85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 85:1–7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے برجوں والے آسمان کی،

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور قسم ہے وعدہ کیے ہوئے دن کی،

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور قسم ہے حاضر ہونے والے دن کی، اور قسم ہے اس دن کی جس میں لوگوں کی حاضری ہوتی ہے

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندق والے ملعون ہوئے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

جس میں آگ ہے بہت ایندھن والی

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جس وقت وہ لوگ اس آگ کے پاس پاس بیٹھے ہوئے تھے

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور وہ جو کجھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے

ان آیات میں اللہ جل شانہ نے آسمان کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت ذات البروج بتائی ہے (ان بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد ہیں) نیز ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ002﴾ کی اور شاہد اور مشہود کی بھی قسمیں کھائی ہیں، سنن ترمذی (ابواب التفسیر من سورة البروج) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ﴾ سے یوم القیامة اور الیوم المشھود سے یوم عرفہ اور الشاھد سے یوم الجمعہ مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس پر سورج نکلتا چھپتا ہو جو یوم جمعہ سے افضل ہو، اس دن میں ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی کوئی مومن بندہ اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرے گا تعالیٰ اسے ضرور قبول فرمائے گا اور جس چیز سے بھی اللہ کی پناہ طلب کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے ضرور پناہ دے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جو قسمیں کھائی ہیں جس میں امکنہ وازمنہ دونوں کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام امکنہ وازمنہ کا مالک ہے، ایسی ذات کی مخالفت کرنے والے بہرحال لعنت اور عقوبت کے مستحق ہیں۔ قسموں کے بعد ارشاد فرمایا کہ خندق والے ملعون ہوئے، یہ خندق سراپا آگ بنی ہوئی تھی خوب زیادہ ایندھن والی تھی جبکہ یہ لوگ اس خندق کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور اہل ایمان کے ساتھ جو حرکتیں کر رہے تھے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، اس خندق میں انہوں نے بہت زیادہ ایندھن ڈال رکھا تھا، آگ جل رہی تھی اور اس میں اہل ایمان کو ڈالتے جا رہے تھے۔ صحیح مسلم (صفحہ 415، ج 2) میں ہے کہ حضرت صہیب ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ان میں سے ایک بادشا تھا اس کا ایک جادوگر تھا، وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میری عمر تو زیادہ ہوگئی میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دے اسے میں جادو سکھا دوں، بادشاہ نے اس کے پاس جادو سیکھنے کے لیے ایک لڑکا بھیج دیا، یہ لڑکا جادو سیکھنے جاتا تو راستہ میں ایک راہب کے پاس سے گزرتا تھا، ایک مرتبہ اس کے پاس بیٹھ گیا اس کی باتیں سنیں تو اسے پسند آئیں، اب اس کے بعد بھی جب جادوگر کی طرف جاتا تو راہب پر گزرتا اور اس کے پاس بیٹھ جاتا پھر جب جادو گر کے پاس جاتا تو وہ اس کی پٹائی کرتا تھا کہ دیر سے کیوں آیا اس نے اپنی یہ مصیبت راہب کو بتائی، راہب نے کہا کہ تو ایسا کر کہ جب جادوگر کی طرف سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو یوں کہہ دیا کر کہ مجھے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والوں کی طرف سے پوچھ تاچھ کا اندیشہ ہو تو یہ کہہ دیا کر کہ جادوگر نے روک لیا تھا، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا ایک دن یہ واقعہ پیش آیا کہ راستے میں جاتے ہوئے ایک بڑا جانور سامنے آگیا جو لوگوں کا راستے روکے ہوئے تھے اس لڑکے نے کہا کہ آج پتہ چل جائے گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب، یہ سوچ کر اس نے ایک پتھر لیا اور یہ دعا کر کے اس جانور کو مار دیا کہ : اللھم ان کان امر الراھب احب الیک من امر الساحر فاقتل ھذا الدابة حتی یمضی الناس (اے اللہ راہب کا طریق کار آپ کے نزدیک جادوگر کے طریق کار کے مقابلہ میں محبوب ہے تو اس جانور کو قتل کر دیجئے تاکہ لوگ گزر جائیں) ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس پتھر سے وہ جانور قتل ہوگیا اور جن لوگوں کا راستہ روکے ہوئے تھا وہ وہاں سے گزر گئے، اس کے بعدیہ ہوا کہ یہ لڑکا راہب کے پاس پہنچا اور اسے صورت حال کی خبر دی، راہب نے کہا اے پیارے بیٹے، اب تو تو مجھ سے افضل ہوگیا تو اس درجہ پر پہنچ گیا جو میں دیکھ رہا ہوں تو اگلی بات سن لے اور وہ یہ کہ اب تیرا امتحان لیا جائے گا (اور تو مصیبت میں مبتلا ہوگا) ایسی صورت پیش آئے تو میرے بارے میں کسی کو نہ بتانا۔ اب اس لڑکے کو اللہ تعالیٰ نے (مزید یوں نوازا) کہ وہ مادر زاد اندھے کو اور برص والوں کو اچھا کرتا تھا (یعنی ان کے حق میں دعا کردیتا تھا اور ان کو شفا ہوجاتی تھی) اس کا یہ حال بادشاہ کے پاس بیٹھنے والے ایک شخص نے سن لیا جو نابینا ہوچکا تھا۔ یہ شخص لڑکے کے پاس بہت سے ہدایا لایا اور اس سے کہا کہ اگر تو مجھ کو شفا دے دے تو یہ سب تیرے لیے ہیں لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا شفا تو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اگر تو اللہ پر ایمان لائے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دوں گا وہ تجھے شفا دے دے گا۔ وہ شخص اللہ پر ایمان لے آیا، اللہ نے اسے شفا دے دی، اب وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اور حسب دستور بادشاہ نے کہا کہ میرے علاوہ تیرا کوئی رب ہے، اس شخص نے کہا کہ میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے اس پر اس شخص کو پکڑ لیا اور اسے برابر تکلیف پہنچاتا رہا یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا نام بتادیا۔ اب لڑکے کو لایا گیا اس بادشاہ نے کہا کہ اے بیٹا تیرا جادو اس درجہ کو پہنچ گیا کہ تو مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اچھا کرتا ہے اور ایسے ایسے کام کرتا ہے، لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفاء نہیں دیتا شفاء صرف اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے، اس پر بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور اسے برابر تکلیف دیتا رہا، حتیٰ کہ اس نے یہ بتادیا کہ فلاں راہب سے میرا تعلق ہے (اور اس کے پاس آنے جانے کی وجہ سے مجھے یہ بات حاصل ہوئی ہے) اس کے بعد راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ تو اپنے دین کو چھوڑ دے اس نے انکار کردیا، لہٰذا ایک آرہ منگایا گیا جو اس کے سر کے درمیان میں رکھ دیا گیا اور اسے درمیان سے چیر کر دو ٹکڑے کردیا گیا، دونوں ٹکڑے زمین پر گرگئے، اس کے بعد بادشاہ کے اسی ہمنشیں کو لایا گیا (جو اس لڑکے کے دعوت دینے سے ایمان قبول کرچکا تھا اور لڑکے کی دعا سے اس کی بینائی واپس آگئی تھی) اس سے کہا گیا کہ تو ایمان سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا لہٰذا اس کے سر کے درمیان آرہ رکھ کر چیر دیا گیا اس کے دو ٹکڑے ہوگئے اور وہ زمین پر گرپڑا، اس کے بعد اس لڑکے کو لایا گیا اس سے کہا گیا کہ تو اپنے دین کو چھوڑ دے (یعنی ایمان سے پھر جا جو راہب کی صحبت میں آنے جانے سے حاصل ہوا تھا) لڑکے نے بھی ایمان سے پھرنے سے انکار کردیا، لہٰذا اسے بادشاہ نے اپنے چند آدمیوں کے حوالہ کیا اور ان سے کہا کہ اسے فلاں فلاں پہاڑ پر لے جاؤ، اسے پہاڑ پر لیکر چڑھو جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاؤ تو اس سے کہو کہ اپنے دین سے پھر جا، اگر یہ بات مان لے تو چھوڑ دینا ورنہ اسے وہیں سے نیچے پھینک دینا، وہ لوگ اس لڑکے کو پہاڑ پر لے کر چڑھے لڑکے نے دعا کی : اللھم اکفنیھم بما شئت (اے اللہ ! تو جس طرح چاہے ان لوگوں (کے شر) سے میرے لیے کافی ہوجا) اس کا دعا کرنا تھا کہ پہاڑ میں زلزلہ آگیا اور جو لوگ اسے لے کر گئے تھے وہ سب ہلاک ہوگئے اور لڑکا بچ گیا اور بادشاہ کے پاس چل کر آگیا، بادشاہ نے پوچھا کہ ان لوگوں کا کیا ہوا جو تجھے لے کر گئے تھے، لڑکے نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے شر سے محفوظ فرما لیا۔ اس کے بعد چند دیگر افراد کے حوالہ کیا اور کہا اس لڑکے کو لے جاؤ اور ایک کشتی میں سوار کرو اور کشتی کو سمندر کے بیچ میں لے جاؤ اگر یہ اپنا دین چھوڑ دے تو کوئی بات نہیں ورنہ اسے سمندر میں پھینک دینا وہ لوگ اسے لے گئے اور کشتی میں بٹھا کر سمندر کے درمیان پہنچ گئے اس لڑکے نے وہی دعا کی : اللھم اکفنیھم بما شئت دعا کرنا تھا کہ کشتی الٹ گئی اور وہ لوگ غرق ہوگئے لڑکا بچ گیا اور بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے کہا کہ ان لوگوں کا کیا ہوا جو تجھے لے گئے تھے، لڑکے نے کہا کہ اللہ میرے لیے کافی ہوگیا اس نے مجھے ان کے شر سے بچا لیا۔ اس کے بعد لڑکے نے کہا کہ تو مجھے (اپنی تدبیر سے) قتل نہیں کرسکتا ہاں قتل کا ایک راستہ ہے وہ میں تجھے بتاتا ہوں، بادشاہ نے کہا وہ کیا طریقہ ہے ؟ لڑکے نے کہا وہ یہ طریقہ ہے کہ تو لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر اور مجھے درخت کے تنے پر لٹکا دے اور میرے اس ترکش سے ایک تیر لے اور پھر اسے کمان میں رکھ کر بسم اللّٰہ رب الغلام کہتے ہوئے میرے طرف پھنک دے (لڑکے نے یہ سمجھ کر کہ مجھے مرنا تو ہے ہی اپنی موت کو دعوت ایمان کا ذریعہ کیوں نہ بنا دوں لہٰذا اس نے یہ تدبیر بتائی کہ لوگوں کے سامنے میرا قتل ہو اور اللہ کا نام لے کر قتل کیا جاؤں، بادشاہ بدھو تھا اس تدبیر کو سمجھ نہ سکا) چناچہ اس نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور لڑکے کو درخت کے تنے سے لٹکا دیا اور اس کے ترکش سے ایک تیر لیا اور کمان میں تیر رکھ کر بسم اللہ رب الغلام کہہ کر لڑکے کو تیر مار دیا، تیر اس کی کنپٹی پر لگا، لڑکے نے تیر کی جگہ ہاتھ رکھا اور مرگیا، لوگوں نے جو یہ ماجرا دیکھا تو امنا برب الغلام کی رٹ لگانے لگے (یعنی ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے) ۔ اب بادشاہ کے پاس اس کے آدمی آئے اور انہوں نے کہا کہ تجھے جس بات کا خطرہ تھا (کہ اس لڑکے کی وجہ سے حکومت نہ چلی جائے) وہ تو اب حقیقت بن کر سامنے آگیا۔ اس پر بادشاہ نے حکم دیا کہ گلی کوچوں کے ابتدائی راستوں میں خندقیں کھودی جائیں، چناچہ خندقیں کھودی گئیں اور ان میں خوب آگ جلائی گئی، بادشاہ نے اپنے کارندوں سے کہا کہ جو شخص اپنے دین ایمان سے نہ لوٹے اسے آگ میں ڈال دو ، چناچہ ایسا ہی ہوتا رہا، اہل ایمان لائے جاتے رہے، ان سے کہا جاتا تھا کہ ایمان سے پھر جاؤ وہ انکار کردیتے تو انہیں زبردستی جلتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ ایک بچہ تھا وہ آگ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگی اس کے بچے نے کہا کہ اے امی آپ صبر کیجئے کیونکہ آپ حق پر ہیں۔ سنن ترمذی (ابواب التفسیر) میں بھی یہ واقعہ مروی ہے اس کے شروع میں یہ بھی ہے کہ بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو بطور کہانت آئندہ آنے والی باتیں بتایا کرتا تھا (ان باتوں میں سے یہ بھی تھا کہ تیری حکومت جانے والی ہے) اور اسی کاہن نے یہ بھی کہا کہ کوئی سمجھدار لڑکا تلاش کرو، جسے اپنا علم سکھا دوں اور ختم کے قریب یہ بھی ہے کہ جب عامۃ الناس نومن برب الغلام کہہ کر مسلمان ہوگئے تو بادشاہ سے کہا گیا کہ تو تو تین آدمیوں کی مخالفت سے گھبرا اٹھا تھا (یعنی راہب اور لڑکا اور بادشاہ کا ہم نشین) دیکھ اب تو یہ سارا جہاں تیرا مخالف ہوگیا اس پر اس نے خندقیں کھدوائیں ان میں لکڑیاں ڈالیں اور اعلان کیا کہ جو شخص اپنے دین (یعنی اسلام) کو چھوڑ دے گا ہم اسے کچھ نہ کہیں گے اور جو اپنے دین سے واپس نہ ہوگا اسے ہم آگ میں ڈال دیں گے لہٰذا وہ اہل ایمان کو ان خندقوں میں ڈالتا رہا، اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو ﴿ قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ004﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ سنن ترمذی میں قصہ کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اس لڑکے کو دفن کردیا گیا تھا پھر اسے حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے زمانہ میں نکالا گیا تو اس کی انگلی اسی طرح کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی جیسا کہ اس نے قتل ہوتے وقت رکھی تھی۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے مقاتل (رح) سے نقل کیا ہے کہ خندقوں کا واقعہ تین مرتبہ پیش آیا ہے ایک مرتبہ یمن میں اور ایک مرتبہ شام میں اور ایک مرتبہ فارس میں شام میں جو بادشاہ تھا وہ الطنایوس رومی تھا اور فارس میں جو واقعہ پیش آیا وہ بخت نصر کے زمانہ میں تھا عرب کی سرزمین (یعنی یمن نجران) میں جو واقعہ پیش آیا وہ یوسف ذونواس بادشاہ کے زمانہ کا واقعہ ہے پہلے دو واقعوں کا قرآن مجید میں ذکر نہیں اور نجران والے واقعہ کے بارے میں سورة البروج کی آیات نازل ہوئیں، اس کے بعد بحوالہ ابن ابی حاتم، حضرت ربیع بن انس سے نقل کیا ہے کہ اصحاب الاخدود کا واقعہ زمانہ فترہ میں پیش آیا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کے بعد اور رسول اللہ ﷺ سے پہلے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (ابن کثیر)
Ayahs 85:8–9

