اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌ ۟ؕاِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ
بےشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بڑی سخت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, the vengeance of your Lord is severe.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌ ۟ؕاِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ
بےشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بڑی سخت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, the vengeance of your Lord is severe.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Burooj
درحقیقت تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
بےشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بڑی سخت ہے
یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
حقیقت یہ ہے کہ تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے۔
بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے
بیشک آپ کے رب کی پکڑ بہت سخت ہے،
بےشکتیرے رب کی پکڑ یقینا بہت سخت ہے۔
آپ کے پروردگار کی گرفت یقینا بڑی سخت ہے
بیشک تیرے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔
بلاشبہ تمہارے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے
بیشک آپ کے پروردگار کی وارد گیر بڑی سخت ہے
یقینا تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
بیشک تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے
Stern indeed is your Lord's punishment.
The seizure of your Lord is severe indeed!
The seizure of your Lord is severe indeed!
Verily, the punishment of your Lord is severe and painful.
Lo! the punishment of thy Lord is stern.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, the vengeance of your Lord is severe.
The vengeance of God is terribly severe.
Surely the might of your Lord is great.
Verily the grip of thine Lord is severe.
Truly strong is the Grip (and Power) of thy Lord.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–22
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
سورة الْبُرُوْج 6 جہنم کے عذاب سے الگ جلائے جانے کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ انہوں نے مظلوم لوگوں کو آگ کے گڑھے میں پھینک کر زندہ جلایا تھا۔ غالباً یہ جہنم کی عام آگ سے مختلف اور اس سے زیادہ سخت کوئی آگ ہوگی جس میں وہ جلائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…
Read the full tafseer →مذکورہ باتوں کی تائید میں صفات الٰہی کا حوالہ: اوپر کی آیات میں اہل ایمان کے ستانے والے کفار کو جو دھمکیاں اور مظلوم مسلمانوں کو جو بشارتیں دی گئی ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید صفات کی یاددہانی سے ان کو مزید موکد و مدلل کر دیا ہے۔ ’اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ‘۔ فرمایا کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ وہ اپنی جماعت و جمعیت یا اپنے شرکاء و شفعاء کے بل پر اس سے اپنے کو بچا لے گا۔ اللہ کی پکڑ سے نہ کوئی بچ سکتا نہ اس کو کوئی بچانے والا بن سکتا۔ ’رَبِّکَ‘ کا خطاب اگر آنحضرت ﷺ سے مانا جائے تو یہ خطاب آپ سے ان مظلوموں کے وکیل کی حیثیت سے ہو گا۔
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی جب وہ اپنے ان دشمنوں کی گرفت پر آئے جو اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے اور اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر اس کی گرفت سے انہیں کوئی نہیں بچا سکتا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…
Read the full tafseer →یہاں اللہ کی پکڑ کو اس لئے شدید کہا گیا کہ اس زیر بحث واقعہ میں ان سرکشوں نے اہل ایمان کو جو سزا دی وہ ان کے خیال میں شدید سزا تھی۔ لوگوں کے خیال میں بھی شدید تھی لیکن یہاں کہا جاتا ہے کہ حقیقی پکڑ کر اللہ جبار وقہار کی پکڑ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے ، ان لوگوں کی سزا کیا سزا ہوگی جو زمین سے ایک ٹکڑے پر ایک محدود سا اقتدار رکھتے ہوں اور جو خود بھی ضعیف اور حقیر ہیں اور ان کا اقتدار بھی محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ قائل رب تعالیٰ اور مخاطب حضرت محمد ﷺ کے درمیان تعلق کے اظہار کے لئے (ربک) کا لفظ لایا گیا ہے۔ یہ تمہارا رب ہے جس کی ربوبیت کی طرف آپ کی نسبت ہے اور…
