عُذْرًا اَوْ نُذْرًا ۟ۙعُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا
تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے
— Fateh Muhammad Jalandhari
As justification or warning,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا ۟ۙعُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا
تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے
— Fateh Muhammad Jalandhari
As justification or warning,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر
تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے
جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے
جو یا تو لوگوں کے لیے معافی مانگنے کا سبب بنتی ہیں یا ڈرانے کا۔
حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو،
حجت تمام کرنے یا ڈرانے کے لئے،
عذر کے لیے، یا ڈرانے کے لیے۔
عذر کی صورت میں یا ڈرانے کی صورت میں
اتمام حجت کے طور پر یا آگاہ کردینے کو۔
عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر
تو بہ سے یا ڈرانے سے
عذر کے طور پر یا خبردار کرنے کے لیے۔
تاکہ عذر دور ہو اور ڈر سنایا جائے
to serve as an excuse or a warning.
leaving no excuse (for the disbelievers) or giving warnings,
leaving no excuse (for the disbelievers) or giving warnings,
Excusing or warning.
To excuse or to warn,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
As justification or warning,
to provide excuses for some and to give warnings to others:
To clear or to warn.
By way of excuse or warning.
Whether of Justification or of Warning;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الْمُرْسَلٰت 1 یعنی کبھی تو ان کی آمد کے رکنے اور قحط کا خطرہ پیدا ہونے سے دل گداز ہوتے ہیں اور لوگ اللہ سے توبہ و استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی ان کے باران رحمت لانے پر لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی ان کی طوفانی سختی دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور تباہی کے ڈر سے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 3۔ صفحہ نمبر 579)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →یہ مقصد بیان ہوا ہے ان کرشموں کا جو ہواؤں کے تصرفات سے ہر انسان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ کرشمے اللہ تعالیٰ لوگوں پر اتمام حجت یا ان کو بیدار کرنے کے لیے دکھاتا ہے۔ ’اَوْ‘ یہاں تقسیم کے لیے ہے۔ یعنی ان لوگوں پر حجت تمام ہو جاتی ہے جو غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کو یاددہانی حاصل ہوتی ہے جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سورۂ اعراف میں مصلحین کے ایک گروہ کا قول نقل ہوا ہے جس سے اس ’عُذْرٌ‘ اور ’نُذْرٌ‘ کی وضاحت ہوتی ہے: وَإِذَ قَالَتْ أُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوْمًا نِ اللہُ مُہْلِکُہُمْ أَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا قَالُوۡا مَعْذِرَۃً إِلٰی…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر دلیل قائم ہوجائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔
Read the full tafseer →2: یعنی نیک لوگوں کو اس کلام کے ذریعے گناہوں سے معافی کی دعوت دی جاتی ہے، اور برے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر…
Read the full tafseer →3 حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں " کہ (وحی سے) کافروں کا الزام اتارنا منظور ہے کہ (سزا کے وقت) نہ کہیں ہم کو خبر نہ تھی اور جن کی قسمت میں ایمان ہے ان کو ڈر سنانا تاکہ ایمان لائیں۔ " اور حضرت شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ جو کلام الٰہی امرونہی اور عقائد و احکام پر مشتمل ہے۔ وہ عذر کرنے کے واسطے ہے، تاکہ اعمال کی باز پرس کے وقت اس شخص کے لیے عذر اور دستاویز ہو کہ میں نے فلاں کام حق تعالیٰ کے حکم کے بموجب کیا اور فلاں کام اس کے حکم سے ترک کیا۔ اور جو کلام الٰہی قصص و اخبار وغیرہ پر مشتمل ہو وہ عموماً منکرین کو ڈرانے اور خوف دلانے کے لیے ہے اور اس سورت میں روئے سخن بیشتر مکذبین و منکرین کی طرف…
