Al-Burooj 85:15

Al-Burooj · from ayah 15

85:15

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۟ۙذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ

عرش کا مالک بڑی شان والا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Honorable Owner of the Throne,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:15

عرش کا مالک ہے، بزرگ و برتر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

عرش کا مالک بڑی شان والا

— مولانا فتح محمد جالندہری

عرش کا مالک عظمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

عرش کا مالک ہے، بزرگی والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عزت والے عرش کا مالک،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مالکِ عرش (یعنی پوری کائنات کے تختِ اقتدار کا مالک) بڑی شان والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

عرش کا مالک ہے، بڑی شان والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

عرش کا مالک ہے بڑی شان والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

عرش کا مالک بڑی ہی شان والا

— مولانا اسحاق مدنی

عرش کا مالک ہے عظمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

عرش کا مالک ہے بڑی شان والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

عرش کا مالک بڑی شان والا

— محترمہ رفعت اعجاز

– the Lord of the Glorious Throne,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the Master of the Throne, the Glorious.

— Muhammad Taqi Usmani

the Master of the Throne, the Glorious.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Owner of the Throne, Al-Majid (the Glorious).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Honorable Owner of the Throne,

— Saheeh International

the Owner of the Throne, the Glorious One,

— Muhammad Sarwar

Lord of the Arsh, the Glorious,

— Muhammad Habib Shakir

Lord of the Throne, the Glorious,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 85:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–22

عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–15

سورة الْبُرُوْج 6 جہنم کے عذاب سے الگ جلائے جانے کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ انہوں نے مظلوم لوگوں کو آگ کے گڑھے میں پھینک کر زندہ جلایا تھا۔ غالباً یہ جہنم کی عام آگ سے مختلف اور اس سے زیادہ سخت کوئی آگ ہوگی جس میں وہ جلائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

’وَہُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ۵ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۵ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ‘۔ یعنی بخشنے والا اور محبت کرنے والا تنہا وہی ہے، جس کو لَو لگانی ہو تنہا اسی سے لگائے۔ کوئی اور نہیں ہے جو کسی کے کچھ کام آ سکے۔ عرش کا مالک اور عظمت والا وہی ہے۔ کوئی اس کے اقتدار اور اس کی عظمت میں شریک نہیں ہے۔ وہ جو چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ نہ وہ کسی کا محتاج ہے نہ کوئی اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 یعنی تمام مخلوقات سے معظم اور بلند ہے اور عرش، جو سب سے اوپر ہے وہ اس کا مستقر ہے جیسا کہ صحابہ وتابعین اور محدثین کا عقیدہ ہے۔ المجید صاحب فضل و کرم۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–18

3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدس ﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–15

یہاں مغفرت کا تعلق اور ربط آیت ماقبل سے ہے۔ ثم لم یتوبوا (10:85) ” پھر اس سے تائب نہ ہوئے “۔ یہ اللہ کی بےپایاں رحمت اور اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اور ایک کھلا دروازہ ہے اور یہ ہر واپس آنے والے اور ہر توبہ تائب ہونے والے کے لئے کھلا ہے۔ اگرچہ اس کا گناہ اور اس کی معصیت نہایت سخت ہو۔ لفظ ودود (محبت کرنے والا) کا تعلق اہل ایمان سے ہے جنہوں نے ہر چیز پر اپنے رب کو ترجیح دی۔ یہ وہ مقام محبت اور وہ مقام انس ہے جہاں تک اللہ کے خاص بندے ہی پہنچ سکتے ہیں۔ اس مقام تک اللہ صرف ان بندوں کو ترقی دیتا ہے ، جو اللہ کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں کہ ہر چیز پر ، محبوب سے محبوب چیز پر اللہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان بندوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

5 یعنی اپنے علم و حکمت کے موافق جو کرنا چاہے کچھ دیر نہیں لگتی نہ کوئی روکنے ٹوکنے کا حق رکھتا ہے۔ بہرحال نہ اس کے انعام پر بندہ کو مغرور ہونا چاہیے نہ انتقام سے بےخوف بلکہ ہمیشہ اس کی صفات جلال و جمال دونوں پر نظر رکھے۔ اور خوف کے ساتھ رجاء اور رجاء کے ساتھ خوف کو دل سے زائل نہ ہونے دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

