Al-Mursalaat 77:4

Al-Mursalaat · from ayah 4

77:4

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا ۟ۙفَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا

پھر ان کو پھاڑ کر جدا جدا کر دیتی ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those [angels] who bring criterion

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:4

پھر (اُن کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان کو پھاڑ کر جدا جدا کر دیتی ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو حق اور باطل کو الگ الگ کردیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والیاں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ان کی قَسم جو (اُنہیں) پھاڑ کر جدا جدا کر دیتی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جو (انھیں) پھاڑ کر جدا جدا کردینے والی ہیں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر انہیں پھاڑ کر جدا کرتی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر وہ معاملہ کرتی ہیں جدا جدا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جو جدا کردیتی ہیں (ان کو) پھاڑ کر

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ان کی جو (انہیں) متفرق کردیتی ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کو پھاڑ کر جدا جدا کردیتی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and by those (angels) who differentiate (between right and wrong) distinctly,

— Muhammad Taqi Usmani

and by those (angels) who differentiate (between right and wrong) distinctly,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Fariqat that separate.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those [angels] who bring criterion

— Saheeh International

by (the angels) who make a clear distinction between right and wrong

— Muhammad Sarwar

Then separate them one from another,

— Muhammad Habib Shakir

And the scattering wind scattering.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 77:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–6

سورة الْمُرْسَلٰت 1 یعنی کبھی تو ان کی آمد کے رکنے اور قحط کا خطرہ پیدا ہونے سے دل گداز ہوتے ہیں اور لوگ اللہ سے توبہ و استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی ان کے باران رحمت لانے پر لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی ان کی طوفانی سختی دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور تباہی کے ڈر سے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 3۔ صفحہ نمبر 579)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نفع پہنچانے کے لئے بھیجی جاتی ہیں پھر ان ہواؤں کی جو سختی سے چلتی ہیں (جس سے خطرات کا احتمال ہوتا ہے) اور ان ہواؤں کی جو بادلوں کو (اٹھا کر) پھیلاتی ہیں (جس کے بعد بارش ہونے لگتی ہے) پھر ان ہواؤں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں (جیسا بارش کے بعد ہوتا ہے) پھر ان ہواؤں کی جو (دل میں) اللہ کی یاد یعنی توبہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں (یعنی یہ ہوائیں مذکورہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کی وجہ سے خالق کائنات کی طرف متوجہ ہوجانے کا سبب ہوجاتی ہیں اور وہ توجہ دو طور سے ہوتی ہی ایک خوف سے جبکہ ان ہواؤں سے آثار خوف کے نمایاں ہوں اور دوسرا توبہ و معذرت سے اور یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ہوائیں خود مختار نہیں بلکہ مسخّر ہیں: یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے یعنی یہ ہوائی فرق و امتیاز کرتی ہیں۔ کبھی بادلوں کو ہانک کر لاتی ہیں کبھی ان کو اڑا کر لے جاتی ہیں۔ ایک علاقہ کو جل تھل کر دیتی ہیں، دوسرے کو تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ خود کار و خود مختار نہیں بلکہ ایک بالا تر قوت کے تابع فرمان ہیں۔ یہ فرق و امتیاز چونکہ ’نشر‘ کے ذریعہ سے اور اس کے بعد نمایاں ہوتا ہے اس وجہ سے عطف ’ف‘ کے ذریعہ سے ہوا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–5

1: اس دنیا میں جو ہوائیں چلتی ہیں، ان میں سے کچھ تو ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو فائدہ پہنچاتی اور اس کے لیے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہیں، اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو آندھی طوفان بن کر انسان کے لیے نقصان کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر انسانوں کے پاس آتے ہیں، وہ نیک لوگوں کے لیے خوشخبری اور برے لوگوں کے لیے ڈرانے کا سامان لے کر آتے ہیں۔ اس لیے پہلی تین آیتوں میں ہواؤں کی قسم کھائی گئی ہے، اور دوسری تین آیتوں میں فرشتوں کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–7

