Ayahs 85:1–9ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا الذی الخ لغت للہ۔
تفسیر ¦ یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں بائیس آیات ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عشاء میں والسماء ذات البروج والسماء والطارق پڑھا کرتے تھے۔ اخرجہ احمد۔ رات میں ستاروں کی کیفیت اس سورة کے معانی کو اور بھی ذہن نشین کردیتی ہے۔
مناسبت اس کی پہلی سورة سے الفاظ و معانی میں ظاہر ہے کیونکہ اس میں آسمانوں کا پھٹنا مذکور ابتداء میں تھا تو یہاں اس کے بروج کی صفت مذکور ہوئی تاکہ محل تجزیہ و تقسیم و انشقاق کا اظہار ہو اور مضامین میں بھی اور مقطع میں بھی مناسبت تامہ ہے۔
سبب نزول اس سورة کا یہ ہے کہ مکہ میں جبکہ آفتاب نبوت جلوہ گر ہوا اور صدیوں کے ظلمات کم ہونے شروع ہوئے تو قریش مکہ کو ناگوار گزرا کیونکہ ان کے مالوف و مرغوب دستور کے خلاف تھا۔ اس لیے انہوں نے آنحضرت ﷺ کو تو ستانا شروع ہی کیا تھا مگر وہ جو غریب غرباء مسلمان ہوئے تھے ان پر تو آفت ہی برپا کردی تھی۔ مار پیٹ ‘ گالی گلوچ سے گزر کر دھوپ میں باندھ کر ڈال دینا اور پھر کوڑے برسانا اور پیٹ میں نیزہ گھونپ دینا ‘ عورتوں کو بےستر کرکے ذلیل کرنا ‘ اپنے بت پرست مذہب کی حمایت سمجھ رکھی تھی۔ غربائِ مسلمین آنحضرت ﷺ سے آکر شکوہ کرتے آپ تسلی دیتے کہ تھوڑی دیر کی بات رہ گئی ہے۔ ان کا یہ زور ڈھے جاوے گا۔ یہ تمہارے آگے ذلیل و مقہور ہوں گے۔ یہ سن کر کفار قریش اور بھی تمسخر کرتے تھے اس لیے مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے اور متکبروں کو متنبہ کرنے کے لیے یہ سورة نازل ہوئی۔
خدا کی پکڑ کا بیان ¦ اور اس کے ابتداء ہی میں وہ کلمات ارشاد فرمائے جو خدا کے جبروت اور دنیا کا اس کے آگے مسخر ہونا اور دنیا میں انقلاب برپا ہونے کو بتا رہے ہیں۔ فقال والسماء ذات البروج کہ ہم کو قسم ہے آسمان برجوں والے کی والیوم الموعود اور اس دن کی کہ جس کا وعدہ کیا گیا ہے وشاھد و مشہود اور حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس حاضر ہوں گے۔ اس کی بھی قسم ہے۔ ان تین چیزوں کی قسم کھا کر یہ فرمایا ان بطش ربک لشدید کہ تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہے جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کو کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ جس قوم اور جس شخص کو پکڑتے ہیں تو پہلے اس کی عقل مار دیتے ہیں۔ اقبال لے لیتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ہیبت و عزت باقی نہیں رہتی۔ شہوت پرستی اور جفاکاری پیشہ ہوجاتا ہے۔ کاہلی اور اس پر بد مزاجی اور غرور و نخوت اور جملہ بد اخلاقی گھر کرلیتی ہے۔ خدا ترسی اور راستبازی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ دشمنوں کا غلبہ اور افلاس کو ترقی ہوتی جاتی ہے۔ بےوقت موت و اعداء سے شکست مقاصد میں ناکامی پیش آنے لگتی ہے۔ آخر کوئی ایسا زبردست ان پر مسلط ہوتا ہے کہ کام ہی تمام کردیتا ہے اور کبھی دفعۃً کوئی آسمانی بلا بھیج کر غارت کردیتے ہیں۔ زلزلہ اور ژالہ باری اور ہوا اور پانی کا طوفان بجلی اور وباء بھی اس کے آلات تیار رہتے ہیں یہاں تک تو دنیا کی پکڑ تھی پھر آخرت میں تو مرنے کے بعد سے لے کر حشر تک اور حشر سے ابد الآباد تک جہنم اور دہکتی آگ اور طوفان اور طوق و زنجیر تیار ہے۔ معاذ اللہ من بطشہ۔ اس اجمال بیان میں جس طرح کفار کو تنبیہ ہے اسی طرح مسلمان کو تسلی بھی ہے کہ وہ ہماری قدرت و قبضہ سے باہر نہیں مگر ان تینوں چیزوں میں کہ جن کی قسم کھائی ایک کو دوسرے سے نہایت ارتباط ہے۔ اس لیے ہم ان تینوں چیزوں کی تفسیر کرتے ہیں۔ اوّل : اول برجوں والے آسمان سے کیا مراد ہے ؟ اور پھر اس صفت کے ذکر کرنے سے کیا مقصد ہے۔ جو آسمان کے وجود بلکہ جسم کے قائل ہیں اور یہ قدیم خیال ہے اور صحیح بھی معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آسمان پر آفتاب کی گردش سے ایک دائرہ پیدا ہوتا ہے جس کو دائرۃ البروج کہتے ہیں جس کو آفتاب حرکت ذاتی سے برس بھر میں تمام کرتا ہے اور جب اس دائرہ کو بارہ حصوں میں تقسیم کیا جاوے تو ہر ایک حصہ برج ہے جیسا کہ خریزے کی پھانکیں اور ہر ایک پھانک کو برج کہا جاوے۔
یا یوں کہو کہ آفتاب کی حرکت سے اکثر آباد اور معتدل بلاد میں چار فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ ربیع وصیف ‘ خریف وشتا یعنی بہار ‘ گرمی ‘ خزاں ‘ جاڑا۔ اصل دو فصلیں ہیں۔ جاڑا اور گرمی مگر جاڑے کے بعد جب گرمی آتی ہے تو دفعۃً نہیں آتی بلکہ ایک زمانہ بیچ میں حائل ہوتا ہے اور اس کو ربیع کہتے ہیں اور اسی طرح گرمی کے بعد سردی بھی دفعۃً نہیں آتی بلکہ درمیان میں ایک زمانہ دونوں سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔ اس کو خریف کہتے ہیں۔ یہ موسم ہندوستان میں برسات کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ یہ چار فصلیں ہوئیں اور ہر ایک فصل کی تین حالت ہیں۔ ابتداء انتہا ‘ اوسط۔ آفتاب کی حرکت جس سے یہ فصلیں پیدا ہوتی ہیں جمہور کے نزدیک آسمان پر ہے اس لیے آسمان کے باعتبار ہر ایک فصل کے چار حصے کئے اور ہر ایک حصہ کے تین تین ہر حصہ کا نام برج اور جن کے نزدیک آسمان کا وجود نہیں وہ اس بعد اور فضائے نیلگوں ہی کو آسمان کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی اس آسمان کے بارہ حصے اسی لحاظ سے ہوں گے۔ بارہ برجوں کی کیفیت : یا یوں 1 ؎ کہو کہ رات کے وقت آسمان پر ستاروں کے اجتماع سے مختلف اشکال نمودار ہوتی ہیں۔ آسمان کے ہر ایک حصہ کو ان اشکال کے لحاظ سے نامزد کیا۔ حمل ‘ ثور ‘ جوزا ‘ سرطان ‘ اسد ‘ سنبلہ۔ ان چھ برجوں میں جب آفتاب آتا ہے تو گرمی ہوتی ہے۔ حمل سے لے کر سرطان تک بڑھاؤ ہوتا ہے اور دن بھی بڑھا کرتا ہے اور پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے۔ جس طرح حمل میں رات دن برابر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح میزان میں بھی۔
