Ayah 85:1والسماء ذات البروج . برجوں والے آسمان کی قسم ‘ برج کا معنی ہے قلعہ لغوی معنی ہے ظہور۔ تَبَرَّجَتِ الْمَرْأَۃُ :
وہ عورت برآمد ہوگئی۔ قلعہ بھی بالکل نمایاں ہوتا ہے (عموماً پہاڑیوں پر قلعے بنائے جاتے تھے) اس لیے اس کو برج کہا جاتا ہے۔ ظاہر کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر کچھ مکان ہیں جن کو برج کہا جاتا ہے۔۔ عطیہ عوفی نے بروج کا ترجمہ کیا ہے : وہ محل جہاں چوکیدار متعین ہوں۔ صحیحین میں حدیث معراج کی تفصیل میں آیا ہے کہ پھر بیت معمور تک مجھے اٹھا کرلے جایا گیا یعنی ساتویں آسمان پر کعبہ کے مقابل سورة تطفیف میں وہب بن منبہ کا قول گزر چکا ہے کہ ساتویں آسمان میں ایک مکان ہے جس کو سفید مکان کہا جاتا ہے۔ وہاں مؤمنوں کی روحیں جمع ہوتی ہیں یا بروج سے مراد آسمان کے دروازے ہیں کیونکہ اترنے والے دروازوں سے ہی نکلتے اور برآمد ہوتے ہیں۔ فلاسفہ کے اتباع میں عوام کا بھی یہ خیال ہوگیا ہے کہ وہمی (یعنی فرضی) طور پر آسمان کو 12 حصوں پر تقسیم کرلیا گیا ہے ہر حصہ کو برج کہتے ہیں جس میں ثوابت (غیر متحرک تارے) تو رہتے ہی ہیں اور سیارے بھی آتے رہتے ہیں اور ثوابت کے اجتماع سے جو صورت بن گئی ہے ‘ وہی اس کا نام رکھ دیا گیا ہے جیسے حمل (بکری کا بچہ) ‘ ثور (بیل) جوزا (جڑواں بچہ) وغیرہ۔ مگر یہ قول ہیچ ہے ‘ اس خیال کی بناء اس امر پر ہے کہ آسمان کی حرکت دوامی ہے اور ستارے اس میں پیوست ہیں لیکن یہ اقوال غلط ہیں۔ کتاب اور سنت سے ثابت ہے کہ ہر سیارہ فلک میں ہموار رفتار سے چلتا ہے (تیرتا ہے) آسمانوں میں غیر متحرک ستارے موجود ہی نہیں ہیں کہ ان کے مجموعہ کے لحاظ سے آسمان کے ایک خاص حصہ کو برج کہا جاسکے۔ اللہ کے کلام میں بےدین فلسفیوں کی اصطلاح مراد نہیں ہوسکتی۔ اس لیے آسمان کے موہوم حصوں کو برج نہیں کہا جاسکتا۔ برج کی لفظی ساخت تو ظہور کے معنی پر دلالت کر رہی ہے اور اصطلاحی حصۂ آسمان محض وہمی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں کیونکہ وہ بالکل نمایاں ہیں۔ یہ قول حسن ‘ مجاہد اور قتادہ کا ہے۔
Ayah 85:2والیوم الموعود . اور مقرر دن یعنی روز قیامت کی قسم۔
Ayah 85:3و شاھد . یعنی روز جمعہ کی قسم یا ہر اس شاہد کی قسم جو حق کی شہادت دے۔
و مشھود . اور یوم عرفہ کی قسم یا ہر اس چیز کی قسم جس کی شہادت سچا شاہد دیتا ہے۔ یہ امور عظمت والے
ہیں اس لیے اللہ نے ان کی قسم کھائی۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یوم موعود ‘ یوم قیامت ہے اور مشہود یوم عرفہ اور شاہد روز جمعہ۔ یوم جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اگر ٹھیک اس ساعت میں کوئی مؤمن بندہ اللہ سے کسی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے اور جس شر سے پناہ مانگتا ہے ‘ اللہ اس شر سے اس کو بچا لیتا ہے۔ (رواہ احمد والترمذی)
ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ اس کا راوی حضرت موسیٰ بن عبیدہ ہے اور موسیٰ ضعیف ہے۔ طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابو مالک اشعری کی روایت سے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ اس میں اتنا زائد ہے کہ یوم جمعہ کو اللہ نے ہمارے لیے مخصوص فرما دیا ہے اور صلوٰۃِ وسطیٰ عصر کی نماز ہے۔
