Al-Burooj 85:16

Al-Burooj · from ayah 16

85:16

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۟ؕفَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ

جو چاہتا ہے کر دیتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Effecter of what He intends.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:16

اور جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو چاہتا ہے کر دیتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو چاہے اسے کر گزرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کچھ ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہمیشہ جو چاہے کہ لینے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ جو بھی ارادہ فرماتا ہے (اسے) خوب کر دینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ چاہے اسے کر ڈالنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو چاہے کر ڈالنے والا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جو ارادہ کرلے کر گزرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

the Executor of what He wills.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is ever doer of what He intends.

— Muhammad Taqi Usmani

He is ever doer of what He intends.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Doer of what He intends.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Effecter of what He intends.

— Saheeh International

and the Most Effective in His decision.

— Muhammad Sarwar

The great doer of what He will.

— Muhammad Habib Shakir

Doer of whatsoever He intendeth.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 85:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–22

عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة الْبُرُوْج 7 " بخشنے والا ہے " کہہ کر یہ امید دلائی گئی ہے کہ کوئی اگر اپنے گناہوں سے باز آ کر توبہ کرلے تو اس کے دامن رحمت میں جگہ پاسکتا ہے۔ " محبت کرنے والا " کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ اس کو اپنی خلق سے عداوت نہیں ہے کہ خواہ مخواہ اس کو مبتلائے عذاب کرے، بلکہ جس مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے اس سے وہ محبت رکھتا ہے اور سزا صرف اس وقت دیتا ہے جب وہ سرکشی سے باز ہی نہ آئے۔ " مالک عرش " کہہ کر انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ سلطنت کائنات کا فرمانروا وہی ہے، اس سے سرکشی کرنے والا اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ " بزرگ و برتر " کہہ کر انسان کو اس کمینہ پن پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

’وَہُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ۵ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۵ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ‘۔ یعنی بخشنے والا اور محبت کرنے والا تنہا وہی ہے، جس کو لَو لگانی ہو تنہا اسی سے لگائے۔ کوئی اور نہیں ہے جو کسی کے کچھ کام آ سکے۔ عرش کا مالک اور عظمت والا وہی ہے۔ کوئی اس کے اقتدار اور اس کی عظمت میں شریک نہیں ہے۔ وہ جو چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ نہ وہ کسی کا محتاج ہے نہ کوئی اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابوبکر سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں، پوچھا اس نے کیا کہا، انی فعال لما ارید، میں جو چاہوں کروں، میرے معاملے میں کوئی دخل دینے والا نہیں۔ (ابن کثیر) مطلب یہ تھا کہ معاملہ اب طبیبوں کے ہاتھ میں نہیں رہا میرا آخری وقت آگیا ہے اور اللہ ہی اب میرا طبیب ہے جس کی مشییت کو ٹالنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–18

3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ اللہ کی وہ صفت ہے جو ہر وقت سامنے آتی رہتی ہے۔ مسلسل روبعمل رہتی ہے۔ اللہ جو کچھ چاہے ، کر ڈالنے والا ہے۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، جو چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے ، جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ، اور یہ صفت دائمی اور ابدی ہے ، یہ اللہ کی صفت ہے۔ بعض اوقات اللہ چاہتا ہے کہ اس دنیا ہی میں اہل ایمان کو فتح نصیب ہو اور اس میں کوئی حکمت ہوتی ہے ، بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایمان کو عذاب پر ترجیح ملتی ہے۔ فانی جسم تو چلے جاتے ہیں ، لیکن ایمان باقی رہتا ہے اور اس میں بھی حکمت ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ جباروں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس میں حکمت ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسے ہی دوسرے جباروں کو مہلت دیتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

5 یعنی اپنے علم و حکمت کے موافق جو کرنا چاہے کچھ دیر نہیں لگتی نہ کوئی روکنے ٹوکنے کا حق رکھتا ہے۔ بہرحال نہ اس کے انعام پر بندہ کو مغرور ہونا چاہیے نہ انتقام سے بےخوف بلکہ ہمیشہ اس کی صفات جلال و جمال دونوں پر نظر رکھے۔ اور خوف کے ساتھ رجاء اور رجاء کے ساتھ خوف کو دل سے زائل نہ ہونے دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–21

آیت 16{ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ } ”وہ جو ارادہ کرلے ‘ کر گزرنے والا ہے۔“ ظاہر ہے اس کے ارادے کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