آیت 13{ اِنَّہٗ ہُوَ یُـبْدِئُ وَیُعِیْدُ۔ } ”وہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی اعادہ بھی کرے گا۔“ جب اس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے تو دوسری مرتبہ وہ اسے پیدا کرنے پر بھلا کیونکر قادر نہیں ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 عرش کا مالک ہونے سے مراد پوری کائنات کا مالک ہونا ہے اس لیے کہ اس کا عرش پوری کائنات کو محیط ہے اور مجید بمعنی شان و شوکت میں بڑا کہہ کر انسان کو اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی ہستی کے مقابلہ میں گستاخانہ رویہ چھوڑ دے ورنہ اسے اس کا بہت برا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

8۔ ان تمام صفات کا اثبات کسی نہ کسی عقیدہ شرکیہ کی تردید وابطال کے لیے ہے۔ (آیت) ” ذوالعرش “ یعنی عرش جیسی بزرگ ترین مخلوقات کا خالق ومالک۔ اے صاحبہ والمراد مالکہ اوخالقہ وھو اعظم المخلوقات (روح) (آیت) ” المجید “ کی ایک قرأت کسرۂ دال کے ساتھ بھی ہے۔ ذوالعرش المجید اس صورت میں مجید صفت عرش کی ہوگی، اور معنی ہوں گے کہ وہ مالک ہے عرش بزرگ کا۔ وبالجر صفۃ للعرش ومجد العرش عدوہ وعظمہ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذوالعرش . عرش کا مالک۔ ہر چیز پر قابو رکھنے والا۔ المجید . بزرگی والا۔ اللہ کی بزرگی کا معنی ہے اس کی ذات وصفات کی عظمت ‘ اس کا واجب الوجوب ہونا۔ ا سکی قدرت و حکمت کا کامل ہونا۔ حمزہ اور کسائی کی قراءت میں المجید بکسرۂ دال آیا ہے۔ اس وقت یہ عرش کی صفت ہوگی۔ عرش انوار رحمن کی جلوہ گاہ ہے۔ تجلیات رحمانیہ سے اس کو خصوصیت حاصل ہے ‘ یہی اس کی عظمت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–16

(12۔ 15) آپ کے رب کی داروگیر کافر کے لیے بڑی سخت ہے وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا وہی بڑا بخشنے والا اور بڑی محبت کرنے والا اور عرش کا مالک اور عظمت والا ہے اور جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

ذوالعرش المجید…: وہ تمہاری طرح معمولی اور عارضی اقتدار والا نہیں، بلکہ اس عرش عظیم کا مالک ہے جو زمین و آسمان اور ان کے مابین سے بھی بڑا ہے، نہ وہ تمہاری طرح کم ظرف ہے کہ معمولی سی قدرت ملے تو ظلم پہ اترا آئے، بلکہ وہ بڑی شان ولا ہے اور نہ وہ تمہاری طرح بےبس ہے کہ مجبور ہو کر اسے اپنے ارادے ترک کرنا پڑیں، بلکہ وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ ایسے زبردست قوت والے پروردگار سے تمہیں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیے اور اس کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہاں ”ذوالعرش“ کے بعد ”المجید“ بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس لئے اس پر رفع ہے، یہ ”العرش“ کی صفت نہیں، ورنہی ہ مجرور ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ذوالعرش المجید۔ عاصم کے علاوہ کوفہ کے قراء نے اسے ذی پڑھا ہے کیونکہ یہ عرش کی صفت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ لربک کی صفت ہے معنی یہ ہوگا تیرے باعظمت رب کی پکڑ بڑی سخت ہے، یہاں موصوف صفت میں جدائی صفت بننے میں مانع نہیں کیونکہ تشدید میں یہ صفت کے قائم مقام ہے باقی قراء نے اسے مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ ذو کی صفت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، یہ ابوعبید اور ابوحاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ مجد سے مراد کرم اور فضل میں انتہا کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس صفت کے ساتھ موصوف ہے۔ اگرچہ سورة المومنون کے آخر میں عرش کی صفت بھی کرم کے ساتھ لگائی گئی ہے عرب کہتے ہیں : فی کل شجرنا واستمجد المرخ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–21

5۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الودود سے مراد ہے حبیب یعنی بہت محبت کرنے والا آیت ذوالعرش المجید۔ عرش کا مالک بڑی شان والا۔ یعنی وہ صاحب عرش ہے اور کریم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذُو الْعَرْشِ : جو عرش کا مالک ہے ][ الْمَجِيْدُ : وہ ہی عظیم الشان ہے ] (آیت۔ 15) اَلْمَجِیْدُ کی رفع بتارہی ہے کہ نہ تو یہ اَلْعَرْشِ کی صفت ہے اور نہ ہی ذُوْکا مضاف الیہ ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں یہ حالت جر میں اَلْمَجِیْدِ آتا۔ اس کی رفع سے معلوم ہوا کہ یہ وَھُوَا لْغَفُوْرُ کے مبتدا ھُوَ پر عطف ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس سے پہلے اس کا مبتدا ھُوَ محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–16

