Explained with ayahs 11–22
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الْبُرُوْج 7
" بخشنے والا ہے " کہہ کر یہ امید دلائی گئی ہے کہ کوئی اگر اپنے گناہوں سے باز آ کر توبہ کرلے تو اس کے دامن رحمت میں جگہ پاسکتا ہے۔ " محبت کرنے والا " کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ اس کو اپنی خلق سے عداوت نہیں ہے کہ خواہ مخواہ اس کو مبتلائے عذاب کرے، بلکہ جس مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے اس سے وہ محبت رکھتا ہے اور سزا صرف اس وقت دیتا ہے جب وہ سرکشی سے باز ہی نہ آئے۔ " مالک عرش " کہہ کر انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ سلطنت کائنات کا فرمانروا وہی ہے، اس سے سرکشی کرنے والا اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ " بزرگ و برتر " کہہ کر انسان کو اس کمینہ پن پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تاریخ سے بعض مثالوں کا حوالہ:
انہی حقائق کو ثابت کرنے کے لیے جو اوپر مذکور ہوئے، یہ تاریخ کی بعض مثالوں کی طرف اشارہ فرما دیا۔ خدا کی پکڑ میں آنے والی جن قوموں کی سرگزشت قرآن نے سنائی ہے ان میں قوم ثمود اور فرعون کے جبر و ظلم اور طغیان و فساد کا ذکر خاص اہتمام سے فرمایا ہے۔ قریش کے لیڈروں پر ان دونوں قوموں کی عظمت و شوکت کی بڑی دھاک تھی۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھ لو، جب خدا نے ان کو پکڑا تو چشم زدن میں وہ صفحۂ ہستی سے مٹ گئے اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکا!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17۔ 1 یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یہ دو طویل قصوں کی طرف اشارہ ہے ، اس لئے فرعون اور قوم ثمود کی باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں۔ قرآن کریم نے دونوں قصوں کو بار بار بیان کیا ہے۔ یہاں ان کو جنود اس لئے کہا گیا کہ وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا قصہ کیا ہے اور تمہارے رب نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا ؟ اللہ تو جو چاہے کر گزرتا ہے۔
فرعون اور ثمود دونوں کے قصے اپنی نوعیت اور نتائج کے اعتبار سے مختلف تھے۔ فرعون کو تو اللہ نے معہ اپنے لشکرکے ، غرق کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ ان کو ایک عرصہ تک زمین کا اقتدار سونپا گیا تاکہ ان کے ذریعہ اللہ نے اپنی تقدیر کو ظاہر کرے اور اپنے ارادے پورے کرے۔ رہے ثمود تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
6 کہ ایک مدت تک انعام کا دروازہ ان پر کھلا رکھا تھا۔ اور ہر طرف سے طرح طرح کی نعمتیں ان کو پہنچتی تھیں پھر ان کے کفر و طغیان کی بدولت کیسا سخت انتقام لیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
آیت 16{ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ } ”وہ جو ارادہ کرلے ‘ کر گزرنے والا ہے۔“
ظاہر ہے اس کے ارادے کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11 یعنی پوری کائنات میں کسی کی بھی یہ طاقت نہیں کہ اللہ جس کام کا ارادہ کرلے اس میں وہ مانع یا مزاحم ہوسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
10۔ (کہ انہوں نے کس کس طرح کفر کیا، اور پھر کسی طرح کیفر کردار کو پہنچے) (آیت) ” فرعون “۔ اور ” ثمود “۔ دونوں پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ قوم فرعون اور قوم ثمود دونوں مثالیں انتہائی پر قوت قوموں کی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…
Read the full tafseer →ھل اتاک حدیث الجنود . استفہام تقریری ہے یعنی تمہارے پاس آچکا ان کافروں کا قصہ جنہوں نے
انبیاء کے خلاف جتھے جمع کیے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) کیا آپ کو ان لشکروں کا واقعہ معلوم ہے یعنی فرعون اور ثمود کا اور جو لوگ ان سے پہلے ہوئے اور جو ان کے بعد میں ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے تکذیب پر ان کی کیسی سخت پکڑ کی بلکہ یہ مکہ کے کافر قرآن و حضور کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(ھل اتک حدیث الجنود…: یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے، اسے دلوں میں جما دینے کے لئے ثمود اور فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور تھے، وہ اہل مکہ کو یاد دلائے، تاکہ وہ ان قصوں سے عبرت پکڑیں۔ (احسن التفاسیر) اس کے علاوہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ھل اتاک حدیث الجنود۔۔۔ تا۔۔۔ فی تکذیب
یعنی اے محمد یقینا آپ تک ان کافر جماعتوں کی خبر پہنچی ہے جنہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور اس کے ذریعے آپ کو مانوس کیا جارہا ہے اور آپ کو تسلی دی جارہی ہے پھر ان جماعتوں کی وضاحت کی اور فرمایا، فرعون وثمود، یہ دونوں الجنود سے بدل ہیں معنی اس کا یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو کیا ہے آپ نے اس پہچان لیا ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا بلکہ یہ لوگ جو آپ پر ایمان نہیں رکھتے وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں جس طرح پہلے لوگوں کا طریقہ تھا فرعون اور ثمود کو خاص کیا گیا کیونکہ قوم ثمود عرب علاقوں میں سے تھی اور ان کا قصہ مشہور ومعروف تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
5۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الودود سے مراد ہے حبیب یعنی بہت محبت کرنے والا آیت ذوالعرش المجید۔ عرش کا مالک بڑی شان والا۔ یعنی وہ صاحب عرش ہے اور کریم ہے۔
Read the full tafseer →هَلْ اَتٰىكَ : کیا پہنچی آپ ﷺ کے پاس ][ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِ : لشکروں کی بات ]
(آیت۔ 17) حَدِیْثُکا مضاف الیہ اَلْجُنُوْدِ ہے، لیکن یہ آگے فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ کا مضاف نہیں ہوسکتا کیونکہ مضاف پر لام تعریف نہیں آتا۔ نیز یہ کہ فِرْعَوْنَ اور ثَمُوْدَ دونوں غیر منصرف ہیں۔ اس لیے ان کی یہ حالت نصب بھی ہوسکتی ہے اور حالت جر بھی۔ لیکن یہاں ان کے نصب میں ہونے کی کوئی وجہ یا قرینہ یا قیاس موجود نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں یہ دونوں حالت جر میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں بھی حَدِیْثُ کا مضاف الیہ ہیں۔ اس طرح یہ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ کا بدل بعض ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِۙ0017﴾ (الی آخر السورۃ) (کیا آپ کے پاس لشکروں کی بات پہنچی ہے یعنی فرعون اور ثمود کی، بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تکذیب میں ہیں اور اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے) ۔
ان آیات میں بعض بڑے بڑے کافروں باغیوں یعنی فرعون وثمود کا تذکرہ فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ کے پاس لشکروں کا قصہ پہنچا ہے یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کا واقعہ اور قوم ثمود کا واقعہ آپ کو معلوم ہے ؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی آپ کو ان لوگوں کے کبر نخوت اور غرور اور بغاوت پھر ان کی تعذیب اور ہلاکت کے واقعات معلوم ہوچکے ہیں آپ یہ واقعات موجودہ منکرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
10:۔ ” ھل اتاک “ یہ پہلے شاہد سے متعلق ہے۔ جس طرح آسمان سب کو محیط ہے اور وہ اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ ان سب کو محیط ہے وہ اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔ فرعون وثمود ” الجنود “ سے بدل ہے کیا تمہیں فرعون اور ثمود کا قصہ معلوم نہیں کہ کس طرح انہوں نے عناد و سرکشی سے ہمارے پیغمبروں کی تکذیب کی اور مومنوں کو گوناگوں ایذاؤں میں مبتلا کیا۔ استفہام تقریر ہے یعنی ان تمام باتوں کا علم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…
Read the full tafseer →ہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ 17 ۙ
هَلْ
: حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله :
هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ
[ البقرة/ 210] ، لْ يَنْظُرُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ترکیب ¦ ھل اتاک الجملۃ مستانفۃ مقررۃ لما تقدم من شدۃ بطشہ و کونہ فعالاً لما یرید فرعون وثمود بدل من الجنود والمراد بفرعون ھو وقومہ وثمود قوم معروفون عند العرب والمراد بحدیثھم ماوقع منھم من الکفر والعنا دوما وقع علیھم من العذاب واللہ الخ الجملۃ حال من فاعل کفروا محفوظ بالجر نعت للوح وبالرفع نعت للقرآن و الاول قراءۃ الجمہور۔
تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ تیرے رب کی پکڑ سخت ہے اور اس کے ثبوت کے لیے اول اصحاب الاخدود کا قصہ نقل کیا تھا۔ اجمالاً جو آنحضرت ﷺ سے تھوڑے ہی برسوں پہلے گزرا تھا اور عرب میں زبان زد تھا۔ اس کے بعد پھر اسی بات کے ثبوت کے لیے اجمالی طور پر وہ واقعات کو یاد دلاتا ہے جن میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ ۔ فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ ۔ (البروج : 17، 18)
(کیا تمہارے پاس لشکروں کی خبر پہنچی ہے۔ فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی۔ )
سابقہ حقائق پر تاریخ سے استدلال
اوپر جو حقائق بیان کیے گئے ہیں اس کے اثبات کے لیے تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے۔ پہلے اجمالی انداز میں فرمایا کہ کیا تمہیں لشکروں کی خبر پہنچی ہے، یعنی جو قومیں بڑی بڑی سلطنتیں بنانے میں کامیاب ہوئیں اور ان کے پاس فوجوں کی بڑی تعداد تھی اور وہ اپنی اسی قوت کے بل بوتے پر خیر کی کسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس طرح آج تمہیں اپنے طاقتور جتھوں کا زعم ہے اور اسی کے بل بوتے پر تم اللہ تعالیٰ کی زمین میں فساد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ذکر ہوا اب اس کی پکڑ کی دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔
اس سورت کی آٹھویں اور نویں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں سخت پکڑ کرنے والا ہوں، لوگوں کو معاف کرنے والا اور ان کے ساتھ محبت کرنے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے کوئی پَر نہیں مار سکتا کیونکہ میں بڑے عرش کا مالک اور بڑی عظمت والا ہوں۔ اس کی عظمت کی نظیر دیکھنا چاہو تو ان لشکروں کا حال جانو جن کے سامنے کوئی دم نہیں مارسکتا تھا۔ فرعون اپنی طاقت اور لشکر وسپاہ پر اس قدر مغرور ہوا کہ اس نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ “ کا دعویٰ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →17 : ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ (کیا آپ کو ان لشکروں کا قصہ پہنچا ہے) حدیث سے یہاں ان تمام اقوام طاغیہ کی خبریں مراد ہیں جو گزشتہ زمانوں میں ہوئیں۔
Read the full tafseer →17 ۔” اللہ تعالیٰ کا قول ” ھل اتاک حدیث الجنود “ تحقیق آپ کے پاس ان کافروں کے لشکر کی خبر آچکی ہے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) پر لشکر کشی کی۔ پھر بیان کیا کہ وہ کون ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان افعال کا ذکر فرمایا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے انبیا ومرسلین لے کر آئے ہیں فرمایا (هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ ۔ فِرْعَوْنَ وَثَمُــوْدَ ) کیا آپ کو لشکروں کا حال معلوم نہیں ہوا ہے فرعون اور ثمود کا ؟ انہوں نے رسولوں کو کیسے جھٹلایا ؟ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(14) اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کی دو اور صفات کریمہ کے اعتبار سے : سو اس کی بےمثال عظمت کے ایک پہلو کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ورش کا مالک بڑی ہی بلند شان والا ہے "۔ اتنی بڑی شان والا کہ ازخود اور اپنے طور پر اس کی اس عظمت شان کا تصور کرنا بھی کسی بندہ بشر کے لیے ممکن نہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ہر چیز کی باگ ڈور پس جو اس کی باگ اقدس و اعلی کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف لپکتے ہیں وہ اپنی محرومی کا سامان خود ہی کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں ایک طرف تو اہل ایمان کے لیے عظیم الشان بشارت ہے جو ایسی عظمت شان کے مالک اپنے رب کے حضور جھکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام
تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 5 یعنی ضرور پہنچا ہے۔ اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کا انجام زہن میں رکھیں کہ کس طرح انہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور پھر کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا۔
Read the full tafseer →(85:17) ہل اتک حدیث الجنود۔ جملہ استفہام تقریری ہے۔ تمہارے پاس لشکروں کا قصہ آہی چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔
تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
خدا اور اس کی نوازش
1: ان آیتوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس کے ارادوں میں کوئی قوت اور کوئی شخصیت حائل نہیں ہوسکتی ۔ وہ اگر مجرموں اور منکروں کو سزا دینا چاہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر اپنے بندوں کو مغفرت اور دوستی سے نوازنا چاہے تو وہ غفور اور ودود ہے جو لوگ خدا کے اسلامی تخیل سے متوحش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تصور میں وہ پیار نہیں ہے جو عیسائی مذہب میں ہے ، وہ ودود کے لفظ پر غورکریں کہ اس کے معنی دوست کے ہیں ۔ یعنی احکم الحاکمین رب السموت والارض خدا اور محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے
کیا اس سے بڑھ کرنوازش اور محبت کا کوئی دوسرا انداز ہو سکتا ہے ؟ وہ جس کے ہم ادنی…
Read the full tafseer →(17) اے پیغمبر بھلا آپ کو ان لشکروں کا واقعہ بھی پہنچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…
Read the full tafseer →کیا آپ کو ان لشکروں کی خبر نہیں پہنچی
17 ؎ اوپر جو دلائل نہ ذکر کیے گئے ہیں ان کی تصدیق کے لیے گزشتہ قوموں کے تذکار کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ گزشتہ قوموں میں اپنے اپنے دور کے لحاظ سے بڑا بڑا زور تھا اور اس دور کی وہ بڑی صاحب طاقت قومیں تھیں ، کیا آپ ﷺ کے پاس ان قوموں کی خبریں نہیں پہنچیں ، تم نے نہیں سنا کہ وہ کتنے صاحب سطوت لوگ تھے اور ان کے لائو لشکر کا کیا حال تھا ؟ لیکن جب ان کے مٹنے کا وقت آیا تو ان کی طاقت و قوت ، ان کی حکومت و سطوت ، ان کا مال و دولت ، ان کی عزت و جاہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی بساط کو الٹ دیا گیا اور پھر جب رب کریم کی پکڑ کا وقت آیا تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
7 "He is All-Forgiving": If a person repents and reforms himself, he can hope to be received by AIlah in His mercy. "He is All-Loving", i.e. He has no emnity with His creatures that he would subject them to torment without any reason, but He loves the creatures He has created and punishes them only when they do not give up the attitude of rebellion against Him. "Owner of the Throne" means that He alone is the Ruler of the Kingdom of the Universe: no one who is a rebel can escape His grip and punishment The mention of His being "Exalted" is meant to warn man for his meanness when he adopts an…
Read the full tafseer →