Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام
بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →سورة الْمُرْسَلٰت 2
دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے "۔ مراد قیامت اور آخرت ہے۔
سورة الْمُرْسَلٰت 3
یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک۔ المرسلت عرفا۔ " پے درپے، یا بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں "۔ دوسرے، العاصفات عصفا۔ " بہت تیزی اور شدت کے سات چلنے والیاں "۔ تیسرے، الناشرات نشرا۔ " خوب پھیلانے والیاں "۔ چوتھے، الفارقات فرقاً۔ " الگ الگ کرنے والیاں "۔ پانچویں، الملقیات ذکراً۔ " یاد کا القا کرنے والیاں "۔ چونکہ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں، اور یہ صراحت نہیں کی گئی ہے کہ یہ کس چیز یا کن چیزوں کی صفات ہیں، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔
ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →قسموں کا مقصود:
یہ مذکورہ قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ فرمایا کہ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کے رہے گی۔ ’تُوْعَدُوْنَ‘ یہاں عام ہے، اس میں وعدہ اور ’وعید‘ دونوں شامل ہے لیکن یہ سورہ، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں، انذار کی ہے اس وجہ سے یہاں وعید کا پہلو غالب ہے۔ یعنی جس عذاب اور قیامت سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ اٹل ہے، اس سے تمہیں سابقہ پیش آ کے رہے گا۔
عذاب اور قیامت پر ہواؤں کے تصرفات کی شہادت گوناگوں پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ ذاریات کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب اور قیامت کے…
Read the full tafseer →7۔ 1 (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقینا واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہوگی ؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
3: اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت ........................................ لواقع
مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر…
Read the full tafseer →4 یعنی قیامت کا اور آخرت کے حساب و کتاب اور جزا و سزا کا وعدہ۔
Read the full tafseer →آیت 7{ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ۔ } ”جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔“
یعنی جس قیامت کے بارے میں تم لوگوں کو بار بار متنبہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آکر رہے گی۔ واضح رہے کہ سورة قٓ سے لے کر سورة الناس تک مکی سورتوں کا موضوع انذارِ آخرت ہے۔ اس لیے سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ بھی انذارِ آخرت ہی سے متعلق تھا : { اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ } ”جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی“۔ البتہ سورة الصافات کے آغاز میں مذکور قسموں کا انداز تو بالکل ایسا ہی ہے لیکن وہاں ان قسموں کے مقسم علیہ…
Read the full tafseer →4 ان پانچ چیزوں کی قسم اٹھا کر اور انہیں بطور شہادت پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ جو پروردگار تمہاری انتہائی اہم ضرورت کی چیز سے ایسے کام لے سکتا ہے تو وہ تمہاری تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں وہ تمہیں صرف ایک ہوا کے ذریعہ راحت سے بھی دوچار کرسکتا ہے اور رنج سے بھی۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ جس جزا و سزا کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے اسے وجود میں لے آئے اور واقع کرکے دکھا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات خود ہی گواہی دے رہا ہے وقوع قیامت کی۔ قرآنی قسموں کے لئے ملاحظہ ہو پ 14 کا ضمیمہ زیر عنوان ” قرآنی قسمیں “۔ (آیت) ” والمرسلت عرفا “۔ یعنی وہ ہوائیں جو نفع پہنچانے ہی کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ (آیت) ” فالعصفت عصفا “۔ یہ تندوتیز ہوائیں، یا آندھیاں ہر قسم کے خطرات کا امکان لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ (آیت) ” والنشرت نشرا “۔ یعنی برساتی ہوائیں یامانسون۔ (آیت) ” فالفرقت فرقا “۔ یعنی وہی برساتنی ہوائیں جو پانی لاتی تھیں بادلوں کو منتشر کردیتی ہی۔ (آیت) ” عذرا اونذرا “۔ توجہ الی اللہ کے ذریعے دو مختلف ہیں۔ ایک ترغیب دوسرے ترہیب۔ ہوائیں اگر خوشگوار ونفع بخش ہوئیں، تو اللہ کی نعمت ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
انما توعدون لواقع، تمام قسموں کا مقسم ہے، کہ تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب کا وعدہ بذریعہ ٔ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا، آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے، واذا الرسل اقتت مطلب یہ کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس وقت میں اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں شہادت کے لئے حاضر ہوں، وہ اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آگیا۔
