84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 84:1–2

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور سن لے حکم اپنے رب کا اور وہ آسمان اسی لائق ہے

خلاصہ تفسیر جب (نفخہ ثانیہ کے وقت) آسمان پھٹ جاوے گا (تاکہ اس میں سے غمام یعنی بادل کی شکل کی ایک چیز کا نزول ہو جس میں فرشتے ہوں گے جس کا ذکر پارہ وقال الذین لایرجون آیت و یوم تشفق السماء والخ میں ہے) اور اپنے رب کا حکم سن لیگا (اور مان لیگا، یہاں حکم سے مراد حکم تکوینی انشاق کا ہے اور ماننے سے مراد اس کا وقوع ہے) اور وہ (آسمان بوجہ محکوم قدرت ہونے کے) اسی لائق ہے (کہ جس امر کی مشیت اس کے متعلق ہو اس کا وقوع ضرور ہوجاوے) اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جاوے گی (جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے، پس اس وقت کی مقدار سے اس وقت مقدار زیادہ ہوجاوے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس میں سماجا ویں جیسا در منشور میں بسند جید حاکم کی روایت سے مرفوعاً وارد ہے تمد الارض یوم القیمتہ مدالادیم لخ پس آسمان کا یہ انشقاق اور زمین کا امتداد دونوں حساب محشر کے مقدمات میں سے ہیں) اور (وہ زمین) اپنے اندر کی چیزوں کو (یعنی مردوں کو) باہر اگل دیگی اور (سب مردوں سے) خالی ہوجاوے گی اور وہ زمین) اپنے رب کا حکم سن لیگی اور وہ اسی لائق ہے (اس کی تفسیر بھی مثل سابق ہے بس اس وقت انسان اپنے اعمال کو دیکھے گا جیسا آگ ارشاد ہے کہ) اے انسان تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک (یعنی مرنے کے وقت تک) کام میں کوششیں کر رہا ہے (یعنی کوئی نیک کام میں لگا ہوا ہے کوئی برے کام میں) پھر) (قیامت میں) اس (کام کی جزائ) سے جا ملے گا تو (اس روز) جس شخص کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں ملے گا سو اس سے آسان حساب لیا جاوے گا اور وہ (اس سے فارغ ہو کر) اپنے متعلقین کے پاس خوش خوش آئیگا (آسان حساب کے مراتب مختلف ہیں، ایک یہ کہ اس پر بالکل عذاب مرتب نہ ہو۔ بعض کے لئے تو یہ ہوگا اور حدیث میں اسی کی تفسیر یہ آئی ہے کہ جس حساب میں مناقشہ (خوردہ گیری) نہ ہو صرف پیشیش ہوجاوے اور یہ ان کے لئے ہوگا جو بلا کسی عذاب کے نجات پائیں گے۔ دوسرا یہ کہ اس پر عذاء دائمی نہ ہو اور یہ عام مومنین کے لئے ہوگا۔ اور مطلق عذاب اس کے منافی نہیں) اور جس شخص کا نامہ اعمال (اسکے بائیں ہاتھ میں) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے ملے گا (مراد اس سے کفار ہیں اور پشت کی طرف سے ملنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں گی تو بایاں ہاتھ میں پشت کی طرف ہوگا دوسری صورت مجاہد کا قول ہے کہ اس کا بایاں ہاتھ پشت کی طرف نکال دیا جاوے گا کذا فی الدالمنشور) سو وہ موت کو پکاریگا (جیسا مصیبت میں عادت ہے موت کی تمنا کرنے کی) اور جہنم میں داخل ہوگا، یہ شخص (دنیا میں) اپنے متعلقین (اہل و عیال وحشم وخدم) میں خوش خوش رہا کرتا تھا (یہاں تک کہ فرط خوشی میں آخرت کی تکذیب کرنے لگا تھا جیسا کہ آگے ارشاد ہے کہ) اس نے خیال کر رکھا تھا کہ اس کو (خدا کی طرف) لوٹنا نہیں ہے (آگے رو ہے اس گمان کا کہ لوٹنا) کیوں نہ ہوتا (آگے لوٹنے کے بعد جزا کا اثبات ہے کہ) اسکا رب اس کو خوب دیکھتا تھا (اور اس کے اعمال پر جزا دینے کے ساتھ مشیت متعلق کرچکا تھا اس لئے جزا کا وقوع اس کا رب اس کو خوب دیکھتا تھا (اور اس کے اعمال پر جزا دینے کے ساتھ مشیت متعلق کرچکا تھا اس لئے جزا کا وقوع ضروری تھا) سو (اس بنا پر) میں قسم کھا کر کہتا ہوں شفیق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ (کر جمع کر) لیتی ہے (مراد وہ سب جاندار ہیں جو رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے اپنے ٹھکانے میں آجاتے ہیں) اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاوے (یعنی بدربنجاوے، ان سب چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں) کہ تم لوگوں کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے (یہ تفصیل ہے یا یھا الانسان تا ملاقیہ کی، پس وماں جنس کو خطاب تھا یہاں دوسری حالت پر پہنچنا ہے (یہ تفصیل ہے یایھا الانسان تا ملاقیہ کی پس وہاں جنس کو خطاب تھا یہاں جمیع افراد کو خطاب ہے وہاں بقائے عمل کا ذکر مجملاً فرمایا، یہاں اس چیز کی تفصیل ہے جس