ بڑی کامیابی ہے۔ الفوز الکبیر موصوف و صفت مل کر صفت ذلک کی۔
Ayah 85:12

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بیشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے

(85:12) ان بطش ربک لشدید : ان حرف مشبہ بالفعل۔ بطش مضاف اسم ان۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بطش کا۔ لام تاکید کا شدید خبر ان کی۔ بیشک تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہے۔ فائدہ : اوپر ایمان داروں کا ستانے والوں اور دکھ دینے والوں کے لئے عذاب جہنم اور عذاب حریق کا اور مؤمنوں اور اعمال صالح کرنے والوں کے لئے باٖات اور ان میں جاری و ساری نہروں کا ذکر کیا۔ اس کے بعد ان کے مترادف اپنی صفات ارشاد فرمائیں۔ کفار کی سزا کے مقابلہ میں فرمایا کہ اس کی گرفت بڑی مضبوط ہے اس سے کسی صورت چھٹکارا نہیں مل سکے گا۔ اور ایمان والوں کی نعمتوں کے مقابلہ میں اپنی چند صفات ارشاد فرمائیں :۔ (1) اس نے مخلوقات کو پہلی نیست سے ہست کیا۔ (2) اسی قدرت کاملہ سے وہ مرنے کے بعد نئی زندگی عطا کرے گا۔ (3) وہ غفور اور ودود ہے۔ (4) وہ صاحب عرش ہے۔ (5) وہ مجید ہے۔ (6) وہ فعال لما یرید ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے بلا تکلف کرسکتا ہے۔
Ayah 85:13

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

وہ پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ (زندہ) کرے گا

(85:13) انہ ھو یبدی ویعید : یبدی مضارع واحد مذکر غائب ابداء (افعال) مصدر سے وہ ایجاد کرتا ہے وہ تخلیق اول کرتا ہے۔ ب و ء مادہ۔ اسی مادہ سے باب افتعال سے : ابتداء بمعنی شروع کرنا ہے۔ یعید۔ مضارع معروف واحد مذکر غائب : اعادۃ (افعال) مصدر سے لوٹانا۔ اعادہ کرنا۔ دوبارہ پیدا کرنا۔ وہ دوبارہ پیدا کرے گا
Ayah 85:14

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے

(85:14) وھو الغفور الودود : غفور غفران سے (باب ضرب) مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بخشنے والا۔ غافر اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ بخشنے والا۔ ودود مودۃ (باب سمع) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ بہت محبت کرنے والا۔ بہت چاہنے والا۔ ثواب دینے والا۔ ود محبت کرنا۔ یہ بھی مصدر ہے۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہیں۔
Ayah 85:15

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک بڑی شان والا

(85:15) ذوالعرش مضاف مضاف الیہ۔ صاحب عرش، عرش والا۔ تخت والا۔ المجید بڑی شان والا۔ یہ دونوں بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہیں۔ مجد یمجد مجد ومجادۃ۔ کے معنی کرم و شرف اور بزرگی میں وسعت اور پہنائی کے ہیں۔ یہ دراصل مجدت الابل کے محاورہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اونٹوں کا کسی وسیع اور زیادہ چارے والی چراگاہ میں پہنچ جانا۔ المجید کے معنی ہیں وہ ذات جو اپنے فضل و کرم سے نوازنے میں نہایت وسعت اور فراخی سے کام لینے والی ہو۔ قرآن مجید کی صفت میں بھی المجید آیا ہے کیونکہ قرآن پاک بھی تمام دنیوی و اخروی مکارم پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جلیل القدر کتاب ہے۔ چناچہ اسی سورة میں ارشاد باری تعالیٰ ہے بل ھو قرآن مجید۔
Ayah 85:16

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

جو چاہتا ہے کردیتا ہے

(85:16) فعال لما یرید : فعال فعل مصدر سے مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر ہے بہت کام کرنے والا۔ یعنی جب بھی جس کام کو وہ کرنا چاہے اسے بلا روک ٹوک کر گزرتا ہے کوئی اس کے کام میں مانع نہیں ہوسکتا۔ زبردست کام کرنے والا۔ خود مختاری سے کام کرنے والا۔ ما یرید۔ ما موصولہ یرید مضارع صیغہ واحد مذکر غائب اس کا صلہ ارادۃ (افعال) مصدر۔ فقال مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھو فعال : لما یرید متعلق خبر۔
Ayah 85:17

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے

(85:17) ہل اتک حدیث الجنود۔ جملہ استفہام تقریری ہے۔ تمہارے پاس لشکروں کا قصہ آہی چکا ہے۔
Ayah 85:18