1 ؎ یعنی دراصل آسمان پر برج و گنبد کچھ نہیں بلکہ اہل ہیئت و نجوم نے ستاروں کی رفتار و مقام سمجھنے کے لیے آسمان کے بارہ حصے مقرر کرلیے ہیں اور پھر ستاروں کے اجتماع سے جیسی شکل پیدا ہوگئی ہے۔ اس کو اسی کے نام سے نامزد کردیا ہے کہیں بیل کی شکل نمودار ہے تو اس حصہ کو برج ثور کہتے ہیں (علیٰ ہذا القیاس) ۔ 12 منہ
اس کے بعد سردی شروع ہوتی ہے اور اس کے برج یہ ہیں۔ میزان ‘ عقرب ‘ قوس ‘ جدی ‘ دلو ‘ حوت (حمل 1 ؎ مینڈھے کا بچہ) چونکہ تئیس ستاروں کے باہم ملنے سے مینڈھے کی شکل پیدا ہوگئی ہے جس کا مغرب کی طرف سر مشرق کی طرف دم ہے۔ ثور ‘ بیل ‘ بتیس ستاروں کے ملنے سے بیل کی صورت نمودار ہوگئی ہے جس کا سر بجانب مشرق اور دم بجانب مغرب ہے اور بھی اس کے ساتھ ستارے ہیں جن کو عین الثور کہتے ہیں اور ثریا بھی جو انگور کے خوشہ کی طرح ہے۔ جوزا دو آدمی ملے ہوئے اٹھارہ ستاروں کے ملنے سے ایسی صورت پیدا ہوگئی ہے کہ گویا دو آدمی جڑے ہوئے ہیں۔ سرطان کیکڑہ فارسی میں اس کو خرچنگ کہتے ہیں۔ نو ستاروں کے ملنے سے یہ صورت بن گئی ہے۔ اسد شیر ستائیس ستاروں کے ملنے سے یہ صورت پیدا ہوگئی ہے اور زہرہ ستارہ بھی اس سے تعلق رکھتا ہے۔ سنبلہ خوشہ یہ ایک عورت کے ہاتھ میں معلوم ہوتا ہے جس کا سر اسد کی دم کی طرف اور پائوں میزان کی طرف اور اس کے اس ہاتھ کے پاس کہ جس میں خوشہ معلوم ہوتا ہے ایک ستارہ ہے کہ جس کو سماک اعزل کہتے ہیں۔ یہ شکل چھبیس ستاروں سے بنی ہے۔ میزان ٗ ترازو یہ آٹھ ستاروں سے بنی ہے۔ عقرب بچھو یہ شکل اکیس ستاروں سے بنی ہے۔ قوس کمان یہ ایک ایسی شکل ہے کہ ایک آدمی کے ہاتھ میں کمان ہے جس میں تیر لگا ہوا ہے۔ یہ اکتیس ستاروں سے مرکب ہے۔ جدی بزغالہ بھیڑ کا چھوٹا بچہ اٹھائیس ستاروں سے مرکب ہے۔ سعد ذابح جو ایک ستارہ ہے وہ بھی اسی سے متعلق ہے۔ دلو ڈول ایک مرد کے ہاتھ میں ایک ڈول سا معلوم ہوتا ہے۔ بیالیس ستاروں سے مرکب ہے حوت مچھلی یہ مچھلیاں باہم ملی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ایک کا منہ دوسرے کی دم کی طرف ہے۔ یہ چھبیس ستاروں سے مرکب ہے۔
فائدہ۔ نزول قرآن مجید سے پہلے عرب بھی آسمان میں اسی قسم کے برجوں کے قائل تھے۔ اشعار جاہلیت سے اس کا پتا ملتا ہے۔ قرآن مجید میں آسمان کو اس صفت سے ذکر کرکے قسم کھانا اس طرف اشارہ ہے۔ انقلاب عالم ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم موسموں کو بدلتے ہیں۔ کفار قریش اس چند روزہ جاہ و حشم پر نازاں نہ ہوں مقلب الاحوال ہم ہیں اور اس میں ایمانداروں کو تسلی بھی ہے کہ چند روزہ مصیبت پر صبر کریں سدا ایک سے دن نہیں رہا کرتے۔
بروج کے معنی ¦ بروج کے معنی اور بھی علماء نے بیان کئے ہیں : (1) یہ کہ بروج سے مراد منازل قمر ہیں۔ (2) یہ کہ بروج بڑے بڑے ستاروں کو کہتے ہیں کیونکہ بروج کے لغوی معنی ظہور کے ہیں اور جو ستارے ظاہر اور روشن ہوں اس لیے ان کو بروج کہتے ہیں۔ یہ ابن عباس ؓ و مجاہد و ضحاک و حسن و قتادہ و سدی کا قول ہے۔ اس تقدیر پہ یہ معنی ہوئے کہ قسم آسمان روشن ستاروں والے کی اور یہ معنی مذاق عرب العرباء سے زیادہ چسپاں ہیں۔ منہال بن عمرو کہتے ہیں اس کے معنی ہیں عمدہ پیدائش۔
دوسری بات ¦ دوسری بات والیوم الموعود کہ قسم ہے وعدہ کے دن کی۔ اس سے کیا مراد ہے ؟ ابن ابی حاتم نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں ہے کہ الیوم الموعود سے مراد قیامت کا دن ہے جس کا تمام انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت سزاء و جزا کے لیے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یا جو کچھ خدا نے اپنے نیک بندوں کے لیے دنیا میں فتح و ظفر آخرت میں بہشت ‘ وہاں کے نعیم کے وعدے کئے ہیں اور ان کے لیے ایک دن معین کر رکھا ہے۔ اس کی قسم کھاتا ہے جس سے اپنے وعدہ کا وثوق دلانا مقصود ہے۔ یہ ایک بڑا وسیع المعنی لفظ ہے جو ہر پہلو پر ایک نئے معنی کا افادہ کرتا ہے۔
حضرات اہل دل یوم موعود وصال کے دن کو کہتے ہیں جس دن حجاب اٹھ جاویں گے اور صاف صاف اپنے معبود و محبوب حقیقی کا دیدار دیکھیں گے۔ اس دیدار کا ان سے وعدہ ہے اسی یوم موعود کے سہارے تو ان کی زندگی ہے ؎
1 ؎ حمل بفتحین برہ حملان بالضم جمعہ۔ 12 منہ ص
وعدے یہ ترے وصل کے اور ہجر کے صدمے
مرنے نہیں دیتے مجھے جینے نہیں دیتے
ہر شخص کے لیے ہر قوم کے لیے جس طرح بحالی اوراقبال کا ایک دن مقرر ہے اسی طرح اس کی بربادی اور تنزل کا بھی ایک دن معین ہے۔ جس میں اشارہ ہے کہ دنیا کی ترقی اوراقبال اور اس کی جملہ شادمانی محدود ہے اور اس کی بقاء کا وقت مقرر ہے۔ پھر اس کی فنا کا بھی ایک دن موعود ہے۔ اس پر مغرور نہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح دنیا کے تکالیف اور رنج و غم بھی سدا نہیں رہتے۔ ان کے لیے بھی ایک دن موعود ہے کہ پھر وہ نہ رہیں گے۔ اس لفظ میں جس طرح غمگین ایمانداروں کو تسلی ہے تو اسی طرح دنیا کے متوالوں نعیم و ناز کے بندوں اور مغروروں کو تہدید بھی ہے کہ خبردار کس بات پر ناز ہے اس کے زوال کا دن بھی موعود ہے۔
