85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے برجوں والے آسمان کی

(1) برجوں والے آسمان کی قسم کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے برجوں والے آسمان کی "۔ " بروج " جمع ہے " برج " کی، جس کے لغوی معنی ظہور اور بروز کے آتے ہیں، اس لیے اس کا اطلاق بڑے مضبوط قلعوں پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا أَیْْنَمَا تَکُونُواْ یُدْرِککُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِیْ بُرُوجٍ مُّشَیَّدَۃٍ (النسائ 78 پ 5) یعنی تم لوگ جہاں بھی ہوؤ گے تم کو موت بہرحال آکر رہے گی، اگرچہ تم مضبوط قلعوں کے اندر بند ہو، اور اسی طرح اس کا اطلاق بلند وبالا محلات و قصور پر بھی ہوتا ہے کہ وہ بھی دور سے نظر آتے ہیں، اور اپنی خصوصیت اہمیت کی بنا پر وہ تو جہات کا مرکز بنتے ہیں، اسی لیے حضرات اہل علم کے یہاں اس موقع پر " بروج " کے مصداق کی تعیین میں دو قول پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ یہاں پر " بروج " سے مراد وہ بارہ برج ہیں جو قدیم علم ہیئت کے مطابق سورج اور چاند کی گردش کے لیے مقرر ہیں، ابن جریر اور ان کی رائے رکھنے والے اہل علم حضرات نے اسی قول کو اختیار کیا ہے، جبکہ دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد آسمان کے عظیم الشان تارے اور سیارے ہیں، اور ان کو ان کے ظہور و بروز اور علووارتفاع کی بنا پر، نیز قصور اور محلات سے مشابہت رکھنے کی بنا پر ان کو " بروج " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ قول ابن عباس ؓ ، مجاہد، ضحاک، قتادہ اور حسن بصری رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے ( روح، قرطبی، مراغی، مدارک، ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل، فتح القدیر، جامع البیان، اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) جو بھی ہو اس سے بہر کیف یہ ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ یہ سب کچھ حضرت حق جل مجدہ کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےنہایت حکمت کا عکاس و مظہر ہے، سو نہ تو اس قادر مطلق اور حکیم مطلق سبحانہ و تعالیٰ کی پیدا فرمودہ یہ عظیم الشان کائنات عبث و بےکار ہوسکتی ہے، اور نہ ہی اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل ہوسکتا ہے، اور نہ ہی مجرم لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے کہیں نکل سکتے ہیں۔ پس اس سب کا تقاضا یہ ہے کہ جزا و سزا اور عدل و انصاف کا وہ دن آئے تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے۔ سو وہی ہے قیامت کا دن، اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس یوم حساب کو ہمیشہ پیش نظر رکھے اور اس کے لیے تیاری کرے۔ اللہ توفیق بخشے۔ آمین۔ اور جو خداوند قدوس اس برجوں والے آسمان کا خالق ومالک ہے وہ اپنی پیدا کردہ مخلوق سے بیخبر نہیں، بلکہ ظالم و مظلوم ہر ایک کے حال سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے، اور اس کے کروبی آسمانوں، قلعوں اور دیدبانوں سے ہر گوشہ کی نگرانی کر رہے ہیں، اس لیے وہ ظالموں اور مظلوموں کے بارے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو بہرحال پورا کرے گا۔ پس ظالموں کو اپنے ظلم کا بدلہ اور بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ جل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 85:2

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے

(2) یوم موعود کی قسم کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے یوم موعود کی " یعنی قیامت کے دن کی، جس کا وعدہ حضرت حق جل مجدہ نے اپنے بندوں سے فرمایا اور تاکید و تکرار کے ساتھ فرمایا ہے تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیا جاس کے۔ جیسا کہ سورة نساء میں ارشاد فرمایا گیا اللّہُ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّہِ حَدِیْثاً ( النسائ 87 پ 5) یعنی اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا قیامت کے اس دن تک جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ سو اس قسم سے واضح فرما دیا گیا قیامت کے اس یوم موعود نے ضرور واقع اور قائم ہو کر رہنا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اس کارخانہ ہست و بود کی تخلیق وتکوین کے مقصد کی تکمیل ہوسکے، سو یوم موعود سے مراد یوم قیامت ہے، جس طرح کہ سورة قیامہ میں بھی اس کی قسم کھائی گئی ہے، اور قیامت سے ڈرانے اور اس سے خبردار کرنے کے لیے خود قیامت ہی کی قسم کھانے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس سے کسی ذی ہوش کے لیے انکار کی گنجائش نہیں۔ چناچہ سورة قیامہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی شہادت خود انسان کے نفس کے اندر موجود ہے، اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہیں۔ چناچہ وہاں پر ارشاد فرمایا گیا بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیْرَۃٌ۔ وَلَوْ أَلْقَی مَعَاذِیْرَہُ ( القیامہ 15, 14 پ 29) یعنی " انسان اپنے اوپر خود حجت ہے اگرچہ وہ اس کے لیے کتنے ہی عذر پیش کرے "۔ بہرکیف یہاں پر قیامت سے ڈرانے اور خبر دار کرنے کے لیے خود قیامت ہی کی قسم کھائی گئی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایک ایسی بدیہی اور واضح و جلی حقیقت ہے جس کے انکار کے لیے کسی بھی ذی ہوش کے لیے کوئی گنجائش نہیں، پس اس پر ایمان رکھنا، اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا عقل و نقل سب کا تقاضا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین۔
Ayah 85:3

