فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًا ۟ۙفَالۡمُلۡقِيٰتِ ذِكۡرًا
پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those [angels] who deliver a message
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًا ۟ۙفَالۡمُلۡقِيٰتِ ذِكۡرًا
پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those [angels] who deliver a message
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں
پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں
اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم
پھر نصیحت کی باتیں نازل کرتے ہیں۔
پھر ان کی قسم جو ذکر کا لقا کرتی ہیں
پھر ان کی قَسم جو نصیحت لانے والی ہیں،
پھر جو (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالنے والی ہیں !
پھر (دلوں میں اللہ کی) یاد ڈالتی ہیں
پھر ڈالتی ہیں یاد دہانی
پھر جو ڈال دیتی ہیں (دلوں میں خدا کی) یاد
پھر ان کی جو یاد (الہی) کا القاء کرتی رہتی ہیں
پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ذکر کا القاء کرتے ہیں۔
پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں
and then cast (Allah's) remembrance (in people's hearts),
then bring down the advice,
then bring down the advice,
The Mulqiyat that remind,
By those who bring down the Reminder,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And those [angels] who deliver a message
and by those who reveal revelations (to the prophets)
Then I swear by the angels who bring down the revelation,
And those winds that bring down the remembrance.
Then spread abroad a Message,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الْمُرْسَلٰت 1 یعنی کبھی تو ان کی آمد کے رکنے اور قحط کا خطرہ پیدا ہونے سے دل گداز ہوتے ہیں اور لوگ اللہ سے توبہ و استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی ان کے باران رحمت لانے پر لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی ان کی طوفانی سختی دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور تباہی کے ڈر سے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 3۔ صفحہ نمبر 579)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نفع پہنچانے کے لئے بھیجی جاتی ہیں پھر ان ہواؤں کی جو سختی سے چلتی ہیں (جس سے خطرات کا احتمال ہوتا ہے) اور ان ہواؤں کی جو بادلوں کو (اٹھا کر) پھیلاتی ہیں (جس کے بعد بارش ہونے لگتی ہے) پھر ان ہواؤں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں (جیسا بارش کے بعد ہوتا ہے) پھر ان ہواؤں کی جو (دل میں) اللہ کی یاد یعنی توبہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں (یعنی یہ ہوائیں مذکورہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کی وجہ سے خالق کائنات کی طرف متوجہ ہوجانے کا سبب ہوجاتی ہیں اور وہ توجہ دو طور سے ہوتی ہی ایک خوف سے جبکہ ان ہواؤں سے آثار خوف کے نمایاں ہوں اور دوسرا توبہ و معذرت سے اور یہ…
Read the full tafseer →ہواؤں کی یاددہانی: یعنی بارش کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں پر یاددہانی بھی اتارتی ہیں۔ بارش جن باتوں کی تذکیر کرتی ہے وہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہیں اور ان کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں چند نمایاں پہلو ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ o یہ آسمان و زمین میں توافق کے پہلو سے توحید اور اللہ ہی کی شکرگزاری کی یاددہانی کرتی ہے۔ o اس کے اندر خدا کی ربوبیت کی جو شان ہے وہ خدا کے آگے مسؤلیت کی یاددہانی کرتی ہے۔ o مردہ زمین کو زندہ کر کے یہ بعث اور حشر و نشر کی یاددہانی کرتی ہے۔ o کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے عذاب بن کر یہ خدا کے اختیار مطلق اور اس کے عذاب و ثواب کی یاددہانی کرتی ہے۔
Read the full tafseer →5۔ 1 جو اللہ کا کلام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں یا رسول مراد ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی، اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