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 3–4

1 یعنی ان ہواؤں کی قسم جو بخارات وغیرہ کو اٹھا کر اوپر لے جاتی ہیں اور ابر کو ابھار کر جو میں پھیلا دیتی ہیں پھر جہاں جہاں پہنچانا ہے اللہ کے حکم سے اس کے حصے کر کے بانٹتی ہیں اور بارش کے بعد بادلوں کو پھاڑ کر ادھر ادھر متفرق کرتی ہیں اور کچھ ابر کے ساتھ مخصوص نہیں، ہوا کی عام خاصیت یہ ہے کہ اشیاء کی کیفیات مثلاً بدبو وغیرہ کو پھیلائے ان کے لطیف اجزا کو جدا کر کے لے اڑے اور ایک چیز کو اٹھا کر دوسری چیز سے جا ملائے۔ غرض یہ جمع و تفریق جو ہوا کا خاصہ ہے ایک نمونہ ہے آخرت کا، جہاں حشر و نشر کے بعد لوگ جدا کیے جائیں گے اور ایک جگہ جمع ہونے کے بعد الگ الگ ٹھکانوں پر پہنچا دیے جائیں گے۔ (هٰذَا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ } ”پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔“ سورة الذاریات میں ہوائوں کی اس خصوصیت کا ذکر { فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ } کے الفاظ میں ہوا ہے۔ یعنی ہوائیں سمندر سے بخارات کو بادلوں کی صورت میں دور دراز علاقوں تک لے جاتی ہیں ‘ پھر وہ اس پانی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مختلف علاقوں میں بارش کی صورت میں تقسیم کرتی ہیں۔ اس تقسیم میں ان کا معاملہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ ُ جدا جدا ہوتا ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے َجل تھل ہوجاتا ہے اور کوئی علاقہ خشک رہ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–4

1 ہواؤں کی اقسام اور صفات :۔ کرہ زمین کی سطح پر اللہ تعالیٰ نے ہوا کا ایک کرہ بنادیا۔ جو ہر خشکی کے جاندار کے لیے پانی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ پانی کے بغیر تو انسان ایک آدھ دن زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر ہوا کے بغیر دو چار منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر جس طرح پانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ کوئی پانی میٹھا ہوتا ہے، کوئی کھاری، کوئی نمکین، کوئی گدلا، کوئی صاف و شفاف، کوئی ہلکا پانی، کوئی بھاری اور کوئی متعفن اور بدبودار اسی طرح ہواؤں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ باد نسیم اور باد صبا کا انسان کی طبیعت پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے۔ جبکہ باد صرصر اور باد سموم سخت نقصان دہ ہیں۔ کچھ ہوائیں مشرق سے مغرب کو چلتی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–7

1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات خود ہی گواہی دے رہا ہے وقوع قیامت کی۔ قرآنی قسموں کے لئے ملاحظہ ہو پ 14 کا ضمیمہ زیر عنوان ” قرآنی قسمیں “۔ (آیت) ” والمرسلت عرفا “۔ یعنی وہ ہوائیں جو نفع پہنچانے ہی کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ (آیت) ” فالعصفت عصفا “۔ یہ تندوتیز ہوائیں، یا آندھیاں ہر قسم کے خطرات کا امکان لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ (آیت) ” والنشرت نشرا “۔ یعنی برساتی ہوائیں یامانسون۔ (آیت) ” فالفرقت فرقا “۔ یعنی وہی برساتنی ہوائیں جو پانی لاتی تھیں بادلوں کو منتشر کردیتی ہی۔ (آیت) ” عذرا اونذرا “۔ توجہ الی اللہ کے ذریعے دو مختلف ہیں۔ ایک ترغیب دوسرے ترہیب۔ ہوائیں اگر خوشگوار ونفع بخش ہوئیں، تو اللہ کی نعمت ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے مسلسل چلنے والی ہوائوں کی یعنی ان ہوائوں کی جو تسلسل میں گھوڑے کے (گردن) کے بالوں کی مانند ہیں، عرفاً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، پھر زور سے چلنے والی ہوائوں کی قسم یعنی زور دار ہوائوں کی اور پھیلانے والی ہوائوں کی قسم، یعنی ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں، پھر فرق کرنے والی آیات کی قسم یعنی قرآنی آیات کی جو حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان فرق کرتی ہیں، پھر وحی کا القاء کرنے والوں کی قسم یعنی ان فرشتوں کی قسم جو انبیاء (علیہم السلام) پر وحی لے کر نازل ہوتے ہیں یا ان رسولوں کی قسم جو اس وحی کو امت کو پہنچا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) قسم ہے تیز رفتار فرشتوں کی یا یہ کہ ان فرشتوں کی جو نفع پہنچانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور پھر ان ہواؤں کی جو تندہی سے چلتی ہیں اور پھر بادلوں کی یا ان ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں یا اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتابوں کو کھولتے ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں یا اس سے مراد وہ آیات ہیں جو کہ حق و باطل حلال و حرام کے درمیان امتیاز کرتی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان تینوں قسموں سے ہوائیں مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–7