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور قسم ہے شاہد اور مشہود کی

(3) شاھد اور مشھود سے مقصود و مراد ؟ " شاھد " شہادت دینے والا اور " مشھود " جس کی شہادت دی گئی۔ سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق حضرات مفسرین کرام کے اقول مختلف ہیں۔ مثلا یہ کہ " شاھد " سے مراد خود پیغمبر ہیں، (علیہ الصلوۃ والسلام) کہ آپ حق و صداقت کی شہادت اور گواہی دینے والے ہیں، اور حضرت حق جل مجدہ نے آپ کو " شاہد " بنا کر ہی بھیجا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاہِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِیْراً ( الاحزاب 45 پ 22) یعنی ( اے پیغمبر) بلاشبہ ہم نے آپ کو " شاہد "، " مبشر " اور " نذیر " بنا کر بھیجا ہے۔ اور " مشھود " سے مراد یوم قیامت یا جمعہ ہے، یا بن آدم اور جمعہ، یا عرفہ اور قیامت، یا یوم النحر اور عرفہ وغیرہ۔ کوئی سولہ اقوال اس بارے میں پائے جاتے ہیں۔ جامع البیان، مراغی مدارک، صفوۃ اور محاسن التاویل وغیرہ) مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز " شاھد " بھی ہے اور " مشھور " بھی، کہ اس کی ہر چیز اپنی زبان قابل یا زبان حال سے اپنے خالق ومالک کی عظمت اور اس کی وحدانیت کی گواہی دے رہی ہے، اور ہر چیز " مشھود " بھی ہے کہ ہر کوئی اس کو دیکھتا ہے۔ لہذا اصل اور بہتر یہ ہے کہ " شاھد " اور " مشھود " کے ان دونوں لفظوں کو اپنے ظاہر اور عموم پر رکھا جائے۔ اس طرح یہ دونوں لفظ ان تمام معانی اور مفاہیم کو عام اور شامل ہوجائیں گے جو حضرات مفسرین کرام نے یہاں بیان فرمائے ہیں کہ حقیقت میں اپنے طور پر وہ سب ہی صحیح اور درست ہیں، اور ان میں باہم کوئی منافات اور تضاد بھی نہیں، کہ یہ باہم جمع نہ ہوسکیں۔ اور ان سب میں " شاھد " اور " مشھود " ہونے کے معانی و مطالب بھی پائے جاتے ہیں، سو ان دونوں لفظوں کی تنکیر اور ان کے اس طرح کے استعمال اور عربی زبان وبیان کے اس اسلوب و انداز اور قرآن حکیم کی جامعیت اور اس کی بلاغت سب کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں لفظوں کو بغیر کسی تحدید و تقیید کے اپنے عموم و شمول پر ہی رکھا جائے۔ جیسا کہ ثقہ علماء مفسرین نے فرمایا ہے۔ مثلا علامہ شیخ جمال الدین قاسمی نے اپنی تفسیر محاسن التایل میں، اور شیخ احمد مصطفیٰ المراغی نے اپنی المراغی میں وغیرہ وغیرہ۔ والحمدللہ جل وعلا۔ سو اس سے قیامت اور جزا و سزا سے متعلق ان تمام دلائل و شواہد کی طرف اشارہ ہوگیا جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں پھیلے بکھرے ہیں اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر انسان کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں، بشرطیکہ انسان عبرت پذیر دل اور غور و فکر والی آنکھیں رکھتا ہو۔ پس کائنات کی یہ کھلی کتاب دلائل وبراہین اور شواہد و مشاہ سے بھری پڑی ہے۔ والحمدللہ جل وعلا، پس ضرورت نگاہ عبرت و اعتبار کی ہے اور نگاہ عبرت و اعتبار ہی وہ چیز ہے جو عنقاء ہے۔ الا ماشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ جل وعلا۔
Ayahs 85:4–6

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

مارے گئے ان خندقوں والے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

جن میں سخت دہکتے (بھڑکتے) ایندھن کی آگ تھی

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جب کہ وہ ان (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے

(4) منکرین جزا و سزا کے لیے سخت تنبیہ و تذکیر کا ذکرو بیان : سو منکرین جزا و سزا کی تذکیر و تنبیہ کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " مارے گئے خندقوں والے " کہ وہ حق کی دشمنی اور اپنے ظلم وعدوان کے سبب اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے محروم و مطر ود اور اس کی لعنت و پھٹکار کے مورد و مستحق ہوگئے، اور اس طرح وہ دارین کی ہلاکت و تباہی اور بربادی کا شکار ہوگئے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اپنی اس دشمنی اور حق بیزاری کے نتیجے میں ان کو کل قیامت کے اس روز جزا میں ایسی ہولناک خندقوں سے واسطہ پڑے گا جن میں وہاں کی ہولناک آگ دہکتی بھڑکتی ہوگی، جہاں پہلے ان کو ان خندقوں کے کناروں پر بٹھایا جائے گا تاکہ پہلے یہ ان کی ہولناکی کا بچشم خود ملاحظہ کرسکیں، اور پھر بعد میں ان کو ان میں جھونک دیا جائے گا جس سے ان کا عذاب دوچند ہوجائے گا والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ ارشاد مذکورہ بالا قسموں کا جواب نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ منکرین جزا کے لیے تنبیہ و تذکیر ہے، اور جواب قسم یہاں پر محذوف و مقدقور ہے، جس طرح کہ سورة ق اور بعض دوسری سورتوں میں محذوف و مقدور ہے، اور یہاں پر جواب قسم کو حذف کر کے منکرین جزا و سزا کی تنبیہ و تذکیر کے لیے یہ آیتیں رکھ دی گئیں، اور یہ ایک خاص اسلوب ہے جو ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں جواب قسم اس قدر واضح ہوتا ہے کہ ذکر وبیان کے بغیر ہی ذہن اس کی طرف بآسانی منتقل ہوجاتا ہے۔ اس سے کلام میں اعجاز بھی پیدا ہوجاتا ہے اور ا وہ ساری بات بھی جواب قسم کی حیثیت سے مقدر مانی جاسکتی ہے جس کے لیے کلام کا سیاق وسباق مقتضی ہوتا ہے۔ یہاں پر مذکورہ بالا قسموں کے جواب کو اگر ظاہر کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگا کہ یقینا قیامت ایک ہونے شدنی چیز ہے، کہ یہ سب ہی چیزیں جن کی یہاں قسم کھائی گئی ہے، اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس یوم موعود نے بہر حال واقع ہو کر ہے، اور اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی، کیونکہ اس کی ہر صفت کی طرح اس کی قدرت اور اس کا علم بھی سب پر محیط اور لا محدود ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ جل جلالہ۔ پس انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔
Ayah 85:7

