Al-Burooj 85:8

Al-Burooj · from ayah 8

85:8

وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ۟ۙوَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they resented them not except because they believed in Allah, the Exalted in Might, the Praiseworthy,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:8

اور اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ ایمان والوں کو کسی اور بات کی نہیں، صرف اس بات کی سزا دے رہے تھے کہ وہ اس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو بڑے اقتدار والا، بہت قابل تعریف ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انھیں مسلمانوں کا کیا برا لگا یہی نہ کے وہ ایمان لا ئے اللہ والے سب خو بیوں سرا ہے پر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہیں ان (مومنوں) کی طرف سے اور کچھ (بھی) ناگوار نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو غالب (اور) لائقِ حمد و ثنا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا کہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے، ہر تعریف کے لائق ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو ہر چیز پر غالب اور قابل ستائش ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے ان پر محض اس وجہ سے غصہ نکالا کہ وہ ایمان لائے اس خدائے عزیز وحمید پر

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انہوں نے ان مسلمانوں میں کوئی عیب نہیں پایا سوائے اس کے کہ وہ ایمان لے آئے تھے اس اللہ پر جو کہ بڑا ہی زبردست سب خوبیوں کا مالک ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے ان (ایمان والوں) میں اور کیا عیب پایا تھا بجز اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست ہے سزاوار حمد ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ نہیں انتقام لے رہے تھے ان سے مگر اس لیے کہ وہ ایمان لے آئے تھے اللہ پر جو زبردست ہے اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب اور تعریفوں کے قابل ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Against these they had no grudge except that they believed in Allah, the Most Mighty, the Most Praiseworthy,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They punished them for nothing but that they believed in Allah, the All-Mighty, the Worthy of All Praise,

— Muhammad Taqi Usmani

They punished them for nothing but that they believed in Allah, the All-Mighty, the Worthy of All Praise,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they had no fault except that they believed in Allah, the Almighty, Worthy of all praise!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They had naught against them save that they believed in Allah, the Mighty, the Owner of Praise,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they resented them not except because they believed in Allah, the Exalted in Might, the Praiseworthy,

— Saheeh International

The only reason for which they tormented the believers was the latter's belief in God, the Majestic, and Praiseworthy.

— Muhammad Sarwar

And they did not take vengeance on them for aught except that they believed in Allah, the Mighty, the Praised,

— Muhammad Habib Shakir

And they persecuted them for naught save that they believed in Allah, the Mighty, the Praiseworthy

— Abdul Majid Daryabadi

And they ill-treated them for no other reason than that they believed in Allah, Exalted in Power, Worthy of all Praise!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 85:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْبُرُوْج 4 گڑھے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے بڑے گڑھوں میں آگ بھڑکا کر ایمان لانے والے لوگوں کو ان میں پھینکا اور اپنی آنکھوں سے ان کے جلنے کا تماشا دیکھا تھا۔ مارے گئے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر خدا کی لعنت پڑی اور وہ عذاب الہی کے مستحق ہوگئے۔ اور اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک برجوں والے آسمان کی۔ دوسرے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تیسرے قیامت کے ہولناک مناظر کی اور اس ساری مخلوق کی جو ان مناظر کو دیکھے گی۔ پہلی چیز اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو قادر مطلق ہستی کائنات کے عظیم الشان ستاروں اور سیاروں پر حکمرانی کر رہی ہے اس کی گرفت سے یہ حقیر و ذلیل انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–9