1: اس دنیا میں جو ہوائیں چلتی ہیں، ان میں سے کچھ تو ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو فائدہ پہنچاتی اور اس کے لیے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہیں، اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو آندھی طوفان بن کر انسان کے لیے نقصان کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر انسانوں کے پاس آتے ہیں، وہ نیک لوگوں کے لیے خوشخبری اور برے لوگوں کے لیے ڈرانے کا سامان لے کر آتے ہیں۔ اس لیے پہلی تین آیتوں میں ہواؤں کی قسم کھائی گئی ہے، اور دوسری تین آیتوں میں فرشتوں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر…
Read the full tafseer →2 حضرت شاہ صاحب عبدالعزیز (رح) نے " اَلْمُلٰقِیٰتِ ذِکْرًا " سے بھی ہوائیں مراد لی ہیں کیونکہ وحی کی آواز کا لوگوں کے کانوں تک پہنچانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہے۔ (تنبیہ) " اَلْمُرْسَلٰتِ "، " اَلْعٰصِفٰتِ "، " اَلنّٰشِرَاتِ الْفٰرِقٰتِ "، " اَلْمُلٰقِیٰتِ " پانچوں کا مصداق کسی نے ہواؤں کو ٹھہرایا ہے، کسی نے فرشتوں کو، کسی نے پیغمبروں کو، اور بعض مفسرین نے پہلی چار سے ہوائیں مراد لیں ہیں اور پانچویں سے فرشتے، جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ اور بھی اقوال ہیں جن سب کی تفصیل روح المعانی میں ملے گی۔
Read the full tafseer →آیت 5{ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ } ”پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ذکر کا القاء کرتے ہیں۔“ گزشتہ چار آیات کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین متفق ہیں کہ ان میں ہوائوں کا ذکر ہے۔ البتہ اس آیت کے حوالے سے زیادہ تر مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے فرشتے مراد ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتے ہیں۔ البتہ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں بھی ہوائوں ہی کا تذکرہ ہے۔ اس حوالے سے ان مفسرین کا استدلال یہ ہے کہ کسی نبی یا کسی داعی کی آواز بھی تو ہوا ہی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچتی ہے۔ یعنی پیغامات و معلومات کی ترسیل و تقسیم کا ذریعہ medium تو بہرحال ہوا ہی ہے۔
Read the full tafseer →2 بعض مفسرین نے ( فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ ) 77 ۔ المرسلات :5) سے بھی ہوائیں ہی مراد لی ہیں۔ کیونکہ آواز بھی ہوا کے ذریعہ ہی لوگوں کے کانوں تک پہنچتی ہے اگر ہوا نہ ہوتی تو وحی کی آواز نہ لوگوں کے کانوں میں پڑ سکتی تھی اور نہ ہی اس سے وہ کچھ نصیحت حاصل کرسکتے تھے اور بعض مفسرین نے اس سے مراد فرشتے لیے ہیں جو وحی کو پیغمبروں کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔ یا دوسرے لوگوں کے دلوں میں القاء والہام کا سبب بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات خود ہی گواہی دے رہا ہے وقوع قیامت کی۔ قرآنی قسموں کے لئے ملاحظہ ہو پ 14 کا ضمیمہ زیر عنوان ” قرآنی قسمیں “۔ (آیت) ” والمرسلت عرفا “۔ یعنی وہ ہوائیں جو نفع پہنچانے ہی کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ (آیت) ” فالعصفت عصفا “۔ یہ تندوتیز ہوائیں، یا آندھیاں ہر قسم کے خطرات کا امکان لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ (آیت) ” والنشرت نشرا “۔ یعنی برساتی ہوائیں یامانسون۔ (آیت) ” فالفرقت فرقا “۔ یعنی وہی برساتنی ہوائیں جو پانی لاتی تھیں بادلوں کو منتشر کردیتی ہی۔ (آیت) ” عذرا اونذرا “۔ توجہ الی اللہ کے ذریعے دو مختلف ہیں۔ ایک ترغیب دوسرے ترہیب۔ ہوائیں اگر خوشگوار ونفع بخش ہوئیں، تو اللہ کی نعمت ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے مسلسل چلنے والی ہوائوں کی یعنی ان ہوائوں کی جو تسلسل میں گھوڑے کے (گردن) کے بالوں کی مانند ہیں، عرفاً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، پھر زور سے چلنے والی ہوائوں کی قسم یعنی زور دار ہوائوں کی اور پھیلانے والی ہوائوں کی قسم، یعنی ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں، پھر فرق کرنے والی آیات کی قسم یعنی قرآنی آیات کی جو حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان فرق کرتی ہیں، پھر وحی کا القاء کرنے والوں کی قسم یعنی ان فرشتوں کی قسم جو انبیاء (علیہم السلام) پر وحی لے کر نازل ہوتے ہیں یا ان رسولوں کی قسم جو اس وحی کو امت کو پہنچا…
