85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsمعارف القرآن

Ayah 85:1

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے آسمان کی جس میں برج ہیں

خلاصہ تفسیر شان نزول۔ اس سورت میں ایک قصہ کا اجمالاً ذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکورہ ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے پاس ایک کاہن تھا (کاہن اس کو کہا جاتا ہے جو شیاطین کے ذریعہ یا نجوم کے آثار کے ذریعہ کچھ مستقبل کی غیبی خبریں معلوم کر کے لوگوں کو بتائے) اس کا ہن نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو ایک ہوشیار لڑکا دیا جاوے تو اس کو اپنا علم سکھا دوں، چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستے میں ایک راہب یعنی عیسائی پادری رہتا تھا اور اس زمانے میں دین عیسیٰ ؑ ہی دین حق تھا اور یہ راہب اسی پر قائم عبادت گزار تھا وہ لڑکا اس کے پاس آنے جانے لگا اور خفیہ مسلمان ہوگیا، ایک بار اس لڑکے نے دیکھا کہ کسی شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور خلق خدا پریشان ہے تو اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جاوے اور اگر کاہن سچا ہے تو نہ مارا جاوے اور یہ کہہ کر وہ پتھر مارا تو شیر کو لگا اور وہ ہلاک ہوگیا، لوگوں میں شور ہوگیا کہ اس لڑکے کو کوئی عجیب علم آتا ہے کسی اندھے نے سنا آ کر درخواست کی میری آنکھیں اچھی ہوجاویں، لڑکے نے کہا بشرطیکہ تو مسلمان ہوجاوے چناچہ اس نے قبول کیا، لڑکے نے دعا کی وہ اچھا ہوگیا اور مسلمان ہوگیا، بادشاہ کو یہ خبریں پہنچیں تو اس راہب کو اور لڑکے کو اور اس نابینا کو گرفتار کر کے بلایا، اس نے راہب اور اعمی کو تو قتل کردیا اور لڑکے کے لئے حکم دیا کہ پہاڑ کے اوپر لیجا کر گرا دیا جاوے مگر جو لوگ اس کو لے گئے تھے وہ خود گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح سالم چلا آیا۔ پھر بادشاہ نے سمندر میں غرق کرنے کا حکم دیا وہ اس سے بھی بچ گیا اور جو لوگ اس کو لے گئے تھے وہ سب ڈوب گئے پھر خود لڑکے نے بادشاہ سے کہا مجھ کو بسم اللہ کہا کہ تیرے مارو تو میں مر جاؤں گا چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور لڑکا مر گیا، پس اس واقعہ عجیبہ کو دیکھ کر یک لخت عام لوگوں کی زبان سے نعرہ بلند ہوا کہ ہم سب اللہ پر ایمان لاتے ہیں، بادشاہ بڑا پریشان ہوا اور ارکان سلطانت کے مشورے سے بڑی بڑی خندقیں آگ سے بھروا کر اشتہار دیا کہ جو شخص اسلام سے نہ پھریگا اس کو آگ میں جلا دینگے چناچہ بہت آدمی جلائے گئے، اس صورت میں ان پر غضب الٰہی نازل ہونے کا بیان قسم کے ساتھ فرمایا ہے) قسم ہے برجوں والے آسمان کی (مراد برجوں سے بڑے بڑے ستارے ہیں، کذا فی الدرالمنشور مرفوعا) اور قسم ہے وعدہ کئے ہوئے دن کی (یعنی قیامت کے دن کی) اور قسم ہے حاضر ہونے والے (دن) کی، اور قسم ہے اس (دن) کی جس میں لوگوں کی حاضری ہوتی ہے (حدیث ترمذی میں مرفوعاً ہے کہ یوم موعود قیامت کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن ہے اور مشہور عرفہ کا دن ہے اور ایک دن کو شاہد اور دوسرے کو مشہور شاید اس لئے فرمایا کہ یوم جمعہ میں تو سب اپنی اپنی جگ رہتے ہیں تو گویا وہ دن خود آتا ہے اور یوم عرفہ میں حجاج اپنے اپنے