سے روز محشر ملے گا یا اس کے سامنے آویگی اور وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ اس کے بعد احوال قیامت پھر خود ان میں بھی تعدد و کثرت ہے اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیارت و نقصان میں مختلف ہونا، یہ سب مشابہ ہے اختلاف احوال بعد الموت کے، و نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفیق سے رات شروع ہوتی ہے پھر عالم برزخ میں رہنا مشابہ لوگوں کے سو رہنے کے ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے مشابہ ہے حیوہ قیامت کے بعد فناء عالم کے) سو (باوجود ان مقتضیات خوف و ایمان کے اجتماع کے) ان لوگوں کو کیا ہوا کہ ایمان نہیں لاتے اور (خود تو ایمان اور حق کی کیا طلب کرتے ان کی عناد کی یہ حالت ہے کہ) جب ان کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو (اس وقت بھی خدا کی طرف) نہیں جھکتے بلکہ (بجائے جھکنے کے) یہ کافر (اور الٹی) تکذیب کرتے ہیں اور اللہ کو سب خبر ہے جو کچھ یہ لوگ (اعمال بد کا ذخیرہ) جمع کر رہے ہیں سو (ان اعمال کفر یہ کے سبب) آپ ان کو ایک دد ناک عذاب کی خبر دیدجیئے لیکن جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ان کے لئے (آخرت میں) ایسا اجر ہے جو کبھی موقوف ہونے والا نہیں (عمل صالح کی قید شرط کے طور پر نہیں سبب کے طریق پر ہے۔) معارف و مسائل اس سورت میں قیامت کے احوال اور حساب کتاب اور نیک و بد کی جزاء و سزا کا پھر غافل انسان کو خد اس کی ذات اور گرد و پیش کے حالات میں غور کرنے اور ان سے ایمان باللہ والقران تک پہنچنے کی ہدایت ہے۔ اس میں پہلے آسمان کے پھٹنے کا ذکر ہے پھر زمین کا جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے خواہ وہ خزائن دفائن ہوں یا انسان کے مردہ اجسام وہ سب اگل کر نکالدے گی اور محشر کے لئے ایک نئی زمین تیار ہوگی جس میں نہ کوئی غار، پہاڑ ہوگا نہ تعمیر اور درخت ایک صاف سطح مستوی ہوگی اس کو کھینچ کر بڑھا دیا جائے گا تاکہ تمام اولین و آخرین اس پر جمع ہو سکیں یہ بیان دوسری سورتوں میں مختلف عنوان سے آیا ہے، یہاں ایک نئی زیادتی یہ ہے کہ آسمان اور زمین دونوں پر جو تصرف حق تعالیٰ کی طرف سے روز قیامت ہوگا اس کے متعلق فرمایا و اذنت لرنھا وحقت اذن کے معنی ہیں سن لیا اور مراد سننے سے سن کر اطاعت کرنا ہے اور حقت بصیغہ مجہول کے معنی یہ ہیں کہ حق لھا الانقیاد یعنی حق واجب تھا کہ وہ اللہ کے اس حکم کی اطاعت کرے۔ احکام الہیہ کی دو قسمیں۔ یہاں آسمان و زمین کی اطاعت اور تعمیل حکم کے دو معنے ہو سکتے ہیں کیونکہ احکام الہیہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تشریعی احکام جن میں ایک قانون بتلایا جاتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کی سزا بتلا دی جاتی ہے مگر کرنیوالے کو اس کی کسی جانب پر مجبور محض نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو ایک درجہ کا اختیار دیا جاتا ہے وہ اپنے اختیار سے اس قانون کی پابندی کرے یا خلاف ورزی اور ایسے احکام عموماً ان مخلوقات پر عائد ہوتے ہیں جو ذوی العقول کہلاتے ہیں جیسے انسان اور جن، یہیں سے ان میں مومن و کافر اور مطیع و نافرمان کی دو قسمیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ دوسری قسم احکام کی تکوینی اور تقدیری احکام ہیں ان کی تنقید جبری ہوتی ہے کسی کی مجال نہیں کہ سر موان کے خلاف کرسکے ان احکام کی تعمیل کل مخلوقات جبراً کرتی ہے ان میں انسان اور جن بھی داخل ہیں، تکوینی احکام میں ان کے لئے جو کچھ مقدر کردیا گیا ہے مومن ہو یا کافر، متقی ہو یا فاسق، سب کے سب اسی تقدیر قانون کے تابع چلنے پر مجبور ہیں۔ ذرہ ذرہ دہر کا پابستہ تقدیر ہے زندگی کے خواب کی جامی یہی تعبیر ہے اس جگہ یہ ہوسکتا ہے کہ آسمان و زمین کو حق تعالیٰ خاص شعو رو ادراک عطا فرما دیں جو مکلفین میں ہوتا ہے اور جب ان کو کوئی حکم حق تعالیٰ کی طرف سے ملا انہوں نے با اختیار خود اس کی تعمیل اور اطاعت کی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حکم سے مراد حکم تکوینی لیا جائے جس میں کسی کے ارادہ و اختیار کو دخل ہی نہیں ہوتا اذنت لرزبھا وحقت کے الفاظ پہلے معنے کے لئے زیادہ اقرب ہیں، دوسرے معنے بھی بطور مجاز کی بن سکتے ہیں۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین پھیلا دی جائے