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور ان کافروں نے ان مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہیں پایا تھا بجز اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست ہے اور سزاوار حمد ہے،

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

ایسا کہ اسی کی سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

﴿وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ﴾ میں یہ بتایا کہ لوگوں نے جن اہل ایمان کو تکلیف دی آگ میں ڈالا انہوں نے کوئی چوری نہیں کی ڈاکہ نہیں ڈالا، کسی کا مال نہیں لوٹا، ان سے ناراض ہونے کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، ایمان لانا کوئی جرم کی بات نہیں ہے انسان کے فرائض میں سے ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک پر ایمان لائے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کرے، بجائے اس کے کہ خندقیں کھودنے والے خود ایمان لاتے، ایمان لانے والوں پر اپنا غصہ اتارا اور انہیں آگ میں ڈالا یہاں پہنچ کر حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی ؓ کا واقعہ یاد آگیا جسے حافظ ابن حجر ؓ نے الاصابہ میں لکھا ہے اور یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کو ایک لشکر کے ساتھ رومیوں سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا ان حضرات کو رومیوں نے قید کیا اور ان کو اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے اور بادشاہ سے کہا کہ ان میں سے ایک شخص وہ بھی ہے جو (سیدنا) محمد ﷺ کے ساتھ رہا ہے یہ بادشاہ عیسائی تھا اس نے حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ سے گفتگو کی جس کے سوال و جواب اور پورا قصہ درج کیا جاتا ہے۔ عیسائی بادشاہ : میں تم کو اپنی حکومت اور سلطنت میں شریک کرلوں گا اگر تم عیسائی مذہب قبول کرلو۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ : تیری حکومت تو کچھ بھی نہیں اگر تو اپنی حکومت دے دے اور سارے عرب والے بھی مل کر مجھے اپنا ملک صرف اس شرط پر دینا چاہیں کہ پلک جھپکنے کے برابر جتنا وقت ہوتا ہے صرف اتنی دیر کے لیے بھی دین محمدی ﷺ سے پھر جاؤں تو میں ہرگز ایسا نہیں کرسکتا۔ عیسائی بادشاہ : اگر تم عیسائی مذہب قبول نہیں کرتے تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ : تو چاہے تو قتل کر دے میں اپنی بات ایک مرتبہ کہہ چکا ہوں، نہ اس میں کسی ترمیم کی گنجائش ہے اور نہ سوچنے سے دوسری رائے بدل سکتی ہے بلکہ وہ ایسا حق ہے کہ اس کے خلاف سوچنا بھی مومن بندہ کبھی گوارا نہیں کرسکتا۔ یہ سن کر عیسائی بادشاہ نے ان کو صلیب (سولی) پر چڑھوا دیا اور اپنے آدمیوں سے کہا کہ اس کے ہاتھ اور پاؤں میں تیر مارو اور یہ سمجھ لو کہ اس کو قتل کرنا مقصود نہیں ہے، بلکہ تکلیف دے کر عیسائیت قبول کروانا مقصود ہے، چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، اللہ کا یہ بندہ صرف اس بات کا مجرم تھا کہ اللہ کو مانتا تھا اور اس کے بھیجے ہوئے دین حق کو ماننے والا تھا، بادشاہ کے آدمیوں نے تیر مارنے شروع کردیئے، تیر مارتے جاتے اور کہتے جاتے کہ اب بھی ہمارا مذہب مان لے اور دین محمدی کو چھوڑ اور وہ اللہ کا