Al-Burooj 85:7

Al-Burooj · from ayah 7

85:7

وَّهُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌ ۟ؕوَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ

اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they, to what they were doing against the believers, were witnesses.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:7

اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ ایمان والوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے، اس کا نظارہ کرتے جاتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وه خد گواه ہیں جو کہ مسلما نوں کے ساتھ کر رہے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ خود گواہ ہیں جو کچھ وہ اہلِ ایمان کے ساتھ کر رہے تھے (یعنی انہیں آگ میں پھینک پھینک کر جلا رہے تھے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اس پر جو وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے، گواہ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو کچھ وہ ایمان والوں سے کر رہے تھے، اسے سامنے دیکھ رہے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو کچھ وہ اہل ایمان سے کرتے رہے اس کو دیکھیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ ان ایمانداروں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے اس کرتوت کو دیکھ رہے تھے جو وہ ایمان والوں کے ساتھ کررہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مومنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو سختیاں اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

and were witnessing what they did to the believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and were watching what they were doing with the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

and were watching what they were doing with the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they witnessed what they were doing against the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And were themselves the witnesses of what they did to the believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they, to what they were doing against the believers, were witnesses.

— Saheeh International

witnessing what they were doing.

— Muhammad Sarwar

And they were witnesses of what they did with the believers.

— Muhammad Habib Shakir

And to that which they did to the believers were witnesses.

— Abdul Majid Daryabadi

And they witnessed (all) that they were doing against the Believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 85:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْبُرُوْج 4 گڑھے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے بڑے گڑھوں میں آگ بھڑکا کر ایمان لانے والے لوگوں کو ان میں پھینکا اور اپنی آنکھوں سے ان کے جلنے کا تماشا دیکھا تھا۔ مارے گئے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر خدا کی لعنت پڑی اور وہ عذاب الہی کے مستحق ہوگئے۔ اور اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک برجوں والے آسمان کی۔ دوسرے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تیسرے قیامت کے ہولناک مناظر کی اور اس ساری مخلوق کی جو ان مناظر کو دیکھے گی۔ پہلی چیز اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو قادر مطلق ہستی کائنات کے عظیم الشان ستاروں اور سیاروں پر حکمرانی کر رہی ہے اس کی گرفت سے یہ حقیر و ذلیل انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–9

والیوم المرعودہ وشاھد ومشھود خلاصہ تفسیر میں ترمذی کی مرفوع حدیث کے حوالہ سے ان الفاظ کی تفسیر لکھدی گئی ہے کہ یوم موعود سے مراد روز قیامت اور شاہد سے مراد روز جمعہ اور مشہود سے مراد روز عرفہ ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی اول برجوں والے آسمان کی۔ پھر قیامت کے روز کی پھر جمعہ اور عرفہ کے دنوں کی۔ مناسبت ان چیزوں کی قسم کی جواب قسم کیساتھ یہ کہ یہ سب چیزیں حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ پر اور پھر قیامت کے روز حساب کتاب اور جزا سزا پر دلیل ہیں اور روز جمعہ و عرفہ مؤمنین کے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرنے کے مبارک دن ہی، آگے جواب قسم میں ان کفار پر لعنت آئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

اشقیاء کے انجام کی تصویر: یہ تصویر ہے ان اشقیاء کے انجام کی۔ فرمایا کہ یہ اس وقت کو یاد رکھیں جب وہ اس خندق کے کنارے بیٹھیں گے اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے ان کو اس آگ بھری خندق کے کنارے پر بٹھایا جائے گا تاکہ وہ اپنا ٹھکانا دیکھ لیں اور پھر وہ اپنی ایک ایک ظالمانہ حرکت کا مزہ چکھیں گے۔ گویا لفظ ’شُہُوْدٌ‘ یہاں نتیجۂ فعل کے مفہوم میں ہے، جس کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مجرم کو اس کا اصل ٹھکانا اگر پہلے سے دکھا دیا جائے اور پھر اس کو اس کا مزہ چکھایا جائے تو اس کا عذاب دونا ہو جاتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 کافر بادشاہ یا اسکے کارندے، آگ کے کنارے بیٹھے اہل ایمان کے جلنے کا تماشہ دیکھ رہے تھے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–18

3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

6 یعنی بادشاہ اور اس کے وزیرو مشیر خندقوں کے آس پاس بیٹھے ہوئے نہایت سنگدلی سے مسلمانوں کے جلنے کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ بدبختوں کو ذرا رحم نہ آتا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–9

