وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟۠وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juzع
وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟۠وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے
بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑا افسوس ہے،
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔
اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے !
بڑی ہی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے
بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔
(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
Woe on that Day to those that give the lie to the Truth!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers (of the Day of Resurrection)!
Woe unto the repudiators on that day!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Woe, that Day, to the deniers.
On that day, woe would be upon those who have rejected God's revelations!
Woe on that day to the rejecters.
Woe on the day Unto the beliers!
Ah woe, that Day, to the Rejecters of Truth!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 29–40
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
سورة الْمُرْسَلٰت 22 چونکہ یہ لفظ یہاں مکذبین (جھٹلانے والوں) کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے متقیوں سے مراد اس جگہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو جھٹلانے سے پرہیز کیا اور اس کو مان کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ ہمیں آخرت میں اپنے اقوال و افعال اور اپنے اخلاق و کردار کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْن، یعنی اس دن میں کوئی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کو اپنے کئے ہوئے عمل کا عذر پیش کرنے کی اجازت ہوگی، اور دوسری آیات قرآن میں جو کفار کا بولنا اور عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ محشر میں مختلف مواقف اور مقامات آئیں گے، کسی مقام میں کلام اور عذر پیش کرنا ممنوع ہوگا، کسی میں اجازت ہوگی۔ (روح)
Read the full tafseer →’وَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ آگے وہی آیت ترجیع ہے جو اوپر ہر پیرے کے بعد آئی ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مطالبہ کے بعد، جو مذکور ہوا، ان کی بے بسی ان پر بالکل واضح ہو جائے گی اور وہ اس تباہی سے دوچار ہوں گے جو اس تکذیب کے نتیجہ میں ان کے سامنے آئے گی اور جو بہت بڑی تباہی ہو گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 1 یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہوگی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔
Read the full tafseer →ویل .................... للمکذبین (40:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔
Read the full tafseer →10 جو دوسروں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ہم کو چھڑا لیں گے اور بعض گستاخ تو دوزخ کے فرشتوں کی تعداد انیس سن کر یہاں تک کہہ گزرتے تھے کہ ان میں سے سترہ کو میں اکیلا کافی ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
آیت 30{ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ } ”چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !“ میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چناچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف ! لیکن اس ”سائے“ کی حقیقت یہ ہوگی کہ :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
24 یہاں متقین کا لفظ مکذبین کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کی آیات کی اور قیامت کے دن کی تصدیق کرتے تھے۔ اللہ سے اور قیامت کے دن کی سختیوں سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی سے ڈر کر ممکن حد تک اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے تھے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جنت کے ٹھنڈے اور پرسکون سایوں میں ہوں گے۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے وہاں وافر تعداد میں ہوں گے۔ کھانے کو اعلیٰ سے اعلیٰ اور حسب پسند پھل ملیں گے۔ وہ جتنا کچھ بھی کھا پی لیں گے اس سے انہیں کسی قسم کی کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں بجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
14۔ (جو اس یقینی طور پر واقع ہونے والے دن کے وقوع کو آج محض وہم و خیال سمجھ رہے ہیں۔ ) (آیت) ” ھذا یوم الفصل “ یہی تو ہے وہ فیصلہ کا دن جس کی تکذیب میں تم لگے رہتے تھے۔ (آیت) ” جمعنکم والاولین “۔ اب وہ تمہارے انکاری وتکذیبی سارے دلائل وہمیہ وخرافیہ کیا ہوگئے، کدھر چلے گئے، آج تو تمہارا ” ناممکن “ ممکن کیا معنی واقع ہو کر رہ گیا اور تم اور تمہارے اگلے سب کے سب فیصلہ کے لئے اکٹھے کرلئے گئے۔ (آیت) ” فان ..... فیکدون “۔ دنیا میں تمہیں اپنی تدبیروں اور چالاکیوں پر بڑا غرہ رہتا تھا اب آج ممکن ہو تو ہماری گرفت سے بچنے کے لئے کوئی تیر اپنے ترکش سے چلاؤنا “۔ (آیت) ” جمعنکم والاولین “۔ مراد اس امت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →ویل یومئذ للمکذبین . عذاب کی تکذیب کرنے والوں کے لیے اس روز ویل ہوگی ‘ کیونکہ عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوئی تدبیر ان کو نصیب نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(39۔ 