Al-Mursalaat 77:41

Al-Mursalaat · from ayah 41

77:41

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّعُیُوْنٍ ۟ۙاِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ ظِلٰلٍ وَّعُيُوۡنٍۙ

بےشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the righteous will be among shades and springs

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:41

متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں اور بہتے چشموں میں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا، وہ بیشک سایوں اور چشموں کے درمیان ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ڈر والے سایوں اور چشموں میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک پرہیزگار ٹھنڈے سایوں اور چشموں میں (عیش و راحت کے ساتھ) ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا پرہیزگار لوگ اس دن سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پرہیزگار (اس دن) سایوں اور چشموں میں ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اللہ سے ڈرنے والے سایوں ‘ چشموں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس) پرہیزگار لوگ (اس دن) ٹھنڈی چھاؤں اور طرح طرح کے عظیم الشان چشموں میں ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

پرہیزگار لوگ بیشک سایوں اور چشموں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اس دن) متقین یقینا سائے اور چشموں کے ماحول میں ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, today the God-fearing will be amidst shades and springs,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Of course, the God-fearing will be amid shades and streams,

— Muhammad Taqi Usmani

Of course, the God-fearing will be amid shades and streams,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who had Taqwa, shall be amidst shades and springs.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who kept their duty are amid shade and fountains,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the righteous will be among shades and springs

— Saheeh International

The pious ones will rest amid the shade, springs,

— Muhammad Sarwar

Surely those who guard (against evil) shall be amid shades and fountains,

— Muhammad Habib Shakir

Verily the God-fearing shall be amid shades and springs,

— Abdul Majid Daryabadi

As to the Righteous, they shall be amidst (cool) shades and springs (of water).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–50

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–41

سورة الْمُرْسَلٰت 22 چونکہ یہ لفظ یہاں مکذبین (جھٹلانے والوں) کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے متقیوں سے مراد اس جگہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو جھٹلانے سے پرہیز کیا اور اس کو مان کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ ہمیں آخرت میں اپنے اقوال و افعال اور اپنے اخلاق و کردار کی جواب دہی کرنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–45

هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْن، یعنی اس دن میں کوئی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کو اپنے کئے ہوئے عمل کا عذر پیش کرنے کی اجازت ہوگی، اور دوسری آیات قرآن میں جو کفار کا بولنا اور عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ محشر میں مختلف مواقف اور مقامات آئیں گے، کسی مقام میں کلام اور عذر پیش کرنا ممنوع ہوگا، کسی میں اجازت ہوگی۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

متقیوں کا انعام: اس یوم الفصل میں مجرموں کا جو فیصلہ ہو گا وہ اوپر کی آیات میں بیان ہوا کہ وہ ایک ایسی آگ کی طرف بھیجے جائیں گے جس کا دھواں ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا۔ ان کے مقابل میں ان متقیوں کا انعام و اکرام بیان ہو رہا ہے کہ وہ سایوں، چشموں اور اپنی پسند کے میووں میں ہوں گے۔ اس اسلوب بیان میں جب نعمتوں کا بیان ہوتا ہے تو اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ یہ نعمتیں ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گی۔ قرآن میں بھی یہ اسلوب جگہ جگہ استعمال ہوا ہے اور کلام عرب میں بھی اس کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھوئیں کا سایہ نہیں ہوگا جیسے مشرکین کے لئے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–50

10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ لوگ چھاﺅں میں ہوں گے ، اب یہ حقیقی چھاﺅں ہے ، یہ دھوئیں کی چھاﺅں نہیں ہے۔ جس کے تین شعبے ہیں۔ نہ ٹھنڈی ہے اور نہ آگ کے شعلوں سے بچانے والی ہے۔ یہ لوگ چشموں میں ہوں گے ، گلہ گھونٹنے والے دھوئیں میں نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب دوسرے رکوع کی دس آیات میں تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جا رہا ہے۔ یہاں شروع میں اہل ایمان کا احوال بیان ہوا ہے اور آخر میں انتہائی اختصار کے ساتھ کفار کا ذکر آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 40–41

