Explained with ayahs 11–22
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
سورة الْبُرُوْج 6
جہنم کے عذاب سے الگ جلائے جانے کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ انہوں نے مظلوم لوگوں کو آگ کے گڑھے میں پھینک کر زندہ جلایا تھا۔ غالباً یہ جہنم کی عام آگ سے مختلف اور اس سے زیادہ سخت کوئی آگ ہوگی جس میں وہ جلائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…
Read the full tafseer →’إِنَّہُ ہُوَ یُبْدِئُ وَیُعِیْدُ‘۔ ظالموں کو اوپر جس عذاب جہنم کی دھمکی دی گئی ہے یہ اس کی دلیل بیان کر دی گئی ہے کہ کوئی اس مغالطہ میں بھی نہ رہے کہ آخرت اور جزا و سزا کا ڈراوا محض ڈراوا ہے، مرنے کے بعد نہ کوئی زندگی ہے نہ کوئی موت۔ فرمایا کہ خدا ہی ہے جو لوگوں کو اس دنیا میں پیدا کرتا ہے اور جب وہ پیدا کرتا ہے تو وہ ازسرنو ان کا اعادہ بھی کر سکتا ہے۔ جب پہلی بار اس کو پیدا کرنے میں کوئی مشکل نہیں پیش آئی تو دوبارہ یہ کام اس کے لیے کیوں مشکل ہو جائے گا؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 1 یعنی وہی اپنی قوت اور قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر قیامت والے دن دوبارہ انہیں اسی طرح پیدا کرے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…
Read the full tafseer →اصولی طور پر ابتدا اور اعادہ حیات کا مفہوم ابتدائے حیات اور موت کے بعد قیامت میں حیات ثانی کے ساتھ مختص ہے۔ لیکن رات اور دن کے ہر لمحہ میں آغاز حیات اور اعادہ حیات کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ہر لمحہ آغاز حیات اور تخلیق حیات کا عمل جاری ہے۔ اللہ نے ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جس کے ذریعہ حیات کا تسلسل قائم ہے۔ جو چیز ہوتی ہے اس کا اعادہ ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ کائنات مسلسل نئی زندگی پاتی رہتی ہے۔ آغاز اور اعادہ کے اس مسلسل نظام میں اصحاب اخدود کا واقعہ بھی اپنے نتائج کے ساتھ گزر گیا۔ اللہ نے ایسا ہی طے کیا تھا ، جو ہوگیا اور ایسے ہی واقعات ہوتے رہیں گے۔ یہ واقعہ آغاز تھا جس کا اعادہ ہوگا ، یا اس قسم کے…
Read the full tafseer →3 یعنی پہلی مرتبہ دنیا کا عذاب اور دوسری مرتبہ آخرت کا (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ اول مرتبہ آدمی کو وہ ہی پیدا کرتا ہے اور دوسری مرتبہ موت کے بعد بھی وہ ہی پیدا کرے گا۔ پس مجرم اس دھوکے میں نہ رہے کہ موت جب ہمارا نام و نشان مٹادے گی، پھر ہم کس طرح ہاتھ آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
آیت 13{ اِنَّہٗ ہُوَ یُـبْدِئُ وَیُعِیْدُ۔ } ”وہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی اعادہ بھی کرے گا۔“
جب اس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے تو دوسری مرتبہ وہ اسے پیدا کرنے پر بھلا کیونکر قادر نہیں ہوگا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
8 ایسے مجرموں کو یہ بات خوب ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ گرفت کرنے پر آتا ہے تو یہ گرفت اتنی شدید ہوتی ہے کہ ایسے مجرموں کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ گرفت آتی ضرور ہے خواہ جلد آئے یا بدیر۔ اور اگر کوئی شخص اس دنیا میں ایسی گرفت سے بچ بھی جائے تو آخرت میں کبھی بچ نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
7۔ خلق وبعث سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں، وہی سب کا پیدا کرنے والا بھی، وہی جلااٹھانے والا بھی، وہی کڑی گرفت کرنے والا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…
Read the full tafseer →انہ ھو یبدی و یعید . یعنی آغاز تخلیق وہی کرتا ہے اور دوبارہ تخلیق بھی وہی کرے گا اس کے سوا کوئی
اِلٰہ نہیں کہ اس کی گرفت کو دفع کرنا ممکن ہو سکے یا یہ مطلب ہے کہ کافروں کی دنیا میں ابتدائی گرفت بھی وہی کرتا ہے اور آخرت میں بھی وہی پکڑ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(12۔ 15) آپ کے رب کی داروگیر کافر کے لیے بڑی سخت ہے وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا وہی بڑا بخشنے والا اور بڑی محبت کرنے والا اور عرش کا مالک اور عظمت والا ہے اور جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے۔
Read the full tafseer →انہ ھو یبدی و یعید : یہ نہ سمجھنا کہ دنیا میں تمہارے ظلم و ستم پر باز پرس نہیں ہوئی تو مرنے کے بعد بھی نہیں ہوگی، جس نے تمہیں پہلے پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ کر کے تمہیں تمہارا اعمال کی جزا دے گا۔
Read the full tafseer →انہ ھویبدی ویعید۔ اکثر علماء کی رائے ہے وہی مخلوقات کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ انہیں اٹھائے گا، عکرمہ نے کہا، کفار نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وہ دنیا میں انہیں آگ میں جلائے جانے کا عذاب دے گا پھر آخرت میں دوبارہ عذاب دے گا یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔
Read the full tafseer →3۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت انہ ہو یبء ویعید کے بارے میں روایت کیا کہ وہ پہلی مرتبہ عذاب لانے والا ہے اور وہی دوبارہ بھی لائے گا۔
Read the full tafseer →[انهٗ : حقیقت تو یہ ہے کہ ][ هُوَ يُبْدِئُ : وہ (ہی) ابتدا کرتا ہے ][ وَيُعِيْدُ : اور وہ (ہی) لوٹائے گا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی چند صفات عالیہ بیان فرمائی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اقوام اور افراد تاخیر عذاب کی وجہ سے دھوکہ میں پڑے رہتے ہیں۔ عذاب اور ہلاکت کی میعاد اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی حکمت کے مطابق مقرر فرما رکھی ہے اس کا وقت نہ آنے کی وجہ سے جو تاخیر اور ڈھیل ہوتی ہے اس کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ گرفت ہونے ہی کی نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اسے پکڑ لیتا ہے تو نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ نے سورة ٴ ہود کی آیت ﴿ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
9:۔ ” انہ ھو “ یہ بھی دوسرے شاہد سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ ہی پہلی بار سب کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کو دوبارہ پیدا کرے گا وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا، فرمانبرداروں سے محبت کرنے والا عرش عظیم کا مالک، بڑی شان والا ہے وہ ان تمام خوبیوں کا مالک ہے لیکن ” فعال لما یرید “ بھی ہے وہ جو ارادہ فرمالے اس کو پورا کرنے والا بھی ہے۔ اس میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…
Read the full tafseer →اِنَّہٗ ہُوَيُبْدِئُ وَيُعِيْدُ 13 ۚ
بدأ
يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7]
( ب د ء ) بدء ات
بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔
عود
الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ترکیب ¦ فلہم الخ الجملۃ خبران ‘ ولھم الجملۃ الثانیۃ معطوفۃ علیھا الذین آمنوا الخ اسم ان لہم جنات الجملۃ خبرھا تجری الخ صفۃ جنات ‘ المجید قرء الجمہور بالرفع علی انہ لغت لذو وقریٔ بالکسر علی انہ لغت للعرش و مجدہ علوہ وعظمہ وقیل ھو لغت لربک وقال مکی ھو خبر بعد خبر۔ فعال مرفوع علی انہ خبر مبتدء محذوف وقال الفرا مرفوع علی التکریر والا ستیناف وقیل مرفوع علی الاتباع۔
تفسیر ¦ کفار قریش کو اصحاب الاخدود کا مآل کارسنا کر کہ ان پر لعنت پڑی دنیا میں بھی برباد ہوئے۔ تخت بخت سب جاتا رہا۔ ذلت سے مرے آخرت میں بھی رسوا ہوئے اپنا دائمی قانون سناتا ہے۔ فقال ان الذین فتنوا المومنین والمومنات کہ جنہوں نے ایماندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ اِنَّـہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ ۔ وَھُوَالْغَفُوْرُالْوَدُوْدُ ۔ ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۔ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ (البروج : 12 تا 16)
(بیشک آپ کے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور وہ بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے۔ عرشِ بریں کا مالک ہے۔ جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ )
سابقہ صفات کو مؤکد کرنے کے لیے مزید صفات کا تذکرہ
سابقہ آیات میں اہل ایمان پر ظلم ڈھانے والوں کو جو دھمکیاں دی گئیں اور اہل ایمان کو بیش بہا نعمتوں کا جو مژدہ سنایا گیا اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی مزید صفات ذکر فرمائی گئی ہیں۔
سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں کفار کے ظلم اور مومنوں کے اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے دونوں صفات ذکر فرما کر واضح فرمایا ہے کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بڑا بخشنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ ظالموں سے انتقام لینا چاہے تو اس سے بڑھ کر کسی کی پکڑ نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سخت ترین پکڑ کرنے والا ہے، اسی نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے، بڑے عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اس کے فیصلوں کے سامنے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ وہ کسی کو پکڑنے پر آئے تو اس کی…