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور وہ ان ایمانداروں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے

(5) ظلم و بربریت کی ایک تصویر اور اس کا نتیجہ و انجام، والعیاذ باللہ : سو اس سے ان ظالموں کے ظم و بربریت کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے جنہوں نے اہل ایمان کی تعزیب کے لیے ایسی خندقیں کھودی تھیں، اور انہوں نے ان میں آگ جلا کر اور اس کو دہکا بھڑکا کر اہل حق کو ان میں جھونکنے اور جلانے کا سامان کیا تھا۔ لفظ " اخدود " اگرچہ مفرد ہے اس لیے اس کا معنی کیا جاتا ہے " الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق "۔ ( فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور اس کی جمع " اخادید " آتی ہے، لیکن ان لوگوں نے چونکہ ایک ہی خندق نہیں کھدوائی تھی بلکہ جگہ جگہ اور مختلف خندقیں کھوائی تھیں۔ چناچہ حضرات مفسرین کہتے ہیں " ای شقوا الارض و جعلوھا اخادید "۔ یعنی " ان لوگوں نے زمین کو کھود کر خندقیں ہی خندقیں بنادیا تھا "۔ اس لیے " اخدود " سے یہاں پر مراد اسم جنس ہے جو کہ جمع کے معنی میں ہے۔ لیکن اصل لفظ چونکہ مفرد ہی ہے اس لیے اس لفظ کا ترجمہ مفرد کے لفظ سے کرنا بھی درست ہے، جیسا کہ بعض حضرات مترجمین نے کیا ہے، اور ان خندقوں کے کناروں پر بیٹھ کر وہ اپنے ظلم و بربریت کو دیکھ رہے تھے۔ سو اس میں ان کے ظلم کی تصویر پیش کردی گئی ہے، پس اس ظلم کے نتیجے میں کل قیامت کے اس روز جزا میں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا کہ ایسے ظالم وہاں کی اس ہولناک آگ میں جلیں گے جس کے ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ اور وہاں پر اہل ایمان اپنی جنتوں سے ہو کر ایسے ظالموں کے انجام کا نظارہ کریں گے جس طرح کہ انہوں نے دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ کیا تھا۔ مگر فرق یہ ہوگا کہ وہاں کی وہ آگ دوزخ کی آگ ہوگی، جو کہ دنیاوی آگ کے مقابلے میں بنص حدیث ستر گنا زیادہ سخت اور انتہائی ہولناک ہوگی، اور اس میں ایسے کافروں، منکروں اور ظالموں نے ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہوگا، سو اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اپنے لیے کیسے ہولناک خسارے کا سودا کیا تھا۔ ہَلْ ثُوِّبَ الْکُفَّارُ مَا کَانُوا یَفْعَلُونَ ( التطفیف، 36 پ 30) سو اس جیسی دوسری کوئی ناکامی اور بدبختی متصور نہیں ہوسکتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ و حفاظت میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ و وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 85:8

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور انہوں نے ان مسلمانوں میں کوئی عیب نہیں پایا سوائے اس کے کہ وہ ایمان لے آئے تھے اس اللہ پر جو کہ بڑا ہی زبردست سب خوبیوں کا مالک ہے

(6) جرم بےگناہی کی سزا کا ذکرو بیان : سو اس سے ان مظلوموں کے جرم بےگناہی کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ ان کا کوئی جرم نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ ایمان لائے تھے، اس اللہ پر جو کہ بڑا ہی زبردست، سب خوبیوں کا مالک ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ان ظالموں کے نزدیک اپنے رب پر ایمان لانا ہی جرم بن گیا تھا، جس پر وہ ان ایمان والوں کو یہ سزا دے رہے تھے، حالانکہ اس پر ایمان لانا سب سے بڑی سعادت، عقل و فطرت کا عین تقاضا، اور سب خوبیوں اور کمالات کی اصل و اساس ہے۔ اور یہی انسان پر عائد ہونے والے فرائض میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا فریضہ ہے کہ وہ اپنے اس عزیز وحمید خالق ومالک پر صدق دل سے ایمان لائے اور ان کا بندہ بن کر زندگی گزارے۔ تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ورس ہوسکے۔ مگر ان ظالموں اور بدبختوں کے نزدیک ان حضرات کی یہی سب سے بڑی خوبی اور بنیادی نیکی عیب اور جرم بن گئی تھی، سو یہ ہوتا ہے کہ نتیجہ اور انجام کفر و شرک کی نجاست اور بےایمانی کی نحوست کا کہ اس سے انسان کی مت مار کر رکھ دی جاتی ہے، اس کی عقل اندھی اور اوندھی ہوجاتی ہے، اور اس کی کھوپڑی الٹی۔ جس کے باعث وہ اپنے لیے ہلاکت و تباہی کے سامان خود اپنے ہاتھوں کرتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان لوگوں کی مت ماری کے نتیجے میں ایمان باللہ کی وہ سب سے بڑی نیکی جو سعادت دارین سے سرفرازی و بہرہ مندی کا ذریعہ اور واحد ذریعہ ہے وہ ان اشقیاء کے نزدیک ایک جرم بن گیا۔ وار ایسا جرم کہ اس کی بنا پر یہ ظالم اہل ایمان کی جانوں کے دشمن بن گئے، سو دین دشمنی کے یہی مظاہر کل تھے اور یہی آج بھی جگہ جگہ پائے جاتے ہیں اور مسلمان اپنے ایمان و عقیدے کی بنا پر ظالموں کی طرف سے طرح طرح کے مظالم کا نشانہ تھے اور آج بھی ہیں۔ فالی اللہ المشتکی وھو المستعان وعلیہ التکلان فی کل حین وان، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 85:9

