85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsبیان القرآن

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے برجوں والے آسمانوں کی (مراد برجوں سے بڑے بڑے ستارے ہیں) ۔

Ayah 85:2

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور قسم ہے وعدہ کیے ہوئے دن کی۔

Ayahs 85:3–7

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والی کی اور قسم ہے اس (دن) کی جس میں لوگوں کی حاضری ہوتی ہے۔ (ف 6)

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندق والے یعنی بہت سے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

ایندھن کی آگ والے ملعون ہوئے۔

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جس وقت وہ لوگ اس (آگ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو کچھ مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے۔

ف 6۔ حدیث ترمذی میں مرفوعا ہے کہ یوم معود قیامت کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن، لیکن علی قول المشہور وہ یوم عرفہ ہے جس میں حجاج اپنے اپنے مقامات سے سفر کر کے عرفات میں اس یوم کے قصد سے جمع ہوتے ہیں، تو گویا وہ دن مقصود اور دوسرے لوگ حاضری کا قصد کرنے والے ہیں۔
Ayahs 85:8–22

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور ان کافروں نے ان مسلمانوں میں کوئی عیب نہیں پایا بجز اس کے کہ وہ خدا پر ایمان لے آئے تھے (ف 1) جو زبردست (اور) سزاوار حمد ہے۔

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

ایسا کہ اس کی ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور (آگے ظالموں کے لیے عام و عید ہے اور مظلوموں کے لیے عام وعدہ ہے اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

جنہوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو تکلیف پہنچائی (اور) پھر توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور (جہنم میں بالخصوص) ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

(آگے مومنین کے حق میں جن میں مظلومین بھی آگئے ارشاد ہے کہ) بیشک جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے (بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور) یہ بڑی کامیابی ہے۔

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

آپ کے رب کی دارو وگیر بڑی سخت ہے (پس کفار پر سزائے شدید کا واقع ہونا مستبعد نہیں اور نیز) ۔

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ (قیامت میں بھی) پیدا کرے گا۔

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہی بخشنے والا (اور) بڑی محبت کرنے والا۔

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

(اور عرش کا مالک (اور) عظمت والا ہے۔

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

وہ جو چاہے سب کچھ کر گزر تا ہے۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

کیا آپ کو ان لشکروں کا قصہ پہنچا ہے۔

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

یعنی فرعون اور ثمود کا۔

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

بلکہ یہ کافر (خود قرآن کی) تکذیب میں (لگے) ہیں۔

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور انجام کار اس کی سزا بھگتیں گے کیوں کہ اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے۔

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(قرآن ایسی چیز نہیں جو جھٹلانے کے قابل ہو) بلکہ وہ ایک با عظمت قرآن ہے۔

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ کہہ کر وہ پتھر مارا شیر کے لگا، اور وہ ہلاک ہوگیا لوگوں میں چرچا ہوا کہ اس لڑکے کو کوئی عجیب علم آتا ہے، کسی اندھے نے سنا تو اس نے لڑکے سے آکر کہا کہ میری آنکھیں اچھی ہوجائیں، لڑکے نے دعا کی کہ وہ بینا ہو کر مسلمان ہوگیا۔ بادشاہ کو یہ خبریں پہنچیں تو اس نے لڑکے اور راہب اور اندھے کو جو اب بینا تھا گرفتار کرا کر بلایا۔ راہب اور اندھے کو شہید کرادیا اور لڑکے کے لئے حکم دیا کہ پہاڑ سے گرایا جائے، گر جو لوگ اس کو لے گئے تھے وہ خود گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح وسالم واپس آیا، پھر بادشاہ نے سمندر میں غرق کرنے کا حکم دیا وہ اس سے بھی بچ گیا اور جو لوگ اس کو ڈبونے لے گئے تھے وہ سب غرق ہوگئے، یہ دیکھ کر بادشاہ سخت مضطرب ہوا، لڑکا بادشاہ سے کہنے لگا کہ مجھ کو بسم اللہ کہہ کر تیر مارو تو میں مرجاوں گا۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا تو لڑکا عازم فردوس ہوگیا، یہ حالت دیکھ کر یکلخت عامة الناس کی زبان سے نعرہ بلند ہوا کہ ہم سب اللہ پر ایمان لاتے ہین، یہ دیکھ کر بادشاہ بد حواس ہوگیا اور حالت غیظ میں ارکان سلطنت سے مشورہ کیا۔ چناچہ ان کی صلاح سے بڑی بڑی خندقیں آگ سے بھروا کر اعلان کردیا کہ جو شخص اسلام سے نہ پھرے گا اس کو آگ میں جلا دیا جائے گا۔