مقامات سے سفر کر کے عرفات میں اس یوم کے قصد سے جمع ہوجاتے ہیں تو گویا وہ دن مقصود و مشہود اور دوسرے لوگ حاضری کا قصد کرنیوالے ہیں آگے جواب قسم ہے) کہ خندق والے یعنی بہت سے ایندھن کی آگ والے ملعون ہوئے جس وقت وہ لوگ اس (آگ) کے آس پاس بیٹھے ہئے تھے اور وہ جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ (ظلم و ستم) کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے (ان کے ملعون ہونے کی خبر دینے سے تسلی مومنین کی ظاہر ہے کہ اسی طرح جو کافر اس وقت مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں وہ بھی گرفتار لعنت ہوں گے جس کا اثر خواہ دنیا میں بھی مرتب ہو جیسے غزوہ بدر وغیرہ میں مقتول و مخذول ہوئے یا صرف آخرت میں جیسا عام کفار کے لئے یقینی ہے اور دشمن کے عذاب کی خبر سے تسلی ہونا امر طبعی ہے اور ان لوگوں کا بیٹھنا اس ظلم و ستم کے انتظام اور نگرانی کے لئے تھا اور لفظ شہود میں علاوہ نگرانی کے اشارہ ان لوگوں کی سنگدلی کی طرف بھی ہے کہ دیکھ کر بھی ترحم نہ آتا تھا اور اس کو خدا تعالیٰ کی لعنت میں خاص دخل ہے کہ یہ سنگدلی سبب لعنت ہے) اور ان کافروں نے ان مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہیں پایا تھا بجز اس کے کہ وہ خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست (اور) سزا وار حمد ہے ایسا کہ اسی کی ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی (یعنی ایمان لانے پر یہ معاملہ کیا اور ایمان لانا کوئی خطا نہیں، پس بےخطا ان پر ظلم کیا اس لئے وہ لوگ ملعون ہوئے اور آگے ظالموں کے لئے عام و عید اور مظلوموں کے لئے عام وعدہ ہے) کہ اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے (مظلوم کی مظلومیت سے بھی پس اس کی نصرت کرے گا اور ظالم کی ظالمیت سے بھی تو اس کو سزا دے گا خواہ یہاں خواہ وہاں چناچہ آگے یہی مضمون ہے کہ) جنہوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عروتوں کو تکلیف پہنچائی اور پھر توبہ نہیں کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جہنم میں بالخصوص ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے (عذاب میں ہر طرح کی تکلیف داخل ہے۔ سانپ، بچھو، طوق، زنجیریں، حمیم، غساق وغیرہ اور سب سے بڑھ کر جلنے کا عذاب ہے اس لئے اس کو بالتخصیص فرمایا یہ تو ظالم کے حق میں فرمایا آگے مؤمنین کے حق میں جن میں مظلوم بھی آگئے ارشاد ہے کہ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کے لئے بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور یہ بڑی کامیابی ہے (اور اوپر دو مضمون تھے کفار کے لئے جہنم ہونا اور مؤمنین کے لئے جنت ہونا، آگے ان کے مناسب اپنے بعض افعال وصفات ان مضمونوں کی تقریر کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) آپ کے رب کی دارو گیر بڑی سخت ہے (پس کفار پر سزائے شدید کا واقع ہونا مستبعد نہیں اور نیز) وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور دوبارہ (قیامت میں بھی) پیدا کر دے گا (پس یہ شبہ بھی نہ رہا کہ گو بطش شدید ہے مگر قیامت ہی واقع نہ ہوگی جو کہ وقت بطش کا ہے اس سے تقریر ہوگئی وعید کفار کی اور (آگے تقریر ہے وعدہ مومنین کی کہ) وہی بڑا بخشنے والا (اور) بڑی محبت کرنے والا اور عرش کا مالک (اور) عظمت والا ہے (پس ایمان والوں کے گناہ معاف کر دے گا اور ان کو اپنا محبوب بنا لیگا، اور ذوالعرش اور مجید گو تعذی بےاثابت دونوں کے ساتھ متعلق ہوسکتا ہے کہ دونوں فرع ہیں صاحب سلطنت و کمال صفات کی، لیکن یہاں مقابلے کے قرینے سے ان پر اثابت کا متفرع کرنا مقصود ہے اور آگے دونوں کے اثبات کے لئے ایک صفت ارشاد ہے کہ) وہ جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے (آگے مؤمنین کی مزید تسلی اور کفار کی مزید تنبیہ کے لئے بعض خاص مغضوبین کا حال بیان فرماتے ہیں کہ) کیا آپ کو ان لشکروں کا قصہ پہنچا ہے یعنی فرعون (اور آل فرعون) اور ثمود کا (کہ کس طرح کفر کیا اور کیونکر گرفتار عذاب ہوئے اس سے مؤمنین کو تسلی حاصل کرنا چاہئے اور کفار کو ڈرنا چاہئے مگر کفار بالکل عذاب سے نہیں ڈرتے) بلکہ یہ کافر (خود قرآن کی) تکذیب میں (لگے) ہیں (پس اس کے مضمون تعذیب کو بھی اور دیگر مضامین کو بھی جھٹلاتے ہیں) اور (انجام کار اس کی سزا بھگتیں گے کیونکہ) اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے (اس کے قبضہ قدرت اور عقوبت سے بچ نہیں سکتے اور ان کا قرآن کو جھٹلانا محض حماقت ہے کیونکہ قرآن ایسی چیز نہیں جو جھٹلانے کے قابل ہو) بلکہ وہ ایک باعظمت قرآن ہے جو لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) ہے (جس میں کوئی تغیر و تبدل متحمل نہیں، وہاں سے نہایت حفاظت کے ساتھ صاحب وحی کے پاس پہنچایا جاتا ہے کما قال تعالیٰ فی سورة الجن، فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا پس ایسی صورت میں تکذیب قرآن کی بلاشبہ جہالت و موجب عقوبت ہے) معارف و مسائل والسمآء ذات البروج بروج، برج کی جمع ہے بڑے محل یا قلعہ کو کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے ولو کنتم فی بروج مشیدة یہاں بروج سے مراد محلات و قصور ہی ہیں اور اصل مادہ برج کے لغوی معنے ظہور کے ہیں۔ تبرج کے معنے بےپردہ کھلے پھرنے کے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے ولا تبرجن تبرج الجاھلیتہ الاولی اس آیت میں بروج سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک بڑے بڑے ستارے ہیں۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، ضحاک، حسن بصری، قتادہ، سدی سب کا یہی قول ہے اور بعض دوسرے ائمہ تفسیر نے اس جگہ بروج سے مراد قصور یعنی محلات لئے ہیں اور اس سے مراد وہ مکانات ہیں جو آسمان میں پہرہ داروں اور نگراں فرشتوں کے لئے مقرر ہیں اور بعض متاخرین نے بروج سے مراد وہ بروج بتلائے ہیں جو فلاسفہ کی اصطلاح ہے کہ کل آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصہ کو ایک برج کہا جاتا ہے ان کا خیال یہ ہے کہ ثوابت ستارے انہی برجوں میں اپنی جگہ مقیم ہیں اور سیا رات حرکت فلک کیساتھ متحرک ہوتے ہیں اور ان برجوں میں سیا رات کا نزول ہوتا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے قرآن کریم سیا رات کو آسمانوں میں مرکوز نہیں قرار دیتا بلکہ ہر سیارے کو اپنی ذاتی حرکت سے متحرک قرار دیتا ہے جیسا کہ سورة یس کی آیت میں ہے وکل فی فلک یسجون فلک سے مراد اس میں آسمان نہیں بلکہ سیارے کی مدار ہے جس میں وہ حرکت کرتا ہے۔ (مظہری)
Ayahs 85:2–9