11 یعنی پوری کائنات میں کسی کی بھی یہ طاقت نہیں کہ اللہ جس کام کا ارادہ کرلے اس میں وہ مانع یا مزاحم ہوسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (کوئی اس کا ہاتھ پکڑلینے والا کوئی اس کے ارادہ میں دخل دینے والا موجود نہیں۔ اس کی قدرت لامحدود، اس کی طاقت لامتناہی ہے) سارے قانون اس کے پابند ہیں، وہ خود کسی قانون سے مقید نہیں۔ یہ ان مذاہب جاہلی کی تردید میں ہے، وہ خود کسی قانون سے مقید نہیں، یہ ان مذاہب جاہلی کی تردید میں ہے، جنہوں نے حق تعالیٰ کی قدرت مطلق وکامل کو بھی کسی نہ کسی قانون کا مطیع قرار دے رکھا ہے۔ مثلا قانون مکافات عمل یا ” کرم “ کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فعال لما یرید . وہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے ‘ اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہیں ‘ نہ اس کو اس کی مراد سے کوئی روک سکتا ہے۔ انہ ھو یبدئ و یعید پورا جملہ معترضہ ہے جو اللہ کی ستائش کو ظاہر کر رہا ہے اور اس سے یہ امر واضح ہو رہا ہے کہ مؤمنوں کے ساتھ اللہ مودت و مغفرت کا برتاؤ کرنے والا ہے اور کافروں کو طرح طرح کے عذاب دینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–16

(12۔ 15) آپ کے رب کی داروگیر کافر کے لیے بڑی سخت ہے وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا وہی بڑا بخشنے والا اور بڑی محبت کرنے والا اور عرش کا مالک اور عظمت والا ہے اور جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

ذوالعرش المجید…: وہ تمہاری طرح معمولی اور عارضی اقتدار والا نہیں، بلکہ اس عرش عظیم کا مالک ہے جو زمین و آسمان اور ان کے مابین سے بھی بڑا ہے، نہ وہ تمہاری طرح کم ظرف ہے کہ معمولی سی قدرت ملے تو ظلم پہ اترا آئے، بلکہ وہ بڑی شان ولا ہے اور نہ وہ تمہاری طرح بےبس ہے کہ مجبور ہو کر اسے اپنے ارادے ترک کرنا پڑیں، بلکہ وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ ایسے زبردست قوت والے پروردگار سے تمہیں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیے اور اس کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہاں ”ذوالعرش“ کے بعد ”المجید“ بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس لئے اس پر رفع ہے، یہ ”العرش“ کی صفت نہیں، ورنہی ہ مجرور ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فعال لما یرید۔ وہ چیز جس کا ارادہ کرے وہ اس پر ممتنع نہیں، یہ زمخشری کا نقطہ نظر ہے، یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یہ ان فعال کا لفظ ذکر کیا ہے کیونکہ جس کا وہ ارادہ کرتا ہے، اور افعال کرتا ہے وہ کثیر ہوتے ہیں فراء نے کہا، فعال کو تکرار اور استیناف کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے کیونکہ یہ نکرہ محضہ ہے طبری نے کہا، فعال کو رفع دیا گیا ہے جبکہ وہ نکرہ محضہ ہے کیونکہ یہ اعراب میں الغفور الودود کے اعراب کے تابع ہے، ابوسفر (سعید ہمدانی) سے مروی ہے کہا، کچھ صحابہ حضرت ابوبکر صدیق کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے انہوں نے کہا، کیا ہم آپ کے لیے طبیب نہ بلائیں ؟ فرمایا اس نے مجھے دیکھا ہے، صحابہ نے پوچھا اس نے آپ کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–21

5۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الودود سے مراد ہے حبیب یعنی بہت محبت کرنے والا آیت ذوالعرش المجید۔ عرش کا مالک بڑی شان والا۔ یعنی وہ صاحب عرش ہے اور کریم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَعَّالٌ: وہ کر گزرنے والا ہے ][ لِمَا : اس کا جس کا ][ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ] (آیت۔ 16) فَعَّالٌ سے پہلے بھی اس کا مبتدا ھُوَ محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–16