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ثمود کا

(85:18) فرعون وثمود : یہ الجنود سے بدل ہے یا جنود محذوف ہے یعنی فرعون اور ثمود کی فوجوں کا قصہ۔ مطلب یہ کہ فرعون اور ثمود اور ان کے لشکروں کا حال تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ کفرو عناد میں وہ کسی حد تک پہنچ گئے تھے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ کیا بیتی ؟ اور خدا کی طرف سے ان پر کیسا عذاب نازل ہوا۔ ایک کو دریا میں غرق کرکے ہلاک کردیا گیا ۔ اور دوسرے کو ایک زلزلہ نے آلیا۔ اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ فائدہ : اوپر آیات 12 تا 16 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چند صفات ارشاد فرمائیں کہ اس کی گرفت (جب وہ پکڑنا چاہے) نہایت شدید ہے مخلوقات کو اس نے اولا پیدا کیا اور اسے پھر دوبارہ بھی (مر نے بعد) زندہ کرے گا۔ وہ غفور ہے۔ ودود ہے صاحب عرش ہے عظیم المرتبت ہے اور یہ کہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے اسے کر گزرتا ہے کوئی اس کے ارادہ کی تکمیل میں روکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ یہ صفات ذہن نشین کرانے کے بعد وہ ٹھوس مثالیں بیان ہوئیں :۔ ایک فرعون کی کہ وہ اپنے جاو و حشم کے بل بوتے پر خدائی کا دعوی رکھتا تھا ۔ لیکن باوجود اتنی کروفر کے ذلیل موت مارا گیا اور اپنے لشکر جرار کے ہمراہ سمندر میں ڈبو کر ہلاک کردیا گیا۔ (79:15 تا 26) اور (7:133 تا 136) وغیرہ۔ قرآن مجید میں قوم ثمود کی ہلاکت کو کہیں رجفۃ زلزلہ (7:78) کہیں صاعقۃ کڑک (41:17) اور کہیں صحیۃ چیخ (15:83) سے تعبیر کیا ہے۔ یہ مثالیں یعنی فرعون کی غرقابی اور قوم ثمود کی بربادی اہل مکہ کے علم میں تھیں۔ کانت قصتھم عند اہل مکۃ مشھورۃ۔ ان کی کہانی اہل مکہ میں مشہور و معروف تھیں ۔ لہٰذا کفار مکہ کو چاہیے تھا کہ ان سے عبرت حاصل کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ انہوں نے قرآن کی اور نبی کریم ﷺ کی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر تکذیب کا ارتکاب کیا۔
Ayah 85:19

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں

(85:19) بل الذین کفروا فی تکذیب : بل حرف اضراب ہے ماقبل کی حالت کو برقرار رکھے ہوئے مابعد کے حکم کو اس پر اور زیادہ کیا گیا ہے۔ الذین کفروا موصول و صلہ ۔ مراد اس سے کفار مکہ ہیں ۔ ای من قومک یا محمد ﷺ ۔ (الخازن) تکذیب جھٹلانا، جھوٹ کی طرف منسوب کرنا۔ بروزن تفعیل مصدر ہے۔ فی تکذیب : ای فی تکذیب لک وللقران کما کذب من کان قبلہم من الامم ولم یعتبروا بمن اھلکنا منہم۔ یعنی آپ کی اور قرآن حکیم کی تکذیب میں اس طرح منہمک ہیں جس طرح ان سے پہلی امتیں (اپنے پیغمبروں اور کتب سماوی کی) تکذیب میں لگی رہتی تھیں۔ لیکن ان میں سے جن (پہلی امتوں) کو ہم نے (ان کے اس فعل پر) ہلاک کردیا ان سے انہوں نے سبق حاصل نہ کیا اس لئے یہ مکہ والے کافر لوگ پہلی امتوں کے کفار سے سزا کے زیادہ مستحق ہیں۔ کیونکہ جو ظواہر و شواہد ان کے سامنے ہیں ان کے سامنے موجود نہ تھے۔ علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ بلکہ (اے محمد ﷺ ) تمہاری قوم کے یہ کافر تو نزول عذاب کے گزشتہ اقوام اور سابق امتوں کے مقابلہ میں سزا کے زیادہ مستحق ہیں۔ انہوں نے تو گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے قصے سن بھی لئے اور ان کی بربادی کے نشانات بھی دیکھ لئے اس کے باوجود یہ قرآن کی تکذیب میں اس قدر منہمک ہیں کہ پچھلے کافر تکذیب انبیاء میں اتنا انہماک نہیں رکھتے تھے۔ گزشتہ آسمانی کتابیں نہیں تھیں اور قرآن کی عبارت بھی معجزہ ہے۔ تکذیب میں تنوین تعظیم ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 85:20

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور خدا (بھی) ان کو گردا گرد سے گھیرے ہوئے ہے

(85:20) واللہ من ورائھم محیط۔ جملہ حالیہ ہے کفروا کے فاعل سے حال ہے وراء مصدر ہے بمعنی آگے ہونا۔ ہر طرف ہونا۔ سوا ہونا۔ ورآئہم ان کے ہر طرف۔ محیط : احاطۃ (افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے ہر طرف سے گھیرنے والا۔ ہر طرف سے گرفت میں رکھنے والا۔ ایسا قابو میں رکھنے والا کہ اس سے چھوٹ جانا ناممکن ہو۔ اور حال یہ ہے کہ وہ ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔
Ayah 85:21

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

(85:21) بل ھو قرآن مجید : بل حرف اضراب ہے ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے یعنی ان کفار مکہ کی جانب سے قرآن مجید کی تکذیب صحیح نہیں کہ کبھی اس کو کسی کاہن کا کلام کہہ دیا کبھی من گھڑت کلام سے تعبیر کیا اور کبھی یہ کہا کہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے یوں نہیں بلکہ یہ تو قرآن بڑی شان والا ہے عظیم المرتبت ہے۔ تفسیر خازن میں ہے :۔ ای کریم شریف، کثیر النفع والخیر لیس ھو کما زعم المشرکون انہ شعر و کھانۃ۔ یعنی کریم ہے۔ شریف ہے کثیر النفع والخیر اور مشرکین کے زعم کے مطابق نہ تو یہ شاعر انہ کلام ہے اور نہ کسی کاہن کا کلام۔
Ayah 85:22

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)

(85:22) فی لوح محفوظ۔ صفت ہے لوح کی۔ جو ایسی لوح میں لکھا ہوا ہے جو محفوظ ہے یعنی شیطان کی دسترس اور کمی بیشی سے محفوظ ہے۔