84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 84:1–2

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ پڑے گا۔ (1)

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور وہ اپنے پروردگار کا حکم سن کر مان لے گا، اور اس پر لازم ہے یہی کرے۔

1: پچھلی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی قیامت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں، عربی میں پھٹ پڑنے کو انشقاق کہتے ہیں، اسی لئے اس سورت کا نام انشقاق ہے۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین کو کھینچ دیا جائے گا۔ (2)

2: روایات سے اس کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ قیامت میں زمین کو ربڑ کی طرح کھینچ کر موجودہ سائز سے بڑا کردیا جائے گا، تاکہ اس میں تمام اگلے پچھلے لوگ سما سکیں۔
Ayahs 84:4–5

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور اس کے اندر جو کچھ ہے وہ اسے باہر پھینک دے گی اور خالی ہوجائے گی۔ (3)

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور وہ اپنے پروردگار کا حکم سن کر مان لے گی، اور اس پر لازم ہے کہ یہی کرے (اس وقت انسان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا)

3: اس سے مراد وہ مردے ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں کہ ان کو قبروں سے باہر نکال دیا جائے گا۔ البتہ آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ زمین کے اندر جو اور چیزیں مثلا معدنیات وغیرہ ہیں، انہیں بھی باہر نکال دیا جائے گا۔
Ayahs 84:6–9

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان ! تو اپنے پروردگار کے پاس پہنچنے تک مسلسل کسی محنت میں لگا رہے گا، یہاں تک کہ اس سے جا ملے گا۔ (4)

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

پھر جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوشی مناتا ہوا واپس آئے گا۔

4: انسان کی پوری زندگی کسی نہ کسی کوشش میں خرچ ہوتی ہے۔ جو نیک لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ہر انسان کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ محنت کرتا کرتا اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
Ayahs 84:10–16

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

لیکن وہ شخص جس کو اس کا اعمال نامہ اس کی پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ (5)

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

وہ موت کو پکارے گا

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

پہلے وہ اپنے گھر والوں کے درمیان بہت خوش رہتا تھا۔

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ کبھی پلٹ کر (اللہ کے سامنے) نہیں جائے گا۔

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

بھلا کیوں نہیں ؟ اس کا پروردگار اسے یقینی طور پر دیکھ رہا تھا۔

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

اب میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔

5: سورة الحاقہ : 25 میں فرمایا گیا ہے کہ برے لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں بھی پیچھے کی طرف سے دیا جائے گا۔
Ayahs 84:17–18

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور ان تمام چیزوں کی جنہیں وہ سمیٹ لے۔ (6)

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب وہ بھر کو پورا ہوجائے۔

6: یعنی جن چیزوں کو رات اپنے اندھیرے میں چھپالے۔ یہاں شفق، رات اور چاند کی قسم کھائی گئی ہے۔ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ انسان بھی ایک منزل سے دوسری منزل تک سفر کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے گا۔
Ayahs 84:19–20

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم سب ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھتے جاؤ گے۔ (7)

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ؟

7: انسان اپنی زندگی میں مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے۔ بچپن، جوانی، ادھیڑ عمر اور پھر بڑھاپا، نیز اس کی سوچ میں بھی مسلسل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ یہ سارے مراحل اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں۔
Ayahs 84:21–22

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے ؟ (8)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ یہ کافر لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں۔

8: یہ سجدہ کی آیت ہے، یعنی اس آیت کو جب عربی میں تلاوت کیا جائے تو پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
Ayahs 84:23–25

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں، اللہ کو خوب معلوم ہے۔ (9)

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

اب تم انہیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ایسا ثواب ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

9: اس کا ایک مطلب تو یہ کہ وہ اپنے اعمال کا جو ذخیرہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں میں جو باتیں چھپا رکھی ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے خوب واقف ہے۔