Read the full tafseer →آیت 6{ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا۔ } ”عذر کے طور پر یا خبردار کرنے کے لیے۔“ وحی یا ذکر یاد دہانی کا ابلاغ یا تو اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں پر اتمامِ حجت ہو اور ان کا عذر ختم ہوجائے۔ جیسا کہ سورة النساء کی آیت 165 میں انبیاء و رسل - کی بعثت کا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا : { لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِط } ”تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت دلیل رسولوں علیہ السلام کے آنے کے بعد“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں علیہ السلام کو دنیا میں اسی لیے بھیجا تھا کہ ان کی بعثت کے بعد لوگوں کے پاس اس کے ہاں پیش کرنے کے لیے کوئی عذرنہ رہ جائے۔ وحی یا…
Read the full tafseer →3 ( عُذْرًا اَوْ نُذْرًا ۙ ) 77 ۔ المرسلات :6) کا تعلق صرف سابقہ آیت سے ہے۔ یعنی پیغمبر کے دل میں وحی یا لوگوں کے دل میں القاء والہام کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں اپنی گمراہی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے اور ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ عذاب کے وقت یہ نہ کہہ سکیں کہ انہیں پہلے سے خبر نہ تھی اور دوسرا فائدہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے اسے دیکھے بغیر ڈر جاتے ہیں اور اپنے برے انجام سے ڈر کر اللہ کے اطاعت گزار بن جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات خود ہی گواہی دے رہا ہے وقوع قیامت کی۔ قرآنی قسموں کے لئے ملاحظہ ہو پ 14 کا ضمیمہ زیر عنوان ” قرآنی قسمیں “۔ (آیت) ” والمرسلت عرفا “۔ یعنی وہ ہوائیں جو نفع پہنچانے ہی کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ (آیت) ” فالعصفت عصفا “۔ یہ تندوتیز ہوائیں، یا آندھیاں ہر قسم کے خطرات کا امکان لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ (آیت) ” والنشرت نشرا “۔ یعنی برساتی ہوائیں یامانسون۔ (آیت) ” فالفرقت فرقا “۔ یعنی وہی برساتنی ہوائیں جو پانی لاتی تھیں بادلوں کو منتشر کردیتی ہی۔ (آیت) ” عذرا اونذرا “۔ توجہ الی اللہ کے ذریعے دو مختلف ہیں۔ ایک ترغیب دوسرے ترہیب۔ ہوائیں اگر خوشگوار ونفع بخش ہوئیں، تو اللہ کی نعمت ہیں…
Read the full tafseer →عذرا اونذرا، یہ ملقیات ذکرا، سے متعلق ہے، یعنی یہ ذکر اور وحی انبیاء و رسل (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جاتی ہے کہ مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل اور کافروں کے لئے عذاب سے ڈرانے کا ذریعہ ہو۔
Read the full tafseer →عذرا او نذرا . یہ دونوں لفظ ذال کے سکون کے ساتھ مصدر ہیں۔ عُذْرٌ بمعنی معذرت اور نُذْرٌ بمعنی انذار ‘ ڈرانا اور ذال کے ضمّہ کے ساتھ جمع کے صیغے ہیں عذرٌ‘ عذیر کی جمع اور نذرٌ‘ نذیر کی جمع عذیر اور نذیر یا تو بمعنی مصدر ہیں ‘ اوّل بمعنی معذرت اور دوئم بمعنی انذار یا بمعنی فاعل ہیں۔ عذیر بمعنی عاذر ‘ عذر پیش کرنے والا اور نذیر بمعنی منذرٌ ڈرانے والا ‘ اگر مصدر کہا جائے تو (ارسال عطف ‘ انشر ‘ فرق اور القاء ذکر کی) علت اور غرض کا بیان ہوگا یعنی مذکورہ (پانچوں) فعل اس غرض کی وجہ سے ہوتے ہیں کہ اہل ایمان اپنے گناہوں کو مٹانے کا عذر پیش کریں اور اہل کفر کو خوف پیدا ہو ‘ اگر مذکورہ بالا آیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) اور پھر قسم ہے وحی لانے والے فرشتوں کی جو اللہ کی یاد یعنی توبہ کا یا اس کے عذاب سے ڈرانے کا القاء کرتی ہیں یا عذر سے مراد حلال اور نذر سے مراد حرام ہے یا یہ کہ عذر سے مراد امر اور نذر سے مراد نہی ہے یا یہ کہ عذر سے وعدہ اور نذر سے وعید مراد ہے، ان تمام چیزوں کی اللہ تعالیٰ قسم کھا کر فرماتا ہے کہ آخرت میں تم پر ثواب و عذاب ضرور ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت عرفاً …:”المرسلت“ یہ ”الریاح“ کی صفت ہے جو محذوف ہے ، وہ ہوائیں جو چھڑوی گئی ہیں، بھیجی گئی ہیں۔”عرفاً“ یہ ”نکر“ کی ضد ہے، جانی پہچانی چیز، بھلائی۔ گھوڑے کی گردن کے بالوں اور مرغ کی کلغی کو بھی ”عرف“ کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک سطر میں یکے بعد دیگرے ہوتی ہیں، اس لئے ان کی مشابہت سے پے در پے آنے والی چیزوں پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً :”جاو وا عرفاً واحداً“”وہ سب پے در پے آگئے۔“”عرفاً“ کا معنی اگر جانی پہچانی چیز کریں تو اس ہلے ”بائ“ مقدر ہوگی :”ای والمرسلات بالعرف“”یعنی ان ہواؤں کی قسم جو جانے پہچانے معمول کے مطابق چھوڑی جاتی ہیں !“ اگر اس کا معنی بھلائی کریں تو اس ہلے ”لام“…