Read the full tafseer →2 اسی لئے ظالموں اور مجرموں کو پکڑ کر سخت ترین سزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 12{ اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ } ”یقینا تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔“ اللہ تعالیٰ حلیم بھی ہے ‘ وہ انسان کو ڈھیل بھی دیتا ہے اور اس کی رسّی دراز بھی کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ذکر اگلی سورت میں آئے گا لیکن جب وہ کسی فرد یا قوم کی گرفت کرتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
8 ایسے مجرموں کو یہ بات خوب ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ گرفت کرنے پر آتا ہے تو یہ گرفت اتنی شدید ہوتی ہے کہ ایسے مجرموں کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ گرفت آتی ضرور ہے خواہ جلد آئے یا بدیر۔ اور اگر کوئی شخص اس دنیا میں ایسی گرفت سے بچ بھی جائے تو آخرت میں کبھی بچ نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
7۔ خلق وبعث سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں، وہی سب کا پیدا کرنے والا بھی، وہی جلااٹھانے والا بھی، وہی کڑی گرفت کرنے والا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…
Read the full tafseer →ان بطش ربک لشدید . بَطْشٌ : سخت گرفت یعنی تمہارے مالک کی پکڑ بہت سخت ہے جسکو دفع کرنا ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(12۔ 15) آپ کے رب کی داروگیر کافر کے لیے بڑی سخت ہے وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا وہی بڑا بخشنے والا اور بڑی محبت کرنے والا اور عرش کا مالک اور عظمت والا ہے اور جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے۔
Read the full tafseer →(ان بطش ربک لشدید :”بطش“ وہ پکڑ جس میں تیزی اور سختی پائی جائے۔ رب تعالیٰ کی بطش جسے وہ خود شدید بتارہا ہے، کس قدر سخت ہوگی ؟ اہل ایمان کو ایذا پہنچانے والوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ رب تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے، اس سے بچ جاؤ۔ دوسری جگہ فرمایا :(وکذلک اخذربک اذا اخذ القری وھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید“ (ھود : 102)”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو اس حالت میں پکڑتا ہے کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، یقیناً اس کی پکڑ بڑی درد ناک ہے، بہت سخت ہے۔“
Read the full tafseer →ان بطش ربک لشدید۔۔۔ تا۔۔۔ لمایرید۔ ان بطش ربک لشدید۔ جب وہ جابروں اور ظالموں کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وکذالک اخذ ربک اذا اخذالقری وھی ظالمۃ، ان اخذہ الیم شدید۔ ہود) اور یوں ہی گرفت ہوتی ہے آپ کے رب کی جب وہ پکڑتا ہے بستیوں کو دراں حالیکہ وہ ظالم ہوتی ہیں بیشک اس کی پکڑ دردناک اور سخت ہوتی ہے یہ پہلے گزرچکا ہے مبرد نے کہا، ان بطش ربک یہ جواب قسم ہے معنی یہ ہوگا قسم ہے برجوں والے آسمان کی تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے درمیان میں جو بھی کلام ہے وہ جملہ معترضہ ہے اور قسم کی تاکید کے لیے ذکر ہوا ہے حکیم ترمذی نے، نوادرالاصول، میں یہی بات ذکر کی ہے، پکڑ…
Read the full tafseer →1۔ ابن المنذر والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسماء ذات البروج سے لے کر آیت تو شاہد ومشہود تک قسم ہے اور فرمایا یہ قسم ہے اس بات پر کہ تیرے رب کی پکڑ سخت ہے اس کے آخر تک۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان بطش ربک لشدید۔ بیشک تیرے رب کی پکڑ سخت ہے سے یہاں قسم مراد ہے آیت انہ ہو یبدء ویعید۔ بیشک وہی پہلے پیدا کرتا ہے اور دوبارہ پیدا کرے گا۔ یعنی مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا پھر دوبارہ بھی پید اکرے گا۔ آیت وہو الغفور الودود۔ اور وہی ہے بخشنے والا اور محبت کرنے والا یعنی وہ محبت کرتا ہے اپنی اطاعت پر جو اس کی اطاعت کرے۔