واذا الارض مدت، مد کے معنے کھینچنے اور دراز کرنے کے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز زمین کو اس طرح کھینچ کر پھیلایا جائے گا جیسے چمڑے (یا ربڑ) کے کھینچ کر بڑا کردیا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود میدان حشر جو اس زمین پر ہوگا اس میں ابتداء دنیا سے قیامت تک کہ تمام انسان جمع ہوں گے تو صورت یہ ہوگی کہ ایک آدمی کے حصہ میں صرف اتنی زمین ہوگی جس پر اس کے پاؤں ہیں (رواہ الحاکم بسند جید، مظہری)
Ayahs 84:4–5

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور نکال ڈالے جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور سن لے حکم اپنے رب کا اور وہ زمین اسی لائق ہے

والقت مافیھا وتخلت، یعنی اگل دیگی زمین ہر اس چیز کو جو اس کے بطن میں ہے اور بالکل خالی ہو جاویگی زمین کے بط میں خزائن و دفائن اور معاون بھی ہیں اور ابتدائے دنیا سے مرنیوالے انسانوں کے اجسام و ذرات بھی زمین ایک زلزلہ کے ساتھ یہ سب چیزیں اپنے بطن سے باہر نکالدے گی۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے آدمی تجھ کو تکلیف اٹھانی ہے اپنے رب تک پہنچنے میں سہ سہ کر پھر اس سے ملنا ہے