آیت 7{ وَّہُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُہُوْدٌ۔ } ”اور مومنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے۔“ ان صاحب اقتدار و اختیار لوگوں نے اہل ایمان کو زندہ جلانے کے احکام جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان خندقوں کے کناروں پر انہوں نے باقاعدہ براجمان ہو کر اس دلدوز منظر کا نظارہ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ اسی طرح پچھلی صدی میں ہٹلر نے بھی بہت ”پرتکلف“ منصوبہ بندی کے ساتھ یہودیوں کے قتل عام کا اہتمام کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے بڑے بڑے گیس چیمبرز نصب کیے اور انسانی لاشوں کو سائنٹیفک انداز میں ٹھکانے لگانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 اصحاب الاخدود کا قصہ اور ذونواس یہودی بادشاہ :۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :۔ صہیب ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ : ایک بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو اسے غیب کی خبریں دیا کرتا تھا۔ کاہن نے بادشاہ سے کہا کہ ایک ذہین و فطین لڑکا تجویز کرو جسے میں یہ علم سکھا دوں، مجھے خطرہ ہے کہ مرجاؤں تو یہ علم ہی نہ اٹھ جائے اور تم میں اس کا کوئی استاد نہ رہے۔ چناچہ لوگوں نے ایسا لڑکا تجویز کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ ہر روز اس کے پاس حاضر ہوا کرے۔ چناچہ وہ لڑکا اس کاہن کے ہاں آنے جانے لگا۔ اس لڑکے کے راستہ میں ایک گرجا میں ایک راہب رہتا تھا۔ معمر راوی کہتا ہے کہ میرے خیال میں ان دنوں ایسے عبادت خانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–7

3۔ آیت میں ایک خاص واقعہ کی تلمیح ہے۔ 523 ؁ء میں یمن کا بادشاہ ایک ظالم یہودی ذونواس نامی حمیری خاندان کا تھا۔ مذہب حق اس وقت نصرانیت تھا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صحیح تعلیمات کے مطابق، نصرانیوں پر اس نے شدید ظلم توڑنے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آگ کی ایک بڑی بھٹی بنا کر اس میں انہیں جھونکا، اور ہزار ہا کی تعداد میں انہیں بھون ڈالا، روم کے تخت پر اس وقت شہنشاہ جسٹینن فرمانروائی کررہا تھا، اس کی تحریک اور ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ (نجاشی) نے یمن پر حملہ کرکے بالآکر اس پر اپنا قبضہ کرلیا، تاریخی حیثیت سے یہ خود تو اس کی تعدی خاص اہمیت رکھتی ہے، اور قرآن کی اس تلمیح میں خود اس کی اہمیت کی تصدیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–9

اصحاب اخدود کا واقعہ : اس سورت میں ” اصحاب اخدود “ کا واقعہ بیان ہوا ہے اور یہی واقعہ اس سورت کے نزول کا سبب ہے، گڑھوں میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں ڈال کر جلا دینے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں متعدد مرتبہ اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ صہیب رومی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا، (بعض روایتوں میں کاہن کا لفظ ہے) جب وہ ساحر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں لہٰذا مجھے ایک ذہین لڑکا دے دیا جائے تاکہ میں اس کو اپنا علم سحر سکھا دوں میرے مرنے کے بعد اس علم کے ضائع ہونے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وھم علی ما یفعلون بالمومنین شھود . اور وہ مسلمانوں کے عذاب کو دیکھ رہے تھے ‘ یعنی ان کی غفلت کی حالت میں مؤمنوں پر یہ عذاب نہیں ہو رہا تھا یا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ کے پاس جا کر شہادت دے رہے تھے کہ فلاں فلاں شخص کے متعلق جو ڈیوٹی کی گئی تھی ‘ اس میں کوتاہی اس نے نہیں کی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن جبکہ ان کی زبانیں اور ہاتھ ‘ پاؤں شہادت دیں گے وہ خود مؤمنوں کو عذاب دینے کے شاہد ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–7

(4۔ 7) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ کافر کے لیے آپ کے رب کا عذاب بڑا سخت ہے، خندق والے یعنی بہت سے ایندھن کی آگ والے ملعون ہوئے، یا یہ کہ اس سے مسلمان مراد ہیں جن کی آگ کی خندقوں میں ڈال کر بادشاہ نے جلوا دیا تھا جس وقت کفار جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جلوایا تھا بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–7