بندہ یہی کہتا جاتا تھا کہ جو مجھے کہنا تھا کہہ چکا اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ جب اس ترکیب سے حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ کا ایمان غارت کرنے میں ناکام ہوگئے تو اس عیسائی بادشاہ نے کہا کہ ان کو سولی سے اتار لو اور ایک دیگ میں خوب پانی گرم کرو اور ان کو دیگ کے پاس کھڑا کر کے ان کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی کو ان کے سامنے اس دیگ میں ڈال دو ۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور حضرت عبداللہ بن حذافہ کے سامنے ان کا ایک ساتھی دیگ میں ڈالا گیا جس کی جان ان کے سامنے نکلی اور گوشت و پوست جلا اور ہڈیوں کے جوڑ جوڑ علیحدہ ہوئے، اس درمیان میں بھی حضرت عبداللہ بن حذافہ کو عیسائیت قبول کرنے کی ترغیب دیتے رہے اور جان بچانے کا لالچ دلاتے رہے۔ الحاصل جب وہ عیسائیت قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے تو بادشاہ نے ان کو اس جلتی ہوئی دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا، چناچہ دیگ کے پاس گئے اور جب ان کو ڈالنے لگے تو وہ رونے لگے۔ بادشاہ کو خبر دی گئی کہ وہ رو رہے ہیں، بادشاہ نے سمجھا کہ وہ موت سے گھبرا گئے اب تو ضرور عیسائی مذہب قبول کرلیں گے۔ چناچہ ان کو بلا کر اس نے پھر عیسائی ہونے کی ترغیب دی مگر انہوں نے اب بھی انکار کیا۔ عیسائی بادشاہ : اچھا یہ بتاؤ کہ تم روئے کیوں ؟ حضرت عبداللہ بن حذافہ : میں نے کھڑے کھڑے سوچا کہ اب میں اس وقت اس دیگ میں ڈالا جا رہا ہوں تھوڑی دیر میں جل بھن کر ختم ہوجاؤں گا اور ذرا دیر میں جان جاتی رہے گی۔ افسوس کہ میرے پاس صرف ایک ہی جان ہے کیا اچھا ہوتا کہ آج میرے پاس اتنی جانیں ہوتیں جتنے میرے جسم میں بال ہیں وہ سب اس دیگ میں ڈال کر ختم کردی جائیں۔ اللہ کی راہ میں ایک جان کی کیا حیثیت ہے۔ عیسائی بادشاہ : میرا ماتھا چوم لو گے تو تمہارے ساتھ سب ہی کو چھوڑ دوں گا۔ حضرت عبداللہ اپنی جان بچانے کے لیے اس پر بھی تیار نہ تھے کہ اس کا ماتھا چوم لیتے (کیونکہ اس سے کفر کی عزت ہوتی ہے) لیکن اس بات کا خیال کرتے ہوئے کہ میرے اس عمل سے سارے مسلمانوں کی رہائی ہوجائے گی اس کا ماتھا چومنے پر راضی ہوگئے اور قریب جا کر اس کا ماتھا چوم لیا۔ اس نے ان کو اور ان کے تمام ساتھیوں کو رہا کردیا۔ جب حضرت عبداللہ مدینہ منورہ پہنچے تو امیر المومنین حصرت عمر ؓ نے پورا قصہ سنا اور پھر فرمایا کہ چونکہ انہوں نے مسلمانوں کی رہائی کے لیے ایک کافر کا ماتھا چوما ہے اس لیے ضروری ہے کہ اب ہر مسلمان ان کا ماتھا چومے، میں سب سے پہلے چومتا ہوں چناچہ سب سے پہلے حضرت عمر ؓ نے ان کا ماتھا چوما۔ اہل ایمان سے دشمنی رکھنے والے صرف اپنے اقتدار کو دیکھتے ہیں اور قادر مطلق جل مجدہ کی قدرت کی طرف نظر نہیں کرتے وہ قادر بھی ہے اور اسے ہر بات کا علم بھی ہے اس کے بندوں کے ساتھ جو بھی زیادتی کرے گا وہ اس کی سزا دے دے گا کوئی شخص یوں نہ سمجھے کہ میرا ظلم یہیں رہ جائے گا اس کی اللہ تعالیٰ کو خبر نہ ہوگی ایسا سمجھنا جہالت ہے۔ آیت کے ختم پر اس مضمون کو بیان فرما دیا ﴿ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌؕ009﴾ (اور اللہ ہر چیز سے پورا باخبر ہے) ۔
Ayah 85:10