والیوم المرعودہ وشاھد ومشھود خلاصہ تفسیر میں ترمذی کی مرفوع حدیث کے حوالہ سے ان الفاظ کی تفسیر لکھدی گئی ہے کہ یوم موعود سے مراد روز قیامت اور شاہد سے مراد روز جمعہ اور مشہود سے مراد روز عرفہ ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی اول برجوں والے آسمان کی۔ پھر قیامت کے روز کی پھر جمعہ اور عرفہ کے دنوں کی۔ مناسبت ان چیزوں کی قسم کی جواب قسم کیساتھ یہ کہ یہ سب چیزیں حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ پر اور پھر قیامت کے روز حساب کتاب اور جزا سزا پر دلیل ہیں اور روز جمعہ و عرفہ مؤمنین کے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرنے کے مبارک دن ہی، آگے جواب قسم میں ان کفار پر لعنت آئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایمان والوں کی سب سے بڑی نیکی کافروں کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے: یعنی مسلمانوں پر یہ غیظ و غضب اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان سے کوئی قصور صادر ہوا ہے، بلکہ ان کی سب سے بڑی نیکی ان اشقیاء کے نزدیک ان کا سب سے بڑا جرم ہے جس کے سبب سے وہ سزاوار تعذیب قرار پائے ہیں۔ ان کو سزا اس گناہ کی دی جا رہی ہے کہ یہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لائے۔ حالانکہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لا کر ان کے ان بندوں نے وہ سب سے بڑا حق ادا کیا ہے جو ان کے خالق و مالک کی طرف سے ان پر عائد ہوتا ہے۔ ان کا یہ اقدام لائق اعتراف و اکرام اور قابل تقلید تھا نہ کہ سزاوار عناد و انتقام، لیکن جن کی مت ماری جاتی ہے وہ اپنے خیر خواہوں کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یعنی ان لوگوں کا جرم، جنہیں آگ میں جھونکا جا رہا تھا، یہ تھا کہ وہ اللہ غالب پر ایمان لائے تھے، اس واقع کی تفصیل جو صحیح احادیث سے ثابت ہے، مختصراً اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–18

3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

7 یعنی ان مسلمانوں کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کفر کی ظلمت سے نکل کر ایک زبردست اور ہر طرح کی تعریف کے لائق خدا پر ایمان لائے۔ جس کی بادشاہت سے زمین و آسمان کا کوئی گوشہ باہر نہیں۔ اور جو ہر چیز کے ذرہ ذرہ احوال سے باخبر ہے۔ جب ایسے خدا کے پرستاروں کو محض اس جرم پر کہ وہ کیوں اسی اکیلے کو پوجتے ہیں، آگ میں جلا دیا جائے تو کیا گمان ہوسکتا ہے کہ ایسا ظلم و ستم یوں ہی خالی چلا جائے گا اور وہ خداوند قہار ظالموں کو سخت ترین سزا نہ دے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جب اللہ کا غضب آیا وہی آگ پھیل پڑی۔ بادشاہ اور امیروں کے گھر سارے پھونک دیے "۔ مگر روایات صحیحہ میں اس کا ذکر نہیں۔ واللہ سبحانہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–9

آیت 7{ وَّہُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُہُوْدٌ۔ } ”اور مومنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے۔“ ان صاحب اقتدار و اختیار لوگوں نے اہل ایمان کو زندہ جلانے کے احکام جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان خندقوں کے کناروں پر انہوں نے باقاعدہ براجمان ہو کر اس دلدوز منظر کا نظارہ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ اسی طرح پچھلی صدی میں ہٹلر نے بھی بہت ”پرتکلف“ منصوبہ بندی کے ساتھ یہودیوں کے قتل عام کا اہتمام کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے بڑے بڑے گیس چیمبرز نصب کیے اور انسانی لاشوں کو سائنٹیفک انداز میں ٹھکانے لگانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 8–9

5 یمن میں حمیری خاندان کا ایک بادشاہ ذونواس بڑا متعصب یہودی تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہ بادشاہ بنا اور متعصب یہودی ہونے کی بنا پر عیسائیوں کا سخت دشمن تھا۔ اس دور تک اگرچہ عیسائی مذہب میں بہت سے مشرکانہ عقائد راہ پاگئے تھے۔ تاہم بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو بالکل صحیح عیسائی مذہب پر قائم تھے۔ اور وہ مشرکانہ عقائد کے سخت مخالف اور توحید پرست تھے جس راہب کا مندرجہ بالا حدیث میں ذکر ہے وہ اسی قسم کے صحیح العقیدہ عیسائیوں سے تعلق رکھتا تھا اور ایسے سچے مسلمانوں کو ایذائیں پہنچانے اور خندق میں ڈالنے والے بھی ذونواس اور اس کے کرتا دھرتا درباری لوگ تھے جو عیسائیت کو ہر جائز و ناجائز حربہ سے ختم کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