یایھا الانسان انک کا دح، کدح کے معنے کسی کام میں پوری جدوجہد اور اپنی توانائی صرف کرنے کے ہیں، او الی ربک سے مراد الی لقاء ربک ہے یعنی انسان کی ہر سعی وجدوجد کی انتہا اس کے رب کی طرف ہونیوالی ہے۔ رجوع الی اللہ۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خطاب فرما کر اس کے غور و فکر کے لئے ایک ایسی راہ دکھائی ہے کہ اس میں کچھ بھی عقل و شعور ہو تو وہ اپنی جدوجہد کا رخ صحیح سمت کی طرف پھیر سکتا ہے جو اس کو دنیا و دنیا میں سلامتی اور عافیت کی ضمانت دے۔ پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی کہ انسان نیک ہو یا بد، مومن ہو یا کافر اپنی فطرت سے اس کا عادی ہے کہ کچھ نہ کچھ حرکت کرے اور کسی نہ کسی چیز کو اپنا مقصود بنا کر اس کے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد اور محنت برداشت کرے، جس طرح ایک شریف نیک خو انسان اپنے معاش اور ضروریات زندگی کی تحصیل میں فطری اور جائز طریقوں کو اختیار کرتا ہے اور ان میں اپنی محنت و تانائی صرف کرتا ہے۔ بدکار بدخو انسان بھی اپنے مقاصد کہیں بےمحنت بےجدوجہد حاصل نہیں کرسکتا۔ چور ڈاکو بدمعاش دھوکہ فریب سے لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کو دیکھو کیسی کیسی ذہنی اور جسمانی محنت برداشت کرتے ہیں جب ان کو ان کا مقصود حاصل ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ بتلائی کہ عاقل انسان اگر غور کرے تو اس کی تمام حرکات بلکہ سکنات بھی ایک سفر کی منزلیں ہیں جس کو وہ غیر شعوری طور پر قطع کر رہا ہے جس کی انتہا اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری یعنی موت ہے سکنات بھی ایک سفر کی منزلیں ہیں جس کو وہ غیر شعوری طور پر قطع کر رہا ہے، جس کی انتہا اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری یعنی موت ہے (الی ربک) میں اسی کا بیان ہے اور یہ انتہا ایسی حقیت ہے کہ جس کا کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہا نسان کی ہر جدوجہد اور محنت موت پر ختم ہونا یقینی ہے۔ تیسری بات یہ بتلائی کہ موت کے بعد اپنے رب کے سامنے حاضری کے وقت اس کی تمام حرکات و اعمال اور ہر جدوجہد کا حساب ہونا ازروئے عقل و انصاف ضروری ہے تاکہ نیک و بد کا انجام الگ الگ تمام حرکات و اعمال اور ہر جدوجہد کا حساب ہونا اور ازروئے عقل و انصاف ضروری ہے تاکہ نیک و بد کا انجام الگ الگ معلوم ہو سکے ورنہ دنیا میں تو اس کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا، ایک نیک آدمی ایک مہینہ محنت مزدوری کر کے اپنا رزق اور معلوم ہو سکے ورنہ دنیا میں تو اس کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا، ایک نیک آدمی ایک مہینہ محنت مزدوری کر کے اپنا رزق اور جو ضروریات حاصل کرتا ہے، چور ڈاکو اس کو ایک رات میں حاصل کرلیتے ہیں۔ اگر کوئی وقت حساب کا اور جزاء سزا کا نہ آئے تو دونوں برابر ہوگئے جو عقل و انصاف کے خلاف ہے۔ آخر میں فرمایا فملقیہ، ملاقیہ کی ضمیر کدح کی طرف بھی راج ہو سکتی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ جدوجہد یہاں انسان کر رہا ہے بالاخر اپنے رب کے پاس پہنچ کر اپنی اس کمائی سے ملے گا اور اس کے اچھے یا برے نتائج اس کے سامنے آجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملاقیہ کی ضمیر رب کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ ہر انسان آخرت میں اپنے رب سے ملنے والا اور حساب کے لئے اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے، آگے نیک و بد اور مومن و کافر انسانوں کے لگے الگ انجام کا ذکر ہے جس کی ابتدا اعمال نامہ کا داہنے یا بائیں اتھ میں آجانا ہی نیک و بد اور مومن و کافر انسانوں کے الگ الگ انجام کا ذکر ہے جس کی ابتداء اعمال نامہ کا دہنے یا بائیں ہاتھ میں آجانا ہی داہنے والوں کو جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت اور بائیں ولاوں کو دوزخ کے عذاب کی اطلاع مل جاتی ہے۔ اس مجموعہ پر اگر انسان غور کرے کہ ضروریات زندگی بلکہ اپنے نفس کی غیر ضروری مرغوبات کو بھی حاصل تو نیک و بد دونوں ہی کرلیتے ہیں۔ اس طرح دنیا کی زندگی دونوں کی گزر جاتی ہے مگر ان دونوں کے انجام میں زمین و آسمان کا فرق ہے ایک کے نتیجہ میں دائمی غیر منقطع راحت ہی راحت ہے، دوسرے کے نتیجہ میں دائمی مصیبت و عذاب ہے پھر کیوں نہ انسان اس انجام کو آج ہی سوچ سمجھ کر اپنی سعی و عمل کا رخ اس طرف پھیر دے جو دنیا میں بھی اس کی ضرورتوں کو پورا کر دے اور آخرت کی دائمی نعمت بھی اس کو حاصل رہے۔
Ayahs 84:7–10