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

وہ کہ اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہر چیز سے پوری طرح آگاہ ہے

(7) منکرین کے لیے دھمکی اور ایمان والوں کے لیے تسلی و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایمان لائے اس اللہ پر جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کی بادشاہی ہے، اور اللہ ہر چیز سے پوری طرح آگاہ ہے "۔ پس نہ ان ظالموں کا ظلم اس سے پوشیدہ رہ سکتا ہے، اور نہ اپنے ایماندار بندوں کی مظلومیت سے وہ بیخبر ہوسکتا ہے ولا تَحْسَبَنَّ اللّہَ غَافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الأَبْصَارُ ( ابراہیم 42 پ 12) پس وقت آنے پر ہر کسی کو اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور بھر پورے طریقے سے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق بھگتنا ہوگا، پس بڑی بھول اور خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس حقیقت سے غافل وبے خبر ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک مستقبل اور ناقابل تلافی خسارے کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد میں ایک طرف تو ظالموں کے لیے بڑی تہدید اور دھمکی ہے کہ وہ اس کی گرفت و پکڑ سے کبھی اور کسی بھی طرح بچ نہیں سکیں گے، اور دوسری طرف اس میں مظلوم اہل حق کے لیے بشارت و خوشخبری اور تسکین و تسلی کا سامان ہے، کہ یہ لوگ راہ حق میں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو مصائب جھیل رہے ہیں وہ ان سے غافل و بیخبر نہیں، وہ ان کو ان کے اجر و صلہ سے ضرور نوازے گا۔ قُلْ یَا عِبَادِ الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّکُمْ لِلَّذِیْنَ أَحْسَنُوا فِیْ ہَذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَأَرْضُ اللَّہِ وَاسِعَۃٌ إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ أَجْرَہُم بِغَیْْرِ حِسَابٍ ( الزمر 10 پ 23) یعنی سوائے اس کے نہیں کہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر دیا جائے گا بغیر کسی حساب کے، سو راہ حق میں صبر وثبات کی خو بڑی ہی اہم اور عظیم الشان خو ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاھوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 85:10

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے ظلم و ستم ڈھایا ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں پر پھر انہوں نے توبہ بھی نہیں کی (اپنے اس جرم سے) تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور مزید یہ کہ ان کے لئے (وہاں خاص طور پر) جلائے جانے کا عذاب ہے

(8) ظالموں کے لیے انتہائی ہولناک عذاب کا ذکر وبیان، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جنہوں نے ظلم کیا مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر، پھر انہوں نے توبہ بھی نہیں کی تو یقیان ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور ان کے لیے جلائے جانے عذاب ہے "۔ پس جن خوش نصیبوں کو توبہ کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی ان کے جرم معاف کردیے گئے کہ وہ بڑا ہی غفور بھی ہے اور انتہائی رحیم بھی، سبحانہ وتعالی۔ سو توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد ہے، وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ظالموں کے لیے اوپر جس وعید کا ذکر اشارات کے پردے میں کیا گیا تھا اب اس تصریح کے ذریعے اس کو بےنقاب فرمایا گیا، اور واضح فرما دیا گیا کہ جن ظالموں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو دین حق سے پھیرنے کے لیے نشانہ ظلم و ستم بنایا ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے، نیز ان کے لیے جلائے جانے کا عذاب ہے، اور عذاب جہنم کے بعد، عذاب الحریق، کے ذکر سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے ظالموں کے لیے دوزخ کی ہولناک آگ میں جلنے کا عذاب بھی ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ انہوں نے ان اہل حق کے خلاف اسی سنگینی کا ارتکاب اس دنیا میں کیا تھا، والجزاء من جنس العمل، والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ سو اس ارشاد میں ظالموں کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ باز آجائیں ورنہ ان کے لیے دوزخ کے دوسرے ہولناک عذابوں کے علاوہ وہ خاص کر جلنے کا عذاب ہوگا۔ سو عذاب جہنم کے بعد عذاب حریق کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے قبیل سے ہے، جہنم چونکہ طرح طرح کے اور انواع و اقسام کے عذابوں کا مرکز ہوگا، مگر ان میں حریق یعنی جلائے جانے کا عذاب سب سے بڑا اور سب سے سخت عذاب ہوگا۔ اس لیے اس کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا، اور اس سے ایسے ظالموں کو خبردار کیا گیا کہ وہاں ان کو دوسرے عذابوں کے ساتھ ساتھ جلنے کا عذاب بھی بھگتنا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم، من کل نوع من انواع العذاب، من کل زیع وضلال، و سوء و انحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، فی کل زمان و مکان، وانت العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayah 85:11

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

(اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے (اس کے مطابق) نیک کام بھی کئے تو بلاشبہ ان کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں ہیں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی نہریں یہ ہے بڑی کامیابی