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور اس دن کی جو حاضر ہوتا ہے اور اس کی کہ جس کے پاس حاضر ہوتے ہیں

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

مارے گئے کھائیاں کھودنے والے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

آگ ہے بہت ایندھن والی

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جب وہ اس پر بیٹھے

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو کچھ وہ کرتے مسلمانوں کے ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور ان سے بدلہ نہ لیتے تھے مگر اسی بات کا کہ وہ یقین لائے اللہ پر جو زبردست ہے تعریفوں والا

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

جس کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اللہ کے سامنے ہر چیز

والیوم المرعودہ وشاھد ومشھود خلاصہ تفسیر میں ترمذی کی مرفوع حدیث کے حوالہ سے ان الفاظ کی تفسیر لکھدی گئی ہے کہ یوم موعود سے مراد روز قیامت اور شاہد سے مراد روز جمعہ اور مشہود سے مراد روز عرفہ ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی اول برجوں والے آسمان کی۔ پھر قیامت کے روز کی پھر جمعہ اور عرفہ کے دنوں کی۔ مناسبت ان چیزوں کی قسم کی جواب قسم کیساتھ یہ کہ یہ سب چیزیں حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ پر اور پھر قیامت کے روز حساب کتاب اور جزا سزا پر دلیل ہیں اور روز جمعہ و عرفہ مؤمنین کے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرنے کے مبارک دن ہی، آگے جواب قسم میں ان کفار پر لعنت آئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے ایمان کی وجہ سے آگ میں جلایا اور پھر مؤمنین کے درجات آخرت کا بیان فرمایا۔ واقعہ اصحاب اخدود کی کچھ تفصیل۔ یہی واقعہ اس سورت کے نزول کا سبب ہے جس کا خلاصہ صحیح مسلم کی حدیث کے حوالہ سے خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ یہ شخص جس کو اس واقعہ میں کاہن کہا گیا بعض روایات میں کاہن کے بجائے ساحر آیا ہے اور یہ بادشاہ جس کا ذکر اس قصہ میں ہے ملک یمن کا بادشاہ تھا جس کا نام حضرت ابن عباس کی روایت میں یوسف ذونواس تھا، اس کا زمانہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سے تر سال پہلے کا زمانہ تھا اور یہ لڑکا جس کو کاہن یا ساحر کے پاس اس کا فن سیکھنے کے لئے بادشاہ نے مامور کیا تھا اس کا نام عبداللہ بن تامر ہے اور راہب عیسائی مذہب کا عابد و زاہد ہے اور اس زمانے میں چونکہ مذہب عیسیٰ ؑ ہی دین حق تھا اس لئے یہ راہب اس وقت کا سچا مسلمان تھا، یہ لڑکا عبداللہ بن تامرجس کو کہانت یا سحر سیکھنے کے لئے بادشاہ نے مامور کیا تھا اور وہ راستہ میں راہب کے پاس جاتا اور اس کا کلام سن کر متاثر ہوتا اور بالاخر مسلمان ہوگیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ایمان بھی ایسا پختہ نصیب فرمایا کہ ایمان کی خاطر لوگوں کی ایذائیں برداشت کرتا تھا، کیونکہ جب جانے کے وقت راستہ میں راہب کے پاس بیٹھتا یہاں کچھ وقت لگتا تو جب ساحر یا کاہن کے پاس دیر سے پہنتا تو وہ اس کو مارتا تھا اور واپسی کے وقت جب پھر راہب کے پاس بیٹھتا تو گھر واپس جانے میں دیر ہوتی اس پر گھر والے اس کو مارتے تھے مگر اس نے کسی کی پرواہ کئے بغیر رابہ کی صحبت و مجالست نہ چھوڑی، اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کو وہ کرامات عطا فرمائیں جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اس ظالم بادشاہ نے ایمان لانیوالوں کو عذاب دینے کے لئے خندق کھدوا کر اس کو آگ کے بڑے شعلوں سے لبریز کیا پھر ایمان لانیوالوں میں سے ایک ایک کو حاضر کر کے کہا کہ یا ایمان کو چھوڑ دو یا پھر اس خندق میں گر جانا پڑیگا، اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنین کو ایسی استقامت بخشی کہ ان میں سے ایک بھی ایمان چھوڑنے پر راضی نہ ہوا اور آگ میں گر جانا قبول کیا، صرف ایک عورت جس کی گود میں ایک بچہ تھا اس کو آگ میں گرنے سے ذرا جھجک ہوئی تو چھوٹا سا بچہ بولا کہ اماں جان صبر کرو، کیونکہ آپ حق پر ہیں جو لوگ اس طرح دہکتی آگ میں جلا کر اس ظالم نے قتل کئے ان کی تعداد بعض روایات میں بارہ ہزار، بعض میں سے اس سے زیادہ مقنلو ہے۔ اور یہ لڑکا جس کی کرامتوں کا ذکر اوپر آ چکا ہے اور یہ کہ اس نے خودبادشاہ کو اپنے قتل کی یہ صورت بتلائی کہ تم میرے ترکش کا تیرلو اور اس پر باسم اللہ ربی کہہ کر میرے تیر مارو تو میں مر جاؤں گا، اس ترکیب کے ساتھ لڑکے نے تو جان دے دی مگر اس واقعہ کو دیکھ کر بادشاہ کی ساری قوم نے عرہ لگایا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا، کافر کو حق تعالیٰ نے دنیا میں بھی غائب و خاسر بنادیا۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ یہ لڑکا عبداللہ ابن تامر جس جگہ مدفون تھا اتفاقاً کسی ضرورت سے وہ زمین حضرت فاروق اعظم ؒ کے زمانے میں کھودی گئی تو اس میں عبداللہ بن تامر کی لاش صحیح سالم اس طرح برآمد ہوئی کہ وہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ اپنی پٹھ پڑی پر رکھا ہوا تھا جہاں تیر لگا تھا، کسی دیکھنے والے نے ان کا ہاتھ اس جگہ سے ہٹایا تو زخم سے خون جاری ہوگیا پھر ویسے ہی رکھد دیا تو بند ہوگیا، ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی جس پر لکھا ہوا تھا اللہ ربی عامل یمن نے اس واقعہ کی اطلاع حضرت فاروق اعظم کو دی تو آپ نے جواب میں لکھا کہ ان کو ان کی ہیبت پر انگوٹھی سمیت اسی طرح چھپا دو جیسے ہپلے تھے۔ (ابن کثیر) فائدہ۔ ابن کثیر نے بحوالہ اب ابی حاتم نقل کیا ہے کہ آگ کی خندق کا واقعہ دنیا میں ایک ہی نہیں بہت مختلف ملکوں اور زمانوں میں ہوئے ہیں، پھر ابن ابی حاتم نے ان واقعات میں سے تین کا خصوصیت سے ذکر کیا کہ ایک خندق یمن میں تھی (جس کا واقعہ زمان فترت میں آنحضرت ﷺ سے ستر سال پہلے پیش آیا ہے) دوسری خندق شام میں، تیسری فارس میں تھی۔ مگر قرآن کریم میں جس خندق کا ذکر اس سورت میں ہے وہ خندق نجران ملک یمن کی خندق ہے کیونکہ یہی عرب کے ملک میں تھی۔
Ayahs 85:10–22