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

سو جس کو ملا اعمال نامہ اس کا دہانے ہاتھ میں

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

تو اس سے حساب لیں گے آسان حساب

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور پھر کر آئے گا اپنے لوگوں کے پاس خوش ہو کر

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کو ملا اس کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے

فاما من اوتی کتبہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا و ینقلب الی اھلہ مسرورا۔ اس میں مومنین کا حال بیان فرمایا ہے کہ ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جاویں گے اور انسے بہت آسان حساب لے کر جنت کی بشارت دے دیجائے گی اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوش خوش واپس ہوگا۔ صحیح کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من حوسب یوم القیمتہ عذب یعنی قیامت کے روز جس سے حساب لیا جائے وہ عذاب سے نہ بچے گا۔ اس پر حضرت صدیقہ عائشہ نے سوال کیا کہ کیا قرآن میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے یحاسب حسابایسرا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت میں جس کو حساب یسیر فرمایا وہ درحقیت مکمل حساب نہیں بلکہ صرف رب اعلزت کے سامنے پیشی ہے اور جس شخص سے اس کے اعمال کا پورا پورا حساب لیا گیا وہ ہرگز عذاب سے نہ بچے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤمنین کے اعمال بھی رب العزت کے سامنے پیش تو سب ہوں گے مگر ان کے ایمان کی برکت سے ان کے ہر ہر عمل پر مناقشہ نہیں ہوگا، اسی کا نام حساب یسیر ہے اور اپنے گھر والوں کی طرف خوش خوش واپس ہونیکے دو معنے ہو سکتے ہیں، یا تو گھرو والوں سے مرادجنت کی حوریں ہیں جو وہاں اس کے اہل ہوں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا میں جو اس کے اہل و عیال تھے محشر کے میدان میں جب حساب کے بعد کامیابی ہوگی تو دنیا کی عادت کے مطابق اس کی خوشخبری سنانے ان کے پاس جائے، ائمہ تفسیر نے دونوں احتمال بیان فرمائے ہیں۔ (قرطبی)
Ayahs 84:11–15

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

سو وہ پکارے گا موت موت

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور پڑے گا آگ میں

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

وہ رہا تھا اپنے گھر میں بےغم

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے خیال کیا تھا کہ پھر کر نہ جائے گا

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

کیوں نہیں اس کا رب اس کو دیکھتا تھا

فسوف یدعوا ثبوراً یعنی جس کا اعمالنامہ اس کی پشت کی طرف سے اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ وہاں اس کی تمنا کرے گا کہ کاش وہ پھر مر کر مٹی ہوجائے اور عذاب سے بچ جائے گا مگر وہاں یہ ناممکن ہوگا بلکہ اس کہ جہنم میں داخل کردیا جائیگا، اس کی ایک وجہ یہاں یہ ارشاد فرمائی کہ وہ دنیا میں اپنے اہل و عیال میں آخرت سے بےفکر ہو کر مگن اور خوش رہا کرتا تھا، بخلاف مؤمنین کے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں کبھی بےفکری نہیں ہوتی، ہر عیش و راحت کے وقت بھی آخرت کی فکر ضرور لگی رہتی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے ان کا حال بیان فرمایا ہے۔ انا کنا قبل فی اھلینا مشفقین یعنی ہم تو اپنے اہل و عیال کیساتھ آخرت سے بےفکر ہو کر عیش و عشرت اور خوشی و مسرت میں گزارتے تھے آج ان کے حصہ میں یہ عذاب جہنم آئے گا اور جو لوگ دنیا میں آخرت کے حسابو عذاب سے ڈرتے رہتے تھے ان کو وہاں مسرت و خوشی حاصل ہوگی اور اب وہ اپنے اہل و عیال میں دائمی مسرت کے ساتھ رہیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی راحتوں میں مست و مسرور ہوجانا مومن کا کام نہیں، اس کو کسی وقت کسی حال آخرت کے حساب سے بےفکری نہیں ہوتی۔
Ayahs 84:16–20