Read the full tafseer →انما تو عدون لواقع . یہ جواب قسم ہے یعنی جس قیامت یا پاداش عمل کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ‘ وہ ضرور آئے گا ‘
بلاشک آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) اور پھر قسم ہے وحی لانے والے فرشتوں کی جو اللہ کی یاد یعنی توبہ کا یا اس کے عذاب سے ڈرانے کا القاء کرتی ہیں یا عذر سے مراد حلال اور نذر سے مراد حرام ہے یا یہ کہ عذر سے مراد امر اور نذر سے مراد نہی ہے یا یہ کہ عذر سے وعدہ اور نذر سے وعید مراد ہے، ان تمام چیزوں کی اللہ تعالیٰ قسم کھا کر فرماتا ہے کہ آخرت میں تم پر ثواب و عذاب ضرور ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
والمرسلت عرفاً …:”المرسلت“ یہ ”الریاح“ کی صفت ہے جو محذوف ہے ، وہ ہوائیں جو چھڑوی گئی ہیں، بھیجی گئی ہیں۔”عرفاً“ یہ ”نکر“ کی ضد ہے، جانی پہچانی چیز، بھلائی۔ گھوڑے کی گردن کے بالوں اور مرغ کی کلغی کو بھی ”عرف“ کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک سطر میں یکے بعد دیگرے ہوتی ہیں، اس لئے ان کی مشابہت سے پے در پے آنے والی چیزوں پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً :”جاو وا عرفاً واحداً“”وہ سب پے در پے آگئے۔“”عرفاً“ کا معنی اگر جانی پہچانی چیز کریں تو اس ہلے ”بائ“ مقدر ہوگی :”ای والمرسلات بالعرف“”یعنی ان ہواؤں کی قسم جو جانے پہچانے معمول کے مطابق چھوڑی جاتی ہیں !“ اگر اس کا معنی بھلائی کریں تو اس ہلے ”لام“…
Read the full tafseer →انما توعدون لواقع۔ جو قسم پہلے گزری ہے یہ اس کا جواب ہے یعنی قیامت کے امر کا جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تم پر واقع ہوکر رہے گا پھر اس کے وقوع کا وقت بیان کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
۔ آیت والنشرت نشرا سے مراد ہے ہو۔
15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی والمرسلت عرفا سے مراد ہے ہوا آیت فالعصفت عصفا سے مرد ہے ہوا آیت فالفرقت فرقا سے مراد ہے قرآن کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا۔ آیت فالملقیت ذکرا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو رسولوں پر ذکر القا کرتے ہی پھر رسول یہی ذکر بنی آدم کے پاس لاتے ہیں حجت تمام کرنے کے لیے یا ڈرانے کے لیے کافروں کو پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے لیے اتمام حجت ہے ڈراوا ہے۔
16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالعصفت عصفا والنشرات نشرا فالفرقات…
Read the full tafseer →[انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [تُوْعَدُوْنَ : جو تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [لَوَاقِـعٌ: یقینا واقع ہونے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
قیامت ضرور واقع ہوگی، رسولوں کو وقت معین پر جمع کیا جائے گا، فیصلہ کے دن کیلئے مہلت دی گئی ہے
مذکورہ بالا آیات میں ہواؤں کی قسمیں کھائیں اور قسمیں کھا کر یہ بتایا کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ چیز ضرور واقع ہوگی یعنی قیامت ضرور ہی آئے گی انکار کرنے سے ٹلنے والی نہیں ہواؤں کی جو قسمیں کھائیں اس میں دونوں قسم کی ہوائیں مذکور ہیں۔ فائدہ پہنچانے والی بھی اور ضرر دینے والی بھی۔ بادلوں کو لانے والی فائدہ پہنچانے والی ہیں اور تیزی اور تندی سے چلنے والی تکلیف پہنچانے والی ہیں پہلی ہوائیں شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہیں اور خوفناک ہوائیں اللہ کی گرفت اور نعمت یاد دلانے والی ہیں انسان کو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
2:۔ ” والمرسلات عرفا “ مرسلات اور باقی الفاظ سے بعض نے فرشتے مراد لیے ہیں اور بعض کے نزدیک ان سے ہوائیں مراد ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں زیادہ ظاہر یہی ہے۔ والاظہر ان المرسلاتھی الریاح الخ (ابن کثیر ج 4 ص 459) ۔ حضرت ابن مسعود، ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابو صالح رحمہم اللہ سے بھی منقول ہے۔ (ایضاً ) ۔ ” عرفا “ حال ہے بمعنی متتابعۃ (کبیر) ۔ یا ” عرفا “ سے احسان و معروف مراد ہے (بیضاوی) ۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو چھوڑی جاتی ہیں احسان و معروف کے ساتھ، مراد رحمت کی ہوائیں ہیں جو نرم و خنک ہوتی ہیں۔ ” فالعصفت عصفا “ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو نہایت تند ہوتی ہیں۔ ” والنشرات نشرا “ قسم ہے ان…
Read the full tafseer →اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـعٌ 7 ۭ