Read the full tafseer →عذرا اونذرا۔ وہ وحی کو لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے حجت تمام کرنے کے لیے اور مخلوقات کو اس کے عذاب سے خبردار کرنے کے لیے یہ فراء نے کہا، ابوصالح سے مروی ہے اس سے مراد رسول اللہ جو حجت تمام کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں سعید نے قتادہ سے یہ قرات نقل کی ہے، عذرا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوقات کے لیے حجت تمام کرنے کے لیے اور مومنوں کو خبردار کرنے کے لیے کیونکہ مومن ہی اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اور اسے اپناتے ہیں۔ ضحاک نے حضرت بان عباس سے روایت نقل کی ہے عذرا سے مراد اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو جو توبہ القاء کرتا ہے اور نذرا سے مراد ہے وہ اپنے دشمنوں کو ڈراتا ہے ابوعمرہ، حمزہ، کسائی اور حفص نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
۔ آیت والنشرت نشرا سے مراد ہے ہو۔ 15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی والمرسلت عرفا سے مراد ہے ہوا آیت فالعصفت عصفا سے مرد ہے ہوا آیت فالفرقت فرقا سے مراد ہے قرآن کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا۔ آیت فالملقیت ذکرا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو رسولوں پر ذکر القا کرتے ہی پھر رسول یہی ذکر بنی آدم کے پاس لاتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا ڈرانے کے لیے کافروں کو پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے لیے اتمام حجت ہے ڈراوا ہے۔ 16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالعصفت عصفا والنشرات نشرا فالفرقات…
Read the full tafseer →[عُذْرًا : عذر ختم کرنے کے لیے ] [اَوْ نُذْرًا : یا خبردار کرنے کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
قیامت ضرور واقع ہوگی، رسولوں کو وقت معین پر جمع کیا جائے گا، فیصلہ کے دن کیلئے مہلت دی گئی ہے مذکورہ بالا آیات میں ہواؤں کی قسمیں کھائیں اور قسمیں کھا کر یہ بتایا کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ چیز ضرور واقع ہوگی یعنی قیامت ضرور ہی آئے گی انکار کرنے سے ٹلنے والی نہیں ہواؤں کی جو قسمیں کھائیں اس میں دونوں قسم کی ہوائیں مذکور ہیں۔ فائدہ پہنچانے والی بھی اور ضرر دینے والی بھی۔ بادلوں کو لانے والی فائدہ پہنچانے والی ہیں اور تیزی اور تندی سے چلنے والی تکلیف پہنچانے والی ہیں پہلی ہوائیں شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہیں اور خوفناک ہوائیں اللہ کی گرفت اور نعمت یاد دلانے والی ہیں انسان کو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
2:۔ ” والمرسلات عرفا “ مرسلات اور باقی الفاظ سے بعض نے فرشتے مراد لیے ہیں اور بعض کے نزدیک ان سے ہوائیں مراد ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں زیادہ ظاہر یہی ہے۔ والاظہر ان المرسلاتھی الریاح الخ (ابن کثیر ج 4 ص 459) ۔ حضرت ابن مسعود، ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابو صالح رحمہم اللہ سے بھی منقول ہے۔ (ایضاً ) ۔ ” عرفا “ حال ہے بمعنی متتابعۃ (کبیر) ۔ یا ” عرفا “ سے احسان و معروف مراد ہے (بیضاوی) ۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو چھوڑی جاتی ہیں احسان و معروف کے ساتھ، مراد رحمت کی ہوائیں ہیں جو نرم و خنک ہوتی ہیں۔ ” فالعصفت عصفا “ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نہایت تند ہوتی ہیں۔ ” والنشرات نشرا “ قسم ہے ان…