24 یہاں متقین کا لفظ مکذبین کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کی آیات کی اور قیامت کے دن کی تصدیق کرتے تھے۔ اللہ سے اور قیامت کے دن کی سختیوں سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی سے ڈر کر ممکن حد تک اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے تھے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جنت کے ٹھنڈے اور پرسکون سایوں میں ہوں گے۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے وہاں وافر تعداد میں ہوں گے۔ کھانے کو اعلیٰ سے اعلیٰ اور حسب پسند پھل ملیں گے۔ وہ جتنا کچھ بھی کھا پی لیں گے اس سے انہیں کسی قسم کی کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں بجا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–44

15۔ یہ سب مومنین متقین کو مخاطب کرکے کہا جائے گا۔ (آیت) ” انا ..... المحسنین “۔ اس میں مخاطبین کو ترغیب ہے محسن (نیک کار) بن جانے کی، جو بھی محسن ہوگا اس مرتبہ ومنزلت کا حقدار ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–47

ترجمہ : بیشک پرہیز گار لوگ سایوں یعنی گھنے درختوں میں ہوں گے اس لئے کہ (وہاں) سورج نہیں ہوگا، کہ اس کی گرمی سے سایہ حاصل کیا جائے اور بہتے ہوئے پانی کے چشموں میں ہوں گے، یعنی ابلتے ہوئے پانی کے، اور دل پسند میووں میں ہوں گے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں کھانے پینے کی چیزیں حسب خواہش ہوں گی بخلاف دنیا کے کہ یہاں وہی میوے (پھل) ملتے ہیں جو اغلباً لوگوں کو دستیاب ہوتے ہیں اور ان سے کہا جائے گا (اے جنتیو ! ) تم خوشگواری کے ساتھ اپنے طاعت اعمال کے صلہ میں کھائو پیو، ھنیئا حال ہے ای متھنئین، بیشک ہم ایسی جزاء جیسی کہ تمام پرہیزگاروں کو دی ہے ہر نیکوکار کو دیں گے، اس دن جھٹلانے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان المتقین . المتقین سے مراد ہے شرک سے بچنے والے یا عموماً گناہوں سے اجتناب رکھنے والے ‘ اپنے اپنے فراق مراتب کے لحاظ سے۔ فی ظلل . سایوں میں ہوں گے (سایہ سے حقیقی معنی مراد نہیں) جنت میں سورج ہی نہ ہوگا سایہ کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا (بلکہ) سایہ سے کنایۃً مراد ہے ‘ جنت کے درختوں کا گھنا ہونا جیسے طویل النجاد (لمبے پرتلہ والا) دراز قد آدمی کو کہتے ہیں ‘ خواہ اس کے پاس پرتلہ نہ ہو۔ و عیون . اور جاری چشمے ‘ جو ایسے پانی کے ہوں گے جو کبھی خراب ہونے و الا نہ ہوگا اور ایسے دودھ کے ہوں گے جو کبھی بدمزہ نہ ہوگا اور ایسی شراب کے ہوں گے جو پینے والوں کیلئے سراسر لذت ہوگی (تلخ نہ ہوگی) اور صاف شدہ شہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–44

(41۔ 44) اب اہل ایمان کے مقام کا بیان ہے کہ کفر و شرک سے بچنے والے درختوں کے سایوں اور پاکیزہ چشموں کے پانی اور مختلف قسم کے مرغوب میووں میں ہوں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اپنے دنیاوی اعمال کے بدلہ میں خوب مزے سے بغیر کسی تکلیف کے خوف کے کھاؤ پیو ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 41–45

ان المتقین فی ظلل و عیون…: اب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ دھوئیں کے سائے کے بجائے گھنے درختوں اور نجت کے مکانوں کے ٹھنڈے سایوں ، چشموں اور پانی پسند کے پھلوں میں عیشک ر رہے ہوں گے۔ انہیں کہا جائے گا کہ مزے سے کھاؤ پیو، اس عمل کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ ”ویل یومئذ للمکذبین“ جھٹلانے والوں کیلئے اس دن بڑی ہلاکت ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ لوگ عیش و آرام میں ہوں گے جنہیں وہ تمام عمر مذاق کرتے رہے اور یہ خود ان کے سامنے آگ میں جل رہے ہوں۔“ جنیاء“ جو کسی مشقت کے بغیر حاصل ہوجائے اور اسے کھانے کے بعد کسی قسم کی گرانی یا بدہضمی نہ ہو۔ (راغب) دنیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–45