والمرسلت عرفاً …:”المرسلت“ یہ ”الریاح“ کی صفت ہے جو محذوف ہے ، وہ ہوائیں جو چھڑوی گئی ہیں، بھیجی گئی ہیں۔”عرفاً“ یہ ”نکر“ کی ضد ہے، جانی پہچانی چیز، بھلائی۔ گھوڑے کی گردن کے بالوں اور مرغ کی کلغی کو بھی ”عرف“ کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک سطر میں یکے بعد دیگرے ہوتی ہیں، اس لئے ان کی مشابہت سے پے در پے آنے والی چیزوں پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً :”جاو وا عرفاً واحداً“”وہ سب پے در پے آگئے۔“”عرفاً“ کا معنی اگر جانی پہچانی چیز کریں تو اس ہلے ”بائ“ مقدر ہوگی :”ای والمرسلات بالعرف“”یعنی ان ہواؤں کی قسم جو جانے پہچانے معمول کے مطابق چھوڑی جاتی ہیں !“ اگر اس کا معنی بھلائی کریں تو اس ہلے ”لام“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فالفرقت فرقا۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں یہ حضرت ابن عباس، مجاہد، ضحاک اور ابوصالح نے کہا، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد فرشتے جوروزی، رزق اور موت بانٹتے ہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو بادل کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہیں۔ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد فرقان ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں حق و باطل اور حلال و حرام میں فرق کردیا ہے۔ یہ حضرت حسن بصری اور کیسان کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ رسول ہیں جنہوں نے اوامر ونواہی کو بیان کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد بارش برسانے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–7

۔ آیت والنشرت نشرا سے مراد ہے ہو۔ 15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی والمرسلت عرفا سے مراد ہے ہوا آیت فالعصفت عصفا سے مرد ہے ہوا آیت فالفرقت فرقا سے مراد ہے قرآن کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا۔ آیت فالملقیت ذکرا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو رسولوں پر ذکر القا کرتے ہی پھر رسول یہی ذکر بنی آدم کے پاس لاتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا ڈرانے کے لیے کافروں کو پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے لیے اتمام حجت ہے ڈراوا ہے۔ 16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالعصفت عصفا والنشرات نشرا فالفرقات…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَالْفٰرِقٰتِ : پھر قسم ہے الگ الگ کرنے والیوں کی ] [فَرْقًا : جیسے الگ الگ کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

قیامت ضرور واقع ہوگی، رسولوں کو وقت معین پر جمع کیا جائے گا، فیصلہ کے دن کیلئے مہلت دی گئی ہے مذکورہ بالا آیات میں ہواؤں کی قسمیں کھائیں اور قسمیں کھا کر یہ بتایا کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ چیز ضرور واقع ہوگی یعنی قیامت ضرور ہی آئے گی انکار کرنے سے ٹلنے والی نہیں ہواؤں کی جو قسمیں کھائیں اس میں دونوں قسم کی ہوائیں مذکور ہیں۔ فائدہ پہنچانے والی بھی اور ضرر دینے والی بھی۔ بادلوں کو لانے والی فائدہ پہنچانے والی ہیں اور تیزی اور تندی سے چلنے والی تکلیف پہنچانے والی ہیں پہلی ہوائیں شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہیں اور خوفناک ہوائیں اللہ کی گرفت اور نعمت یاد دلانے والی ہیں انسان کو دنیا میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–7