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

سو قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور جو چیزیں اس میں سمٹ آتی ہیں

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب پورا بھر جائے

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم کو چڑھنا ہے سیڑھی پر سیڑھی

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر کیا ہوا ہے ان کو جو یقین نہیں لاتے

فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے بعد ان تمام چیزوں کی قسم ہے جن کو رات کی تاریکی اپنے اندر جمع کرلیتی ہے۔ وسق کے اصل معنے جمع کرلینے کے ہیں، اس کے عام معنے مراد لئے جائیں تو اس میں تمام دنیا کی کائنات داخل ہیں جو رات کی تاریکی میں چھپ جاتی ہیں اس میں حیوانات، نباتات، جمادات، پہاڑ اور دریا سبھی شامل ہیں اور جمع کرلینے کی مناسبت سے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ چیزیں جو عادة دن کی روشنی میں منتشر پھیلی ہوئی رہتی ہیں۔ رات کے وقت وہ سب سمٹ کر اپنے پانے ٹھکانوں میں جمع ہوجاتی ہیں، انسان اپنے گھر میں، حیوانات اپنے اپنے گھروں اور گھونسلوں میں جمع ہوجاتے ہیں، کاروبار میں پھیلے ہوئے سامانوں کو سمیٹ کر یکجا کردیا جاتا ہے، یہ ایک عظیم انقلاب خود انسان اور اس کے متعلقات میں ہے۔ چوتھی چیز جس کی قسم کھائی گئی وہ القمر اذا اتسق ہے یہ بھی وسق سے مشتق ہے جس کے معنے جمع کرلینے کے ہیں قمر کے اتساق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی روشنی کو جمع کرے اور یہ چودھویں رات میں ہوتا ہے جبکہ چاند بالکل مکمل ہوتا ہے۔ اذا اتسق کا لفظ چاند کے مختلف اطوار اور حالات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے ایک نہایت خفیف نحیف قوس کی شکل میں رہتا ہے پھر اس کی روشنی روز کچھ ترقی کرتی ہے یہاں تک کہ بدر کامل ہوجاتا ہے۔ مسلسل اور پیہم انقلابات احوال پر شہادت دینے والی چار چیزوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا تترکبن طبقاً عن طبق جو چیزیں تہ برتہ ہوتی ہیں اس کی ایک تہ کو طبق یا طبقہ کہتے ہیں جمع طبقات آتی ہے لترکبن، رکوب بمعنے سوار ہونے سے مشتق ہے معنے یہ ہیں کہ اے بنی نوع انسان تم ہمیشہ ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ پر سوار ہوتے اور چڑھتے چلے جاؤ گے۔ یعنی انسان اپنی تخلیق کے ابتدا سے انتہا تک کسی وقت ایک حال پر نہیں رہتا بلکہ اس کے وجود پر تدریجی انقلابات آتے رہتے ہیں۔ انسانی وجود میں بیشمار انقلابات اور دائمی سفر اور اس کی آخری منزل۔ نطقہ سے منجمد خون بنا پھر اس سے ایک مضغہ گوشت بنا پھر اس میں ہڈیاں پیدا ہوئیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھا اور اعضاء کی تکمیل ہوئی پھر اس میں روح لا کر ڈالی گئی اور وہ ایک زندہ انسان بنا جس کی غذا بطن مادر کے اندر رحم کا گندہ خون تھا، نو مہینے کے بعد اللہ نے اس کے دنیا میں آنے کا راستہ آسان کردیا اور گندی غذا کی جگہ ماں کا دودھ ملنے لگا۔ دنیا کی وسیع فضا اور ہوا دیکھی بڑھنے اور پھیلنے پھولنے لگا، دو برس کے اندر چلنے پھرنے اور بولنے کی قوت بھی حرکت میں آئی، ماں کا دودھ چھوٹ کر اس سے زیادہ لذیذ اور طرح طرح کی غذائی ملیں، کھیل کود اور لہو و لعب اس کے دن رات کا مشغلہ بنا۔ کچھ ہوش اور شعور بڑھا تو تعلیم و تربیت کے شکنجے میں کسا گیا، جوان ہوا تو پچھلے سب کام متروک ہو کر جوانی کی خواہشات نے ان کی جگہ لے لی اور ایک نیا عالم شروع ہوا۔ نکاح شادی، اولاد اور خانہ داری کے مشغل دن رات کا مشغلہ بن گئے آخر یہ دور بھی ختم ہونے لگا، قویٰ میں اضمحلال اور ضعیف پیدا ہوا بیماریاں آئے دن رہنے لگیں، بڑھاپا آ گیا اور اس جہان کی آخری منزل یعنی قبر تک پہنچنے کے سامان ہونے لگے۔ یہ سب چیزیں تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔ کسی کو مجال انکار نہیں مگر حقیقت سے ناآشنا انسان سمجھتا ہے کہ یہ موت اور قبر اس کی آخری منزل ہے آگے کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ جو خالق کائنات اور علیم وخبیر ہے اس نے آگے آنیوالے مراحل کو اپنے انبیاء کے ذریعہ غافل انسان تک پہنچایا کہ قبر تیری آخری منزل نہیں بلکہ یہ صرف ایک انتظار گاہ (ویٹنگ روم) ہے اور آگے ایک بڑا جہان آنے والا ہے اور اس میں ایک بڑے امتحان کے بعد انسان کی آخری منزل مقرر ہوجائے گی جو راحت و آرام کی ہوگی یا پھر دائمی عذاب و مصیبت کی اور اس آخری منزل پر ہی انسان اپنے حقیقی مستقر پر پہنچ کر انقلابات کے چکر سننے نکلے گا قرآن کریم نے ان الی ربک الرجعی اور الی ربک المنتھی میں یہی مضمون بیان فرما کر غفلت شعار انسان کو حقیت اور اس کی آخری منزل سے آگاہ اور اس پر متنبہ کیا کہ عمر دنیا کے تمام حالات اور انقلابات آخری منزل تک جانے کا سفر اور اس کے مراحل ہیں اور انسان چلتے پھرتے سوتے جاگتے کھڑے بیٹھے ہر حال میں اس سفر کی منزلیں طے کر رہا ہے اور بالاخر اپنے رب کے پاس پہنچتا ہے اور عمر بھر کے اعمال کا حساب دے کر آخری منزل میں قرار پاتا ہے جہاں یا راحت ہی راحت اور غیر منقطع آرام ہی آرام ہے یا پھر معاذ اللہ عذاب ہی عذاب اور غیر منقطع مصائب ہیں، تو عقلمند انسان کا کام یہ ہے کہ دنیا میں اپنے آپ کو ایک مسافر سمجھے اور اپنے وطن اصلی کے لئے سامان تیار کرنے اور بھیجنے کی فکر ہی کو دنیا کا سب سے بڑا مقصد بنائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کن فی الدنیا کانک غریب آؤ عابر سبیل، یعنی دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر چند روز کے لئے کہیں ٹھہر گیا ہو کسی رہگذر میں چلتے چلتے کچھ دیر آرام کے لئے رک گیا ہو۔ طبقا عن طبق کی تفسیر جو اوپر بیان کی گئی ہے ابو نعیم نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے خود رسول اللہ ﷺ سے اسی مضمون کی روایت کی ہے یہ طویل حدیث اسجگہ قرطبی نے بحوالہ ابی نعیم اور ابن کثیر نے بحوالہ ابن ابی حاتم مفصل نقل کی ہے۔ ان آیات میں غافل انسان کو اس کی تخلیق اور عمر دنیا میں اس کو پیش آنے والے حالات و انقلابات سامنے کر کے یہ ہدایت دی کہ غافل اب بھی وقت سے کہ اپنے انجام پر غور اور آخرت کی کفر کر، مگر ان تمام روشن ہدایات کے باوجود بہت سے لوگ اپنی غفلت سے باز نہیں آتے اس لئے آخر میں ارشاد فرمایا فما لھم لایومنون یعنی ان غافل و جاہل انسانوں کو کیا ہوگیا کہ یہ سب کچھ سننے اور جاننے کے بعد بھی اللہ پر ایمان نہی لاتے
Ayahs 84:21–25

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب پڑھئے ان کے پاس قرآن وہ سجدہ نہیں کرتے اوپر سے

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

اور یہ کہ منکر جھٹلاتے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ خوب جانتا ہے جو اندر بھر رکھتے ہیں