اذھم علیھا قعود…: یعنی کنارے پر بیٹھ کر ان کے جنلے کا تماشا دیکھ رہے تھے، انہیں جلتے ہوئے دیکھ بھی ان کے دلوں میں کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی۔ اس طرح کے واقعات کا فر قوتوں کے زیر سایہ آج بھی وہ رہے ہیں، مثلاً انڈیا، برما اور افریقہ وغیرہ میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں، ان کا انجام بھی اصحاب الاخدود کی طرح ہوگا۔ (ان شاء اللہ) مگر ان مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سے بچانا دنیا کے تمام مسلمانوں پر فرض ہے، جس کی ادائیگی میں کوتاہی اور جہاد ترک کرنے ہی کی وجہ سے کفار کو یہ جرأت ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(وما لکم لاتقاتلون فی سبیل اللہ والمستصعفین من الرجال و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وھم علی مایفعلون بالمومنین شھود۔ شھود سے مراد حضور ہے یعنی کفار حاضر تھے، وہ مومنوں پر کفر کو پیش کرتے تھے جو ارتداد سے انکار کرتا اسے آگ میں پھینک دیتے تھے یہ ان کے دل کی سختی تھی اور اس میں انتہائی تگ ودو کرنے کی صفت بیان کی جارہی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، علی، مع کے معنی میں ہے یعنی مومنوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا تھا اس پر گواہ تھے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–9

23۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن نجی کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب الاخدود گھاٹی والوں کے نبی حبشی تھے۔ اصحاب الاخدود کا ذکر 24۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر حسن کے طریق سے علی بن ابی طالب ؓ سے آیت اصحب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ اصحاب الاخدود حبشہ کے رہنے والے تھے۔ 25۔ ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے قتل اصحب الاخدود خندقوں والے ہلاک ہوئے کے بارے میں روایت کیا کہ کہ اصحاب الاخدود نبطی تھے۔ 26۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت قتل اصحاب الاخدود کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ بنی اسرائیل میں سے تھے کہ جنہوں نے زمین میں خندقیں کھودیں، پھر ان میں آگ جلائی، پھر ان خندقوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّهُمْ : اس حال میں کہ وہ ][ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ : اس پر جو وہ لوگ کرتے تھے ][ بِالْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے ساتھ ][ شُهُوْدٌ: حاضر رہنے والے ہوتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

ان آیات میں اللہ جل شانہ نے آسمان کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت ذات البروج بتائی ہے (ان بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد ہیں) نیز ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ002﴾ کی اور شاہد اور مشہود کی بھی قسمیں کھائی ہیں، سنن ترمذی (ابواب التفسیر من سورة البروج) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ﴾ سے یوم القیامة اور الیوم المشھود سے یوم عرفہ اور الشاھد سے یوم الجمعہ مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس پر سورج نکلتا چھپتا ہو جو یوم جمعہ سے افضل ہو، اس دن میں ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی کوئی مومن بندہ اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–9

تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–7

4:۔ ” قتل “ یہ تیسرے شاہد سے متعلق ہے۔ قتل ای لعن۔ ” الاخدود “ خندق۔ ” النار “ اس سے بدل الاشتمال ہے۔ ” الوقود “ ایندھن۔ اصحاب الاخدود سے وہ مشرک بادشاہ اور اس کے حواری مراد ہیں۔ جو اہل توحید کو خندقوں میں جلاتے تھے کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا جو ایک صنم کی عبادت کرتا اور لوگوں کو بھی اس کی عبادت پر مجبور کرتا تھا۔ اس نے بڑی بڑی خندقیں کھود کر ان میں کافی ایندھن ڈلوا کر آگ بھڑکائی جو شخص بت کی پوجا سے انکار کرتا اسے اس آگ میں ڈال دیا جاتا۔ اسی اثناء میں ایک عوت کو پکڑ کر لائے جس کی گود میں بچہ تھا اس عورت سے انہوں نے کہا اگر تو بت کی عبادت نہیں کرتے گی تو تیرا بچہ آگ میں ڈال دیا جائیگا مگر اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّہُمْ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُہُوْدٌ۝ 7 ۭ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، (ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ شاهِدٌ وقد يعبّر بالشهادة عن الحکم نحو : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–9

ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–7

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ۔ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ ۔ اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ۔ وَّھُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدٌ۔ (البروج : 4 تا 7) (مارے گئے ایندھن بھری آگ کی گھاٹی والے۔ جبکہ وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ اہل ایمان کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔ ) قریش کو تنبیہ اور اصحاب الاخدود کی وضاحت پیشِ نظر آیات کریمہ میں بعض تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قریش کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جنھوں نے ایمان والوں پر بےپناہ مظالم کیے حتیٰ کہ ان کو آگ میں جلایا۔ لیکن آخر ان کا انجام ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–9

فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : وَّھُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدٌ (اور وہ جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے) ھمؔ سے کفار مراد ہیں۔ ما یفعلون سے جلانے والا فعل۔ شہودؔ وہ ایک دوسرے پر بادشاہ کے ہاں گواہی دے رہے تھے کہ جو اس کو حکم ملا ہے۔ اس نے اس کے نفاذ میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اور جن کو سزا دینا اس کے ذمہ کیا گیا تھا اس نے اس میں کمی نہیں کی۔ نصیحت : اس میں ایمان والوں کو صبر کی تلقین اور اہل مکہ کی طرف سے آنے والی تکالیف برداشت کرنے کیلئے آمادہ کیا جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” وھم علی مایفعلون بالمومنین شھود “ اورہ مسلمانوں کے عذاب کو دیکھ رہے تھے یعنی ان کی غفلت کی حالت میں مومنوں پر یہ عذاب نہیں ہورہا تھا یا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ کے پاس جاکر شہادت دے رہے تھے کہ فلاں فلاں شخص کے متعلق جو ڈیوٹی کی گئی تھی اس میں کوتاہی اس نے نہیں کی، یا بہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن جبکہ ان کی زبانیں اور ہاتھ، پائوں شہادت دیں گے وہ خود مومنوں کو عذاب دینے کے شاہد ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–8

یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بےپایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد (قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ) ، ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے والے۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے ( الْاُخْدُوْدِ ) سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا اہل ایمان نے اس سے انکار کردیا کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(5) ظلم و بربریت کی ایک تصویر اور اس کا نتیجہ و انجام، والعیاذ باللہ : سو اس سے ان ظالموں کے ظم و بربریت کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے جنہوں نے اہل ایمان کی تعزیب کے لیے ایسی خندقیں کھودی تھیں، اور انہوں نے ان میں آگ جلا کر اور اس کو دہکا بھڑکا کر اہل حق کو ان میں جھونکنے اور جلانے کا سامان کیا تھا۔ لفظ " اخدود " اگرچہ مفرد ہے اس لیے اس کا معنی کیا جاتا ہے " الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق "۔ ( فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور اس کی جمع " اخادید " آتی ہے، لیکن ان لوگوں نے چونکہ ایک ہی خندق نہیں کھدوائی تھی بلکہ جگہ جگہ اور مختلف خندقیں کھوائی تھیں۔ چناچہ حضرات مفسرین کہتے ہیں " ای شقوا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–9

ف 1 ” اصحاب الاخدود “ (کھائیاں کھودنے والوں) کا قصہ کتب صحاح وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن رہتا تھا جب وہ کاہن بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے عرض کی کہ کوئی زیرک قسم کا لڑکا مجھے دو تاکہ میں اسے اپنا علم سکھلا دوں بادشاہ نے ایک لڑکا اس کے حوالے کردیا۔ وہ لڑکا ہر روز کاہن کی خدمت میں جا کر جادو کا علم حاصل کرنے لگا۔ اس کے راستہ میں ایک راہبر رہتا تھا جو مسلمان تھا ہوتے ہوتے وہ لڑکا خفیہ طور پر اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ ایک روز اس نے دیکھا کہ ایک بڑے جانور (شیر یا سانپ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے جسے راستہ سے ہاٹنے سے وہ عاجز ہیں اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:7) وہم علی ما یفعلون بالمؤمنین شھود : جملہ حالیہ ہے ترجمہ ہوگا :۔ درآنحالیکہ جو وہ مومنوں کے ساتھ کر رہے تھے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ما موصولہ یفعلون اس کا صلہ۔ بالمؤمنین شھود متعلق یفعلون ۔ شھود اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے۔ موجودین ، حاضرین۔ شاھد کی جمع، جیسے ساجد کی جمع سجود۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

خدا پر ایمان لانے پر ظالم بادشاہ کی سرکشی اور انجام۔ (ف 3) اس سورت میں ایک بادشاہ کا قصہ لوگوں کو آگ میں جلانے کا بیان فرمایا ہے۔ اس قصہ کی روایت صحیح مسلم ترمذی اور نسائی وغیرہ میں ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر رہتا تھا جب جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا بھیج دو جسے میں اپناجادو سکھاسکوں، کہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ جادوگر کے پاس جاکرجادو سیکھتا تھا، راستہ میں ایک راہب رہتا تھا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کا کلام اس کے دل نشین ہوتا گیا اور خفیہ طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–10