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ
[ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : والمرسلٰت الواوللقسم عرفا مصدر فی موضع الحال ای متتابعۃ او مفعول لہ ای ارسلت للاحسان والمعروف ‘ فالعاصفات الفاء للعطف و کذامابعدھا معطوف علی المرسلات عصفا مصدر مؤکد یقال عصف بالشیء اذا اباوہ واھل کہ یقال ناقد عصوف و عصفت العرب بالقوم ای ذھبت بھم ذکرا مفعول بہ نشرا۔ وفرقا مصدر ان عذرا او نذرا قیل مصدران لیکن وسطھما اویضم وقیل جمع عذیر و نذیر فعلی الاول ینتصبان علی المفعول لہ اوعلی البدل من ذکرا و بذکرا وعلی الثانی حالان من الضمیر فی الملقیات ای معذورین و منذرین انما اصلہ ان ماما بمعنی الذی والخبر لواقع والجملۃ جواب القسم ولذاصدرت بان للتاکید۔
تفسیر : یہ سورة حسن و عکرمہ وعطاء و جابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
عُذْرًا اَوْنُذْرًا۔ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ۔ (المرسلات : 6، 7)
(اتمامِ حجت کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر۔ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ )
ہَوائوں کے تصرفات سے جو حیرت انگیز چیزیں سامنے آتی ہیں، یہ ان کا مقصد بیان ہوا ہے۔ یعنی جو کچھ ہمیں دکھایا جارہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر اتمامِ حجت ہے یا انھیں بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ یعنی جو لوگ اتنی بڑی نشانیوں سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اور غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں، ان لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اور جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان لوگوں کو یاددہانی حاصل ہوتی ہے۔ ہَوائوں کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔
ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →7 : اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ (کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) یعنی قیامت کا دن جس کی آمد کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ لَوَاقِعٌ (وہ ضرور ہونے والی ہے) اترنے والی ہے۔ اس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں۔
نحو : یہ جواب قسم ہے یہاں تک وقف نہیں ہے کیونکہ جواب قسم سے متصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔” عذرا اونذرا “ یعنی عذر کرنے اور ڈرانے کے لئے۔ حسن (رح) نے ” عذرا “ ذال کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں ابوبکرعن عاصم سے اختلاف کیا گیا ہے اور اکثر کی قرات اس کے سکون کے ساتھ ہے اور ابوعمرو، حمزہ اور کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” نذرا “ ذال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے اس کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور جس نے سکون پڑھا ہے اس نے کہا اس لئے کہ کہ یہ دونوں دو مصدروں کی جگہ ہیں ” انذار “ اور اعذار کے معنی میں اور جمع نہیں ہیں پھر ان کو منتقل کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
(اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ ) یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا وسزا کا جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔
( لَوَاقِـعٌ) اس کا وقوع کسی شک وریب کے بغیر حتمی ہے۔ جب قیامت کا دن واقع ہوگا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہوگا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہوجائے ستارے بےنور ہوجائیں گے یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گا جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن مقرر وقت رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے فرمایا…
Read the full tafseer →4 قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر : مگر غافل دنیا اس طرف توجہ ہی نہیں کرتی الا ماشاء اللہ، ولایعاذ باللہ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے اے لوگو ! اس نے بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ یعنی قیام قیامت اور سزا و جزا، کیونکہ ان طرح طرح کی ہواؤں اور ان کے مختلف اثرات اور فوائد و نتائج سے دو حقیقتیں ابھر کر سامنے جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ جس قادر مطلق اور مختار کل ذات اقدس و اعلیٰ کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، اس کے لئے نہ تو اس جہان رنگ و بو اور اس کے باسیوں کو مٹا دینا کچھ مشکل ہے، اور نہ ہی اس سب کو دوبارہ وجود میں لانا اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے
تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔
آیات 1 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 10 یعنی وہ فیصلہ کے لئے اپنی اپنی امتوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور باری باری حاضر ہوں۔
Read the full tafseer →(77:7) انما توعدون لراقع۔ یہ جملہ جواب قسم ہے جو آیات متذکرہ بالا میں مذکور ہیں۔
انما مرکب ہے حرف تاکید اور ما بمعنی الذی سے۔ توعدون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر (باب ضرب) مصدر سے (جس کا) تم سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی قیامت)
لواقع لام تاکید کا ہے واقع وقع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ ان کی خبر ہے۔ وہ ضرور وقوع پذیر ہوگی۔ وہ ضرور آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔
المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔
تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔
(ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
[2] یہ قسم بھی اسی نوع کی ہے جس طرح سورة ذاریات میں ہواؤں کی قسم عذاب اور جزاو سزا کے حق ہونے پر کھائی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة ذاریات حواشی 4-5 اوراقسام القرآن برصفحہ 1062۔
Read the full tafseer →(7) کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اور وہ وعدہ یقینا پورا ہونا ہے - ہوائیں چلنے کے مختلف طریقے ہیں، کبھی یہ ہوا خوشگوار اور نرم چلتی ہے جو اچھی معلوم ہوتی ہے یہی ہوا کبھی تیز اور خوفناک ہوکرچلتی ہے پھر کبھی بخارات کو ابھار کر بادل بناتی ہے اور انہیں بادلوں کو جدا کرکے مختلف مقامات پر تقسیم کرتی ہے اور بارش کے بعد بادلوں کو پھاڑ کر الگ الگ کردیتی ہے ان ہوائوں کے مختلف انداز اور مختلف طریقے دل میں ترغیباً اور تربیباً اللہ تعالیٰ کی یاد پیدا کرتی ہیں پھر انسان اس سے متاثر ہوکر اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور معذرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرتا ہے ۔ جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
ف 2۔ مطلب اس سوال و جواب کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار جو رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہین، اور اب بھی اس امت کے کفار رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جب اس تکذیب پر عذاب آخرت سے ڈرائے جاتے ہیں تو آخرت کی بھی تکذیب کرتے ہیں اس وقت یہ تکذیب فی نفسہ مقتضی اس کو ہے کہ رسولوں کا جو قصہ کفار سے پیش آرہا ہے اس کا فیصلہ بھی ہوجاوے اور اس کی تاخیر سے کفار کو انکار استعجال اور مسلمانوں کو طبعی استعجال ہوتا ہے، اس آیت میں اس استعجال کا جواب ہے کہ حق تعالیٰ نے بعض حکمتوں سے اس کو موخر کر رکھا ہے لیکن واقع ضرور ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(کہ جو وعدہ دیے جاتے ہو یقینا ہو کر رہنے والا ہے) یعنی قیامت اور اس کے متعلقات کا ظہور یقینی طور پر ہوگا۔ (تو جب تارے میٹ دیے گئے) یعنی ان کا نور لے لیا جائے گا۔ (اور جب آسمان میں رخنہ ڈال دیا گیا) یعنی آسمان کو پھاڑ دیا گیا۔ (اور جب پہاڑ پھونک اڑائے گئے) ۔ یعنی اپنی جگہوں سے پراگندہ کردیے گئے اور ریزہ ریزہ کرکے اڑا دیے گئے (اور جب رسولوں کا وقت آگیا) تو جمع کیے جائیں گے اس وقت اور اس جگہ پر جہاں اپنی امتوں کا ان کا گواہی دینا مقرر ہوگا۔ پھر کہیں گے کہ ۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ ( …that which you are promised is sure to happen…77:7)
This is the subject of these oaths. It means that the Day of Judgment, Reckoning, and Reward and Punishment that is promised by the Prophets (علیہم السلام) has certainly to be fulfilled. Allah then describes some of the events that will occur on the Day of Judgment. The stars will be extinguished, which could mean that they will be completely destroyed, or they will exist, but their lights will be lost. In this way the entire world will be plunged in absolute darkness. The second event to occur is the…
Read the full tafseer →2 Another meaning can be; "That which you are being threatened with," i. e. the Resurrection and Hereafter.
3 Here an oath has been sworn by five things on the inevitability of the Resurrection:
(1) "Those which are sent forth in succession, or for a good cause;"
(2) "those which blow violently and tempestuously
(3) "those which disperse and scatter;"
(4) "those which split and separate;" and
(5) "those which inspire the remembrance." As these words only describe the characteristics and it has not been specified what thing or things they qualify, this has given rise to a difference of opinion…
Read the full tafseer →