4۔ (اور اس لیے ظالموں کا ظلم وستم اور مظلوموں کی مظلومیت وبے کسی دونوں اس پر خوب روشن ہیں) (آیت) ” وما ..... الحمید “۔ یہ اس کی تصریح ہے کہ یہ جنگ کوئی ملکی یا سیاسی آویزش نہ تھی، خالص مذہبی واعتقادی بنیاد پر زیردستوں پر ظلم ہورہے تھے۔ (آیت) ” الذی ..... شھید “۔ یہ اس کی تصریح ہے، کہ خدائے اسلام، جاہلی مذہبوں یا مشرک فلسفیوں کے خدا کی طرح کوئی ناقص یا محدود علم یا محدود قدرت رکھے والا خدا نہیں۔ اس کی قدرت، اس کا علم، اس کے جملہ صفات کامل ولا محدود ہیں۔ ملاحظ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ قرآن مجید کے اسلوب بیان کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ بیان واقعات اور ذکر حکایات کے ضمن میں بھی مسائل کی توضیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–9

اصحاب اخدود کا واقعہ : اس سورت میں ” اصحاب اخدود “ کا واقعہ بیان ہوا ہے اور یہی واقعہ اس سورت کے نزول کا سبب ہے، گڑھوں میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں ڈال کر جلا دینے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں متعدد مرتبہ اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ صہیب رومی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا، (بعض روایتوں میں کاہن کا لفظ ہے) جب وہ ساحر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں لہٰذا مجھے ایک ذہین لڑکا دے دیا جائے تاکہ میں اس کو اپنا علم سحر سکھا دوں میرے مرنے کے بعد اس علم کے ضائع ہونے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما نقموا منھم الا ان یومئنوا باللہ . یعنی کافروں کو مؤمنوں کی طرف سے سوائے اس کے اور کوئی ناگواری نہ تھی کہ مؤمنوں کا ایمان اللہ پر تھا۔ ان یؤمنوا نقموا کا مفعول ہے اور چونکہ نقموا ماضی ہے اس لیے یؤمنوا (مضارع) بھی ماضی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مؤمنوں کی طرف سے کسی کمال ‘ شرف اور ذاتی محاسن کا کوئی ایسا مظاہرہ نہ تھا جس کو کافروں نے اپنی جہالت اور بدبختی کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا موجب قرار دیا ہو بلکہ (مؤمنوں کی بری بات بس یہ تھی کہ) وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے۔ العزیز . ایسا غالب جو اتنا بااقتدار ہے کہ اس کے عذاب کا اندیشہ کیا جاتا ہے۔ الحمید . ایسا مستحق حمد محسن کہ اس سے ثواب کی امید…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) اور ان کافروں نے مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہیں پایا تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے تھے جن لوگوں نے سچے ایماندار مردوں اور سچی ایماندار عورتوں کو جلایا اور ان کو تکلیف پہنچائی اور پھر انہوں نے اپنے کفر و شرک سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اور دوزخ میں ان کے لیے جلنے کا سخت عذاب ہے۔ یا یہ کہ دنیا میں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آگ میں جلایا اور یہ نجرانی یا موصل والے تھے ان لوگوں نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو پکڑ کر ان کو تکلیف دی اور آگ میں جلا دیا تاکہ ان کا دین اختیار کرلیں اور ان لوگوں کا بادشاہ یوسف یا ذالنواس تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

(1) وما نقموا منھم …: ان اہل ایمان نے ان ظالموں پر یا کسی دوسرے پر کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس کا وہ بدلہ لے رہے ہوں ، ان کا جرم صرف اللہ پر ایمان لا کر اس پر قائم رہنا تھا۔ آیت میں ”الا ان یومنوا“ فرمایا ہے جو حال و استقبال پر دلالت کرتا ہے۔”الا ان امنوا“ نہیں فرمایا جو ماضی کا صیغہ ہے، یعنی ان کا جرم یہی نہ تھا کہ وہ ایمان لے آئے تھے، بلکہ یہ تھا کہ وہ اب بھی ایمان پر قائم تھے۔ (2) باللہ العزیز الحمید : یعنی ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کوئی جرم یا غلط کام نہ تھا، بلکہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے تھے جو عزیز وحمید ہے اور آئندہ آیت میں مذکور صفات کا مالک ہے اور ان صفات کی وجہ سے اس کا حق ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–9

ومانقموا منھم۔۔۔ تا۔۔۔ شھید۔ ابوحیوۃ نے نقمو پڑھا ہے یعنی قاف کے نیچے کسرہ۔ جبکہ فصیح فتحہ ہے سورة البراء میں اس بارے میں گفتگو ہوچکی ہے یعنی بادشاہ اور اس کے ساتھی ان لوگوں سے جن کو انہوں نے آگ میں جلایا تھا کسی بات پر ناراض نہ ہوتے تھے مگر یہ کہ ان لوگوں نے اللہ جو غالب اور ہر حال میں محمود ہے کی تصدیق کی، اس اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان میں کوئی شریک اور مقاتل نہیں وہ اپنی مخلوقات کے اعمال سے آگاہ ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–9

23۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن نجی کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب الاخدود گھاٹی والوں کے نبی حبشی تھے۔ اصحاب الاخدود کا ذکر 24۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر حسن کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے آیت اصحب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ اصحاب الاخدود حبشہ کے رہنے والے تھے۔ 25۔ ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے قتل اصحب الاخدود خندقوں والے ہلاک ہوئے کے بارے میں روایت کیا کہ کہ اصحاب الاخدود نبطی تھے۔ 26۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت قتل اصحاب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ بنی اسرائیل میں سے تھے کہ جنہوں نے زمین میں خندقیں کھودیں، پھر ان میں آگ جلائی، پھر ان خندقوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ : اور ان لوگوں نے سزا نہیں دی ان کو ][ اِلَّآ ان : سوائے اس (بات) کے کہ ][ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ : وہ لوگ ایمان لائے اللہ پر ][ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ : جو بالا دست ہے حمد کیا ہوا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–9

﴿وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ﴾ میں یہ بتایا کہ لوگوں نے جن اہل ایمان کو تکلیف دی آگ میں ڈالا انہوں نے کوئی چوری نہیں کی ڈاکہ نہیں ڈالا، کسی کا مال نہیں لوٹا، ان سے ناراض ہونے کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، ایمان لانا کوئی جرم کی بات نہیں ہے انسان کے فرائض میں سے ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک پر ایمان لائے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کرے، بجائے اس کے کہ خندقیں کھودنے والے خود ایمان لاتے، ایمان لانے والوں پر اپنا غصہ اتارا اور انہیں آگ میں ڈالا یہاں پہنچ کر حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی ؓ کا واقعہ یاد آگیا جسے حافظ ابن حجر ؓ نے الاصابہ میں لکھا ہے اور یہ ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–9

تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

5:۔ ” وما نقموا “ ان مسلمانوں پر ان کی غیظ و غضب کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ شرک کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لا چکے تھے وہ اللہ جو سب پر غالب ہے ہر خوبی کا مالک اور حمد وثنا کا مستحق ہے۔ ” الذی لہ ملک السموت “ یہ توحید کا بیان ہے علی سبیل الترقی وہ ساری کائنات کا بادشاہ ہے، سارے جہان میں اسی کا تصرف و اختیار نافذ ہے وہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہے اس لیے حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو اور اس کے سوا کسی اور کو مت پکارو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللہِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۝ 8 ۙ نقم نَقِمْتُ الشَّيْءَ ونَقَمْتُهُ : إذا أَنْكَرْتُهُ ، إِمَّا باللِّسانِ ، وإِمَّا بالعُقُوبةِ. قال تعالی: وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] ، وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ، هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] . والنِّقْمَةُ : العقوبةُ. قال : فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] ، فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] ، فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–9

ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّآ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِالْحَمِیْدِ ۔ (البروج : 8) (اور ان اہل ایمان سے ان لوگوں کی دشمنی صرف اس وجہ سے تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ ) کفار کے نزدیک ایمان باللہ سب سے بڑا جرم ہے یعنی جن ظالموں نے اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا اور ان پر وحشیانہ ظلم کیا ان سے ان کی کوئی دشمنی نہ تھی، انھوں نے کوئی ایسا جرم نہ کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں ایسی سخت سزا دی جاتی۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ خدائے عزیزوحمید پر ایمان لے آئے تھے۔ خونے نہ کردہ ایم و کسے را نہ کشتہ ایم جرمم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–9

فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انتقام کا سبب ایمان باللہ : 8 : وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّآاَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ (اور ان کافروں نے ان مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہ پایا تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے) ان کی ناپسندیدہ بات اور بڑا عیب مسلمانوں کے متعلق ایمان باللہ تھا۔ جیسا کہ شاعر کے اس قول میں ہے۔ لا عیب فیھم غیران سیوفھم وما نقموا من بنی امیہ اِلَّا انہم یحلمون ان غضبوا ان کی ناراضگی بنو امیہ سے صرف اسی بناء پر ہے کہ وہ غصہ کے وقت حلم سے کام لیتے ہیں۔ قراءت : نقِموا کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا۔ زیادہ فصیح فتحہ ہے۔ باللہ العزیز الحمید۔ ان صفات باری تعالیٰ کا ذکر کیا گیا۔ جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” وما نقموا منھم الا ان یومنوا باللہ “ یعنی کافروں کو مومنوں کی طرف سے سوائے اس کے اور کوئی ناگواری نہ تھی کہ مومنوں کا ایمان اللہ پر تھا۔ ” ان یومنوا نقموا “ کا مفعول ہے اور چونکہ ” نقموا “ ماضی ہے اس لئے ” یومنوا “ (مضارع) بھی ماضی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مومنوں کی طرف سے کسی کمال، شرف اور ذاتی محاسن کا کوئی ایسامظاہرہ نہ تھا جس کو کافرون نے اپنی جہالت اور بدبختی کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا موجب قرار دیا ہو بلکہ (مومنوں کی بری بات بس یہ تھی کہ) وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے۔ ” العزیز “ ایسا غالب جو اتنا با اقتدار ہے کہ اس کے عذاب کا اندیشہ کیا جاتا ہے۔ ” الحمید “ ایسا مستحق حمد محسن کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–8

یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بےپایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد (قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ) ، ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے والے۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے ( الْاُخْدُوْدِ ) سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا اہل ایمان نے اس سے انکار کردیا کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(6) جرم بےگناہی کی سزا کا ذکرو بیان : سو اس سے ان مظلوموں کے جرم بےگناہی کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ ان کا کوئی جرم نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ ایمان لائے تھے، اس اللہ پر جو کہ بڑا ہی زبردست، سب خوبیوں کا مالک ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ان ظالموں کے نزدیک اپنے رب پر ایمان لانا ہی جرم بن گیا تھا، جس پر وہ ان ایمان والوں کو یہ سزا دے رہے تھے، حالانکہ اس پر ایمان لانا سب سے بڑی سعادت، عقل و فطرت کا عین تقاضا، اور سب خوبیوں اور کمالات کی اصل و اساس ہے۔ اور یہی انسان پر عائد ہونے والے فرائض میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا فریضہ ہے کہ وہ اپنے اس عزیز وحمید خالق ومالک پر صدق دل سے ایمان لائے اور ان کا بندہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–9

ف 1 ” اصحاب الاخدود “ (کھائیاں کھودنے والوں) کا قصہ کتب صحاح وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن رہتا تھا جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے عرض کی کہ کوئی زیرک قسم کا لڑکا مجھے دو تاکہ میں اسے اپنا علم سکھلا دوں بادشاہ نے ایک لڑکا اس کے حوالے کردیا۔ وہ لڑکا ہر روز کاہن کی خدمت میں جا کر جادو کا علم حاصل کرنے لگا۔ اس کے راستہ میں ایک راہبر رہتا تھا جو مسلمان تھا ہوتے ہوتے وہ لڑکا خفیہ طور پر اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ ایک روز اس نے دیکھا کہ ایک بڑے جانور (شیر یا سانپ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے جسے راستہ سے ہاٹنے سے وہ عاجز ہیں اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:8) وما نقموا منھم : واؤ عاطفہ، ما نافیہ نقموا منھم : نقموا ماضی جمع مذکر غائب ۔ نقم باب ضرب مصدر۔ نقم ۔۔ منہ وعلیہ : کسی کو کسی چیز کا مجرم گرداننا۔ ملامت کرنا ۔ باب افتعال سے بمعنی انتقام لینا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور انہوں نے ان کو (یعنی مومنین کو) کسی عیب کا مجرم نہ پایا۔ الا (حرف استثنائ) سوائے اس کے کہ۔ ان یؤمنوا ماضی ہے اس لئے یؤمنوا مضارع (منصوب بوجہ عمل ان ) جمع مذکر غائب۔ اور ب تاویل مصدر مفعول ہے فعل نقموا کا۔ کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے۔ (چونکہ نقموا ماضی ہے اس لئے یؤمنوا (مضارع) بھی ماضی کے معنی میں ہے باللہ جار مجرور۔ اللہ پر۔ مطلب یہ ہے کہ ان مؤمنین کا جن کو آگ کی کھائیوں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