Read the full tafseer →فالملقیٰت ذکرًا اور انبیاء کے دلوں میں وحی کا القاء کرتے ہیں یا مؤمنوں کے دلوں میں ذکر خدا سے یقین پیدا کرتے ہیں۔ مجاہد و قتادہ نے کہا (پوری آیت میں) ہوائیں مراد ہیں۔ المرسلٰت عرفًا۔ یعنی ان ہواؤں کی قسم جو پیہم چلائی جاتی ہیں۔ بعض اقوال میں عرفًا کا معنی کثیر بھی آیا ہے (یعنی وہ ہوائیں جو بکثرت چلائی جاتی ہیں) العٰصفٰت عصفًا تیز چلنے والیاں۔ الناشرات نشرًا۔ بادلوں کو فضاء میں اٹھا کر لانے والیاں۔ الفارقٰت فرقًا۔ بادلوں کو دبا کر نچوڑنے والیاں یا بارش کے بعد ابر کو پراگندہ کردینے والیاں۔ فالملقیٰت ذکرًا۔ دلوں میں یاد خدا پیدا کرنے والیاں۔ ہوش مند جب ہوا کی رفتار دیکھتا ہے اور اس کی اٹھان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5) قسم ہے تیز رفتار فرشتوں کی یا یہ کہ ان فرشتوں کی جو نفع پہنچانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور پھر ان ہواؤں کی جو تندہی سے چلتی ہیں اور پھر بادلوں کی یا ان ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں یا اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتابوں کو کھولتے ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں یا اس سے مراد وہ آیات ہیں جو کہ حق و باطل حلال و حرام کے درمیان امتیاز کرتی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان تینوں قسموں سے ہوائیں مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت عرفاً …:”المرسلت“ یہ ”الریاح“ کی صفت ہے جو محذوف ہے ، وہ ہوائیں جو چھڑوی گئی ہیں، بھیجی گئی ہیں۔”عرفاً“ یہ ”نکر“ کی ضد ہے، جانی پہچانی چیز، بھلائی۔ گھوڑے کی گردن کے بالوں اور مرغ کی کلغی کو بھی ”عرف“ کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک سطر میں یکے بعد دیگرے ہوتی ہیں، اس لئے ان کی مشابہت سے پے در پے آنے والی چیزوں پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً :”جاو وا عرفاً واحداً“”وہ سب پے در پے آگئے۔“”عرفاً“ کا معنی اگر جانی پہچانی چیز کریں تو اس ہلے ”بائ“ مقدر ہوگی :”ای والمرسلات بالعرف“”یعنی ان ہواؤں کی قسم جو جانے پہچانے معمول کے مطابق چھوڑی جاتی ہیں !“ اگر اس کا معنی بھلائی کریں تو اس ہلے ”لام“…
Read the full tafseer →فالملقیت ذکرا۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب انبیاء تک پہنچاتے ہیں یہ مہدوی نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں ان کے لیے جمع کا ذکر کیا کیونکہ جبرائیل امین فرشتوں کے ساتھ اترتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد رسول اللہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف جو نازل کرتا ہی وہ اپنی امتوں تک پہنچاتے ہیں یہ قطرب کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے اسے فالملقیات بھی پڑھا ہے یعنی قاف کو مشدد اور مفتوح۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وانک لتلقی القرآن۔ نمل 6) اور بیشک آپ کو سکھایا جاتا ہے قرآن حکیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
۔ آیت والنشرت نشرا سے مراد ہے ہو۔ 15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی والمرسلت عرفا سے مراد ہے ہوا آیت فالعصفت عصفا سے مرد ہے ہوا آیت فالفرقت فرقا سے مراد ہے قرآن کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا۔ آیت فالملقیت ذکرا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو رسولوں پر ذکر القا کرتے ہی پھر رسول یہی ذکر بنی آدم کے پاس لاتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا ڈرانے کے لیے کافروں کو پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے لیے اتمام حجت ہے ڈراوا ہے۔ 16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالعصفت عصفا والنشرات نشرا فالفرقات…
Read the full tafseer →[فَالْمُلْقِيٰتِ : پھر قسم ہے سامنے کرنے والیوں کی ] [ذِكْرًا : یاددہانی کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
قیامت ضرور واقع ہوگی، رسولوں کو وقت معین پر جمع کیا جائے گا، فیصلہ کے دن کیلئے مہلت دی گئی ہے مذکورہ بالا آیات میں ہواؤں کی قسمیں کھائیں اور قسمیں کھا کر یہ بتایا کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ چیز ضرور واقع ہوگی یعنی قیامت ضرور ہی آئے گی انکار کرنے سے ٹلنے والی نہیں ہواؤں کی جو قسمیں کھائیں اس میں دونوں قسم کی ہوائیں مذکور ہیں۔ فائدہ پہنچانے والی بھی اور ضرر دینے والی بھی۔ بادلوں کو لانے والی فائدہ پہنچانے والی ہیں اور تیزی اور تندی سے چلنے والی تکلیف پہنچانے والی ہیں پہلی ہوائیں شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہیں اور خوفناک ہوائیں اللہ کی گرفت اور نعمت یاد دلانے والی ہیں انسان کو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