یوسف ؓ بن مہران نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ شاہد ‘ محمد ﷺ ہیں اور اللہ نے فرمایا ہے : وجئنا بک علٰی ھولآء شھیدا اور مشہود سے مراد روز قیامت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : ذلک یوم مجموع لہ الناس و ذٰلک یوم مشھود۔ اس قول پر تکرار لازم آئے گی۔ یوم موعود اور یوم مشہود ونوں ایک ہی ہوں گے۔ بعض لوگوں نے کہا : شاید اعمالنامہ لکھنے والے فرشتے ہیں اور مشہود آدمی ہے۔ حسین بن فضل نے کہا : شاہد سے مراد ہے یہ امت اور مشہود سے مراد ہیں باقی اقوام۔ اللہ نے فرمایا ہے : لتکونوا شھداء علی الناس۔ سالم بن عبداللہ نے سعید بن جبیر سے اس آیت کی مراد پوچھی تو سعید ؓ نے فرمایا : شاہد اللہ ہے اور مشہود ہم ہیں۔ آیت : کفی باللہ شھیدًاسے اس پر روشنی پڑتی ہے۔ بعض نے کہا : اعضاء انسانی شاہد ہیں ‘ اللہ نے فرمایا : یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم۔ بعض کے نزدیک شاہد انبیاء ہیں اور مشہود محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اللہ نے فرمایا : واذاخذ اللہ میثاق النبین ..... فاشھدوا انا معکم من الشّٰھدین۔ میں کہتا ہوں اگر آیت کی تفسیر میں کسی حدیث کا ورود صحیح طور پر ثابت ہوجائے تو بس وہی تفسیر معین ہے ورنہ تخصیص کی کوئی وجہ نہیں بلکہ شاہد سے ہر شاہد بالحق اور مشہود سے ہر مشہود بالحق مراد ہوگا ‘ کوئی ہو۔ اللہ نے فرمایا ہے : شھد اللہ انہ لا الٰہ الاّ ھو والملآئکۃ واولوا العلم۔ پس شاہد اللہ بھی ہے ‘ ملائکہ بھی ‘ اعمالنامے لکھنے والے فرشتے بھی ‘ انبیاء بھی ‘ رسول اللہ ﷺ بھی۔ تمام مؤمن خصوصاً امت محمدیہ بھی اور اس امت میں سے خصوصیت کے ساتھ علماء بھی اور وہ لوگ بھی جو مقدمات کے فیصلے کرنے اور حدود قائم کرنے کے لیے سچی شہادت دیتے ہیں اور مشہود ہے کلمۂ توحید ‘ انبیاء کی صداقت اور تبلیغ رسالت ‘ انسان کے اعمال اور ہر کلمۂ حق جو کسی سچے شاہد نے کہا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : گواہوں کی عزت کرو۔ اللہ انہی کے ذریعہ سے حقوق کو برآمد کرتا اور مظالم کو دفع فرماتا ہے۔ (رواہ الخطیب و ابن عساکر بسند ضعیف عن ابن عباس ؓ
Ayah 85:4. قتل . یہ جواب قسم ہے مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ قسم کا جواب بغیر لام کے بہت کم آتا ہے ‘ اس لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ قسم کا جواب محذوف قرار دیا جائے جس کی تعیین آئندہ کلام سے ہو رہی ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں کہ کفار قریش ملعون ہیں جیسے : اصحاب الاخدود ملعون تھے۔
اصحاب الاخدود ملعون تھے ‘ خندقوں والے حضرت صہیب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گزشتہ اقوام میں یمن میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ایک جادوگر تھا جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا : میں تو بوڑھا ہوگیا اس لیے کوئی لڑکا میرے پاس بھیج دیجئے کہ میں اس کو سحر سکھا دوں۔ بادشاہ نے ایک لڑکا اس کے پاس جادو سیکھنے کے لیے بھیج دیا۔ لڑکے کے راستہ میں ایک درویش پڑتا تھا۔ لڑکا درویش کے پاس جاتا تھا اور اس کی باتیں سنتا تھا تو اس کی باتیں اس کو پسند آجاتی تھیں۔ چناچہ جادوگر کے پاس جانے میں درویش کے پاس راستہ میں بیٹھ جانے کی وجہ سے دیر ہوجاتی تھی۔ ساحر اس کو مارتا تھا اور جادوگر کے پاس سے واپسی میں بھی لڑکا اس درویش کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں سنتا تھا ‘ اس لیے گھر پہنچنے میں بھی دیر ہوجاتی تھی۔ گھر والے بھی اس کو مارتے تھے۔ لڑکے نے درویش سے اس بات کی شکایت کی۔ درویش نے کہا : جب تم جادوگر کے پاس پہنچا کرو تو اس سے کہہ دیا کرو کہ مجھے گھر والوں نے روک لیا تھا اس لیے دیر ہوگئی اور گھر پہنچا کرو تو گھر والوں سے کہہ دیا کرو کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا ‘ اس لیے دیر ہوگئی۔ غرض لڑکا اسی طرح کرتا رہا (ایک روز) جب رستہ میں جا رہا تھا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑے جانور (درندہ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے ‘ لڑکا کہنے لگا : آج میں آزمائش کروں گا کہ درویش افضل ہے یا جادوگر ؟ یہ سوچ کر پتھر لے کر کہنے لگا : اے خدا ! اگر درویش کا معاملہ جادوگر کے معاملہ سے تجھے زیادہ محبوب ہے تو اس جانور کو قتل کر دے تاکہ لوگ راستہ پر چلنے لگیں۔ یہ دعا کر کے لڑنے نے پتھر مارا اور جانور مرگیا۔ لوگ راستہ چلنے لگے اور لڑکے نے جا کر درویش سے یہ بات کہہ دی۔ درویش نے کہا : بیٹے اب تو مجھ سے افضل ہے ‘ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے جیسا تو دیکھ رہا ہے۔ عنقریب تو مصائب میں مبتلا ہوگا۔ مصائب میں مبتلا ہو کر کہیں میرا نام نہ بتادینا۔
اِس کے بعد وہ لڑکا مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کا اور لوگوں کے امراض کا (کامیاب) علاج کرنے لگا۔ ایک بار بادشاہ کے کسی ہم نشین نے لڑکے کی یہ شہرت سن لی ‘ وہ نابینا ہوگیا تھا۔ لڑکے کے پاس بہت سے تحفے لے کر پہنچا اور کہا : اگر تو مجھے اچھا کر دے گا تو یہ سب تحفے تیرے لیے ہیں۔ لڑکے نے کہا : میں شفا کسی کو نہیں دیتا ‘ اللہ شفا دیتا ہے اگر تو اللہ کو اور اللہ سے دعا کرنے کو مان لے گا تو اللہ تجھے شفا عطا فرما دے گا۔ وہ ایمان لے آیا ‘ اللہ نے اس کو شفا دے دی۔ وہ (بینا ہو کر) بادشاہ کے پاس پہنچا اور (نابینا ہونے سے پہلے) جیسا بیٹھتا تھا جا کر بیٹھ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا : یہ بینائی کیسے لوٹ آئی ؟ ہم نشین نے کہا : میرے مالک نے لوٹا دی۔ بادشاہ نے کہا : کیا تیرا کوئی مالک میرے علاوہ اور بھی ہے ؟ ہم نشین نے کہا : وہ میرا بھی رب ہے اور تیرا بھی۔ بادشاہ نے اس کو قید کردیا اور برابر دکھ دیتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا پتہ بتلا دیا۔ لڑکے کو لایا گیا۔ بادشاہ نے اس سے کہا : میرے بیٹے ! تیرے سحر کی حالت اب اس حد تک پہنچ گئی کہ مادر زاد نابینا اور کوڑھی کو اچھا کرنے لگا۔ لڑکے نے کہا : میں کسی کو شفا نہیں دیتا ‘ اللہ ہی شفا دیتا ہے۔ بادشاہ نے اس کو بھی گرفتار کرلیا اور اتنا دکھ دیا کہ بالآخر اس نے درویش کا پتہ بتادیا۔ درویش کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا : اپنے مذہب سے باز آ۔ درویش نے انکار کردیا۔ بادشاہ نے اس کے وسط سر پر آرہ رکھوا کر دو ٹکڑا کرا دیا۔ پھر لڑکے کو بلوایا گیا اور کہا : اب بھی اپنے دین سے باز آ جا۔ لڑکے نے انکار کیا۔ بادشاہ نے اپنے چند آدمیوں کو بلوا کر حکم دیا اس لڑکے کو فلاں فلاں پہاڑ کے اوپر لے جاؤ اور چوٹی پر پہنچ کر اگر یہ اپنا دین ترک کر دے تو خیر ! ورنہ اس کو نیچے پھینک دو ۔ لوگ اس کو پہاڑ پر لے گئے۔ لڑکے نے دعا کی : الٰہی ! مجھے ان کے شر سے بچا ‘ جس طرح تو چاہے۔ یک دم پہاڑ میں زلزلہ آگیا ‘ سب گرگئے۔ لڑکا پھر چلتا چلتا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا : تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا ؟ لڑکے نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔
بادشاہ نے پھر لڑکے کو چند آدمیوں کے حوالے کر کے حکم دیا اس کو لے جا کر کشتی میں بٹھا کر سمندر میں لے جاؤ۔ اگر یہ اپنے مذہب سے توبہ کرلے تو خیر ! ورنہ سمندر میں پھینک دو ۔
لوگ لڑکے کو لے گئے۔ لڑکے نے دعا کی : الٰہی ! جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے (طوفان کی وجہ سے) کشتی الٹ گئی ‘ سب ڈوب گئے اور لڑکا چلتا چلتا پھر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ بادشاہ نے ساتھ والوں کی کیفیت دریافت کی۔ لڑکے نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا (ان کو ڈبو دیا) پھر کہنے لگا : جب تک میرے کہنے کے موافق تو عمل نہیں کرے گا مجھ کو قتل نہیں کرسکتا۔ بادشاہ نے پوچھا : وہ کیا بات ہے ؟ لڑکے نے کہا : ایک میدان میں لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کسی لکڑی کے ستون سے باندھ کر لٹکا دو پھر میری ترکش سے ایک تیر لے کر کمان کے چلے میں رکھ کر بسم اللہ ربّ الغلام کہہ کر تیر مجھ پر چھوڑ دو اگر ایسا کرو گے تو مجھے قتل کرسکو گے۔ حسب مشورہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا۔ لڑکے کو لکڑی کے تنہ سے باندھ کر لٹکا دیا اور اس کی ترکش سے ایک تیر لے کر کمان کے چلہ میں رکھ کر بسم اللہ ربّ الغلام کہہ کر مارا۔ فوراً لڑکے کی کنپٹی میں پیوست ہوگیا اور لڑکا مرگیا۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے تین بار کہا : ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ کچھ آدمیوں نے بادشاہ سے جا کر کہا : دیکھئے ! جس بات کا آپ کو اندیشہ تھا وہی واقع ہوگئی۔ سب لوگ لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔
بادشاہ نے کوچوں کے دہانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندقیں کھود دی گئیں تو ان میں لکڑیاں بھر کر آگ لگا دی اور حکم دے دیا کہ جو شخص اپنے مذہب سے نہ پھرے ‘ اس کو خندق میں ڈال دو ۔ لوگ حکم کی تعمیل کرنے لگے۔ آخر ایک عورت بھی آئی جس کے پاس چھوٹا بچہ تھا۔ عورت خندق میں گرنے سے جھجکی لیکن بچہ نے کہا : اماں ثابت قدم رہ ! بلاشبہ تو حق پر ہے۔ (صحیح مسلم)