(9) اہل ایمان کے لیے جنت سے سرفرازی کے انعام کا ذکرو بیان : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و عمل صالح ہی باعث نجات اور ذریعہ فوز و فلاح ہے، اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو اخلاص نیت اور اتباع سنت کے ساتھ ہو کہ عمل کی قبولیت کے لیے عقیدہ و ایمان کی صحت کے ساتھ ساتھ ان دونوں شرطوں یعنی اخلاص اور اتباع سنت کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ فایک نسال اللھم التوفیق لذالک والسداد۔ سو ایمان و یقین صادق اور عمل صالح کی پونجی ہی باعث نجات اور ذریعہ فوزو فلاح ہے، پس اللہ تعالیٰ کے یہاں قوم قبیلے یا فلاں ابن فلاں کی بات نہیں ہوگی، بلکہ مدار نجات اپنا ایمان اور عمل ہوگا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔ چناچہ یہاں پر ظالموں کے ہولناک انجام کے ذکر وبیان کے بعد اس کے بالمقابل اہل ایمان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے تو بلا شبہ ان کے لیے ایسی عظیم الشان جنتیں ہوں گی جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بہرکیف جنت سے سرفراز ہونے والے سعادت مندوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے تو ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں "۔ یعنی دودھ، شہد اور شراب طہور وغیرہ کی عظیم الشان و بےمثال نہریں۔ جیسا کہ سورة محمد کی آیت نمبر 15 میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اللھم اجعلنا من اھلھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین۔ سو اس سے ان اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی گئی جو پر محن حالات کے باوجود اپنے دین و ایمان پر ثابت قدم رہے، جو ظالموں کے مظالم کے علی الرغم جادہ ایمان و استقامت پر پکے اور ثابت قدم رہے۔ اور انہوں نے عمل صالح کی اپنی روش کو ہاتھ سے جانے نہ دیا، سو ایسے بندگان صدق و صفا کے لیے یہ عظیم الشان بشارت ہے کہ ان کو ایسی عظیم الشان و بےمثال اور سدا بہار جنتوں سے نوازا جائے گا جن میں ان خوشن نصیبوں کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا نصیب ہوگا، سو جس مالک الملک کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے انہوں نے یہ مظالم سہے اور تکلیفیں برداشت کیں وہ بڑا ہی کرم والا اور بڑا ہی قدر دان اور غفور و رشکور ہے۔ اور ایسا کہ اس کی نوازشوں اور عنایتوں کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی عنایتوں اور نوازشوں سے نوازے گا جن کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ (10) اصل اور حقیقی کامیابی جنت سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہے بڑی کامیابی " کہ جو کامل دائمی اور حقیقی کامیابی ہے، جس کے سامنے دنیا ساری اور اس کی تمام کامیابیاں ہیچ ہیں، جو درحقیقت بادشاہی اور اصل اور حقیقی بادشاہی ہوگی جس سے حضرت واہب مطلق جل وعلا اپنے بندوں کو اپنے خاص کرم و احسان سے نوازے گا۔ تب اہل حق کے سامنے یہ حقیقت کھلے گی کہ یہ کتنی بڑی کامیابی اور کس قدر عظیم الشان بادشاہی ہے جس سے حضرت حق جل مجدہ نے اپنی شان کریمی سے محض ان کی چند دنوں کی محنتوں اور آزمائشوں کے صلے اور بدلے میں ان کو نوازا اور سرفراز فرمایا ہوگا، سبحانہ و تعالیٰ فالحمدللہ رب العالمین۔ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ آخرت کی کامیابی اور جنت سے سرفرازی ہی کو اپنا اصل اور حقیقی مقصد بنایا جائے اور حیات دنیا کی پونجی کو اسی کے لیے صرف کیا جائے، وباللہ التوفیق، اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم امین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، و ھو العزیز الوھاب جل وعلا۔
Ayah 85:12

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے

(11) منکرین کو تنبیہ و تذکیر : سو منکرین و مکذبین کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے "، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اتنی اور ایسی سخت کہ اپنے طور پر اس کا اندازہ اور تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، " ان اخذہ الیم شدید "۔ یعنی بلا شبہ اس کی پکڑ بڑی دردناک انتہائی سخت ہے، والعیاذ بہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ وہ اپنی جماعت و جمعیت کے زور یا اپنے شفاء شرکاء کے بل بوتے پر اس سے بچ نکلے گا، سو اوپر کی آیات کریمات میں ظالموں اور منکروں کو تنبیہات فرمائی گئیں اور اہل ایمان کو جن عظیم الشان بشارات سے نوازا گیا، آگے اللہ تعالیٰ کی بعض خاص صفات کریمہ کی تذکیر و یاد دہانی سے ان کو مزید موکد اور مدلل فرمایا گیا ہے، جس سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ بندے کا اصل وزن اور اس کی حقیقی قدرو قیمت اس کے اپنے عمل و کردار سے ہے، نہ کہ دوسرے خود ساختہ اور مصنوعی فوارق و امتیازات سے، اور دوسری طرف اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدرو قیمت انہی صفات و خصال کی ہے جو اس کی وحی اور اس کے رسول کی تعلیمات سے ثابت ہوں، نہ کہ وہ جن کو دنیا نے از خود اور اپنے مصنوعی معیاروں کے مطابق مقرر کیا ہو کہ وہ معیار فضیلت نہیں بن سکتیں، بلکہ ان سے آگے کتنی ہی ہلاکتوں کے دروازے کھلتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد جل وعلا۔
Ayah 85:13