2:۔ ” والمرسلات عرفا “ مرسلات اور باقی الفاظ سے بعض نے فرشتے مراد لیے ہیں اور بعض کے نزدیک ان سے ہوائیں مراد ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں زیادہ ظاہر یہی ہے۔ والاظہر ان المرسلاتھی الریاح الخ (ابن کثیر ج 4 ص 459) ۔ حضرت ابن مسعود، ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابو صالح رحمہم اللہ سے بھی منقول ہے۔ (ایضاً ) ۔ ” عرفا “ حال ہے بمعنی متتابعۃ (کبیر) ۔ یا ” عرفا “ سے احسان و معروف مراد ہے (بیضاوی) ۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو چھوڑی جاتی ہیں احسان و معروف کے ساتھ، مراد رحمت کی ہوائیں ہیں جو نرم و خنک ہوتی ہیں۔ ” فالعصفت عصفا “ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نہایت تند ہوتی ہیں۔ ” والنشرات نشرا “ قسم ہے ان…
Read the full tafseer →فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا 5 ۙ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : والمرسلٰت الواوللقسم عرفا مصدر فی موضع الحال ای متتابعۃ او مفعول لہ ای ارسلت للاحسان والمعروف ‘ فالعاصفات الفاء للعطف و کذامابعدھا معطوف علی المرسلات عصفا مصدر مؤکد یقال عصف بالشیء اذا اباوہ واھل کہ یقال ناقد عصوف و عصفت العرب بالقوم ای ذھبت بھم ذکرا مفعول بہ نشرا۔ وفرقا مصدر ان عذرا او نذرا قیل مصدران لیکن وسطھما اویضم وقیل جمع عذیر و نذیر فعلی الاول ینتصبان علی المفعول لہ اوعلی البدل من ذکرا و بذکرا وعلی الثانی حالان من الضمیر فی الملقیات ای معذورین و منذرین انما اصلہ ان ماما بمعنی الذی والخبر لواقع والجملۃ جواب القسم ولذاصدرت بان للتاکید۔ تفسیر : یہ سورة حسن و عکرمہ وعطاء و جابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ (المرسلات : 1 تا 5) (قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں۔ پس وہ اڑاتی ہیں غبار اندھادھند۔ اور قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پھیلانے والی ہیں (بادلوں کو) ۔ پھر ( ان کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں۔ پھر ڈالتی ہیں یاددہانی۔ ) وقوعِ قیامت پر پانچ قسموں کا مفہوم اور تعین ان آیات میں پروردگار نے پانچ قسمیں کھائی ہیں اور ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں بالعموم قسموں کی حیثیت دلائل اور شواہد کی ہوتی ہے۔ اور بعد میں آنے والا جملہ مقسم علیہ یا دعویٰ کہلاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : الدّہر کے آخر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ انسان اپنی عجلت کی وجہ سے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور آخرت کو فراموش کرتا ہے حالانکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیش رہنے والی ہے۔ سورة المرسَلٰت کی ابتداء میں آخرت کے ابتدائی مراحل کا ذکر گیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور نعمتوں میں ہوا بھی اس کی عظیم نعمت اور اس کی قدرت کی زبردست نشانی ہے جو انسان اور ہر جاندار کے لیے اس قدر ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر انسان اور ہر جاندار چند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ عام لوگ ہوا کو ایک جیسی جانتے اور دیکھتے ہیں۔ بیشک اپنی جنس میں ہوا ایک ہے لیکن اپنی کیفیت اور اثرات کے اعتبار سے ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ہوائوں کی اقسام : 1، 2، 3، 4، 5، 6 : وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ عُذْرًا اَوْنُذْرًا (قسم ہے ان ہوائوں کی جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو تندی سے چلتی ہیں۔ اور ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو اللہ کی یاد یعنی تو بہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ان جماعتوں کی قسم اٹھائی ہے جن کو مختلف کاموں پر بھیجتے ہیں۔ پس وہ احکام کی تعمیل میں تیزی سے چلتے ہیں اور ان فرشتوں کی جماعتوں کی…