تیسری چیز ¦ تیسری چیز کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے وہ بھی ایک بڑی متبرک چیز ہے یعنی شاھد و مشھود اب شاہد سے کیا مراد ہے اور مشہود سے کیا۔ لغت میں شاہد کے معنی سامنے ہونے والے کے ہیں اور پاس آنے والے کے اور گواہی دینے والے کے یہ لفظ بھی بڑے وسیع المعنی ہیں اس لیے ان کے معنی میں بھی علماء کے متعدد اقوال ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ شاہد جمعہ کا دن ہے کہ ہر شہر اور ہر مسجد میں آتا ہے اور مشہود عرفہ کا دن ہے کہ تمام بلاد و اطراف سے حاجی وہاں حاضر ہوتے ہیں اور دراصل وہ راز مکہ کے ایک خاص میدان سے تعلق رکھتا ہے جہاں دعاء قبول ہوتی ہے اور انوار و برکات کا فیضان ہوتا ہے۔ چونکہ جمعہ ہر ہفتہ میں اور یوم عرفہ ہر سال میں آتا ہے۔ اس لیے ان کو نکرہ لایا گیا برخلاف قیامت کے دن کے کہ وہ ایک ہی ہے اس لیے اس کو معرفہ باللام لایا گیا والیوم الموعود فرمایا اور اس قول کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ جس کو ترمذی و عبد بن حمید وابن جریرو بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا الیوم الموعود قیامت کا دن ہے اور مشہود عرفہ کا اور شاہد جمعہ کا جو سب دنوں سے افضل ہے اس میں ایک ایسی ساعت بھی آتی ہے کہ اس میں جو کچھ بندہ مانگتا ہے اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور جس سے پناہ مانگتا ہے اس سے پناہ پاتا ہے اور بعض مفسرین نے ہر ایک مجمع کو جو ذکر الٰہی اور دین کے لیے ہو مشہود اور جماعت کو شاہد بتایا ہے جس میں عیدین و جمعہ و عرفہ بھی شامل ہے اور بعض نے شاہد و مشہود میں صرف گواہی کے معنی کا لحاظ کرکے کہا ہے کہ شاہد سے مراد حق سبحانہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خود اس نے فرمایا ہے وکفٰی باللہ شہیدا اور نیز جملہ پیغمبر اور خاص آنحضرت ﷺ بھی شاہد ہیں کیونکہ قیامت کو وہ گواہی دیں گے۔ ان دونوں صورتوں میں مشہود توحید اور امت ہے اور نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتے بھی شاہد ہیں اور مشہود علیہ بنی آدم اور ان کے اعمال ہیں جیسا کہ ایک جگہ آیا ہے وجاءت کل نفس معہا سابق وشہید اور انسان کے اعضاء ہاتھ پائوں وغیرہ بھی شاہد ہیں جیسا کہ فرمایا یوم تشہد علیہم السنتہم وایدیہم وارجلہم اور رات دن بھی شاہد ہیں۔ یہ بھی انسان کے نیک و بد کاموں کی گواہی دیں گے اور نیز آسمان و زمین بھی شاہد ہیں۔ یہ بھی گواہی دیں گے اور نیز جمیع ممکنات بھی شاہد ہر چیز اس کی ذات اور توحید پر گواہی دے رہی ہے۔ کیا خوب کہا ہے کسی نے۔ ففی کل شیء لہ شاہد۔ تدل علی انہ واحد۔ صوفیہ کرام فرماتے ہیں کہ مقام جلا میں شاہد حق سبحانہ ہے اور مشہود خلق اور مقام استجلاء میں شاہد خلق اور مشہود حق ہے۔
ایک اور توجیہ بھی اس مقام پر چسپاں ہے اور وہ یہ کہ شاہد بمعنی حاضر ہونے والے اور آنے والے کے لیے جاویں تو شاہد سے مراد فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جو شام وصبح نامہ اعمال لکھ کرلے جاتے ہیں اور نامہ اعمال لکھنے آتے ہیں خصوصاً صبح کی نماز میں قرآن پڑھتے وقت جیسا کہ خود قرآن میں و قرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا اور ممکن ہے کہ آنے والے دن کو جو مسلمانوں کی دنیاوی فتح و نصرت اور اعدائے دین پر غلبہ پانے کا دن ہے ٗ شاہد سے تعبیر کیا ہو اور اس کے ساتھ وہ برکات و فتوحات بھی مراد ہوں جو آنے والے تھے اور مشہود صحابہ اور ان کے پیروکار جن کے پاس یہ برکات و فتوحات آئے۔ اس تقدیر پر الیوم الموعود سے وہ دن مراد ہوسکتا ہے کہ جس کا وعدہ صحابہ ؓ سے آنحضرت ﷺ کیا کرتے تھے جبکہ صحابہ مکہ میں کفار کی ناقابل برداشت ایذائوں کی شکایت کرتے تھے۔ گویا الیوم الموعود وہ فتح و نصرت کا دن ہے اور شاہد اس دن کے برکات و فتوحات اور مشہود سچے دیندار یہ توجیہ سورت کے شان نزول سے زیادہ تر چسپاں ہے۔ واللہ اعلم بمرادہ۔
الغرض ان تینوں چیزوں کی قسم کھا کر کیا فرماتا ہے۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں وہ بات جس پر قسم کھائی اور جس کو جواب قسم کہتے ہیں محذوف ہے۔ اس وقت کے مخاطبین اپنے ذوق سلیم و طرز کلام سے خوب سمجھے تھے۔ پھر کسی نے کہا وہ ایمانداروں کا دنیاء و آخرت میں کامیاب ہونا اور منکروں کا برباد ہونا کسی نے اسی کے قریب قریب کچھ اور فرمایا بہرطور مدعا ایک ہی ہے اور یہ ٹھیک ہے کس لیے کہ محاورہ میں بعض اوقات قسم کھاتے ہیں اور وہ بات کہ جس پر قسم کھائی گئی ذکر نہیں کرتے کیونکہ اس کو مخاطب و متکلم خوب جانتے ہیں یا اس کے اخفاء میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔
دیگر علماء فرماتے ہیں کہ وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے اسی سورة میں مذکورہ ہے پھر بعض نے کہا وہ ان بطش ربک لشدید الخ ہے اور بعض نے کہا یہ جملہ قتل اصحاب الاخدود النار ہے۔ چونکہ کلام الٰہی سب معانی پر حاوی ہے ہر احتمال درست ہے فقال قتل اصحاب الاخدود النار غارت ہوئے (یا غارت ہوجاویں) دہکتی آگ سے خندقوں کے بھرنے والے۔ ذات الوقود اور آگ بھی کیسی تھی ایندھن والی یعنی بہت تیز لمبے چوڑے گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر دی تھیں اور آگ لگا دی تھی۔ جب شعلہ مارنے لگی تو ایمانداروں کو اگر وہ ایمان سے باز نہیں آتے تھے تو اس دہکتی آگ میں پکڑ پکڑ کر ڈالتے تھے۔ اذھم علیہا قعود اور خود ان خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ہوئے وھم علی ما یفعلون بالمؤمنین شہود جو کچھ ایمانداروں سے کر رہے تھے ٗ اس کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ ان کے تڑپنے اور جلنے پر خوب ٹھٹھے لگاتے تھے (اس تقدیر پر شہود بمعنی شاہد یہ ظالم اور مشہود وہ مظلوم ہیں) اور ایمانداروں کو یہ سزا کسی چوری ‘ ڈکیتی ‘ خون وغیرہ جرائم کے سبب سے نہ تھی بلکہ وما نقموا منہم الا ان یومئنوا باللہ العزیز الحمید صرف اسی لیے اور اسی جرم میں یہ سزا دی جاتی تھی اور ان سے بدلہ لیا جا رہا تھا کہ وہ اللہ ‘ زبردست ‘ ستودہ صفات پر ایمان لائے تھے یعنی ایمان لانا جرم قرار دیا گیا تھا۔ ؎