عطاء نے حضرت ابن عباس کی روایت سے ایسا ہی قصہ نقل کیا ہے جس میں حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ نجران (علاقہ یمن) میں حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا ‘ جس کا نام یوسف ذونواس بن شرحبیل تھا۔ یہ واقعہ حضرت رسول خدا ﷺ کی ولادت مبارک سے ستّر سال پہلے کا ہے ‘ اس زمانہ میں کوئی نبی نہ تھا اور اس لڑکے کا نام عبداللہ بن تامر تھا۔ محمد بن اسحاق نے وہب بن منبہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ذونواس نے بارہ ہزار آدمی جلا دیئے پھر ارباط (حبشی) نے یمن فتح کرلیا اور ذونواس بھاگ کر مع گھوڑے کے سمندر میں گھس گیا اور ڈوب گیا۔ کلبی ؓ نے بیان کیا کہ ذونواس نے عبداللہ بن تامر ؓ کو قتل کیا تھا۔
محمد بن عبداللہ بن ابی بکر الصدیق ؓ نے بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب کے زمانہ میں کوئی نہر کھودی گئی تھی ‘ تو دیکھا گیا کہ سر کے زخم پر عبداللہ بن تامر (شہید) ہاتھ رکھے ہوئے ہیں ‘ جب ہاتھ کو زخم سے ہٹایا جاتا تھا تو خون ابل پڑتا تھا اور جب ہاتھ کو چھوڑدیا جاتا تھا تو ہاتھ لوٹ کر اپنی جگہ پہنچ جاتا تھا اور لوہے کی ایک مہر بھی عبداللہ کی انگلی میں پڑی تھی جس میں ربی اللہ لکھا تھا۔ حضرت عمر کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ ؓ نے لکھ بھیجا کہ عبد (یعنی عبداللہ) اور اس کی انگوٹھی کو اسی حالت پر رہنے دو ‘ جس حالت میں تم نے اس کو پایا ہے۔
اصحاب الاخدود کے متعلق کچھ دوسری روایات بھی آئی ہیں ‘ لیکن قوت میں مسلم کی روایت کے ہم پلہ کوئی نہیں۔ اس لیے ناقابل التفات ہیں۔
Ayah 85:5النار۔ ذوات الوقود
یعنی آگ والے . بھڑکتی ہوئی۔ یہ آگ کی صفت ہے کو کثرت التہاب کی وجہ سے آگ کی بڑائی کو ظاہر کر رہی ہے۔ الف لام جنسی ہے۔
ربیع بن انس کا قول ہے جن مؤمنوں کو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ آگ کے مس کرنے سے پہلے ہی اللہ نے ان کی روحوں کو قبض کرلیا تھا اور اس طرح (جلنے سے) ان کو محفوظ رکھا تھا اور خندق کے کناروں پر بیٹھے ہوئے کافروں کو آگ کے شعلوں نے خندق سے نکل کر جلا دیا تھا۔
Ayah 85:6اذھم علیھا قعود . یعنی جب خندقوں کے کناروں کے پاس کرسیوں پر وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ (مجاہد)
Ayah 85:7وھم علی ما یفعلون بالمومنین شھود . اور وہ مسلمانوں کے عذاب کو دیکھ رہے تھے ‘ یعنی ان کی غفلت
کی حالت میں مؤمنوں پر یہ عذاب نہیں ہو رہا تھا یا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ کے پاس جا کر شہادت دے رہے تھے کہ فلاں فلاں شخص کے متعلق جو ڈیوٹی کی گئی تھی ‘ اس میں کوتاہی اس نے نہیں کی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن جبکہ ان کی زبانیں اور ہاتھ ‘ پاؤں شہادت دیں گے وہ خود مؤمنوں کو عذاب دینے کے شاہد ہوں گے۔
Ayah 85:8وما نقموا منھم الا ان یومئنوا باللہ . یعنی کافروں کو مؤمنوں کی طرف سے سوائے اس کے اور کوئی
ناگواری نہ تھی کہ مؤمنوں کا ایمان اللہ پر تھا۔ ان یؤمنوا نقموا کا مفعول ہے اور چونکہ نقموا ماضی ہے اس لیے یؤمنوا (مضارع) بھی ماضی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مؤمنوں کی طرف سے کسی کمال ‘ شرف اور ذاتی محاسن کا کوئی ایسا مظاہرہ نہ تھا جس کو کافروں نے اپنی جہالت اور بدبختی کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا موجب قرار دیا ہو بلکہ (مؤمنوں کی بری بات بس یہ تھی کہ) وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے۔