قاتل کی توبہ 1: ایک طرف اصحاب اخدود کے مظالم ہیں کہ بارہ ہزار عیسائیوں کو محض اس پاداش میں نذر آتش کردیا کہ انہوں نے ایک خدا کو کیوں تسلیم کیا اور دوسری جانب اللہ کا عفو وکرم دیکھئے کہ وہ ان لوگوں کو توبہ مغفرت کی دعوت دیتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچانا بہت بڑا گناہ ہے اور جب تک ظالم توبہ نہیں کرتا ، اللہ کی بخشش کا حق دار نہیں ہے ، بلکہ جہنمی ہے ۔ اور عذاب احتراق کا مستحق ہے ۔ اس آیت سے بعض مفسرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ قاتل بھی اگر خلوص کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ عنداللہ مقبول ہوسکتی ہے ۔ کیونکہجب ان لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے ، جنہوں نے ہزاروں عیسائیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور جو کچھ وہ مسلمانوں کے ساتھ کررہے تھے اس کو خود اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بادشاہ کالے پالک بیٹا تھا بادشاہ اس کو ساحر پاس بھیجا کرتا تھا کہ وہ سحر سیکھے وہ بیٹھا کرتا ایک راہب پاس انجیل سیکھنے کو اللہ تعالیٰ اس کو کمال دیا کہ شیر اور سانپ اس کا کہنا مانتے اور کوڑی اور اندھے اس کے چھوئے سے چنگے ہوتے پھر اس کے سبب بہت خلقت اللہ پر اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ بادشاہ بت پرست تھا یہ بات سن کر اس نے لے پالک کو مار ڈالا اور شہر میں ہر محلے کے آگے کھائی کھدوائی اور آگ سے بھروادی، محلے میں مرد عورتیں پکڑوا منگاتا جو بت سجدہ نہ کرتا اس کو آگ میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–7

ف 6۔ حدیث ترمذی میں مرفوعا ہے کہ یوم معود قیامت کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن، لیکن علی قول المشہور وہ یوم عرفہ ہے جس میں حجاج اپنے اپنے مقامات سے سفر کر کے عرفات میں اس یوم کے قصد سے جمع ہوتے ہیں، تو گویا وہ دن مقصود اور دوسرے لوگ حاضری کا قصد کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے ان کے دل سمجھتے تھے 7 ؎ دنیا میں بڑے بڑے ظالم آئے ، آپ نے کتنے ظالموں کی داستانیں پڑھی ہوں گی لیکن کسی ظالم نے کبھی اپنے ظلم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں ظلم کررہا ہوں ؟ یہی کہا کہ میں نے ظلم کبھی نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ظلم کرنے والوں نے مظلوموں کو ظالم قرار دیا اگر قبول وہ کرتے ہیں تو یہ کہ ہم تو صرف ظالموں کو ان کے ظلم کا بدلہ چکا رہے ہیں ۔ فرعون بنی اسرائیل کے بچے مروانے کا کتنی بار پروگرام بنایا ، کیا اس نے کبھی تسلیم کیا کہ میں بنی اسرائیل پر یہ ظلم کر رہا ہوں ؟ ہرگز نہیں بلکہ اس نے ہمیشہ کہا تو صرف یہ کہا میں بنی اسرائیل کی اصلاح کی کوشش کر رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–9

وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (and by the Promised Day, and by that which attends, and that which is attended...85:2-3) With reference to a prophetic Hadith reported by Tirmidhi, the phrase 'the Promised Day' refers to the Day of Judgment; the phrase 'that which attends' refers to 'Friday'; and the phrase 'that which is attended' refers to the day of ` Arafah. Thus in this verse, Allah has taken oath by four objects: [ 1] 'the sky, the one having stellar formations'; [ 2] 'the Day of Judgment'; [ 3] 'Friday'; and [ 4] 'the Day of ` Arafah'. The relationship between the objects of oath and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

4 "The people of the ditch": those who had burnt the believers at stake and witnessed their burning themselves. "Doomed were...": cursed were they by God and they became worthy of Hell torment. On this an oath has been sworn by Three things: (1) By the heaven having constellations,(2) by the Day of Resurrection, which has been promised, and (3) by the dreadful scenes of the Day of Resurrection and all those creatures who will witness those scenes. the first of these testifies to the truth that the Sovereign, Absolute Being Who is ruling over the glorious stars and planets of the universe,…

Read the full tafseer →