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

بلاشبہ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا

(12) ابداء خلق اعادہ خلق کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے حرف تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا، پس وہی اور صرف وہی عدم سے وجود میں لاتا ہے اور نیست سے ہست کرتا ہے، اور خلعت وجود کی یہ نعمت اصل اور اساس ہے دیگر تمام نعمتوں کی کہ باقی تمام نعمتیں نعمت وجود ہی پر متفرع اور اسی پر موقوف ہیں۔ بہرکیف یہاں پر اس ارشاد سے ظالموں کے انجام اور ان کے لیے دی گئی عذاب جہنم کی دھمکی کی دلیل بیان فرما دی گئی ہے، یعنی کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ آخرت اور جزا و سزا کا ڈروا محض ڈراوا ہے، بھلا مر چکنے کے بعد اور مٹی میں مٹ اور کھو جانے کے بعد کوئی دوبارہ کس طرح زندہ ہوگا ؟ سو بتادیا گیا کہ کوئی شخص اس طرح کا کوئی مغالطہ اپنے دماغ میں نہ رکھے، جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ وہ " خالق "، " خلاق وعلیم " اور " علی کل شیء قدیر " ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جس طرح آج تمہارا وجود ظلمات عدم سے نکل کر ایک حقیقت واقعہ کے طور پر تمہارے سامنے وجود ہے اسی طرح وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرے گا، اور یہ سب کچھ صرف اس کی ایک جھڑکی اور ڈانٹ کی دیر ہوگی جس طرح کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَإِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ ( النازعات 13 پ 30) یعنی " وہ تو محض ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہوگی "۔ جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب بغیر کسی اینکڑی پینکڑی اور بدوں کسی حیل و حجت کے حشر کے اسی سب سے بڑے میدان میں آموجود ہوں گے۔ اور اپنے زندگی کے کیے کرائے کا پھل پائیں گے، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " دوبارہ کرتا ہے اور کرے گا " یعنی وہ اج بھی اس طرح کرتا ہے اور مر مٹنے کے بعد انسان کو وہی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، تو اس کے لیے جب پہلی مرتبہ پیدا کرنے کا وہ عمل کچھ مشکل نہیں، تو پھر یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ بالفعل ایسا کر بھی رہا ہے کہ انسان کے اندر انرجی اور قوت کے سیلوں کے ٹوٹنے اور پھر بننے کا سلسلہ انسان کے خود اپنے جسم کے اندر برابر جاری اور ساری رہتا ہے، جیسا کہ آج کے سائنسدانوں کا کہنا اور ماننا ہے، نیز جس طرح کہ طرح طرح کی نباتات میں دیکھا اور مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ کس طرح وہ سب مٹ مٹا کر ختم ہوجاتی ہیں، لیکن پھر وقت آنے پر وہ سب کی سب از سرنو زندہ ہو کر دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، اور اس طرح اور بھی طرح طرح کے نمونے اس سلسلے میں سامنے رہتے ہیں، جو اس حقیقت کی تذکیر و یاد دہانی کراتے رہتے ہیں، سبحان اللہ تعالیٰ حضرت خالق حکیم جل جلالہ کی قدرت و حکمت کے کیا کہنے ؟
Ayahs 85:14–15

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ بڑا ہی بخشنے والا بھی ہے اور انتہائی محبت کرنے والا بھی

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک بڑی ہی شان والا

(13) اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت کو ومودت کا حوالہ وذکر : سو اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت و بخشش کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بڑا ہی بخشنے والا بھی ہے اور انتہائی محبت کرنے والا بھی "۔ اور اتنا بڑا کہ سچی توبہ پر وہ انسان کو زندگی بھر کے گناہوں کے میل کچیل سے یک لخت پاک صاف فرما دیتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ایسا کہ اس کی مغفرت و بخشش سے بہرہ مندی اور سرفرازی کے لیے کسی خود ساختہ وسیلے اور واسطے کی بھی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ براہ راست اس کی طرف رجوع کرنا کافی ہے، بشرطیکہ رجوع صدق دل و اخلاص نیت سے ہو۔ سو اس میں سرکشوں، باغیوں اور ہم جیسے گنہگاروں سب کے لیے نوید مسرت و شادمانی ہے کہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ نہیں، اس لیے کسی کے لیے مایوسی اور نا امیدی کا کوئی سوال نہیں۔ فاغفرلی مغفرۃ من عندک یا ارحم الرحمین، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھے، آمین۔ بہرکیف اس کی مغفرت و بخشش کے ساتھ ساتھ اس کی صفت مودت کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ’ ’ وہ بڑا ہی محبت کرنے والا ہے "۔ پس وہ اپنے بندوں کو کبھی بھی دوزخ میں نہیں ڈالنا چاہتا کہ اس کو اپنے بندوں سے بڑی محبت اور انتہائی پیار ہے کیونکہ وہ " ودود " یعنی انتہائی محبت کرنے والا ہے، گر اس کا کیا کیا جائے کہ بندہ کفر و اعراض کی راہ کو اپنا کر ازخود دوزخ ہی کی طرف لپکتا اور اس کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العزیز، اور جب خالق اور موجود وہی ہے تو اس سے بڑھ کر بندوں کے ساتھ محبت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ اپنے بندوں سے بڑا ہی محبت کرنے والا ہے، اس کے یہاں سے سزا صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اپنی سرتابی و سرکشی پر اڑے رہتے ہیں، اور اپنے اس خالق ومالک کی طرف رجوع نہیں کرتے، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو سزا کا حقدار خود بنا دیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللھم فھذہ نواصینا بین یدیک، فخذنا بھا الی ما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاھوال، وفی کل موطن من الواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، تبارکت وتعالیت فکن لنا ولا تکن علینا وامکر لنا ولا تمکر علینا۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین، جل وعلا۔
Ayahs 85:16–18