40) سو اگر تم میں میرے مقابلہ کی طاقت ہے تو مقابلہ کرو یا یہ کہ اگر مجھ سے بچنے کی تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو اپنی تدبیر چلاؤ قیامت کے دن یہ جھٹلانے والے دوزخ کی وادی میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ھذا یوم الفصل …: مجرموں کو ذلیل و خوار کرنے کیلئے کیا کہا جائے گا کہا آج فیصلے کا دن ہے، جس میں ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے سب جھٹلانے والوں کو جمع کردیا ہے۔ دنیا میں تم زبردست چالیں چلتے اور سازشیں کرتے تھے، اب سب مل کر اپنے بچاؤ کی کوئی خفیہ تدبیر کرسکتے ہو تو کرلو۔ جسمانی عذاب کے ساتھ یہ ذہنی عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ھذایوم الفصل۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ انہیں کہا جائے گا، یہ وہ دن ہے جس میں مخلوقات کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور حق پرست باطل پرست سے ممتاز ہوجائے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ سے قبل کے انبیاء کو جھٹلانے والوں کو جمع کرے گا ضحاک نے ان سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اگر تمہارے پاس ہلاکت سے خلاصی کی کوئی صورت ہے تو اپنے لیے کوئی حیلہ کرو اور مجھ سے قوت میں مقابلہ کرلو تم ہرگز اس کو نہ پاؤ گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اگر تم جنگ پر قادر ہوتومجھ سے جنگ کرو، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے تم دنیا میں حضرت محمد ﷺ سے جنگ کیا کرتے تھے اور مجھ سے جنگ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–42
قیامت کے دن کے مختلف حالات 28۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائیے یعنی ہذا یوم لا ینطقون ولا یوذن لہم فیعتذرون۔ یہ وہ دن ہے جس میں بات بھی نہ کرسکیں گے اور نہ انہیں عذر کرنے کی اجازت ہوگی۔ تو فرمایا کہ یہ قیامت کا وہ دن ہے جس میں مختلف حالات ہوں گے کسی حال میں وہ نہیں بول سکیں گے۔ اور کسی حالت میں وہ بولیں گے اور کسی حال میں کہ وہ عذر پیش کریں گے میں تم کو کوئی بات نہیں بتاؤ گا مگر وہ بات جو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی پھر فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو جبار مطلق بادل کے سائے میں نازل ہوں…
Read the full tafseer →[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
مجرمین سے کہا جائے گا کہ یہ فیصلہ کا دن ہے آج ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو جمع کیا آج ہمارا ہی فیصلہ چلے گا ہمارے فیصلہ سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے نہ عذاب سے بچ سکتے ہیں نہ بھاگ سکتے ہیں اگر کوئی تدبیر کرسکتے ہو تو میرے مقابلہ میں کرلو لیکن وہاں کوئی تدبیر نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
10:۔ ” ھذا یوم الٖفصل “ یہ تمہارے فیصلے کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تاکہ تمہارے درمیان آخری فیصلہ کیا جائے۔ اب اگر کوئی حیلہ بہانہ کرسکتے ہو تو کر کے دیکھ لو مگر آج کوئی حیلہ کام نہیں آئیگا اور عذاب خداوندی سے بچنے کی تمہاری ہر تدبیر ناکام ہوگی۔ یہ دن تو تم ایسے مکذبین کی ہلاکت کا دن ہے۔ اذ لاحیلۃ لہم فی التخلص من العذاب (بیضاوی) ۔
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 40 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
ترکیب : ذی ثلٰث شعب نعت لظل وکذالا ظلیل نعت لہ۔ بشرر۔ قرء الجمھور بفتح السین وقرء ابن عباس و ابن مقسم شرار بکسرہا مع الف بین الرائین قال الواحدی شررۃ و شرر وشرارۃ وھو مانظائر من النارتبدو فی کل جہتٍ واصلہ من شررت الثوب اذا اظھرتہ وبسطتہ للشمس والشرارینبسط مبتداء کالقصر فیہ قولان الاول ان المرادمنہ البناء المسمٰی بالقصر والثانی انھا جمع قصرۃ ساکنۃ الصادکتمرۃ وتمرو جمرۃ وجمر قال المبرد یقال للواحدمن الحطب الجزل الغلیظ قصرۃ والجمع قصر عن ابن عباس قال ھو خشب کناندخرہ للشتاء نقطعہ وکنانسمیۃ والقصر وھذا قول سعید بن جبیرو مقاتل والضحاک۔ قرء الجمہور باسکان الصادوقری بفتحھا وھو جمع قصرۃ وھی اصل النخلۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ ج جَمَعْنٰـکُمْ وَلاَوَّلِیْنَ ۔ فَاِنْ کَانَ لَـکُمْ کَیْدٌ فَـکِیْدُوْنِ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 38 تا 40) (یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تم کو بھی جمع کیا اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی۔ اب اگر تمہارے پاس کوئی دائو ہے تو میرے مقابلے میں کر دیکھو۔ اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔ ) ان آیات میں پروردگار نے مجرموں سے براہ راست خطاب فرمایا ہے کہ تم نے زندگی بھر جس یوم الفصل کا انکار کیا اور اپنے اور اپنے آبائواجداد کے دوبارہ اٹھائے جانے کا تمسخر اڑایا اور وقوع قیامت کو خلاف عقل قرار دیا یہ وہی دن تمہارے سامنے ہے، ہم نے تمہیں بھی اور تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا…
Read the full tafseer →40 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس دن بڑی خرابی ہے ان لوگوں کیلئے جو تکذیب کرنے والے ہیں) بعث بعد الموت کی۔