Read the full tafseer →4 ۔” فالفارقات فرقا “ ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی فرشتے جو اس کو لاتے ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کرتا ہے۔ قتادہ اور حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ قرآن کی آیتیں ہیں جو حلال و حرام کے درمیان فرق کرتی ہیں۔ مجاہد (رح) سے روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں وہ ہوائیں جو بادلوں کو جدا کرتی اور تقسیم کرتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →(فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا) اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء ومرسلین کی طرف بھیجتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3 تصرفات ہوا کے ذکر سے اصل مقصد کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ ڈال دیتی ہیں ذکر اور یاد عذر یا ڈراوے کے طور پر کہ خوف و ہراس کے اس منظر سے بہت سے دل حق کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں، ان پانچ صفات کے موصوفوں کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ہیں، جیسا کہ ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مدارک اور صفوہ وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود و مذکور ہے، کسی نے ان سب کا موصوف ہواؤں کو قرار دیا اور اسی کو ہم نے بھی اختیار کیا اور کسی نے سب کا موصوف فرشتوں کو بنایا اور کسی نے پہلی تین کا مصداق ہواؤں کو اور آخری دو کا فرشتوں کو اور کسی نے اس کے بالکل برعکس کیا، وغیرہ مزید تفصیل انشاء اللہ اپنی مفصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →ف 8 اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ بعض نے مراد انبیاء ( علیہ السلام) لئے ہیں جو بندوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ (ایضاً ) ۔
Read the full tafseer →(77:5) فالملقیت ذکرا۔عاطفہ واؤ قسمیہ محذوف۔ الملقیت القاء (افعال) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ بقول ابن کثیر بالاجماع یہاں مراد فرشتوں کی جماعت ہے ، جو اللہ کی وحی کو انبیاء تک پہنچانے والے ہیں۔ صاحب ضیاء القرآن نے ان پانچ چیزوں سے ہوائیں مراد لیتے ہوئے یہ ترجمہ کیا ہے :۔ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو (دلوں میں) ذکر کا القاء کرنے والی ہیں۔ ذکرا مفعول بہٖ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →(5) پھر ان ہوائوں کی جو دل میں خدا کی یاد ڈالتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ یعنی یہ ہوائیں مذکورہ بوجہ دال علی القدرة ہونے کے صانع کی طرف متوجہ ہونے کا سبب ہوجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →(پھر ذکر کا القاء کرنے والی ہستیوں کی) یعنی ان فرشتوں کی قسم جو پیغمبروں پر القاء کرنے والے اور ڈالنے والے ہوں وحی کو۔۔ یا ۔۔ کلام اللہ کی آیتیں جو اہل عالم میں حق تعالیٰ کا ذکر ڈالتی ہیں ان کی قسم یا۔۔ جو ہوائیں کہ یاد الہی کا سبب ہوتی ہیں ان کی قسم۔ اس واسطے کہ ہواؤں کے چلنے کا معاہدہ خدا کی یاد کا اور اس کی قدرت پر دلیل پکڑنے کا موجب ہے۔ اب رہا سوال کہ یہ القاء اور کس لیے ہے ۔۔ تو۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary Occasion of Revelation Sahih of Bukhari records from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud that he said: "While we were with Allah's Messenger in a cave at Mina, the Surah 'wal-Mursalat' was revealed to him. He was reciting it, and I was learning it from his mouth. Verily, his mouth was moist with it, when a snake leaped out at us. The Holy Prophet said, 'Kill it!' So we quickly went after it, but it got away. Then the Holy Prophet said, 'It was saved from your harm, just as you all were saved from its harm'." [ Ibn Kathir ]. Allah swears oaths in this Surah by various phenomena to assert…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1 That is, sometimes the failure of winds causes the people to be alarmed at the prospect of a famine, and they turn to Allah to repent of their sins: sometimes they bring a lot of rain and the people turn to Allah in gratitude; and sometimes their blowing violently causes dread in the hearts and the people turn to AIlah from fear of destruction. In these verses initially the order of rain-bringing winds has been stated, which is thus: first, winds start blowing in succession; then they assume the proportions of a storm; then they raise the clouds and spread them; then they split and separate…
Read the full tafseer →