85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔

Ayah 85:2

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (1)

1: یعنی قیامت کا دن
Ayah 85:3

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والے کی اور اس کی جس کے پاس لوگ حاضر ہوں (2)

2: قرآن کریم میں اصل لفظ ”شاہد“ اور ”مشہود“ ہیں۔ شاہد کا ترجمہ ”حاضر ہونے والے“ سے اور مشہود کا ”جس کے پاس لوگ حاضر ہوں“۔ سے کیا گیا ہے۔ اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ اس کی تائید ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جسے امام ترمذی نے ضعیف کہا ہے، اور طبرانی میں حضرت ابو مالک اشعری ؓ کی ایک حدیث سے بھی جسے علامہ ہیثمی نے ضعیف کہا ہے۔ اس کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ شاہد سے مراد انسان ہے، اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے، کیونکہ ہر انسان اس دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوجائے گا۔ حافظ ابن جریر نے یہ تفسیر حضرت مجاہد اور حضرت ضحاک وغیرہ سے نقل کی ہے۔ ”شاہد“ کا ایک ترجمہ گواہ بھی کیا جاسکتا ہے، اور ”مشہود“ کا وہ جس کے بارے میں گواہی دی جائے۔ قیامت میں آنحضرت ﷺ اہل ایمان کے ایمان کی گواہی دیں گے، اس لیے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ حافظ ابن جریر ؒ یہ سب تفسیریں نقل کر کے فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے الفاظ میں ان سب کی گنجائش موجود ہے۔
Ayahs 85:4–18

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خدا کی مار ہے ان خندق (کھودنے) والوں پر (3)

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

اس آگ والوں پر جو ایندھن سے بھری ہوئی تھی۔

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جب وہ اس کے پاس بیٹھے تھے۔

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور وہ ایمان والوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے، اس کا نظارہ کرتے جاتے تھے۔

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور وہ ایمان والوں کو کسی اور بات کی نہیں، صرف اس بات کی سزا دے رہے تھے کہ وہ اس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو بڑے اقتدار والا، بہت قابل تعریف ہے۔

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

جس کے قبضے میں سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

یقین رکھو کہ جن لوگوں نے مومن مردوں عورتوں کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے، پھر توبہ نہیں کی ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کو آگ میں جلنے کی سزا دی جائے گی۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے لیے بیشک (جنت کے) ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے۔

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے۔

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک ہے، بزرگی والا ہے۔

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

جو کچھ ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان لشکروں کی خبر پہنچی ہے۔

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی ؟

3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں سنتا تھا جو اسے اچھی لگتی تھیں۔ ایک دن وہ جا رہا تھا تو راستے میں ایک بڑا جانور نظر آیا جس نے لوگوں کا راستہ روکا ہوا تھا (بعض روایتوں میں ہے کہ وہ جانور شیر تھا، اور لوگ اس سے ڈر رہے تھے)۔ لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ ! اگر راہب کی باتیں آپ کو جادوگر کی باتوں سے زیادہ پسند ہیں تو اس پتھر سے اس جانور کو مروا دیجئے۔ اب جو اس نے پتھر اس جانور کی طرف پھینکا تو جانور مرگیا، اور لوگوں کا راستہ کھل گیا۔ اس کے بعد لوگوں کو اندازہ ہوا کہ اس لڑکے کے پاس کوئی خاص علم ہے۔ چنانچہ ایک اندھے شخص نے اس سے درخواست کی کہ اس کی بینائی واپس آجائے۔ لڑکے نے اس سے کہا کہ شفا دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اگر تم یہ وعدہ کرو کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آؤ گے تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔ اس نے یہ شرط مان لی۔ لڑکے نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بینائی عطا فرمادی، اور وہ توحید پر ایمان لے آیا۔ ان واقعات کی خبر جب بادشاہ کو ہوئی تو اس نے اس نابینا کو بھی گرفتار کرلیا، اور لڑکے اور راہب کو بھی۔ اور ان سب کو توحید کے انکار پر مجبور کیا۔ جب وہ نہ مانے تو اس نے اس نابینا شخص اور راہب کو تو آری سے چروا دیا اور لڑکے کے بارے میں اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ اسے کسی اونچے پہاڑ پر لے جا کر نیچے پھینک دیں۔ لیکن جب وہ لوگ لڑکے کو لے کر گئے تو اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، پہاڑ پر زلزلہ آیا جس سے وہ لوگ مرگئے، اور لڑکا زندہ رہا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے کشتی میں لے جا کر سمندر میں ڈبو دیا جائے۔ لڑکے نے پھر دعا کی، جس کے نتیجے میں کشتی الٹ گئی، وہ سب ڈوب گئے، اور لڑکا پھر سلامت رہا۔ بادشاہ جب عاجز آگیا تو لڑکے نے اس سے کہا کہ اگر تم مجھے واقعی مارنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ تم سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے مجھے سولی پر چڑھاؤ، اور اپنے ترکش سے تیر نکال کر کمان میں چڑھاؤ، اور یہ کہو کہ : اس اللہ کے نام پر جو اس لڑکے کا پروردگار ہے۔ پھر تیر سے میرا نشانہ لگاؤ۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا، اور تیر اس لڑکے کی کنپٹی پر جا کر لگا، اور اس سے وہ شہید ہوگیا۔ لوگوں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بہت سے ایمان لے آئے۔ اس موقع پر بادشاہ نے ان کو سزا دینے کے لیے سرکوں کے کناروں پر خندقیں کھدوا کر ان میں آگ بھڑکائی، اور حکم دیا کہ جو کوئی دین حق کو نہ چھوڑے، اسے ان خندقوں میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ اس طرح ایمان والوں کی ایک بڑی تعداد کو زندہ جلا دیا گیا۔ صحیح مسلم کی اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ سورة بروج میں خندق والوں کا جو ذکر ہے، اس سے یہی واقعہ مراد ہے۔ محمد بن اسحاق نے اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ بیان کیا ہے، اور اس کو سورة بروج کی تفسیر قرار دیا ہے۔ یہاں اس تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی نے ”قصص القرآن“ میں اس پر بہت مفصل بحث کی ہے۔ اہل علم اس کی مراجعت فرمائیں۔
Ayahs 85:19–22

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

اس کے باوجود کافر لوگ حق کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ (4)

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

جبکہ اللہ نے ان کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

جو لوح محفوظ میں درج ہے۔

4: یعنی کفر کا برا انجام معلوم ہوجانے کے باوجود وہ اپنے کفر سے باز نہیں آ رہے ہیں۔