العزیز . ایسا غالب جو اتنا بااقتدار ہے کہ اس کے عذاب کا اندیشہ کیا جاتا ہے۔
الحمید . ایسا مستحق حمد محسن کہ اس سے ثواب کی امید کی جاتی ہے۔
Ayah 85:9الذی لہ ملک السموت والارض . وہ خدا کہ صرف اسی کی حکومت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں
کے درمیان ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ ہی کو مرکز بیم وامید ثابت کرنے کے لیے یہ جملہ فرمایا گیا۔ اللہ نے اپنے یہ اوصاف اس لیے بیان فرمائے تاکہ مؤمنوں کے ایمان کی حقانیت اور ان کے ثواب کا استحقاق ثابت ہوجائے اور کافروں کا باطل پرست ‘ ظالم ‘ ناحق کوش اور مستحق لعنت و عذاب ہونا ظاہر ہوجائے۔
واللہ علی کل شی شھید . یہ جملہ گزشتہ جملہ کے لیے تذیل ہے یا یؤمنوا کے مفعول سے حال ہے یا
شہود سے حال ہے اور ما نقموا کا جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کا مشاہدہ رکھتا ہے ‘ اس لیے ہر شخص کے اچھے برے عمل کا بدلہ دے گا۔
Ayah 85:10ان الذین فتنوا المومنین والمومنت . جن لوگوں نے مؤمن مردوں اور عورتوں کو عذاب دیا۔ عذاب
دینے والوں میں اصحاب الاخدود بھی تھے اور دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔ مؤمن ہوں یا کافر بہرحال مؤمنوں کو انہوں نے دکھ دیا ہو۔ اسی طرح المؤمنین اور المؤمنات کا لفظ ان لوگوں کو بھی شامل ہے جن کو اصحاب اخدود نے جلایا تھا اور وہ مؤمن بھی اس میں داخل ہیں جن کو کوئی شخص دکھ پہنچائے۔
ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم . پھر انہوں نے اس معصیت سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں انہی
لوگوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے یعنی وہ عذاب آخرت کے مستحق ہیں۔ یہ قول اس بات کے منافی نہیں کہ اگر عذاب دینے والے مؤمن ہوں تب بھی ان کی مغفرت نہیں ہوگی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ الذین فتنوا سے صرف کافر ہی مراد ہوں کیونکہ اس وقت صرف صفت ایمان عذاب دینے کی علت ہوگی۔ مطلب یہ ہوگا کہ جن کافروں نے اہل ایمان کو ان کے ایماندار ہونے کی وجہ سے عذاب دیا ‘ ان کے لیے عذاب جہنم ہے اور
ولھم عذاب الحریق . جلنے کا عذاب ہے۔ یہ پہلے جملہ کی تاکید ہے (یعنی اس سے بھی وہی عذاب دوزخ
مراد ہے جو پہلے جملہ میں مذکور ہے) ۔
یا دنیا میں جلنے کا عذاب ان کو پہنچے گا کیونکہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ جو دوسرے کے لیے کنواں کھودتا ہے ‘ خود اس میں گر جاتا ہے۔ پہلے گزر چکا ہے کہ خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ہوئے کافر بھی آگ کی لپیٹ میں آکر جل گئے اور ذونواس سمندر میں ڈوب گیا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوْا سے گویا اس مفروضہ سوال کا جواب دے دیا گیا کہ اللہ نے اصحاب الاخدود اور ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا کیا۔
Ayah 85:11ان الذین امنوا و عملوا الصلحت . یعنی نیکو کار مؤمنوں کے لیے۔
لھم جنت تجری من تحتھا الانھار . ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے دریا جاری ہیں۔