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

کیا آپ کے پاس حال پہنچا (اے پیغمبر ! ) ان لشکروں کا ؟

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

یعنی فرعون اور ثمود کا ؟

(14) اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کی دو اور صفات کریمہ کے اعتبار سے : سو اس کی بےمثال عظمت کے ایک پہلو کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ورش کا مالک بڑی ہی بلند شان والا ہے "۔ اتنی بڑی شان والا کہ ازخود اور اپنے طور پر اس کی اس عظمت شان کا تصور کرنا بھی کسی بندہ بشر کے لیے ممکن نہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ہر چیز کی باگ ڈور پس جو اس کی باگ اقدس و اعلی کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف لپکتے ہیں وہ اپنی محرومی کا سامان خود ہی کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں ایک طرف تو اہل ایمان کے لیے عظیم الشان بشارت ہے جو ایسی عظمت شان کے مالک اپنے رب کے حضور جھکتے اور اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، اور دوسری اس میں منکرین اور متکبرین کی سخت تفضیح و تذلیل بھی ہے، جو ایسی عظمت شان کے مالک رب ذوالجلال سے منہ موڑ کر اس کی طرح طرح کی عاجز و حقیر اور بےحقیقت مخلوق کے آگے جھکتے ہیں، اور اس طرح وہ اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور دوسری صفت اس کی یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ " فعال لما یرید " ہے، یعنی جو چاہے کر ڈالنے والا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس نہ کوئی اس کے فیصلے کو ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی اس کے حکم کو روک سکتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ نہ وہ کسی کا محتاج ہے اور نہ کسی کی یہ جان ہے کہ وہ اس کے ارادہ و مشیت میں رکاوٹ بن سکے، سبحانہ و تعالیٰ ، نہ اس کو کسی سے اجازت و منظوری کی ضرورت ہوسکتی ہے اور نہ کوئی اس کے کسی کام یا کلام کے بارے میں سوال یا پرستش کرسکتا ہے کہ اس کی شان لَا یُسْأَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْأَلُونَ (الانبیائ 23 پ 17) کی شان ہے، پس نہ کوئی مجرم اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے اور نہ کسی مستحق انعام کو نوازنے کے لیے اس کو کوئی مشکل پیش آسکتی ہے، وہ اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور اعلی وبالا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، نیز اس سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جن لوگوں کا اس " فعال لما یرید " کے ساتھ صحیح تعلق قائم ہو وہ کتنے خوش نصیب اور کتنی بڑی قوت کے مالک ہیں اور اس کے بالمقابل جو اس سے منقطع اور اس کے باغی اور سرکش ہیں وہ کتنے محروم اور کس قدر بدبخت لوگ ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیع وضلال، وسوء ونحراف۔
Ayah 85:19

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کی گندگی) کو اپنا رکھا ہے وہ جھٹلانے ہی میں لگے ہوئے ہیں

(15) انکار و تکذیب حق محرومیوں کی محرومی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انکار و تکذیب حق محرومیوں کی محرومی ہے، سو منکرین کے انکار اور ان کی تکذیب کے اصل سبب کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کافر لوگ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں "۔ سو تکذیب ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی ہے، اور اس کی دلدل میں یہ ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ اس سے نکلنے ہی نہیں پاتے، اور اس کو انہوں نے ایسے اپنا رکھا ہے کہ گویا کہ یہ ان کی روزی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ ( الواقعہ 82 پ 27) یعنی تم لوگ اپنی روزی اس بات کو بناتے ہو کہ تم جھٹلاتے ہو "۔ تو پھر ایسوں کو ایمان و ہدایت کی روشنی ملے تو کیسے ملے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو " بل " کے اضراب سے واضح فرما دیا گیا کہ جو کچھ ان لوگوں کو سنایا اور بتایا جارہا ہے وہ سراسر حق اور حرف بحرف صدق ہے، کسی کے لیے بھی اس سے انکار کی کوئی گنجاش نہیں، لیکن منکرین کو عناد اور ہٹ دھرمی کی جو لت پڑی ہوئی ہے اس کے باعث یہ ماننے کو تیار نہیں ہورہے، اور برابر تکذیب ہی کیے جارہے ہیں، تو پھر ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کو حق اور ہدایت کی روشنی ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 85:20–21

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور اللہ نے ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(اور یہ کوئی جھٹلانے کی چیز نہیں) بلکہ یہ تو ایک بڑا ہی عظمت والا قرآن ہے

(16) منکرین اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت و بطش میں، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے ان منکروں کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے "۔ پس اس کی پکڑ اور گرفت اور اس کے عذاب و نکال سے یہ کسی بھی طرح نکل اور بچ نہیں سکتے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ لوگ اگر اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق ہی پر بضد ہیں تو یہ ان کی مرضی، اپنی ضد پر اڑے رہیں، کیونکہ ہدایت اور حق کے سلسلے میں کسی پر کوئی جبر اور زبردستی نہیں، مگر یہ لوگ اس اہم اور بنیادی بات کو یاد رکھیں کہ ان کی تکذیب سے حقیقت جھوٹ نہیں بن جائے گی، اور یہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے کہیں نکل کر بھاگ نہیں سکتے، اللہ تعالیٰ ان کو ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس لیے یہ اس سے چھوٹ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے، آخر کار ان کو اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور یہ ہر طرف سے اور ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احاطہ بطش وقدرت میں گھرے ہوئے ہیں، کہیں بھی اور کسی بھی طرح اس سے نکل نہیں سکتے، " ورائ " کا لفظ اضداد میں سے ہے، جو آگے اور پیچھے دونوں کے معنوں میں آتا ہے، سو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہر طرف سے گھرے ہوئے ہیں، کسی طرح اس سے باہر نہیں ہوسکتے۔ سبحانہ و تعالی، جل جلالہ وعز سلطانہ۔
Ayah 85:22