Read the full tafseer →39 ۔” فان کان لکم کید فیکدون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اگر تمہارے لئے حیلہ ہے تو اپنے نفس کے لئے حیلہ اپنائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
29۔ 40۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح 1 ؎ مسلم میں انس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی…
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–50
میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →30 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے یہ سب کچھ سننے کے باوجود عبرت نہ پکڑی اور وہ حق کے آگے نہ جھکے۔ بلکہ انہوں نے دنیا میں عقل و فکر کی اپنی خدا داد صلاحیتوں کو قبول حق اور خدمت حق میں صرف کرنے کی بجائے الٹا ان کو حق اور اہل حق کے خلاف استعمال کر کے اپنے لئے دوزخ کی آتش سوزاں کا سامان کیا، والعیاذ باللہ اور انہوں نے حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کو نیچا دکھانے اور اس کا راستہ روکنے کے لئے طرح طرح کی چالیں چلیں اور تکذیب و انکار کے اس ہولناک انجام کو سن کر بھی انہوں نے آنکھیں نہ کھولیں۔ اور حق پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
ف 6 جھٹلانے والوں کے مقابلے میں یہ پرہیز گاروں کا حال بیان ہوا۔ پھر بہت ہی بدبخت ہیں وہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور پرہیز گاری (خدا کا ڈر) اختیار نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →(77:40) ویل یومئذ للمکذیبن۔ عذاب کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اس روز تباہی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
(ف 1) کافروں کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لیے ان سے یہ کہیں گے چلوذرا اس آگ کا مزہ چکھو، جس کے تم دنیا میں منکر تھے ، صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمرگذاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمین کھاکر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام بھول گئے حساب وکتاب سے فارغ ہونے تک اہل دوزخ کو آگ کی لپیٹ کے نیچے رکھاجائے گا جس میں دھواں ہوگا، اس دھوئیں کی تین شاخیں ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
[15] یعنی جب یہ حال ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کرسکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ملے گی تو تباہی و ہلاکت کے سوا ان کے لئے کیا باقی رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–40
مہ شاخہ شعلے 1: جہاں مومنین اور مومنین اور مخلصین اللہ کے سایہ رحمت وفضل میں آسودہ ہونگے ۔ وہاں ان منکرین کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ۔ ان سے فرشتے کہیں گے ۔ کہ جاؤ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ اور وہی تمہارا ملجا اور ماویٰ ہے ۔ اسی کی آگ اور دھوئیں کی طرف چلو ۔ پھر اس دھوئیں کے سائے کی تین شاخیں ہونگی ۔ جو دائیں بائیں اور اوپر کی جانب پر مشتمل ہونگی اور ان میں ٹھنڈا سایہ نہ ملے گا ۔ اور نہ یہ شعلوں کے حملوں سے بچاسکیں گی ۔ اور شعلے بھی بڑے بڑے محل جیسے نکلیں گے ۔ اور کالے کالے بلند قامت اونٹوں کی طرح ہونگے ۔ اور یہ تین ظلمتیں یا دھوئیں وہ ہونگ ۔ جو ان لوگوں نے خود دنیا میں پیدا کئے ہیں ۔ یہاں…
Read the full tafseer →(40) اس روز جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے، آگے پرہیزگار مسلمانوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–50
ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(یہ ہے فیصلہ کا دن) اس میں جو حق پر ہے اور اس میں جو باطل پر ہے۔ تو یہ دن ایسا ہے (کہ اکٹھا کردیا ہم نے تمہیں) اے اس امت کے تکذیب کرنے والو ! (اور اگلوں کو) جنہوں نے اگلے رسولوں کی تکذیب کی۔ (تو اگر ہو تمہارا کوئی داؤں) اور مکر و حیلہ جیسا کہ دنیا میں مومنوں کی نسبت کرتے تھے ، (تو چلا لو مجھ پر) اور پیش لے جاؤ میرے ساتھ۔ یہ ان کے عجز کے آثار ظاہر کرنا ہے یعنی خدا کے ساتھ حیلہ پیش نہ جائے گا اور مکر و فریب کر کے اپنے اوپر سے عذاب نہ دفع کرسکو گے۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والی کی) جو غم و غصہ کا شکار ہوں گے کہ حیلہ کر کے عذاب سے نہ رہائی پائیں گے۔ ان کے برخلاف۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ (This is a day when they will not speak, nor will they be allowed to offer excuses....77:35, 36) In other words, this is the Day in which they will not be able to talk, nor will they be permitted to offer pleas for their misdeeds. However, other verses of the Qur'an inform us that they will speak and will be permitted to offer excuses. There is no discrepancy between the two verses, because there will be various stages on the Plain of Gathering (Mahshar) through which people will have to pass. Sometimes they will pass…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
22 As this world has been used here in contrast to the "deniers'; the righteous here implies the people who refrained from denying the Hereafter and accepted it and passed their life in the world with the belief that in 'the Hereafter they would have to render an account of their word and deed and their conduct and character.
Read the full tafseer →