ذلک الفوز الکبیر . یہی بڑی کامیابی ہے دنیا اور دنیا کی ہر چیز اسکے مقابلہ میں حقیر ہے۔
Ayah 85:12ان بطش ربک لشدید . بَطْشٌ : سخت گرفت یعنی تمہارے مالک کی پکڑ بہت سخت ہے جسکو دفع کرنا ممکن نہیں۔
Ayah 85:13انہ ھو یبدی و یعید . یعنی آغاز تخلیق وہی کرتا ہے اور دوبارہ تخلیق بھی وہی کرے گا اس کے سوا کوئی
اِلٰہ نہیں کہ اس کی گرفت کو دفع کرنا ممکن ہو سکے یا یہ مطلب ہے کہ کافروں کی دنیا میں ابتدائی گرفت بھی وہی کرتا ہے اور آخرت میں بھی وہی پکڑ کرے گا۔
Ayah 85:14وھو الغفور . اور وہی مؤمنوں کے گناہ معاف کرنے والا ہے۔
الودود . وہی اپنے فرمانبرداروں کا محب اور محبوب ہے۔
Ayah 85:15ذوالعرش . عرش کا مالک۔ ہر چیز پر قابو رکھنے والا۔
المجید . بزرگی والا۔ اللہ کی بزرگی کا معنی ہے اس کی ذات وصفات کی عظمت ‘ اس کا واجب الوجوب ہونا۔
ا سکی قدرت و حکمت کا کامل ہونا۔ حمزہ اور کسائی کی قراءت میں المجید بکسرۂ دال آیا ہے۔ اس وقت یہ عرش کی صفت ہوگی۔ عرش انوار رحمن کی جلوہ گاہ ہے۔ تجلیات رحمانیہ سے اس کو خصوصیت حاصل ہے ‘ یہی اس کی عظمت ہے۔
Ayah 85:16فعال لما یرید . وہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے ‘ اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہیں ‘ نہ اس کو اس کی مراد سے کوئی
روک سکتا ہے۔ انہ ھو یبدئ و یعید پورا جملہ معترضہ ہے جو اللہ کی ستائش کو ظاہر کر رہا ہے اور اس سے یہ امر واضح ہو رہا ہے کہ مؤمنوں کے ساتھ اللہ مودت و مغفرت کا برتاؤ کرنے والا ہے اور کافروں کو طرح طرح کے عذاب دینے والا ہے۔
Ayah 85:17ھل اتاک حدیث الجنود . استفہام تقریری ہے یعنی تمہارے پاس آچکا ان کافروں کا قصہ جنہوں نے
انبیاء کے خلاف جتھے جمع کیے تھے۔
Ayah 85:18فرعون وثمود . یہ الجنود سے بدل ہے یا جنود محذوف ہے یعنی فرعون اور ثمود کی فوجوں کا قصہ تمہارے پاس آ
چکا ہے کہ ان کو ڈبو کر ہلاک کردیا گیا یا ایک (غیبی) چیخ سے ان کا دَم نکل گیا پھر ان کو دوزخ میں داخل کردیا گیا۔ تم اپنی قوم کی اس تکذیب پر صبر کرو اور ان کو اس عذاب سے ڈراؤ جو ان جیسے کافروں پر پہلے پہنچ چکا ہے۔
Ayah 85:19بل الذین کفروا فی تکذیب . بلکہ تمہاری قوم کے یہ کافر تو نزول عذاب کے گزشتہ اقوام اور سابق امتوں
کے مقابلہ میں زیادہ مستحق ہیں۔ انہوں نے تو گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے قصے سن بھی لیے اور ان کی بربادی کے نشانات بھی دیکھ لیے ‘ اس کے باوجود یہ قرآن کی تکذیب میں اس قدر منہمک ہیں کہ پچھلے کافر تکذیب انبیاء میں اتنا انہماک نہیں رکھتے تھے حالانکہ گزشتہ آسمانی کتابیں اعجازی نہیں تھیں اور قرآن کی عبارت بھی معجزہ ہے۔ تکذیب میں تنوین تعظیم ہے یعنی بڑی تکذیب۔
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ اس جگہ بل کلام سابق سے رخ پھیرنے کے لیے نہیں بلکہ ابتدائیہ ہے جس کا معنی ہے لیکن اور جملہ استدراکیہ ہے جس کا ربط جواب قسم سے ہے اور درمیانی تمام جملے معترضہ ہیں۔ مطلب اس طرح ہوگا لیکن یہ کافر تو تکذیب میں گھرے ہوئے ہیں۔ فی تکذیب میں ظرفیت اعتباری ہے (حقیقی نہیں۔ تکذیب نہ زمان ہے نہ مکان) گویا وصف تکذیب کافروں کو اس طرح ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے جیسے مکان یا زمان اپنے اندر کی چیز کو گھیر لیتا ہے۔