اس کے بعد فرمایا ﴿وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ0014 ذو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُۙ0015﴾ (اور وہ بہت بڑا بخشنے والا ہے بڑی محبت والا ہے بڑے عرش والا عظمت والا ہے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ شانہ کی شان غفاریت بتائی اور مودت کی شان بھی بیان فرمائی۔ وہ اپنے بندوں کو بخشتا بھی ہے اور مومنین صالحین سے محبت بھی فرماتا ہے، عرش کا مالک ہے، مجید ہے یعنی بڑی عظمت والا ہے ﴿ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُؕ0016﴾ وہ جو کچھ چاہتا ہے پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ اپنی مشیت اور ارادہ کے مطابق کرتا ہے بطش شدید (سخت پكڑ) ابتدائی تخلیق، پھر موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ فرمانا، گناہگاروں کو بخشنا اہل ایمان پر مودت اور رحمت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–16

9:۔ ” انہ ھو “ یہ بھی دوسرے شاہد سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ ہی پہلی بار سب کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کو دوبارہ پیدا کرے گا وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا، فرمانبرداروں سے محبت کرنے والا عرش عظیم کا مالک، بڑی شان والا ہے وہ ان تمام خوبیوں کا مالک ہے لیکن ” فعال لما یرید “ بھی ہے وہ جو ارادہ فرمالے اس کو پورا کرنے والا بھی ہے۔ اس میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–22

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُ۝ 15 ۙ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–16

ترکیب ¦ فلہم الخ الجملۃ خبران ‘ ولھم الجملۃ الثانیۃ معطوفۃ علیھا الذین آمنوا الخ اسم ان لہم جنات الجملۃ خبرھا تجری الخ صفۃ جنات ‘ المجید قرء الجمہور بالرفع علی انہ لغت لذو وقریٔ بالکسر علی انہ لغت للعرش و مجدہ علوہ وعظمہ وقیل ھو لغت لربک وقال مکی ھو خبر بعد خبر۔ فعال مرفوع علی انہ خبر مبتدء محذوف وقال الفرا مرفوع علی التکریر والا ستیناف وقیل مرفوع علی الاتباع۔ تفسیر ¦ کفار قریش کو اصحاب الاخدود کا مآل کارسنا کر کہ ان پر لعنت پڑی دنیا میں بھی برباد ہوئے۔ تخت بخت سب جاتا رہا۔ ذلت سے مرے آخرت میں بھی رسوا ہوئے اپنا دائمی قانون سناتا ہے۔ فقال ان الذین فتنوا المومنین والمومنات کہ جنہوں نے ایماندار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–16

اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ اِنَّـہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ ۔ وَھُوَالْغَفُوْرُالْوَدُوْدُ ۔ ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ ۔ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ (البروج : 12 تا 16) (بیشک آپ کے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور وہ بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے۔ عرشِ بریں کا مالک ہے۔ جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ ) سابقہ صفات کو مؤکد کرنے کے لیے مزید صفات کا تذکرہ سابقہ آیات میں اہل ایمان پر ظلم ڈھانے والوں کو جو دھمکیاں دی گئیں اور اہل ایمان کو بیش بہا نعمتوں کا جو مژدہ سنایا گیا اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی مزید صفات ذکر فرمائی گئی ہیں۔ سب سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں کفار کے ظلم اور مومنوں کے اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے دونوں صفات ذکر فرما کر واضح فرمایا ہے کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے انتقام لینا چاہے تو اس سے بڑھ کر کسی کی پکڑ نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سخت ترین پکڑ کرنے والا ہے، اسی نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے، بڑے عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اس کے فیصلوں کے سامنے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ وہ کسی کو پکڑنے پر آئے تو اس کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ (عرش کا مالک عظمت والا ہے) قراءت : حمزہ اور علی نے اس کو عرش کی صفت قرار دے کر مکسور پڑھا ہے۔ مجد اللہؔ کا مطلب اس کی عظمت ہے اور مجد العرشؔ سے اس کی بلندی اور بڑائی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” ذوالعرش المجید “ حمزہ اور کسائی نے ” المجید “ زیر کے ساتھ پڑھا، عرش کی صفت ہونے کی بناء پر یعنی بڑے تخت والا اور کہا گیا ہے اس کا حسن مراد ہے تو اس کو مجد کی صفت کے ساتھ موصوف کیا جیسا کہ اس کو کرم کی صفت کے ساتھ موصوف کرتے ہوئے فرمایا ” رب العرش الکریم “ اور اس کا معنی کمال ہے اور عرش تمام اشیاء میں سے احسن اور اکمل ہے اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے ذوالعرش کی صفت ہونے کی بناء پر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–22