بلوح تربت من یافتم از غیب تحریرے
کہ ایں مقتول راجز بےگناہی نیست تقصیرے
اور ایمان بھی کس پر اللہ پر جو تمام مخلوق کا خالق ومالک ہے اور اس پر زبردست بھی ہے۔ متکبروں اور گردن کشوں کو چاہے تو دم بھر میں خاک میں ملا دے۔ اس بات کا بھی کچھ خیال نہ کیا اور وہ حمید بھی ہے تمام خوبیاں اس میں ہیں۔ ازانجملہ عدل و انصاف رحم بھی ہے سو اس بات کا بھی خیال نہ کیا اور وہ ایسے ظلم و ستم پسند نہیں کرتا اور یہ بھی نہیں کہ اس کے بندوں پر یہ ظلم ہو۔ اس کو خبر نہ ہو بلکہ واللہ علٰی کل شیئٍ شہید کہ اللہ کے سامنے ہر چیز حاضر ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔
اصحاب الاخدود کی تحقیق ¦ اب دو باتیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ وہ اصحاب الاخدود کہ جنہوں نے آگ کی کھائیاں کھودی تھیں ایمانداروں کو بجرم ایمان آگ میں ڈالا تھا ٗ کون لوگ تھے کس ملک میں اور کس زمانہ میں تھے اور ان کا کیا مذہب تھا ؟
مقاتل نے کہا کہ یہ واقعہ تین جگہ ہوا ہے۔ ایک نجران میں جو ملک یمن میں واقع ہے اور ایک بار شام میں اور ایک بار فارس میں۔ یمن میں ذونواس نے کھائیاں کھدوا کر آگ سے بھر دی تھیں۔ ان میں ایمانداروں کو ایمان کے جرم میں ڈالتا تھا۔ شام میں ابطاموس روم نے ایسا ہی کیا تھا۔ فارس میں بخت نصر نے جس کے عہد میں دانیال (علیہ السلام) تھے۔ ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ حبشہ میں بھی ایک بار یہ واقعہ گزرا ہے۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں گزرا ہے جبکہ ان میں بت پرستی کا رواج ہوا اور انہوں نے خدا پرستوں کو ایمان سے روکنا چاہا تو خندقیں کھدوا دیں اور ان میں آگ جلا دی اور بت کو کھڑا کردیا اور حکم دیا کہ جو اس کو سجدہ نہ کرے اس کو آگ میں ڈال دیا جاوے۔ مگر ان آیات میں ان میں سے کون سے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ؟ بامعان نظر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذونواس نے جو یمن میں کیا تھا اس کی طرف اشارہ ہے کس لیے کہ اس واقعہ کو عرب جانتے تھے اور اس کے دیکھنے والے بعض اشخاص آنحضرت ﷺ کے عہد تک باقی تھے اور قریش کو اس واقعہ سے عبرت دلائی گئی کہ وہ بھی اصحاب الاخدود کی طرح غریب ایمانداروں پر ظلم و ستم ڈھاتے تھے۔
مسلم نے اپنی صحیح کے اخیر میں اور اسی طرح نسائی نے اور امام احمد نے اور ترمذی نے صہیب رومی ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے۔ ان نقول میں باہم کسی قدر الفاظ و مطالب میں کمی زیادتی ہے مگر ترمذی نے جو نقل کیا ہے ہم اس کا خلاصہ نقل کرتے ہیں کہ کوئی بادشاہ تھا اور اس کے ہاں ایک بوڑھا کاہن 1 ؎ تھا۔ اس نے ایک روز بادشاہ سے کہا کہ میری عمر اخیر ہوئی۔ آپ کسی ذہین و فطین لڑکے کو میرے حوالے فرمایئے کہ میں اس کو اپنا یہ علم سکھا جائوں تب ایک ہوشیار لڑکے متعین کیا وہ اس کاہن کے پاس آیا جایا کرتا تھا اور رستہ میں ایک راہب 2 ؎ اپنے صومعہ میں رہا کرتا تھا معمر راوی کہتا ہے کہ اس عہد تک راہب لوگ اصلی دین پر قائم تھے) لڑکا راہب سے بھی ملنے لگا۔ راہب نے اس کو دین حق اور توحید کی تعلیم کرنی شروع کی اور لڑکا ایمان لے آیا۔ کاہن کے پاس آنے میں دیر ہونے لگی تو اس کے گھر والوں سے کہلا بھیجا کہ یہ کہاں رہا کرتا ہے۔ میرے پاس کم آتا ہے۔ گھر والوں نے ادھر کاہن نے اس بات پر اس کو مار پیٹ شروع کی۔ ایک روز رستہ رکا ہوا تھا۔ کسی مہلک جانور نے روک رکھا تھا۔ بعض خیال کرتے ہیں کہ وہ شیر تھا ٗ بعض کہتے ہیں سانپ تھا اور لوگ رکے کھڑے تھے۔ تب اس لڑکے نے ایک پتھر اٹھا کر یہ کہا کہ الٰہی اگر راہب 3 ؎ کی بات حق ہے تو میں سوال کرتا ہوں کہ اس پتھر سے یہ موذی مرجائے۔ یہ کہہ کر اس نے پتھر پھینکا جس سے وہ موذی جانور مرگیا۔ لوگوں میں چرچا ہوا اور لڑکے کی بڑی تعریف ہونے لگی۔ یہ شہرہ سن کر ایک اندھا بھی لڑکے کے پاس آیا اور کہا اگر تو میری آنکھیں اچھی کر دے تو میں تجھے یہ کچھ دوں۔ وہ اندھا بادشاہ کا مصاحب تھا۔ لڑکے نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ صرف یہ کہ جو تجھے بینائی دے تو تو اس پر ایمان لا۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ لڑکے نے دعا کی تو اس کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ یہ خبر بادشاہ کو پہنچی جو بت پرست تھا اس نے ان سب کو بلایا اور اس اندھے اور راہب کو آرے سے چروا دیا اور لڑکے کی نسبت حکم دیا کہ اس کو فلاں پہاڑ کی چوٹی سے گرا دو ۔ جب شاہی لوگ اس کو اوپر لے گئے تو وہ خود گر کر مرگئے اور لڑکا بچ رہا۔ پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو کشتی میں سوار کرکے دریا میں لے جا کر غرق کر دو ٗ وہاں بھی شاہی لوگ ڈوب گئے اور لڑکا سلامت نکل آیا۔ تب لڑکے نے بادشاہ سے کہا ٗ آپ مجھے کبھی نہیں مار سکیں گے ٗمگر اس تدبیر سے کہ مجھے سولی پر چڑھا دو اور یہ کہہ کر کہ باسم رب ھذا الغلام (اس لڑکے کے رب کے نام سے) میرے تیر مارو۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ لڑکا مرگیا۔ اس کی کنپٹیوں میں تیر لگا اور مرتے وقت اس نے ان پر ہاتھ دھر لیا۔ بادشاہ سے لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے ان تین شخصوں کو تو ہلاک کیا جو آپ کے مذہب کے برخلاف تھے مگر اب تو سب لوگ آپ کے دین کے مخالف ہوگئے (لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے) تب بادشاہ نے حکم دیا کہ خندقیں کھودو اور ان میں لکڑیاں بھر کر آگ لگا دو اور لوگوں کو حکم دیا کہ حاضر ہوں اور کہا جو اپنے اس دین سے نہ پھرے تو اس کو آگ میں ڈالتے جاؤ۔ تب شاہی کارندوں نے ایمانداروں کو آگ میں ڈالنا شروع کردیا۔ اسی واقعہ کا خدا تعالیٰ اس آیت میں ذکر کرتا ہے۔ قتل اصحاب الا خدود النار یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ نے العزیز الحمید تک آیت پڑھی۔