اس کے بعد فرمایا ﴿وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ0014 ذو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُۙ0015﴾ (اور وہ بہت بڑا بخشنے والا ہے بڑی محبت والا ہے بڑے عرش والا عظمت والا ہے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ شانہ کی شان غفاریت بتائی اور مودت کی شان بھی بیان فرمائی۔ وہ اپنے بندوں کو بخشتا بھی ہے اور مومنین صالحین سے محبت بھی فرماتا ہے، عرش کا مالک ہے، مجید ہے یعنی بڑی عظمت والا ہے ﴿ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُؕ0016﴾ وہ جو کچھ چاہتا ہے پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ اپنی مشیت اور ارادہ کے مطابق کرتا ہے بطش شدید (سخت پكڑ) ابتدائی تخلیق، پھر موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ فرمانا، گناہگاروں کو بخشنا اہل ایمان پر مودت اور رحمت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–16

9:۔ ” انہ ھو “ یہ بھی دوسرے شاہد سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ ہی پہلی بار سب کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کو دوبارہ پیدا کرے گا وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا، فرمانبرداروں سے محبت کرنے والا عرش عظیم کا مالک، بڑی شان والا ہے وہ ان تمام خوبیوں کا مالک ہے لیکن ” فعال لما یرید “ بھی ہے وہ جو ارادہ فرمالے اس کو پورا کرنے والا بھی ہے۔ اس میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–22

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۝ 16 ۭ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، (ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–16

ترکیب ¦ فلہم الخ الجملۃ خبران ‘ ولھم الجملۃ الثانیۃ معطوفۃ علیھا الذین آمنوا الخ اسم ان لہم جنات الجملۃ خبرھا تجری الخ صفۃ جنات ‘ المجید قرء الجمہور بالرفع علی انہ لغت لذو وقریٔ بالکسر علی انہ لغت للعرش و مجدہ علوہ وعظمہ وقیل ھو لغت لربک وقال مکی ھو خبر بعد خبر۔ فعال مرفوع علی انہ خبر مبتدء محذوف وقال الفرا مرفوع علی التکریر والا ستیناف وقیل مرفوع علی الاتباع۔ تفسیر ¦ کفار قریش کو اصحاب الاخدود کا مآل کارسنا کر کہ ان پر لعنت پڑی دنیا میں بھی برباد ہوئے۔ تخت بخت سب جاتا رہا۔ ذلت سے مرے آخرت میں بھی رسوا ہوئے اپنا دائمی قانون سناتا ہے۔ فقال ان الذین فتنوا المومنین والمومنات کہ جنہوں نے ایماندار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–16

اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ اِنَّـہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ ۔ وَھُوَالْغَفُوْرُالْوَدُوْدُ ۔ ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۔ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ (البروج : 12 تا 16) (بیشک آپ کے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور وہ بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے۔ عرشِ بریں کا مالک ہے۔ جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ ) سابقہ صفات کو مؤکد کرنے کے لیے مزید صفات کا تذکرہ سابقہ آیات میں اہل ایمان پر ظلم ڈھانے والوں کو جو دھمکیاں دی گئیں اور اہل ایمان کو بیش بہا نعمتوں کا جو مژدہ سنایا گیا اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی مزید صفات ذکر فرمائی گئی ہیں۔ سب سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں کفار کے ظلم اور مومنوں کے اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے دونوں صفات ذکر فرما کر واضح فرمایا ہے کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے انتقام لینا چاہے تو اس سے بڑھ کر کسی کی پکڑ نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سخت ترین پکڑ کرنے والا ہے، اسی نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے، بڑے عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اس کے فیصلوں کے سامنے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ وہ کسی کو پکڑنے پر آئے تو اس کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (وہ جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے) نحو : یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ یرید ؔ سے مرادجو بنانا چاہے وہ ہوجاتا ہے۔ اس میں افعال عباد کے پیدا کرنے پر بھی دلالت موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” فعال لمایرید “ اس کو وہ چیز عاجز نہیں کرسکتی جس کا وہ ارادہ کرے اور اس سے وہ چیز رک نہیں سکتی جس کو وہ طلب کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–22

11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ) وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی کہ وہ جو کچھ چاہے کرلے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–18

(14) اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کی دو اور صفات کریمہ کے اعتبار سے : سو اس کی بےمثال عظمت کے ایک پہلو کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ورش کا مالک بڑی ہی بلند شان والا ہے "۔ اتنی بڑی شان والا کہ ازخود اور اپنے طور پر اس کی اس عظمت شان کا تصور کرنا بھی کسی بندہ بشر کے لیے ممکن نہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ہر چیز کی باگ ڈور پس جو اس کی باگ اقدس و اعلی کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف لپکتے ہیں وہ اپنی محرومی کا سامان خود ہی کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں ایک طرف تو اہل ایمان کے لیے عظیم الشان بشارت ہے جو ایسی عظمت شان کے مالک اپنے رب کے حضور جھکتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–17