11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُ ) یعنی عرش عظیم کا مالک ہے جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔ زیر کی قرات کی صورت میں (المجید) عرش کی نعمت ہے اور رفع کی قرات کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مجد اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

(13) اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت کو ومودت کا حوالہ وذکر : سو اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت و بخشش کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بڑا ہی بخشنے والا بھی ہے اور انتہائی محبت کرنے والا بھی "۔ اور اتنا بڑا کہ سچی توبہ پر وہ انسان کو زندگی بھر کے گناہوں کے میل کچیل سے یک لخت پاک صاف فرما دیتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ایسا کہ اس کی مغفرت و بخشش سے بہرہ مندی اور سرفرازی کے لیے کسی خود ساختہ وسیلے اور واسطے کی بھی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ براہ راست اس کی طرف رجوع کرنا کافی ہے، بشرطیکہ رجوع صدق دل و اخلاص نیت سے ہو۔ سو اس میں سرکشوں، باغیوں اور ہم جیسے گنہگاروں سب کے لیے نوید مسرت و شادمانی ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–17

ف 5 یعنی ضرور پہنچا ہے۔ اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کا انجام زہن میں رکھیں کہ کس طرح انہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور پھر کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:15) ذوالعرش مضاف مضاف الیہ۔ صاحب عرش، عرش والا۔ تخت والا۔ المجید بڑی شان والا۔ یہ دونوں بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہیں۔ مجد یمجد مجد ومجادۃ۔ کے معنی کرم و شرف اور بزرگی میں وسعت اور پہنائی کے ہیں۔ یہ دراصل مجدت الابل کے محاورہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اونٹوں کا کسی وسیع اور زیادہ چارے والی چراگاہ میں پہنچ جانا۔ المجید کے معنی ہیں وہ ذات جو اپنے فضل و کرم سے نوازنے میں نہایت وسعت اور فراخی سے کام لینے والی ہو۔ قرآن مجید کی صفت میں بھی المجید آیا ہے کیونکہ قرآن پاک بھی تمام دنیوی و اخروی مکارم پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جلیل القدر کتاب ہے۔ چناچہ اسی سورة میں ارشاد باری تعالیٰ ہے بل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–22

(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–22

خدا اور اس کی نوازش 1: ان آیتوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس کے ارادوں میں کوئی قوت اور کوئی شخصیت حائل نہیں ہوسکتی ۔ وہ اگر مجرموں اور منکروں کو سزا دینا چاہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر اپنے بندوں کو مغفرت اور دوستی سے نوازنا چاہے تو وہ غفور اور ودود ہے جو لوگ خدا کے اسلامی تخیل سے متوحش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تصور میں وہ پیار نہیں ہے جو عیسائی مذہب میں ہے ، وہ ودود کے لفظ پر غورکریں کہ اس کے معنی دوست کے ہیں ۔ یعنی احکم الحاکمین رب السموت والارض خدا اور محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے کیا اس سے بڑھ کرنوازش اور محبت کا کوئی دوسرا انداز ہو سکتا ہے ؟ وہ جس کے ہم ادنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–22

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ عرش کا مالک اور اونچی شان والا ہے 15 ؎ (ذوالعرش المجید) وہ تخت کا مالک ہے ، وہ بڑی شان والا ہے (رفیع الدرجات ذوالعرش) ” درجنوں کا بلند کرنے والا ، تخت کا مالک “ یہ اور اس طرح کی جو آیات کریمات بیان ہوئی ہیں ان کے متعلق کہا گا ہے کہ یہ حق تعالیٰ شانہ کی سلطنت و مملکت کی طرف اشارہ ہے اور ان میں اس کے مستقر کا بیان نہیں ہے کیونکہ اس کی ذات عالی اس سے بالا تر ہے کہ وہ کسی ایک جگہ قرار پائے اور کسی مقام پر وہ ٹھہیر اس سے وہ پاک ہے کہ اس کو کسی عرش پر مقید کیا جائے۔ بات بالکل صاف ہے کہ اس سے مراد قدرت خداوندی کی وسعت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات پر اس کی بادشاہی ہے اور وہی حاکم اعلیٰ ہے ،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–22

إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

6 "Punishment by burning" has been mentioned separately from the torment of Hell because they had burnt the oppressed people to death by casting them into the pits of fire. Probably this will be a different and severer kind of fire from the fire of Hell in which those people will be burnt.

Read the full tafseer →