Read the full tafseer →عُذْرًا اَوْ نُذْرًا 6 ۙ عذر العُذْرُ : تحرّي الإنسان ما يمحو به ذنوبه . ويقال : عُذْرٌ وعُذُرٌ ، وذلک علی ثلاثة أضرب : إمّا أن يقول : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، فيذكر ما يخرجه عن کو نه مذنبا، أو يقول : فعلت ولا أعود، ونحو ذلک من المقال . وهذا الثالث هو التّوبة، فكلّ توبة عُذْرٌ ولیس کلُّ عُذْرٍ توبةً ، واعْتذَرْتُ إليه : أتيت بِعُذْرٍ ، وعَذَرْتُهُ : قَبِلْتُ عُذْرَهُ. قال تعالی: يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لا تَعْتَذِرُوا[ التوبة/ 94] ، والمُعْذِرُ : من يرى أنّ له عُذْراً ولا عُذْرَ له . قال تعالی: وَجاءَ الْمُعَذِّرُونَ [ التوبة/ 90] ، وقرئ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : والمرسلٰت الواوللقسم عرفا مصدر فی موضع الحال ای متتابعۃ او مفعول لہ ای ارسلت للاحسان والمعروف ‘ فالعاصفات الفاء للعطف و کذامابعدھا معطوف علی المرسلات عصفا مصدر مؤکد یقال عصف بالشیء اذا اباوہ واھل کہ یقال ناقد عصوف و عصفت العرب بالقوم ای ذھبت بھم ذکرا مفعول بہ نشرا۔ وفرقا مصدر ان عذرا او نذرا قیل مصدران لیکن وسطھما اویضم وقیل جمع عذیر و نذیر فعلی الاول ینتصبان علی المفعول لہ اوعلی البدل من ذکرا و بذکرا وعلی الثانی حالان من الضمیر فی الملقیات ای معذورین و منذرین انما اصلہ ان ماما بمعنی الذی والخبر لواقع والجملۃ جواب القسم ولذاصدرت بان للتاکید۔ تفسیر : یہ سورة حسن و عکرمہ وعطاء و جابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
عُذْرًا اَوْنُذْرًا۔ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ۔ (المرسلات : 6، 7) (اتمامِ حجت کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر۔ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ ) ہَوائوں کے تصرفات سے جو حیرت انگیز چیزیں سامنے آتی ہیں، یہ ان کا مقصد بیان ہوا ہے۔ یعنی جو کچھ ہمیں دکھایا جارہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر اتمامِ حجت ہے یا انھیں بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ یعنی جو لوگ اتنی بڑی نشانیوں سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اور غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں، ان لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اور جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان لوگوں کو یاددہانی حاصل ہوتی ہے۔ ہَوائوں کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : الدّہر کے آخر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ انسان اپنی عجلت کی وجہ سے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور آخرت کو فراموش کرتا ہے حالانکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیش رہنے والی ہے۔ سورة المرسَلٰت کی ابتداء میں آخرت کے ابتدائی مراحل کا ذکر گیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور نعمتوں میں ہوا بھی اس کی عظیم نعمت اور اس کی قدرت کی زبردست نشانی ہے جو انسان اور ہر جاندار کے لیے اس قدر ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر انسان اور ہر جاندار چند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ عام لوگ ہوا کو ایک جیسی جانتے اور دیکھتے ہیں۔ بیشک اپنی جنس میں ہوا ایک ہے لیکن اپنی کیفیت اور اثرات کے اعتبار سے ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ہوائوں کی اقسام : 1، 2، 3، 4، 5، 6 : وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ عُذْرًا اَوْنُذْرًا (قسم ہے ان ہوائوں کی جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو تندی سے چلتی ہیں۔ اور ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو اللہ کی یاد یعنی تو بہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ان جماعتوں کی قسم اٹھائی ہے جن کو مختلف کاموں پر بھیجتے ہیں۔ پس وہ احکام کی تعمیل میں تیزی سے چلتے ہیں اور ان فرشتوں کی جماعتوں کی…
Read the full tafseer →5 ۔” فالملقیات ذکرا “ یعنی فرشتے جو ذکر کا انبیاء (علیہم السلام) کی طرف القاء کرتے ہیں۔ اس کی نظیر “ یلقی الروح من امرہ “ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →(عُذْرًا اَوْ نُذْرًا) یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3 تصرفات ہوا کے ذکر سے اصل مقصد کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ ڈال دیتی ہیں ذکر اور یاد عذر یا ڈراوے کے طور پر کہ خوف و ہراس کے اس منظر سے بہت سے دل حق کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں، ان پانچ صفات کے موصوفوں کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ہیں، جیسا کہ ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مدارک اور صفوہ وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود و مذکور ہے، کسی نے ان سب کا موصوف ہواؤں کو قرار دیا اور اسی کو ہم نے بھی اختیار کیا اور کسی نے سب کا موصوف فرشتوں کو بنایا اور کسی نے پہلی تین کا مصداق ہواؤں کو اور آخری دو کا فرشتوں کو اور کسی نے اس کے بالکل برعکس کیا، وغیرہ مزید تفصیل انشاء اللہ اپنی مفصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →ف 9 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے :” معاف کرنے کو یا ڈرانے کو “۔ یعنی مومنوں کے لئے معافی کا وعدہ لاتے ہیں اور کافروں کے لئے عذاب کی خبر۔