1 ؎ کاہن جادوگر 2 ؎ راہب خدا پرست 3 ؎ راہب سے مراد قبمون ہے اور بادشاہ سے مراد ذونواس ہوسکتا ہے یا نجران کا حاکم۔ مگر احادیث میں راویوں سے اصل قصہ میں فروگذاشت ہوگئی کس لیے کہ بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ نجران کا بادشاہ ایمان لے آیا۔ اس نے قتل نہیں کیا بلکہ دوسرے بادشاہ نے جو ذونواس ہے۔ 12 منہ
مذکور ہے کہ وہ لڑکا دفن کیا گیا اور حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے زمانہ میں اس کی لاش برآمد ہوئی تو اس کی کنپٹیوں پر اسی طرح ہاتھ دھرے ہوئے تھے اور خون بہہ رہا تھا۔ محمد بن اسحاق بن یسار اسلامی مؤرخ نے اسی واقعہ کو اور بھی تفصیل سے نقل کیا ہے مگر اس پہلی نقل میں اور اس کے بیان میں کسی قدر مخالفت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ شہر نجران کا واقعہ ہے اور اس لڑکے کا نام عبداللہ بن تامر تھا اور راہب کو کہا ہے کہ وہ عیسوی دین پر تھا اور کھائیاں آکر ذونو اس بادشاہ یمن نے کھدوائی تھیں اور اسی نے آکر جبکہ یہ دیکھا کہ اکثر اہل نجران عیسائی ہوگئے تب یہ حرکت کی تھی اور عبداللہ بن تامر کو اسی نے قتل کیا تھا۔
اس حادثہ میں تخمیناً بیس ہزار آدمیوں کو اس ظالم نے قتل کیا تھا۔
ذونواس کا تذکرہ ¦ اب ہم کسی قدر اس ذنواس اس کا حال بیان کرتے ہیں۔
واضح ہو کہ ملک یمن میں قوم حمیر کا اخیر بادشاہ اسد تھا۔ اس کو تبع اخیر بھی کہتے ہیں۔ یہ بادشاہ نوشیرواں عادل کے عہد کے قریب تھا یا ہم عہد تھا۔ اس نے تسخیر بلاد کا اپنے بزرگوں کے طور پر قصد کیا۔ حجاز اور بالخصوص مکہ سے سفر کرتا ہوا مدینہ پہنچا۔ مدینہ کے آس پاس قوم یہود کی چند بستیاں آباد تھیں۔ یہ لوگ بخت نصر کے حادثہ سے یا اس کے بعد دیگر حوادث سے اس ملک میں آرہے تھے۔ فدک ‘ خیبر ‘ قریظہ ‘ نضیر ‘ وادی القریٰ ‘ ینبوع وغیرہ اسی قوم کی بستیاں تھیں صرف یہی لوگ توریت اور دین موسیٰ (علیہ السلام) کے متبع تھے ورنہ سب عرب بت پرست تھے۔ مدینہ کا گرد نواح اس بادشاہ کو بہت پسند آیا۔ مدینہ کا سردار ان دنوں عمر و بن طیاح بنی خزرج میں سے تھا۔ یہ بادشاہ جس کے پاس بیشمار لشکر تھا۔ مدینہ پر غالب آیا اور عمرو کی جگہ اپنے بیٹے کو سردار کرکے شام کی طرف کوچ کر گیا۔ جب دور چلا گیا تو بعد میں اہل مدینہ نے اس کے بیٹے کو قتل کر ڈالا۔ اس نے اس خبر کو سن کر ارادہ کیا کہ واپسی میں اس شہر کے مرد و زن کو تہ تیغ کروں گا۔ چناچہ جب یہ لوٹتا ہوا آیا تو مدینہ کا محاصرہ کیا۔ بہت دنوں محاصرہ رہا مگر شہر فتح نہ ہوسکا۔ اس عرصہ میں بنی قریظہ کے دو تین عالم یہودی اس کے پاس آئے جن میں سے ایک کا نام کعبؔ اور ایک کا اسیدؔ تھا۔ انہوں نے کہا ٗ اے بادشاہ ! آپ اس شہر کو برباد نہ کرسکیں گے لوٹ جایئے۔ اس نے پوچھا کس لیے عرض کیا کہ اس شہر کو خدا نے اپنے ایک اخیر نبی کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو قریش مکہ میں پیدا ہوگا اور جب مکہ کے لوگ اس پر ظلم کریں گے تو اس شہر میں آکر رہے گا۔ یہیں اس کی قبر ہوگی۔ یہ خبر ہماری توریت میں ہے۔ بادشاہ نے پوچھا کیا ہے ؟ انہوں نے آگاہ کیا اور دین موسوی کے فضائل بیان کئے۔ تب یہ بت پرست بادشاہ مذہب یہودی میں داخل ہوگیا اور ان دونوں عالموں کو یمن میں ہمراہ لے گیا اور وہاں اس مذہب کو رواج دیا۔ پھر یہ بادشاہ مرگیا اور اس نے تین بیٹے چھوڑے۔ حسان ‘ عمرو ‘ زرعہ۔ یہ کم سن لڑکے تھے۔ اس لیے بنی لحم میں سے ایک شخص ربیعہ بن نصر اٹھ کھڑا ہوا اور سلطنت کا مالک ہوگیا، اسی ربیعہ نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر کے لیے سطیح اور دشق دو کاہنوں کو بلایا۔ انہوں نے ازخود بادشاہ کا خواب بیان کردیا کہ آپ نے یہ دیکھا ہے کہ ایک سیاہی جہاں میں پھیل گئی اور اس سیاہی میں سے ایک کوئلہ نکل کر زمین پر گرا اور آگ ہوگیا اور لوگوں کو جلا دیا۔ بادشاہ نے کہا تو نے درست کہا ٗ اب اس کی تعبیر کیا ہے ؟ اس نے کہا ملک حبش سے ایک بادشاہ اٹھے گا اور تیرا ملک لے لے گا اور دین یہودی سے لوگوں کو برگشتہ کرے گا اور حبشیوں کا زور یمن پر ہوجاوے گا۔ بادشاہ نے پوچھا اے سطیح اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اس نے کہا ایک شخص اٹھے گا جس کا نام سیف بن ذی یزن ہوگا اور حبشیوں سے ملک چھین لے گا۔ پھر سیف مارا جائے گا اور عرب سے ایک پیغمبر پیدا ہوگا اور اس کا دین لوگ قبول کریں گے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ اس خواب کے اندیشہ سے ربیعہ نے اپنے لوگوں کو حیرہ میں بھیج دیا تھا جن میں سے منذر بن نعمان بھی تھا جو نوشیرواں کا تابع تھا اور اس کی سلطنت بصرہ کوفہ اور عراق اور کچھ شام اور نواحی عرب میں تھی۔