Ayah 85:20واللہ من وراءھم محیط . اور اللہ ان کو آگے ‘ پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اللہ کا محیط ہونا باحاطۂ ذاتیہ
ہے لیکن یہ احاطہ بلا کیف ہے۔ محیط کا محاط سے قرب اور اس پر قابو ضرور اس احاطہ کے لے لازم ہے پس اللہ ان کے حالات سے بخوبی واقف ہے اور ان سے انتقام لینے پر قابو رکھتا ہے۔ ممکن نہیں کہ اس کی گرفت سے یہ لوگ باہر ہو سکیں۔
Ayah 85:21بل ھو قرآن مجید . بزرگی اور شرف والا ‘ تمام کتابوں میں عالی مرتبہ ‘ یکتا ‘ بےمثال ‘ جس کی عبارت
بھی اعجازی ہے اور معنی بھی۔ اس جملہ کا بل الذین کفروا سے معنوی ربط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں کی طرف سے تکذیب قرآن میں حقانیت کا شائبہ بھی نہیں۔ قرآن کی تکذیب تو وہ شخص کر ہی نہیں سکتا جس کو عبارت و معنی کا کچھ بھی شعور ہو۔
Ayah 85:22فی لوح محفوظ . طبرانی نے ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے لوحِ
محفوظ کو سفید موتی کا بنایا ہے۔ اس کے صفحات سرخ یاقوت کے ‘ قلم نور کا اور تحریر نور کی ہے۔ ہر روز کے تین سو ساٹھ لمحات میں اللہ پیدا کرتا ‘ رزق دیتا ‘ موت اور زندگی عطا کرتا ‘ عزت اور ذلت دیتا اور جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔
بغوی ؓ نے سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ سر لوح پر لکھا ہوا ہے ‘ اللہ اکیلا ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا دین اسلام ہے۔ محمد ﷺ اسکے رسول اور بندے ہیں ‘ جو اللہ پر ایمان رکھے گا ‘ اللہ کے وعدہ کی تصدیق کرے گا اور اس کے پیغمبروں کا اتباع کرے گا اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوح محفوظ سفید موتی کی ہے اس کا طول اتنا ہے جتنا زمین سے آسمان اور عرض اتنا ہے جیسے مشرق سے مغرب۔ اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اور (اوّل و آخر کے) دونوں پٹھے یاقوت سرخ کے ‘ اس کا قلم نور کا اور تحریر نور کی ہے۔ وہ عرش سے وابستہ ہے ‘ اس کی جڑ ایک فرشتے کی گود میں ہے۔ مقاتل نے کہا : لوح محفوظ عرش کے دائیں طرف ہے۔
محفوظٍ لوح کی صفت ہے۔ لوح شیطانوں سے اور کمی بیشی سے محفوظ ہے ‘ اسی لیے اس کو لوح محفوظ کہا جاتا ہے۔ یہ امّ الکتاب بھی ہے۔ اسی سے الکتاب (یعنی قرآن) کو نقل کیا گیا ہے۔ نافع کی قراءت میں محفوظٌ آیا ہے۔ اس وقت یہ قرآن کی صفت ہوگی۔ اللہ نے فرمایا ہے : انا نحن نزلنا الذکر وانا لحٰفظون۔ اس لیے ممکن نہیں کہ اس میں کسی دوسری عبارت کا الحاق کردیا جائے۔ اللہ خود اس کا محافظ ہے اور اس کی عبارت بھی اعجازی ہے ‘ نہ اس میں ردو بدل ممکن ہے ‘ نہ کچھ حذف کردینا۔ رافضی کہتے ہیں کہ غیر قرآن کو قرآن کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور بقدر دس پاروں کے حذف کردیا گیا ہے اس لیے چالیس کے بجائے تیس رہ گئے اور یہ تیس بھی بگڑے بگڑائے ہیں۔ پس ان پر آیت : بل الّذین کفروا فی تکذیب وا اللہ من ورآءھم محیط بل ھو قراٰن مجید فی لوحٍ محفوظ نازل ہوئی۔ واللہ اعلم۔
سورۃ البروج ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