Read the full tafseer →13 : اِنَّہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَ یُعِیْدُ (وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور دوبارہ اعادہ کرے گا) ابتداء ً سب کو پیدا کرتا ہے پھر مٹی بنانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو شدت بطش کے ساتھ ساتھ ابداء و اعادہ پر کامل قدرت حاصل ہے۔ نمبر 2۔ کفار کو اس میں ڈرایا گیا ہے کہ وہ ان کا اسی طرح اعادہ کرے گا جیسا ان کو ابتداء ً پیدا فرمایا۔ تاکہ ان کو پکڑے اسلئے کہ انہوں نے ایجاد کی نعمت کی ناشکری کی اور اعادہ کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →13 ۔” انہ ھویبدی ویعید “ یعنی ان کو ابتداء دنیا میں پیدا کرنے کے ساتھ پھر ان کو زندہ کرکے لوٹائے گا موت کے بعد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…
Read the full tafseer →(اِنَّهٗ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيْدُ ) یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
Read the full tafseer →(12) ابداء خلق اعادہ خلق کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے حرف تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا، پس وہی اور صرف وہی عدم سے وجود میں لاتا ہے اور نیست سے ہست کرتا ہے، اور خلعت وجود کی یہ نعمت اصل اور اساس ہے دیگر تمام نعمتوں کی کہ باقی تمام نعمتیں نعمت وجود ہی پر متفرع اور اسی پر موقوف ہیں۔ بہرکیف یہاں پر اس ارشاد سے ظالموں کے انجام اور ان کے لیے دی گئی عذاب جہنم کی دھمکی کی دلیل بیان فرما دی گئی ہے، یعنی کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ آخرت اور جزا و سزا کا ڈروا محض ڈراوا ہے، بھلا مر چکنے کے بعد اور مٹی میں مٹ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام
تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 4 معلوم ہوا کہ سارا اختیار اسی کا ہے لہٰذا اس کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یا یہ کہ وہی مجرموں کو دنیا میں سزا دیتا ہے اور وہی آخرت میں سزا دیگا ابن جریر نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں :’ د یعنی دنیا کا عذاب اور (پھر) آخرت کا
Read the full tafseer →(85:13) انہ ھو یبدی ویعید : یبدی مضارع واحد مذکر غائب ابداء (افعال) مصدر سے وہ ایجاد کرتا ہے وہ تخلیق اول کرتا ہے۔ ب و ء مادہ۔ اسی مادہ سے باب افتعال سے : ابتداء بمعنی شروع کرنا ہے۔
یعید۔ مضارع معروف واحد مذکر غائب : اعادۃ (افعال) مصدر سے لوٹانا۔ اعادہ کرنا۔ دوبارہ پیدا کرنا۔ وہ دوبارہ پیدا کرے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔
تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 2: اس آیت میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے اور فوز کبیر سے وہ لوگ بہرہ مند ہوں گے جو ایمان لے آئیں اور دل سے تسلیم کرلیں گے کہ اسلام کا نظام عمل صحیح اور درست ہے اور اس کے بعد عزیمت و استقلال کے ساتھ اس نظام پر عمل پیرا ہوں گے ۔ وہ نہیں جنہوں نے مال و دولت کی فراوانی کو کافی سمجھا ۔ اور سیم وزر کے انبار کو گھروں میں جمع کرکے رکھا اور اللہ کے ہر حکم کی مخالفت کی ۔
Read the full tafseer →(13) بیشک وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا - یعنی جس کو اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اس کا اعادہ بھی کرسکتا ہے پس قیامت کا واقع ہونا اور منکروں کو سزا ملنی یقینی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے دنیا اور آخرت کا عذاب مراد ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کا عذاب اور آخرت کا۔
خلاصہ : یہ کہ جو دنیا میں گرفت کرسکتا ہے وہی آخرت میں بھی گرفت کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…
Read the full tafseer →بلا شبہ وہ پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا ہے اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا
13 ؎ جو تسلیم نہیں کرتے وہ نہ کریں اور اس کا انجام وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ حقیقت اپی جگہ حقیقت ہی ہے اس کو کوئی نہیں بدل سکتا اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہے مع انسان کے سب کو وہی پیدا کرنے والا ہے اور جب یہ بات حق ہے کہ پیدا کرنے والا وہی ہے تو یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ جو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے وہی دوسری بار بھی پیدا کرنے والا ہے اور اگر تم اس کے پہلی بار پیدا کرنے کو ماننے اور تسلیم کرتے ہو تو دوسری بار پیدا کرنے سے کیونکر انکار کرسکتے ہو ؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ پہلی بار پیدا کر کے اتنا تھک چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
6 "Punishment by burning" has been mentioned separately from the torment of Hell because they had burnt the oppressed people to death by casting them into the pits of fire. Probably this will be a different and severer kind of fire from the fire of Hell in which those people will be burnt.
Read the full tafseer →