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

سو خوشی سنا دے ان کو عذاب درد ناک کی

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کام کئے بھلے ان کے لئے ثواب ہے بےانتہا۔

واذا قری علیھم القرآن لایستجدون یعنی جب ان کے اسمنے اور واضح ہدایات سے بھرا ہوا قرآن پڑھا جاتا ہے اس وقت بھی وہ اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ سجدہ اور سجود کے معنی لغت میں جھکنے کے ہیں اور یہ اطاعت شعاری اور فرمانبرداری سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ سجدہ سے مراد سجدہ اصطلاحی نہی بلکہ اللہ کے سامنے اطاعت کیساتھ جھکنا جسکو خشوع و خضوع کہتے ہیں وہ مراد ہے اور وجہ اس کی یہ کھلی ہوئی ہے کہ اس آیت میں حکم سجدہ کسی خاص آیت کے متعلق نہیں بلکہ پورے قرآن کے متعلق ہے اگر اس سے سجدہ اصطلاحی مراد لیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ پورے قرآن کی ہر آیت پر سجدہ لازم ہو جو باجماع امت مراو نہیں ہو سکتا۔ سلف و خلف میں کوئی اس کا قائل نہیں، اب رہا یہ مسئلہ کو اس آیت کے پڑھنے اور سننے پر سجدہ واجب ہے یا نہیں تو اگرچہ کسی قدر تاویل کے ساتھ اس آیت سے بھی وجوب سجدہ پر استدلال ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض فقہائے حنفیہ نے کہا ہے کہ یہاں القرآن سے مراد پورا قرآن نہیں، بلکہ الف لام عہد کا ہی اور مراد اس سے خاص یہی آیت ہے لیکن یہ ایک قسم کی تاویل ہی ہے جو احتمال کے درجہ میں تو صحیح کہی جاسکتی ہے۔ مگر اس کا مراد قرآن ہونا ظاہری عبارت سے بعید معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم، اس لئے صحیح بات یہ ہے کہ اس کا فیصلہ روایات حدیث اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے تعامل سے ہوسکتا ہے مگر روایات حدیث سجدہ تلاوت کے متعلق مختلف قسم کی آئی ہیں، بعض سے وجوب معلوم ہوتا ہے بعض سے رخصت، اسی لئے آئمہ مجتہدین کا اس معاملہ میں اختلاف ہے امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس آیت پر بھی سجدہ واجب ہے جیسا کہ مفصل کی دوسری آیتوں پر واجب ہے۔ امام اعظم کا استدلال اس کے وجوب پر مندرجہ ذیل احادیث سے ہے۔ صحیح بخاری میں کہ کہ حضرت ابو رافع نے فرمایا کہ میں نے ایک روز عشا کی نماز حضرت ابوہریرہ کے پیچھے پڑھی، انہوں نے سورة اذا السمآء انشقت کی تلاوت نماز میں کی اور اس آیت پر سجدہ کیا، میں نے ابوہریرہ سے پوچھا کہ یہ کیسا سجدہ ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کے پیچھے نماز میں اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں ہمیشہ اس آیت پر سجدہ کرتا رہوں گا جب تک کہ محشر میں آپ سے ملاقات ہو اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اذا السماء انشقت میں اور اقرا باسم ربک میں سجدہ کیا ہے۔ قرطبی نے ابن عربی سے نقل کیا ہے کہ صحیح یہی ہے کہ یہ آیت بھی آیات سجدہ میں سے ہے اس کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہے مگر ابن عربی جن لوگوں میں مقیم تھے ان میں اس آیت پر سجدہ کرنے کا رواج نہیں تھا وہ کسی ایسے امام کے مقلد ہوں گے جن کے نزدیک سجدہ واجب نہیں تو ابن عربی کہتے ہیں کہ میں نے یہ طریقہ اختیار کرلیا کہ جب کہیں امامت کروں تو سورة انشقاق نہیں پڑھتا کیونکہ میرے نزدیک اس پر سجدہ واجب ہے اگر سجدہ نہیں کرتا تو گناہگار ہوتا ہوں اور اگر کرتا ہوں تو پوری جماعت میرے اس فعل کو برا سمجھے گی، بلاوجہ اختلاف کیوں ڈالا جائے، واللہ سبحانہ، و تعالیٰ اعلم تمت سورة الانشقاق بحمد اللہ تعالیٰ 16 شعبان 1391 ھ