2:۔ ” والمرسلات عرفا “ مرسلات اور باقی الفاظ سے بعض نے فرشتے مراد لیے ہیں اور بعض کے نزدیک ان سے ہوائیں مراد ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں زیادہ ظاہر یہی ہے۔ والاظہر ان المرسلاتھی الریاح الخ (ابن کثیر ج 4 ص 459) ۔ حضرت ابن مسعود، ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابو صالح رحمہم اللہ سے بھی منقول ہے۔ (ایضاً ) ۔ ” عرفا “ حال ہے بمعنی متتابعۃ (کبیر) ۔ یا ” عرفا “ سے احسان و معروف مراد ہے (بیضاوی) ۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو چھوڑی جاتی ہیں احسان و معروف کے ساتھ، مراد رحمت کی ہوائیں ہیں جو نرم و خنک ہوتی ہیں۔ ” فالعصفت عصفا “ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نہایت تند ہوتی ہیں۔ ” والنشرات نشرا “ قسم ہے ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۝ 4 ۙ فرق الفَرْقُ يقارب الفلق لکن الفلق يقال اعتبارا بالانشقاق، والفرق يقال اعتبارا بالانفصال . قال تعالی: وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] ، والفِرْقُ : القطعة المنفصلة، ومنه : الفِرْقَةُ للجماعة المتفرّدة من النّاس، وقیل : فَرَقُ الصّبح، وفلق الصّبح . قال : فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ، (ر ق ) الفرق والفلق کے قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور مغی انفعال یعنی الگ الگ ہونے کے لحاظ سے فرق قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] اور جب ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : والمرسلٰت الواوللقسم عرفا مصدر فی موضع الحال ای متتابعۃ او مفعول لہ ای ارسلت للاحسان والمعروف ‘ فالعاصفات الفاء للعطف و کذامابعدھا معطوف علی المرسلات عصفا مصدر مؤکد یقال عصف بالشیء اذا اباوہ واھل کہ یقال ناقد عصوف و عصفت العرب بالقوم ای ذھبت بھم ذکرا مفعول بہ نشرا۔ وفرقا مصدر ان عذرا او نذرا قیل مصدران لیکن وسطھما اویضم وقیل جمع عذیر و نذیر فعلی الاول ینتصبان علی المفعول لہ اوعلی البدل من ذکرا و بذکرا وعلی الثانی حالان من الضمیر فی الملقیات ای معذورین و منذرین انما اصلہ ان ماما بمعنی الذی والخبر لواقع والجملۃ جواب القسم ولذاصدرت بان للتاکید۔ تفسیر : یہ سورة حسن و عکرمہ وعطاء و جابر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ (المرسلات : 1 تا 5) (قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں۔ پس وہ اڑاتی ہیں غبار اندھادھند۔ اور قسم ہے ان ہَوائوں کی جو پھیلانے والی ہیں (بادلوں کو) ۔ پھر ( ان کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں۔ پھر ڈالتی ہیں یاددہانی۔ ) وقوعِ قیامت پر پانچ قسموں کا مفہوم اور تعین ان آیات میں پروردگار نے پانچ قسمیں کھائی ہیں اور ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں بالعموم قسموں کی حیثیت دلائل اور شواہد کی ہوتی ہے۔ اور بعد میں آنے والا جملہ مقسم علیہ یا دعویٰ کہلاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : الدّہر کے آخر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ انسان اپنی عجلت کی وجہ سے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور آخرت کو فراموش کرتا ہے حالانکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیش رہنے والی ہے۔ سورة المرسَلٰت کی ابتداء میں آخرت کے ابتدائی مراحل کا ذکر گیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور نعمتوں میں ہوا بھی اس کی عظیم نعمت اور اس کی قدرت کی زبردست نشانی ہے جو انسان اور ہر جاندار کے لیے اس قدر ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر انسان اور ہر جاندار چند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ عام لوگ ہوا کو ایک جیسی جانتے اور دیکھتے ہیں۔ بیشک اپنی جنس میں ہوا ایک ہے لیکن اپنی کیفیت اور اثرات کے اعتبار سے ہوا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–6

ہوائوں کی اقسام : 1، 2، 3، 4، 5، 6 : وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ عُذْرًا اَوْنُذْرًا (قسم ہے ان ہوائوں کی جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو تندی سے چلتی ہیں۔ اور ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو اللہ کی یاد یعنی تو بہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ان جماعتوں کی قسم اٹھائی ہے جن کو مختلف کاموں پر بھیجتے ہیں۔ پس وہ احکام کی تعمیل میں تیزی سے چلتے ہیں اور ان فرشتوں کی جماعتوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” والناشرات نشرا “ یعنی نرم ہوائیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ ہوائیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے آگے خوشخبری دینے کے لئے بھیجتے ہیں اور کہا گیا ہے یہ وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور بارش لاتی ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ وہ فرشتے ہیں جو نامہ اعمال کو پھیلائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–4

(وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا) اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انہیں جس چیز کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ زمین کو سرسبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–6

3 تصرفات ہوا کے ذکر سے اصل مقصد کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ ڈال دیتی ہیں ذکر اور یاد عذر یا ڈراوے کے طور پر کہ خوف و ہراس کے اس منظر سے بہت سے دل حق کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں، ان پانچ صفات کے موصوفوں کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ہیں، جیسا کہ ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مدارک اور صفوہ وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود و مذکور ہے، کسی نے ان سب کا موصوف ہواؤں کو قرار دیا اور اسی کو ہم نے بھی اختیار کیا اور کسی نے سب کا موصوف فرشتوں کو بنایا اور کسی نے پہلی تین کا مصداق ہواؤں کو اور آخری دو کا فرشتوں کو اور کسی نے اس کے بالکل برعکس کیا، وغیرہ مزید تفصیل انشاء اللہ اپنی مفصل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 بعض نے ان سے مراد فرشتے لئے ہیں یا قرآنی آیات یا انبیائ ( علیہ السلام) جو ہق کو باطل سے جدا کرتے ہیں۔ (ایضا) ً ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:4) فالفرقت فرقا :عاطفہ، واؤ قسیمہ محذوف۔ الفرقت فرق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ الفارقۃ واحد فرقا مصدر جو کہ بطور تاکید لایا گیا ہے۔ اس کا عطف بھی مرسلت پر ہے۔ ترجمہ :۔ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو (بادلوں کو) پارہ پارہ کرنے والی ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 1۔ یعنی یہ ہوائیں مذکورہ بوجہ دال علی القدرة ہونے کے صانع کی طرف متوجہ ہونے کا سبب ہوجاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–4

(قسم ہے ان کی جو چھوڑی جاتی ہیں خوب) یعنی ان فرشتوں کی مبارک ہیئتوں کی جو نیکی کے ساتھ بھیجی جاتی ہیں ، یعنی جو فرشتے محمد ﷺ پر امر و نہی۔۔ یا ۔۔ قرآن کی آیتوں کے ساتھ بھیجے گئے۔۔ یا ۔۔ ان ہواؤں کے ساتھ جو پئے بہ پئے چلائی گئیں ہیں۔ (پھر) وہ ہستیاں جو (جھونکے دینے والی ) ہیں (سخت) یعنی پھر قسم ان فرشتوں کی جو تیز سخت اور جلد جاتے ہیں اور احکام الہی تیزی سے بجا لاتے ہیں۔ یا۔۔ احکام کلام اللہ کی قسم جو اور احکام کو محو کردینے والے ہیں یعنی اگلی شریعتوں اور دینوں کو منسوخ کردینے والے ہیں۔ یا۔۔ ان ہواؤں کی قسم جو سختی کے ساتھ کسی قوم پر عذاب کے لیے چلنے والی ہیں۔ (اور قسم ہے خوب اٹھانے والی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary Occasion of Revelation Sahih of Bukhari records from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud that he said: "While we were with Allah's Messenger in a cave at Mina, the Surah 'wal-Mursalat' was revealed to him. He was reciting it, and I was learning it from his mouth. Verily, his mouth was moist with it, when a snake leaped out at us. The Holy Prophet said, 'Kill it!' So we quickly went after it, but it got away. Then the Holy Prophet said, 'It was saved from your harm, just as you all were saved from its harm'." [ Ibn Kathir ]. Allah swears oaths in this Surah by various phenomena to assert…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

1 That is, sometimes the failure of winds causes the people to be alarmed at the prospect of a famine, and they turn to Allah to repent of their sins: sometimes they bring a lot of rain and the people turn to Allah in gratitude; and sometimes their blowing violently causes dread in the hearts and the people turn to AIlah from fear of destruction. In these verses initially the order of rain-bringing winds has been stated, which is thus: first, winds start blowing in succession; then they assume the proportions of a storm; then they raise the clouds and spread them; then they split and separate…

Read the full tafseer →