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچائی پھر توبہ نہ کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے،

یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف میں ڈالا الفاظ کا عموم اصحاب الاخدود کو بھی شامل ہے اور ان کے علاوہ دیگر دشمنان اہل ایمان کو بھی۔ ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے درمیان میں ﴿ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ﴾ بھی فرمایا، یعنی ان لوگوں کے لیے مذکورہ عذاب اس صورت میں ہے جبکہ موت سے پہلے توبہ نہ کی ہو، کسی بھی کافر نے کسی بھی مومن کو کچھ بھی اور کیسی بھی تکلیف دی ہو اور کیسے بھی گناہ کیے ہوں اگر توبہ کرلی، ایمان قبول کرلیا تو زمانہ کفر میں جو کچھ کیا وہ سب ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی مہربانی ہے ایمان لانے کے بعد کافر کا سب کچھ معاف ہوجاتا ہے چونکہ یہاں اصحاب اخدود کے قصہ کے بعد یہ مغفرت والی بات بیان فرمائی ہے اس لیے حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا : انظروا الٰی ھذا الکرم والجود قتلوا اولیاء وھو یدعوھم الٰی التوبة والمغفرة۔ (اللہ تعالیٰ کے کرم اور جود کو دیکھو ان لوگوں نے اس کے اولیاء کو قتل کردیا اور اس کی طرف سے توبہ اور مغفرت کی دعوت دی جا رہی ہے) ۔
Ayah 85:11

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ بڑی کامیابی ہے۔

دوسری آیت میں ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کو بشارت دی ہے کہ ان لوگوں کو باغات ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، آیت کو ﴿ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْرُؕ0011﴾ پر ختم فرمایا ہے جس میں یہ بتادیا کہ مذکورہ باغات کامل جانا بڑی کامیابی ہے۔ دنیا میں جیسی بھی کوئی تکلیف پہنچے وہ اس کامیابی کے سامنے ہیچ ہے اگر ایمان کی وجہ سے کوئی شخص آگ میں ڈالا گیا تو وہ ایک دو منٹ کی تکلیف ہوگی ﴿ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ 1ۣؕ۬﴾ دائمی اور ابدی نعمت ہے۔
Ayahs 85:12–13

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کے رب کی پکڑ سخت ہے،

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

بلاشبہ وہ پہلی بار پیدا فرماتا ہے اور دوبارہ پیدا فرمائے گا،

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی چند صفات عالیہ بیان فرمائی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اقوام اور افراد تاخیر عذاب کی وجہ سے دھوکہ میں پڑے رہتے ہیں۔ عذاب اور ہلاکت کی میعاد اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی حکمت کے مطابق مقرر فرما رکھی ہے اس کا وقت نہ آنے کی وجہ سے جو تاخیر اور ڈھیل ہوتی ہے اس کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ گرفت ہونے ہی کی نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اسے پکڑ لیتا ہے تو نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ نے سورة ٴ ہود کی آیت ﴿ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ1ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ00102﴾ تلاوت فرمائی۔ (صحیح بخاری صفحہ 678) اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت بیان فرمائی ﴿ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ﴾ (بلاشبہ وہ پہلی بار بھی پیدا فرماتا ہے اور دوبارہ بھی پیدا فرمائے گا) ۔ اس میں منکرین بعث کا استبعاد دور فرما دیا جو کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ مر کھپ کر مٹی ہو کر جب ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے ؟ ان کا جواب دے دیا کہ جس ذات پاک نے پہلے پیدا فرمایا وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا۔
Ayahs 85:14–16