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

تحقیق جو دین سے بچلائے ایمان والے مردوں کو اور عورتوں کو پھر توبہ نہ کی تو ان کے لئے عذاب ہے دوزخ کا اور ان کے لئے عذاب ہے آگ لگے کا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

بیشک جو لوگ یقین لائے اور کیں انہوں نے بھلائیاں ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں یہ ہے بڑی مراد ملنی

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بیشک تیرے رب کی پکڑ سخت ہے

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

بیشک وہی کرتا ہے پہلی مرتبہ اور دوسری

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہی ہے بخشنے والا محبت کرنے والا

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

مالک عرش کا بڑی شان والا

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

کر ڈالنے والا جو چاہے

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

کیا پہنچی تجھ کو بات ان لشکروں کی

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

فرعون اور ثمود کے

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

کوئی نہیں بلکہ منکر جھٹلاتے ہیں

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور اللہ نے ان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

کوئی نہیں یہ قرآن ہے بڑی شان کا

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

لکھا ہوا لوح محفوظ میں۔

ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا دیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں آگ میں مردہ جسم پڑے، پھر یہ آگ اتنی بھڑک اٹھی کہ خندق کے حدود سے نکل کر شہر میں پھیل گئی اور ان سب لوگوں کو جو مسلمانوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے اس آگ نے جلا دیا، صرف بادشاہ یوسف ذونواس بھاگ نکلا اور آگ سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا اس میں غرق ہو کر مراد (مظہری) ان لوگوں کے لئے عذاب جہنم اور عذاب حریق کی خبر کے ساتھ قرآن کریم نے یہ قید بھی لگا دی کہ ثم لم یتوبوا یعنی یہ عذاب ان لوگوں پر پڑیگا جو اپنے اس فعل پر نادم ہو کر تائب نہیں ہوئے اس میں ان لوگوں کو توبہ کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس جو دو کرم کو دیکھو کہ ان لوگوں نے اللہ کے اولیاء کو زندہ جلا کر ان کا تماشا دیکھا اور حق تعالیٰ اس پر بھی ان کو توبہ اور مغفرت کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ (ابن کثیر) تمت سورة البروج والحمد اللہ 16 شعبان 1391 ھ