ف 5 یعنی ضرور پہنچا ہے۔ اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کا انجام زہن میں رکھیں کہ کس طرح انہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور پھر کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:16) فعال لما یرید : فعال فعل مصدر سے مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر ہے بہت کام کرنے والا۔ یعنی جب بھی جس کام کو وہ کرنا چاہے اسے بلا روک ٹوک کر گزرتا ہے کوئی اس کے کام میں مانع نہیں ہوسکتا۔ زبردست کام کرنے والا۔ خود مختاری سے کام کرنے والا۔ ما یرید۔ ما موصولہ یرید مضارع صیغہ واحد مذکر غائب اس کا صلہ ارادۃ (افعال) مصدر۔ فقال مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھو فعال : لما یرید متعلق خبر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–22

(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–22

خدا اور اس کی نوازش 1: ان آیتوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس کے ارادوں میں کوئی قوت اور کوئی شخصیت حائل نہیں ہوسکتی ۔ وہ اگر مجرموں اور منکروں کو سزا دینا چاہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر اپنے بندوں کو مغفرت اور دوستی سے نوازنا چاہے تو وہ غفور اور ودود ہے جو لوگ خدا کے اسلامی تخیل سے متوحش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تصور میں وہ پیار نہیں ہے جو عیسائی مذہب میں ہے ، وہ ودود کے لفظ پر غورکریں کہ اس کے معنی دوست کے ہیں ۔ یعنی احکم الحاکمین رب السموت والارض خدا اور محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے کیا اس سے بڑھ کرنوازش اور محبت کا کوئی دوسرا انداز ہو سکتا ہے ؟ وہ جس کے ہم ادنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) اورجوچاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے - اوپر کی آیتوں میں کفار کو تنبیہہ اور ان کے لئے وعید تھی وھوالغفور سے مسلمانوں کو بشارت ہے کہ وہ بڑا بخشنے والا ہے کسی عاجزی کرنے والے اور توبہ کرنے والے کو واپس نہیں کرتا اور کوئی اس کی بارگاہ سے محروم نہیں جاتا وہ عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے ہر مظلوم کی سنتا ہے اور عبادت گزار کو صلہ عطا فرماتا ہے پھر مالک و مختار ہے اپنی حکمت و مصلحت کے موافق جو کرنا چاہتا ہے وہ کر ڈالتا ہے اس کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ بہرحال یہ تمام آیتیں خوف ورجا کا مجموعہ ہیں نہ اس کی بخشش پر مغرور ہونا چاہیے نہ اس کی پکڑ اور اس کے انتقام سے بےخوف ہوناچاہیے بلکہ ہمیشہ اس کے جاہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–22

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس بات کا ارادہ کرے اس کو کر کے رہتا ہے 16 ؎ اس کائنات میں جو جو قوانین اس نے بنائے ہیں اپنی مرضی اور رضا سے بنائے ہیں کسی دبائو کے تحت نہیں بنائے اور نہ ہی کسی کے مشورہ سے اس نے بنائے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کوئی بات اس کے قانون کے خلاف نہیں ہوتی جو اس نے چاہا وہ کیا اور جو چاہتا ہے کرتا ہے لکن اس کے چاہنے اور کرنے میں کبھی اس کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف نہیں ہوا کیونکہ نہ تو وہ خلاف کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آج وہ سورج طلوع نہ کرے یا وقت سے 10 منٹ پہلے طلوع کر دے اور اس پر اس کے قانون کی گرفت نہ ہو کہ اس نے چاہا وہ کردیا کبھی کچھ اور کبھی کچھ اور کبھی کچھ اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–22

إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

7 "He is All-Forgiving": If a person repents and reforms himself, he can hope to be received by AIlah in His mercy. "He is All-Loving", i.e. He has no emnity with His creatures that he would subject them to torment without any reason, but He loves the creatures He has created and punishes them only when they do not give up the attitude of rebellion against Him. "Owner of the Throne" means that He alone is the Ruler of the Kingdom of the Universe: no one who is a rebel can escape His grip and punishment The mention of His being "Exalted" is meant to warn man for his meanness when he adopts an…

Read the full tafseer →