Read the full tafseer →[ان بَطْشَ رَبِكَ : بیشک آپ ﷺ کے رب کی گرفت ][ لَشَدِيْدٌ: یقینا بڑی سخت ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی چند صفات عالیہ بیان فرمائی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اقوام اور افراد تاخیر عذاب کی وجہ سے دھوکہ میں پڑے رہتے ہیں۔ عذاب اور ہلاکت کی میعاد اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی حکمت کے مطابق مقرر فرما رکھی ہے اس کا وقت نہ آنے کی وجہ سے جو تاخیر اور ڈھیل ہوتی ہے اس کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ گرفت ہونے ہی کی نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اسے پکڑ لیتا ہے تو نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ نے سورة ٴ ہود کی آیت ﴿ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…
Read the full tafseer →8:۔ ” ان بطش “ یہ دوسرے شاہد سے متعلق ہے۔ آخرت میں مؤمنوں کو جنت میں داخل کیا جائیگا اور کافروں کو دوزخ میں۔ جس طرح قیامت کا وعدہ نہایت سخت ہے اسی طرح کافروں پر اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی نہایت سخت ہوگی وہ دنیا میں کفر و شرک بھی کرتے رہے۔ قیامت کے دن اس کا ان سے انتقام لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…
Read the full tafseer →اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ 12 ۭ بطش البَطْشُ : تناول الشیء بصولة، قال تعالی: وَإِذا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ [ الشعراء/ 130] ، يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] . يقال : يد بَاطِشَة . ( ب ط ش ) البطش کے معنی کوئی چیز زبردستی لے لینا کے ہیں قرآن میں : { وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ } ( سورة الشعراء 130) اور جب کسی کو پکڑتے تو ظالمانہ پکڑتے ہو ۔ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ۔ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ترکیب ¦ فلہم الخ الجملۃ خبران ‘ ولھم الجملۃ الثانیۃ معطوفۃ علیھا الذین آمنوا الخ اسم ان لہم جنات الجملۃ خبرھا تجری الخ صفۃ جنات ‘ المجید قرء الجمہور بالرفع علی انہ لغت لذو وقریٔ بالکسر علی انہ لغت للعرش و مجدہ علوہ وعظمہ وقیل ھو لغت لربک وقال مکی ھو خبر بعد خبر۔ فعال مرفوع علی انہ خبر مبتدء محذوف وقال الفرا مرفوع علی التکریر والا ستیناف وقیل مرفوع علی الاتباع۔ تفسیر ¦ کفار قریش کو اصحاب الاخدود کا مآل کارسنا کر کہ ان پر لعنت پڑی دنیا میں بھی برباد ہوئے۔ تخت بخت سب جاتا رہا۔ ذلت سے مرے آخرت میں بھی رسوا ہوئے اپنا دائمی قانون سناتا ہے۔ فقال ان الذین فتنوا المومنین والمومنات کہ جنہوں نے ایماندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ اِنَّـہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ ۔ وَھُوَالْغَفُوْرُالْوَدُوْدُ ۔ ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۔ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ (البروج : 12 تا 16) (بیشک آپ کے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور وہ بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے۔ عرشِ بریں کا مالک ہے۔ جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ ) سابقہ صفات کو مؤکد کرنے کے لیے مزید صفات کا تذکرہ سابقہ آیات میں اہل ایمان پر ظلم ڈھانے والوں کو جو دھمکیاں دی گئیں اور اہل ایمان کو بیش بہا نعمتوں کا جو مژدہ سنایا گیا اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی مزید صفات ذکر فرمائی گئی ہیں۔ سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں کفار کے ظلم اور مومنوں کے اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے دونوں صفات ذکر فرما کر واضح فرمایا ہے کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے انتقام لینا چاہے تو اس سے بڑھ کر کسی کی پکڑ نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سخت ترین پکڑ کرنے والا ہے، اسی نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے، بڑے عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اس کے فیصلوں کے سامنے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ وہ کسی کو پکڑنے پر آئے تو اس کی…
Read the full tafseer →12 : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ (آپ کے رب کی داروگیربڑی سخت ہے) البطشؔ سختی سے پکڑنا۔ جب شدت کو اس کا وصف بنائیں تو اس کے معنی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں اور جابروں کو عذاب و انتقام سے پکڑتا ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” ان بطش ربک لشدید “ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بیشک اس کا عذاب میں پکڑنا جب ظالموں کو پکڑتا ہے۔ البتہ بہت سخت ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” ان اخذہ الیم شدید “ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…