ربیعہ چند سال سلطنت کرکے مرگیا۔ لوگوں نے پھر تبع کے بیٹے حسان کو بادشاہ بنایا۔ اس نے حجاز اور شام پر چڑھائی کی اور یمن میں اپنے بھائی عمرو کو چھوڑ گیا تھا۔ جب وہ موصل میں پہنچا تو لوگوں نے عمرو کو بادشاہ بنا لیا اور اس نے اپنے بھائی حسان کو قتل کر ڈالا جس کے بعد وہ دیوانہ ہو کر مرگیا۔ اس عرصہ میں ایک شخص جو خاندان سلطنت سے نہ تھا۔ کھڑا ہوا اور یمن کا بادشاہ بن بیٹھا اس کا نام خیف بن عالم تھا وہ بڑا ظالم اور بدکار تھا۔ لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتا تھا جو نئی دلہن ہوتی تھی پہلے ایک رات وہ رکھا کرتا تھا۔ زرعہ جو تبع کا چھوٹا بیٹا باقی رہ گیا تھا وہ نہایت حسین تھا اس کو بھی اس نے اس ارادہ سے بلایا۔ اس نے تنہا پا کر اس ناپاک کو مار ڈالا اور لوگوں نے مستحق تاج وتخت سمجھ کر زرعہ ہی کو یمن کا بادشاہ بنا لیا۔
ادھر نجران میں شام سے ایک شخص حضرت مسیح (علیہ السلام) کے حواریوں کی ذریت میں آیا جس کا نام قیمون تھا اور نجران میں عرب کا قبیلہ بنی ثعلبہ تھا اور وہاں ایک کھجور کا پیڑ تھا جس کو یہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کے آگے قربانی کرتے تھے۔ قیمون مرد باخدا تھا ٗ رات بھر عبادت کیا کرتا تھا اور دن کو مزدوری اور آج اس گائوں میں ہے تو کل دوسرے میں اسی طرح قیام کیا کرتا تھا۔ جب لوگوں نے اس کی کرامات دیکھیں تو اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور کہا اگر تو ہمارے بتوں پر غالب آگیا تو ہم تیرا دین اختیار کرلیں گے۔ قیمون کی دعا سے ان کے بت گر پڑے۔ لوگوں نے دین عیسوی اختیار کرلیا اور قیمون وہاں انجیل کی تعلیم کرنے لگے۔ وہاں کے سردار تامر کا بیٹا عبداللہ بھی قیمون کا شاگرد رشید اور بڑا بزرگ اٹھا۔ اب نجران کے لوگوں نے بجز عیسوی دین کے اور کسی مذہب کو باقی نہ چھوڑا جو ان کا دین قبول نہ کرتا تھا قتل کیا جاتا تھا۔ ایک یہودی نجران میں گیا اور جا کر اس نے یہ سب کیفیت ملاحظہ کی اور زرعہ کو خبر کی اور یہ زرعہ ذونواس بھی کہلاتا تھا۔ یہ سن کر ذونواس پچاس ہزار لشکر لے کر نجران پر چڑھ گیا اور عیسائیوں کا عبادت خانہ جلا دیا اور کھائیاں کھدوا کر ان میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو دین عیسوی سے برگشتہ نہ ہو اس کو اس میں ڈال دو ۔ اس لیے لوگوں کو آگ میں ڈالنا شروع کیا اور عبداللہ بن تامر کو بھی قتل کیا۔ یہ ہیں اصحاب الاخدو دجن پر خدا تعالیٰ قرآن مجید میں لعنت کرتا ہے۔ بقولہ قتل اصحاب الاخدودالنار ذات الوقود اذھم علیہا قعود اور یہ ظلم و ستم کرکے ذونواس یمن میں واپس آیا (بعض کہتے ہیں ذونواس زرعہ نہ تھا بلکہ اس کا سپہ سالار تھا) اس حادثہ کے بعد نجران کے لوگوں میں سے ایک شخص جلی ہوئی انجیل لے کر قیصر روم کے پاس جو وہ بھی عیسائی تھا فریادی گیا۔ قیصر یہ ماجرا سن کر سخت ناراض ہوا اور رویا اور کہا میرے لشکر کا پہنچنا مشکل ہے۔ میں حبش کے بادشاہ نجاشی کو لکھتا ہوں کہ وہ بھی عیسائی ہے اور یمن سے قریب ہے ٗ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ چناچہ قیصر کے نامہ کے ساتھ یہ شخص حبش میں آیا وہاں کا بادشاہ یہ حال سن کر بہت رویا۔ تب شاہ حبش نے ستر ہزار بہادر سپاہ تیار کی اور اس کا سپہ سالار رباطہ کو کیا۔ حبش اور یمن کے درمیان چھوٹا سا ٹکڑا سمندر کا ہے۔ یہ لشکر بحری جہازوں پر سوار ہو کر یمن میں حضرموت کے مقام پر اتر پڑا۔ ذونواس نے ایک حیلہ کیا کہ رباطہ کو نامہ لکھا کہ شاہ نجاشی کو مجھ سے عداوت نہیں اس لیے میں بھی لڑنا نہیں چاہتا۔ آپ کو میں خزانوں کی کنجیاں دیے دیتا ہوں۔ پھر آپ مجھے یا اپنے پاس رکھئے یا نجاشی کے پاس بھیج دیجئے۔ رباطہ نے کہا میں نجاشی کو مطلع کرتا ہوں جو وہ حکم دے گا آپ کو مطلع کروں گا۔ اس لیے نجاشی کو سب حال لکھا۔ نجاشی نے خوش ہو کر حکم دیا کہ خزانے اس سے لے لو اور اس کو میرے پاس بھیج دو ۔ اس بات کی ذونواس کو خبر دی۔ ذونواس نے اونٹوں پر کنجیاں لاد کر رباطہ کے پاس بھیج دیں اور پھر شہر صنعا میں رباطہ کو لے آیا اور جو کچھ تھا اس کے حوالے کیا اور یہ بھی کہا کہ اور صوبجات میں بھی میرے خزانچی اور خزانے ہیں اور آپ جہاں جہاں میں کہو ضبط اموال کے لیے لشکر روانہ کیجئے۔ رباطہ نے ایسا ہی کیا اور تمام لشکر ملک یمن میں منتشر کردیا اور در پردہ لوگوں کو لکھ بھیجا کہ ہر جگہ ان پر حملہ کر دو ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور حبشی لشکر جا بجا مارا گیا۔ رباطہ کو جب یہ خبر ملی تو صنعاء سے بھاگ کر حضرموت میں آیا اور کشتی میں آبیٹھا اور نجاشی کو اس حال سے مطلع کیا۔ نجاشی نے ایک لاکھ پیادہ اور سوار کا دوسرا لشکر مرتب کیا اور ان کا افسر ابرہہ بن صباح کو کیا جو شاہی خاندان سے تھا اور اس کو عرب ابرہہ الاشرم بھی کہتے تھے اور اشرم نکٹے کو کہتے ہیں۔ جب ذونواس نے دیکھا کہ اب کے بار بڑا لشکر آیا اور کوئی تدبیر پیش نہیں چلتی تو گھوڑے پر چڑھ کر سمندر میں گھس گیا۔ یہ گھوڑا تیرا کرتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گھوڑا اور سوار دونوں ڈوب گئے۔ ابرہہ نے آکر تمام ملک اور صنعاء کی بیش بہا چیزوں پر قبضہ کرلیا اور حکم دیا کہ جو دین عیسوی اختیار نہ کرے گا ٗ قتل کیا جاوے گا۔ چناچہ جس نے ذرا بھی انکار کیا گردن مار دی گئی۔ نجاشی کو ابرہہ کے تحائف و نذرانہ فتوحات نہ بھیجنے سے گمان ہوا کہ خود سر ہوگیا۔ اس لیے چار ہزار لشکر دے کر رباطہ کو بھیجا کہ ابرہہ کو معزول کرکے میرے پاس بھیج اور تو میری طرف سے وہاں کا حاکم ہو کر رہ۔ جب رباطہ آیا اور ابرہہ سے کہا تو ابرہہ نے کہا اگر میں سب چیزیں تیرے سپرد نہ کروں تو تو کیا کرے گا۔ رباطہ نے کہا جنگ کروں گا۔ ابرہہ نے کہا آؤ تو لو میں اور تو ہی کیوں نہ لڑیں فوج کو کیوں تلف کریں۔ فوج سے نکل کر دونوں میدان میں آئے۔ ادھر ابرہہ نے اپنا ایک غلام چھپا رکھا تھا۔ رباطہ نے ابرہہ کے سر پر تلوار ماری چونکہ یہ لوہے کا خول پہنے ہوئے تھا سر تو نہ کٹا مگر ناک اڑ گئی۔ اس لیے اس کو اشرم کہنے لگے۔ ادھر غلام نے رباطہ پر یکایک حربہ کیا اور ایک ہی وار میں کام تمام کردیا۔ باقی رباطہ کے لوگ کچھ مارے گئے کچھ بھاگتے دریا میں ڈوبے۔ کچھ کشتیوں میں سوار ہو کر نجاشی کے پاس آئے اور سب حال سے مطلع کیا۔ نجاشی نے قسم کھائی کہ میں جب تک ابرہہ کو قتل نہ کرلوں گا خاموش نہ رہوں گا۔ ابرہہ کو بھی خبر لگی اس نے ایک عرضی میں عذر لکھا اور کہا کہ رباطہ نے مجھ پر زیادتی تھی۔ میرے غلام نے اس کو مار ڈالا۔ میں آپ کا فرمانبردار ہوں اور عرضی کے ساتھ بہت کچھ تحائف بھی بھیجے۔ نجاشی نے عذر قبول کرکے ابرہہ کو ہی یمن کا حاکم رہنے دیا۔ یہ وہی ابرہہ ہے جو بہت سے ہاتھی لے کر کعبہ ڈھانے آیا اور اس کا لشکر اور یہ قہر الٰہی میں مبتلا ہوا جس کا ذکر سورة الم ترکیف کی تفسیر میں آوے گا (ملخص از تاریخ طبریٰ ) اس تاریخ کے مطابق عبداللہ بن تامر کو ذونواس نے قتل کیا تھا اور واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت تک دین عیسوی کی پابندی فرض تھی۔ یہ اور بات ہے کہ اس دین میں عیسائیوں نے صدہا بدعات ملا کر اس کی اصلی صورت بگاڑ دی تھی۔
Ayahs 85:10–16ترکیب ¦ فلہم الخ الجملۃ خبران ‘ ولھم الجملۃ الثانیۃ معطوفۃ علیھا الذین آمنوا الخ اسم ان لہم جنات الجملۃ خبرھا تجری الخ صفۃ جنات ‘ المجید قرء الجمہور بالرفع علی انہ لغت لذو وقریٔ بالکسر علی انہ لغت للعرش و مجدہ علوہ وعظمہ وقیل ھو لغت لربک وقال مکی ھو خبر بعد خبر۔ فعال مرفوع علی انہ خبر مبتدء محذوف وقال الفرا مرفوع علی التکریر والا ستیناف وقیل مرفوع علی الاتباع۔
تفسیر ¦ کفار قریش کو اصحاب الاخدود کا مآل کارسنا کر کہ ان پر لعنت پڑی دنیا میں بھی برباد ہوئے۔ تخت بخت سب جاتا رہا۔ ذلت سے مرے آخرت میں بھی رسوا ہوئے اپنا دائمی قانون سناتا ہے۔ فقال ان الذین فتنوا المومنین والمومنات کہ جنہوں نے ایماندار مردوں اور عورتوں کو فتنہ میں ڈالا عام ہے کہ مار پیٹ کی یا قتل کیا یا قید میں رکھا یا اور کسی قسم کی تکلیف دی یا ان کے لیے گمراہی میں اور لہو و لعب میں پڑنے کے سامان پیدا کئے۔ ناچ تماشا اور رقص و سرود کی محفل کرکے مسلمان مرد اور عورتوں کو شریک کرنا بھی ان کو فتنہ میں ڈالنا ہے۔ ثم لم یتوبوا اور پھر اس سے وہ باز نہ آئے کیونکہ اگر باز آجاتے اور توبہ کرتے تو گو حقوق العباد کا مطالبہ باقی رہتا مگر خدائی مقابلہ کے جرم میں عذاب عظیم نہ پاتے۔ فلہم عذاب جہنم تو ان کے لیے آخرت میں عذاب جہنم ہے ولہم عذاب الحریق اور دنیا میں جلانے والا عذاب ہے یعنی وہ مصیبت کہ جس سے ان کے دلوں پر صدمہ ہو اور جلا کریں ٗ اقبال جاتا رہے۔ دشمن غلبہ پاویں۔ افلاس و نا اتفاقی اور بیماریاں اور قحط پیش آویں ٗ قتل کئے جاویں۔ گھر بار چھنیں ‘ بال بچے قید ہوں یا غلام بنائے جاویں۔ عورتیں ان کے روبرو بےعزت کی جائیں۔ ان کے ملک اور دولت پر دشمن قابض ہوں اور یہ دیکھا کریں۔ خدا کی پناہ ہے۔ عذاب حریق سے اور سب عذابوں سے اور جو فلھم میں آئی تو اس سے یہ بات بتلا دی کہ یہ بلا انہیں کے افعال سے آتی ہے وہ افعال سبب اور یہ مسبب ہے۔ ہماری عدالت اور رحم کا مقتضٰی نہیں کہ خواہ مخواہ ہم بغیر کسی ارتکاب جرم کے عذاب میں مبتلا کریں۔ یہ ان کی سوزش کا بدلہ ہے جو ان کے ہاتھ سے ایمانداروں کو پہنچتی تھی۔ اب دوسری بات اس کے مقابلے میں نیکی کرنے والوں ایمانداروں کی بابت بھی سن لو ان الذین آمنوا وعملوا الصالحات کہ جو لوگ ایمان لائے اور ایمان ہی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے بعد انہوں نے نیک کام بھی کئے۔ عبادت ‘ خیرات و صلہ رحمی وغیرہ لہم جنت تجری من تحتہا الانہار ان کے لیے باغ ہیں یعنی بہشت میں اور باغ بھی کیسے کہ جن میں نہریں بہتی ہیں۔ یہ نہریں ان خونوں کا بدلہ ہے جو دنیا میں ان کے بدنوں سے اللہ کی راہ میں نکلا تھا یا وہ حسنات جاریہ ہیں جن کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
ذلک الفوز الکبیر یہ ہے بڑی کامیابی کس لیے کہ اگر دنیا میں کسی نے مال بےحساب اور ملک اور عمدہ مکان اور اچھے جواہرات اور تمامی عیش و سامان بہم بھی پہنچا لیے اول تو سب چیزوں کا بہم پہنچنا مشکل ہے ایک نہ ایک حسرت باقی ہی رہ جاتی ہے کیا خوب کہا کسی نے ؎
ہزاروں حسرتیں ایسی کہ ہر حسرت پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
تو پھر ان چیزوں کو دوام وبقاء نہیں۔ دشمن کا کھٹکا ان چیزوں کی بےثباتی کا بھی دغدغہ ساتھ ہی لگا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے بادشاہوں کو اخیر عمر میں اپنے ملازموں اور اولاد اور بیویوں کے ہاتھ سے تلخی چکھ کر بڑی حسرتوں سے مال اور ملک رخصت کرنا پڑا ہے اور یہ بھی نہ ہو تو خود اس کی عمر رواں کا کیا اعتبار اور پھر جوانی اور تندرستی تو تھامے نہیں تھمتی ٗ بےاختیار چلی جاتی ہے۔ برخلاف دار آخرت اور وہاں کے نعیم کے وہاں ان باتوں میں سے کسی کا بھی دغدغہ نہیں وہیں کے پھول بےکانٹے کے ہیں اسی لیے عالی دماغوں نے اس چند روزہ عیش پر لات مار دی تھی اور قبل اس کے کہ یہ عیش و نشاط ان کو چھوڑے خود انہوں نے اس کو چھوڑ دیا تھا، اس لیے بڑی کامیابی جنت اور وہاں کے نعیم ہیں۔