خدا پر ایمان لانے پر ظالم بادشاہ کی سرکشی اور انجام۔ (ف 3) اس سورت میں ایک بادشاہ کا قصہ لوگوں کو آگ میں جلانے کا بیان فرمایا ہے۔ اس قصہ کی روایت صحیح مسلم ترمذی اور نسائی وغیرہ میں ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر رہتا تھا جب جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا بھیج دو جسے میں اپناجادو سکھاسکوں، کہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ جادوگر کے پاس جاکرجادو سیکھتا تھا، راستہ میں ایک راہب رہتا تھا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کا کلام اس کے دل نشین ہوتا گیا اور خفیہ طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–10

قاتل کی توبہ 1: ایک طرف اصحاب اخدود کے مظالم ہیں کہ بارہ ہزار عیسائیوں کو محض اس پاداش میں نذر آتش کردیا کہ انہوں نے ایک خدا کو کیوں تسلیم کیا اور دوسری جانب اللہ کا عفو وکرم دیکھئے کہ وہ ان لوگوں کو توبہ مغفرت کی دعوت دیتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچانا بہت بڑا گناہ ہے اور جب تک ظالم توبہ نہیں کرتا ، اللہ کی بخشش کا حق دار نہیں ہے ، بلکہ جہنمی ہے ۔ اور عذاب احتراق کا مستحق ہے ۔ اس آیت سے بعض مفسرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ قاتل بھی اگر خلوص کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ عنداللہ مقبول ہوسکتی ہے ۔ کیونکہجب ان لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے ، جنہوں نے ہزاروں عیسائیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور یہ خندقوں والے ان مسلمانوں سے بدلا نہ لیتے تھے مگر اس بات کا کہ وہ یقین لائے اللہ تعالیٰ پر جو بڑا زبردست اور جملہ صفات سے متصف ہے۔ نقم کے اصل معنی عیب لگانے کے ہیں اور زبردست آدمی جب کوئی عیب لگاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس عیب کی پاداش میں سزا دیتا اور بدلا لیا کرتا ہے اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں فرق کردیا بہرحال ان ظالموں نے مسلمانوں میں سوائے اس کے کوئی عیب نہیں پایا کہ وہ اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے جو کمال قوت کا مالک اور تمام خوبیوں سے متصف ہے یہ بدلا لینا محض ظلم اور زبردستی اور دھینگا دھانگی ہے۔ چناچہ اس کی پاداش دنیا میں بھی پائی اور آختر میں بھی پائیں گے۔ اس قصے کا ذکر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–22

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ان سے بدلہ لے رہے تھے کہ وہ ایک اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے 8 ؎ فرمایا خندقیں کھودنے والوں نے مسلمانوں سے کس بات کا انتقام لیا ؟ اس بات کا کہ وہ ایک اللہ پر جو سب پر غالب اور صحیح معنوں میں تعریف کیا گیا ہے اس پر سچے دل سے کیوں ایمان لائے اور قوم کے وڈیروں کی خدائی کا کیوں انکار کیا ؟ زیر نظر آیت میں ان پاکبازوں کا جرم بتایا جا رہا ہے کہ وہ کیا جرم تھا جس کی ان کو اس طرح سزا دی گئی ؟ فرمایا ان کا جرم یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آئے تھے۔ اس کے احکام کی تعمیل کرتے تھے ، بےجان مجسموں یا اپنے فرعون صفت حکمرانوں کو خدا ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، وہ ایک اللہ کو اپنا خالق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–9

وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (and by the Promised Day, and by that which attends, and that which is attended...85:2-3) With reference to a prophetic Hadith reported by Tirmidhi, the phrase 'the Promised Day' refers to the Day of Judgment; the phrase 'that which attends' refers to 'Friday'; and the phrase 'that which is attended' refers to the day of ` Arafah. Thus in this verse, Allah has taken oath by four objects: [ 1] 'the sky, the one having stellar formations'; [ 2] 'the Day of Judgment'; [ 3] 'Friday'; and [ 4] 'the Day of ` Arafah'. The relationship between the objects of oath and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

4 "The people of the ditch": those who had burnt the believers at stake and witnessed their burning themselves. "Doomed were...": cursed were they by God and they became worthy of Hell torment. On this an oath has been sworn by Three things: (1) By the heaven having constellations,(2) by the Day of Resurrection, which has been promised, and (3) by the dreadful scenes of the Day of Resurrection and all those creatures who will witness those scenes. the first of these testifies to the truth that the Sovereign, Absolute Being Who is ruling over the glorious stars and planets of the universe,…

Read the full tafseer →