Read the full tafseer →(اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ) بیشک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (وکذالک اخذ ربک اذا اخذ القری وھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید۔ ھود 102) اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے اس حال میں کہ وہ ظلم کریں تو اس کی پکر ایسی ہی ہوتی ہے بیشک اس کی پکڑ بڑی دردناک ہے۔
Read the full tafseer →(11) منکرین کو تنبیہ و تذکیر : سو منکرین و مکذبین کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے "، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اتنی اور ایسی سخت کہ اپنے طور پر اس کا اندازہ اور تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، " ان اخذہ الیم شدید "۔ یعنی بلا شبہ اس کی پکڑ بڑی دردناک انتہائی سخت ہے، والعیاذ بہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ وہ اپنی جماعت و جمعیت کے زور یا اپنے شفاء شرکاء کے بل بوتے پر اس سے بچ نکلے گا، سو اوپر کی آیات کریمات میں ظالموں اور منکروں کو تنبیہات فرمائی گئیں اور اہل ایمان کو جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 4 معلوم ہوا کہ سارا اختیار اسی کا ہے لہٰذا اس کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یا یہ کہ وہی مجرموں کو دنیا میں سزا دیتا ہے اور وہی آخرت میں سزا دیگا ابن جریر نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں :’ د یعنی دنیا کا عذاب اور (پھر) آخرت کا
Read the full tafseer →(85:12) ان بطش ربک لشدید : ان حرف مشبہ بالفعل۔ بطش مضاف اسم ان۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بطش کا۔ لام تاکید کا شدید خبر ان کی۔ بیشک تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہے۔ فائدہ : اوپر ایمان داروں کا ستانے والوں اور دکھ دینے والوں کے لئے عذاب جہنم اور عذاب حریق کا اور مؤمنوں اور اعمال صالح کرنے والوں کے لئے باٖات اور ان میں جاری و ساری نہروں کا ذکر کیا۔ اس کے بعد ان کے مترادف اپنی صفات ارشاد فرمائیں۔ کفار کی سزا کے مقابلہ میں فرمایا کہ اس کی گرفت بڑی مضبوط ہے اس سے کسی صورت چھٹکارا نہیں مل سکے گا۔ اور ایمان والوں کی نعمتوں کے مقابلہ میں اپنی چند صفات ارشاد فرمائیں :۔ (1) اس نے مخلوقات کو پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 2: اس آیت میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے اور فوز کبیر سے وہ لوگ بہرہ مند ہوں گے جو ایمان لے آئیں اور دل سے تسلیم کرلیں گے کہ اسلام کا نظام عمل صحیح اور درست ہے اور اس کے بعد عزیمت و استقلال کے ساتھ اس نظام پر عمل پیرا ہوں گے ۔ وہ نہیں جنہوں نے مال و دولت کی فراوانی کو کافی سمجھا ۔ اور سیم وزر کے انبار کو گھروں میں جمع کرکے رکھا اور اللہ کے ہر حکم کی مخالفت کی ۔
Read the full tafseer →(12) بیشک آپ کے پروردگار کی پکڑ اور گرفت بڑی ہی سخت ہے - اسی لئے منکروں کی سخت گرفت کرتا ہے اور ان کو سخت عذاب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…
Read the full tafseer →بلا شبہ تیرے رب کی گرفت بہت ہی سخت ہے 12 ؎ فرمایا تیرے رب کی حکمت کو وہی جانتا ہے اس لیے ان لوگوں کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ ان ظالموں کو فوراً نہیں پکڑ رہا اور وہ ظلم ڈھاتے چلے جا رہے ہیں تو اس کی وجہ اس کی کوئی کمزوری ہے ، ہرگز نہیں وہ کمزوری کے باعث نہیں بلکہ آزمائش کے باعث اور ان کو ڈھیل دی جانے کے باعث خاموش ہے کہ اس کے قانون میں جو ڈھیل دی جا چکی ہے اس کو وہ کیش سے واپس نہیں لینا چاہتا اور نہ ہی وہ ایسا کرتا ہے ۔ وہ اپنے قانون کا خود احترام کرتا ہے اور جب ان کو دی گئی ڈھیل کا وقت ختم ہوجاتا ہے تو اس کی پکڑ آجاتی ہے اور پھر آپ کوئی مثال اس کی نہیں پیش کرسکتے کہ اس نے کسی کو پکڑا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
6 "Punishment by burning" has been mentioned separately from the torment of Hell because they had burnt the oppressed people to death by casting them into the pits of fire. Probably this will be a different and severer kind of fire from the fire of Hell in which those people will be burnt.
Read the full tafseer →