دو باتیں بیان فرمائی تھیں۔ ایک یہ کہ ایمانداروں کو ستانے والوں کو جہنم ہے۔ دوسری یہ کہ ایمانداروں نیک بختوں کے لیے جنت ہے۔ اس لیے ان دونوں کے مناسب دو قسم کے صفات بیان فرمانا کلام کو مؤکد کرتا ہے۔ پہلی بات کے لیے اپنی صفت جبروت و قہر وقدرت کا اظہار فرماتا ہے۔ فقال ان بطش ربک لشدید کہ تیرے رب کی گرفت سخت ہے۔ جس کو پکڑتا ہے تو پھر کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ دنیا میں بھی خوار و ذلیل کردیتا ہے۔ آخرت میں مبتلا ئِ عذاب کرتا ہے۔ نہ پھر کوئی تدبیر کام آتی ہے نہ کوئی حیلہ اور زور چلتا ہے۔ بندہ کو کسی بات پر ناز نہ کرنا چاہیے۔ وہ دم بھر میں سلطنتوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ دولت مندوں کو مفلس کردیتا ہے۔ آبائی اعزاز کو برباد کردیتا ہے۔
دوسری بات کے لیے صفات رحم و عطا و بذل وجود کو ذکر کرتا ہے۔ فقال انہ ہو یبدی ویعید کہ وہ مبدائِ فیاض ہے۔ پہلا وجود بھی اسی نے عطا کیا تھا اور مرنے کے بعد بھی جو نئی زندگانی ہوگی اس وجود کو بھی وہی عطا کرے گا۔ یہاں دار آخرت کا ضمناً ثبوت بھی تھا اور یہی زندگی فوز کبیر کا مقدمہ ہے۔ اس لیے اس کے بعد فوز کبیر کے متعلق صفات بیان فرماتا ہے۔ وھو الغفور کہ وہ بخش دینے والا بھی ہے۔ بندوں کے گناہوں سے توبہ و استغفار پر درگزر بھی کرتا ہے اور جو سرے سے نیکو کار ہیں اس کے لیے الودود پیار اور محبت بھی کرنے والا ہے۔ اس کو اپنے بندوں سے ایسی محبت ہے کہ ماں کو اپنی اولاد سے بھی نہیں اور اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ وہی محبت کرنے کے قابل ہے۔ وہی محبوب اصلی ہے۔ ذوالعرش تخت والا بھی تخت پر بیٹھ کر اپنے ملک میں جو چاہتا ہے کرتا ہے کون ہے اس کے آگے صاحب تخت ؟ المجید بڑی شان والا ہے۔ فعال لما یرید اور قادر مطلق بھی ہے جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے۔ کوئی اس کو روک نہیں سکتا ٗ نہ کسی کام میں اس کو کسی مددگار کی طرف حاجت پڑتی ہے نہ وہ کسی سامان کا محتاج ہے۔
Ayahs 85:17–22ترکیب ¦ ھل اتاک الجملۃ مستانفۃ مقررۃ لما تقدم من شدۃ بطشہ و کونہ فعالاً لما یرید فرعون وثمود بدل من الجنود والمراد بفرعون ھو وقومہ وثمود قوم معروفون عند العرب والمراد بحدیثھم ماوقع منھم من الکفر والعنا دوما وقع علیھم من العذاب واللہ الخ الجملۃ حال من فاعل کفروا محفوظ بالجر نعت للوح وبالرفع نعت للقرآن و الاول قراءۃ الجمہور۔
تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ تیرے رب کی پکڑ سخت ہے اور اس کے ثبوت کے لیے اول اصحاب الاخدود کا قصہ نقل کیا تھا۔ اجمالاً جو آنحضرت ﷺ سے تھوڑے ہی برسوں پہلے گزرا تھا اور عرب میں زبان زد تھا۔ اس کے بعد پھر اسی بات کے ثبوت کے لیے اجمالی طور پر وہ واقعات کو یاد دلاتا ہے جن میں سے ایک کو تو عرب اور اہل کتاب جانتے تھے۔ اس لیے اس کو مقدم کیا اور وہ فرعون اور اس کی قوم کی سرکشی اور ہلاکت کا قصہ ہے اور دوسرے کو عرب جانتے تھے یعنی قوم ثمود کا حال کہ جو کچھ ان پر حضرت صالح (علیہ السلام) کے ساتھ گستاخی اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے گزرا۔ اس لیے فرماتا ہے ھل اتاک حدیث الجنود کہ اے محمد ﷺ یا اے مخاطب ! کیا تجھے لشکروں کی بات پہنچی ؟ یعنی ضرور پہنچی ہوگی۔ بعض علماء کہتے ہیں ھل بمعنی قد ہے یعنی تحقیق پہنچی سب جانتے ہیں جنود جند کی جمع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ کفار قریش کیا چیز ہیں۔ ان کا تو ایک لشکر بھی نہیں۔ اس سے پہلے بہت سے لشکروں کو ہم غارت کرچکے ہیں۔ پھر فرماتا ہے فرعون وثمود وہ لشکر کون تھے ؟ فرعون کے اور قوم ثمود کے لشکر جو بڑے طاقتور اور کثرت سے تھے۔ کچھ ایسے ویسے لشکر بھی نہ تھے۔ پھر دیکھو ان پر کیا گزری کس طرح سے خدائے جلیل و جبار نے ان کی سرکشی اور بدکاری سے ان کو ہلاک کیا۔ ان دونوں قصوں کی تفصیل کئی بار قرآن مجید میں آچکی ہے۔
منکرین قریش ایسے واقعات سن کر کہہ دیا کرتے تھے کہ ہم کیا خدا کے قائل نہیں اور کیا اس کی قدرت کو نہیں مانتے۔ یہ اس لیے کہ وہ مشرک تھے۔ بتوں کو وسیلہ جانتے تھے اور خدا پاک کو بھی مانتے تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے بل الذین کفروا فی تکذیب ہرگز نہیں بلکہ منکر جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں۔ گو زبان سے کہتے ہیں مگر ان کا حال جھٹلا رہے ہیں اور اگر دل میں ان کے اسباب کا نقشہ جما ہو تاکہ وہ سخت پکڑ کرنے والا ہے تو ایمانداروں اور ہمارے پیغمبر پر ظلم و ستم نہ کرتے اور سرکشی سے باز آتے اور ہماری مرضی کے تابع ہوتے بلکہ ان کو اپنے جہل سے اپنی طاقت اور قومیت کا غرور ہے اور دراصل یہ غرور باطل ہے کس لیے کہ واللہ من ورائہم محیط کہ وہ ہر طرف سے اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ کسی طرف سے باہر نہیں نکل سکتے اور تمام ممکنات کا یہی حال ہے کہ اس کی قدرت کے احاطہ میں ہے وہ سب کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ احاطہ جسمانی نہیں جیسا کہ برتن کا پانی کے لیے اور گھر کا گھر میں رہنے والوں کے لیے ہوتا ہے بلکہ احاطہ قدرت اور احاطہ ذاتی ہے چونکہ یہ سب واقعات اور پھر ہدایت مضامین قرآن میں ہیں۔ وہ ان باتوں کو کیا نہیں مانتے بلکہ قرآن کو نہیں مانتے مگر ان کے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے۔ بل ہو قرآن مجید بلکہ قرآن وہ بلند شان والا ہے کسی کے باطل کرنے سے باطل نہیں ہوسکتا۔ کس لیے کہ فی لوح محفوظ لوح محفوظ میں ثبت ہے جہاں کسی معاند کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔ لوح محفوظ کی کیفیت مقدمہ تفسیر سے معلوم کرلو۔