Read the full tafseer →(77:6) عذرا اونذرا۔ اس آیت کی تشریح میں متعدد اقوال ہیں جو کتب تفسیر میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ عذر کے معنی ہیں وہ دلیل کہ جس کے ذریعے عذر پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اور نذرا بمعنی ڈرانا۔ ہر دو ذکرا سے بدل ہیں۔ یعنی وہ ذکر جو پہلوں کے لئے الزام اتارنے کے لئے معذرت پیش کرنا اور دوسروں کے لئے اعمال سوء سے بچنے کے لئے ڈرانا ہے۔ (ملاحظہ ہو لغات القرآن) روح المعانی ، تفسیر مظہری وغیرہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →[1] ہوا شرط زندگی ہے اور باران رحمت لاتی ہے۔ کبھی یہی ہوا آندھی بن کر نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہواؤں میں دونوں باتیں ہیں۔ کبھی وہ رحمت ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے بندوں پر اپنی حجت پوری کرتا ہے یعنی ان لوگوں پر حجت پوری ہوجاتی ہے جو غفلت میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور کبھی وہ عذاب اور زحمت ہیں کہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کو ڈراتا ہے۔
Read the full tafseer →(6) یہ خدا کی یاد کا ڈالنا عذر کرنے کو یا ڈرانے کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ یعنی یہ ہوائیں مذکورہ بوجہ دال علی القدرة ہونے کے صانع کی طرف متوجہ ہونے کا سبب ہوجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →(حیلہ ختم کرنے ۔۔ یا ۔۔ ڈرانے کو) یعنی اہل حق کے عذر کے واسطے۔۔ یا ۔۔ ان کے ڈرانے کے لیے جو باطل پر ہیں۔ تو جو فرشتے اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کے پیغام کو انبیاء تک پہنچاتے ہیں۔۔ یا ۔۔ انبیاء (علیہم السلام) مخلوق کو اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں وہ اس لیے ہے کہ مخلوق پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے تاکہ کل قیامت کے دن جب کسی شخص سے پوچھا جائے کہ تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟۔۔ یا ۔۔ تم نے برے اعمال ترک کیوں نہیں کیے ؟۔۔ یا ۔۔ نیک اعمال کیوں نہیں انجام دیے ؟ تو وہ یہ نہ کہہ سکے کہ ہمارے پاس تو اللہ کے احکام پہنچے ہی نہیں تھے۔ یا ۔۔ رسولوں کو اس لیے احکام دے کر لوگوں کے پاس بھیجا کہ…
Read the full tafseer →عُذْرًا أَوْ نُذْرًا ( to provide excuses [ for the believers ] or giving warnings (to disbelievers…77:6) This phrase is complement to verse [ 5]: فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا then bring down the advice, [ 77:5] The 'advice' refers to the 'revelation' that came down upon the Prophets. Verse 6 says that it serves two purposes. In the case of the people of truth and believers, it persuades them to seek excuse from Allah for their shortcomings, and pray for forgiveness; and in the case of the people of falsehood and disbelievers, it contains a warning for them of Allah's torment, if they oppose…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1 That is, sometimes the failure of winds causes the people to be alarmed at the prospect of a famine, and they turn to Allah to repent of their sins: sometimes they bring a lot of rain and the people turn to Allah in gratitude; and sometimes their blowing violently causes dread in the hearts and the people turn to AIlah from fear of destruction. In these verses initially the order of rain-bringing winds has been stated, which is thus: first, winds start blowing in succession; then they assume the proportions of a storm; then they raise the clouds and spread them; then they split and separate…
Read the full tafseer →