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

لوح محفوظ میں نقش ہے

(17) قرآن حکیم کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے نہیں " یعنی ایسے نہیں " جیسے تم لوگ کہتے اور سمجھتے ہو، بلکہ یہ بڑی ہی عظمت شان والا قرآن ہے "۔ کیونکہ یہ اس ذات اقدس و اعلی کا کلام ہے جس کی عظمتوں کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا اور نہ کوئی کنارا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جو لوگ صدق و اخلاص کے ساتھ اس سے وابستہ ہوجائیں گے وہ حقیقی عزت و عظمت اور سعادت و بزرگی سے سرفراز و سرشرا ہوجائیں گے، اور جو اس سے اعراض برتیں گے اور منہ موڑیں گے وہ ذلت و رسوائی سے ہمکنار ہوں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حرف " بل " کے اضراب سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ بڑی ہی عظمت اور بزرگی والا کلام ہے، اور جن حقائق سے یہ تم لوگوں کو آگاہ کر رہا ہے وہ بڑے اہم اور ٹھوس حقائق ہیں، اور یہ جس مآل اور انجام سے تم لوگوں کو خبردار کر رہا ہے وہ کوئی ہوائی بات نہیں، بلکہ قطعی طور پر حقیقت ہے، اور یہ کلام کوئی کاہنوں اور شاعروں کے کلام کی طرح کی چیز نہیں، بلکہ یہ خدائے بزرگ کی نازل کردہ وحی ہے جس سے اعراض و روگردانی خساروں کا خسارہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کتاب حکیم کی عظمت شان کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ لوح محفوظ میں ثبت و مندرج اور محفوظ ہے، جہاں تک نہ کسی کی رسائی ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے اندر کی کسی پیشی کا کوئی خدشہ اور امکان ہوسکتا ہے، پس جو اس کو سچے دل سے اپنائیں گے وہ خود اپنی حفاظت سامان کریں گے اور جو اس سے منہ موڑیں گے، والعیاذ باللہ تو وہ خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کریں گے کیونکہ نور حق و ہدایت سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، وسوء و انحراف بکل حال من الاحوال۔ ( تنبیہ) واضح رہے کہ خندقوں والوں کے جس قصے کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے یہ کوئی ایک ہی قصہ نہیں تھا، بلکہ جیسا کہ مفسر محقق علامہ ابن کثیر نے فرمایا ہے اس طرح کے کئی قصے ہوچکے ہیں، اور مختلف واقعات کی صورت میں مختلف خطوں اور مختلف زمانوں میں پیش آچکے ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ قرین قیاس اور مشہور و معروف قصہ وہ ہے جو کہ نجران کے علاقے میں زمانہ فترت میں حضرت محمد ﷺ کی بعث و تشریف آوری سے کوئی ستر برس قبل پیش آیا ( معارف، محاسن، مراغی وغیرہ) جس میں وہاں کے ظالم اور مشرک حکمران نے سچے اہل ایامن پر یہ مظالم ڈھائے جس کا قصہ اور اس کی تفصیلات مشہور و معروف ہیں، اس لیے ان کے ذکر وبیان کی ضرورت نہیں۔ پھر قرآن حکیم نے ان ظالموں کی ہلاکت و تباہی پر تین چیزوں کی قسم کھائی، ایک برجوں والے آسمان کی، اور اس قسم سے اس پر استشہاد اس طرح ہے کہ جس قادر مطلق کی حکمرانی برجوں والے آسمان کی اس عظیم الشان مخلوق پر ہے اس کی پکڑ اور گرفت سے یہ ظالم لوگ کسی طرح بچ سکیں گے، اور دوسری قسم یوم موعود یعنی قیامت کے دن کی کھائی کہ دنیا میں ان ظالموں نے ان مظلوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر اپنی آتش انتقام کو اگرچہ ٹھنڈا کردیا مگر قیامت کا وہ دن تو بہرحال آنے والا ہے جس میں عدل و انصاف کے تقاضے بھر پور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں پورے ہوں گے، اور ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور ہر کسی کو اس کی کمائی کا پورا پورا صلہ وبدلہ ملے گا، اور جہاں ظالموں کو اپنے مظالم کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور تیسری قسم جو شاہد و مشہود کی ہے وہ بھی اسی پر دال ہے کہ شاہد و مشہود کا جو بھی مفہوم مراد لیا جائے وہ سب اس کا ثبوت اور مظہر ہے کہ آخری، حقیقی اور کامل و بےلاگ انصاف بہرحال ہونا ہے، اور یہ سب قیامت کے دن ہی ہوسکے گا، جس سے کسی کو کوئی مفر نہیں۔ اور وہاں پر ہر کسی کی دارد سی ہوگی، اور بھر پورے طریقے سے اور عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگی، نیز اس سورة کریمہ میں " اصحاب الاخدود " کے جس قصے کا ذکر فرمایا گیا ہے اس میں مکہ مکرمہ کے ظالموں کے لیے بھی بڑا درس عبرت ہے اور ان کے بعد کے ہر دور کے ظالموں کے لیے بھی کہ ان کو ان کے اپنے ظلم وعدوان کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ نیز اس میں مخلص اہل ایمان کے لیے بھی درس ہے کہ وہ راہ حق میں اس طرح کے مظالم کے باوجود ہمیشہ صبر و ضبط ہی سے کام لیں، انجام بہرحال انہی کا ہے، اور ظالموں کو اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے۔ والعاقبۃ للمتقین، واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین، ولا عدوان الا علی الظالمین، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان و حین وھو نعم المولی و نعم النصیر، سبحانہ و تعالیٰ جل وعلا۔