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ بڑا بخشنے والا ہے بڑی محبت والا ہے۔

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک ہے۔ عظمت والا ہے

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

وہ جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے۔

اس کے بعد فرمایا ﴿وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ0014 ذو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُۙ0015﴾ (اور وہ بہت بڑا بخشنے والا ہے بڑی محبت والا ہے بڑے عرش والا عظمت والا ہے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ شانہ کی شان غفاریت بتائی اور مودت کی شان بھی بیان فرمائی۔ وہ اپنے بندوں کو بخشتا بھی ہے اور مومنین صالحین سے محبت بھی فرماتا ہے، عرش کا مالک ہے، مجید ہے یعنی بڑی عظمت والا ہے ﴿ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُؕ0016﴾ وہ جو کچھ چاہتا ہے پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ اپنی مشیت اور ارادہ کے مطابق کرتا ہے بطش شدید (سخت پكڑ) ابتدائی تخلیق، پھر موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ فرمانا، گناہگاروں کو بخشنا اہل ایمان پر مودت اور رحمت کے ساتھ متوجہ ہونا یہ سب کچھ اس کی مشیت کے تابع ہے اور اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔ سورة الحج میں فرمایا : ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ 0014﴾ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ایسے باغوں میں داخل فرما دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو بھی ارادہ فرماتا ہے) ۔ پھر چند آیات کے بعد فرمایا : ﴿ وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُؕ 0018﴾ (اور جس کو اللہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرے) ۔
Ayahs 85:17–22

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

کیا آپ کے پاس لشکروں کی بات پہنچی ہے

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

یعنی فرعون اور ثمود کی،

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تکذیب میں ہیں

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

بلکہ وہ قرآن مجید ہے

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

جو لوح محفوظ میں ہے۔

﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِۙ0017﴾ (الی آخر السورۃ) (کیا آپ کے پاس لشکروں کی بات پہنچی ہے یعنی فرعون اور ثمود کی، بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تکذیب میں ہیں اور اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے) ۔ ان آیات میں بعض بڑے بڑے کافروں باغیوں یعنی فرعون وثمود کا تذکرہ فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ کے پاس لشکروں کا قصہ پہنچا ہے یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کا واقعہ اور قوم ثمود کا واقعہ آپ کو معلوم ہے ؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی آپ کو ان لوگوں کے کبر نخوت اور غرور اور بغاوت پھر ان کی تعذیب اور ہلاکت کے واقعات معلوم ہوچکے ہیں آپ یہ واقعات موجودہ منکرین اور معاندین کو سنا چکے ہیں ان کو ان قوموں کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا چاہیے لیکن اس کی بجائے کافر لوگ تکذیب میں لگے ہوئے ہیں آپ کو بھی جھٹلاتے ہیں اور قرآن کو بھی جھٹلاتے ہیں ان کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بیخبر ہے اسے ان کی سب حرکتوں کا علم ہے وہ ہر طرف سے انہیں گھیرے ہوئے ہے یعنی ان کے سب اعمال اور افعال احوال اور اشغال کا اسے پوری طرح علم ہے گزشتہ باغی قوموں کو جس طرح سزا دی گئی یہ بھی مبتلائے عذاب ہوں گے۔ ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ0021 فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) 0022﴾ ان کا عناد اور تکذیب ان کی حماقت اور گمراہی کی وجہ سے ہے۔ قرآن ایسی چیز نہیں جس کی تکذیب کی جائے وہ تو ایک باعظمت قرآن ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس میں کسی تغیر و تبدل کا احتمال نہیں وہاں بھی محفوظ ہے اور جو فرشتہ لاتا ہے وہ بھی امین ہے۔ پوری حفاظت کے ساتھ لاتا ہے اگر کوئی شخص اس پر ایمان نہ لائے تو اس کی عظمت اور حفاظت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وھذا آخر سورة البروج، والحمد للہ العلی الخلاق