ان المتقین فی ظلل وعیون۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ یہاں اس چیز کے بارے میں خبر دی ہے جس کی طرف متقی لوٹیں گے، ظلل سے مراد درختوں اور محلات کے سائے ہیں یہ اس سایہ کی جگہ ہوں گے جو تین شاخوں والا ہوگا، سورة یاسین میں ہے، ھم وازواجھم فی ظلل علی الارائک متکئون۔ یاسین) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں ہوں گی پلنگوں پر ٹیک لگائے ہوئے۔ ان کے لیے وہ پھل ہوں گے جس کی تمنا کریں گے، عام قراء کی قرات ظلال ہے۔ اعرج، زہری اور طلحہ نے ظلل پڑھ ا ہے، جو ظللہ کی جمع ہے یعنی جنت میں وہ سائے میں ہوں گے۔ کھاؤ پیو یعنی متقین کو آخرت میں یہ کہا جائیگا جب کہ مشرکین کو کہا جائے گا اگر تم کوئی حیلہ کرسکتے ہو توحیلہ کرو، کلو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–42

قیامت کے دن کے مختلف حالات 28۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائیے یعنی ہذا یوم لا ینطقون ولا یوذن لہم فیعتذرون۔ یہ وہ دن ہے جس میں بات بھی نہ کرسکیں گے اور نہ انہیں عذر کرنے کی اجازت ہوگی۔ تو فرمایا کہ یہ قیامت کا وہ دن ہے جس میں مختلف حالات ہوں گے کسی حال میں وہ نہیں بول سکیں گے۔ اور کسی حالت میں وہ بولیں گے اور کسی حال میں کہ وہ عذر پیش کریں گے میں تم کو کوئی بات نہیں بتاؤ گا مگر وہ بات جو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی پھر فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو جبار مطلق بادل کے سائے میں نازل ہوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الْمُتَّقِيْنَ : یقینا متقی لوگ ] [فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ : سایوں اور چشموں میں ہوں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–45

متقیوں کے سایوں، چشموں اور میووں کا تذکرہ منکرین و مکذبین کا عذاب بیان فرمانے کے بعد متقیوں ( پرہیزگاروں) کے انعامات بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا یقین جانو پرہیزگار لوگ سایوں میں ہوں گے۔ (یہ وہی سایہ ہے جس کا سورة ٴ دھر کی آیت ﴿وَدَانِیَۃً عَلَیْھِمْ ظِلٰلُھَا﴾ میں بیان فرمایا) اور چشموں میں ہوں گے (ان میں سے بعض چشموں کا ذکر سورة ٴ دھر میں گزر چکا ہے) اور یہ لوگ ایسے میووں میں ہوں گے جن کی انہیں اشتہاء ہوگی، من بھاتے میوے ہوں گے مرغوب ہوں گے، ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ کھاؤ پیو مبارک طریقہ پر ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے، مبارک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کھائیں پئیں گے وہ جسموں کے لیے بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–45

11:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کفار و مشرکین کے مقابلہ میں مومنوں اور شرک سے بچنے والوں کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت میسر ہوگی وہ جنت میں ٹھنڈی چھاؤں کے مزے لیں گے۔ ہر نوع مشروب کے ابلتے چشموں سے لطف اندوز ہوں گے اور جس قسم کے میووں اور پھلوں کی خواہش کریں گے وہ حاضر کردئیے جائیں گے۔ حاصل یہ کہ ان کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت حاصل ہوگی۔ ” کلوا وشربوا “ اس سے پہلے یقال لہم محذوف ہے یا یہ حال بتاویل مقولا لہم (روح، مدارک) ۔ ان سے کہا جائیگا آج مزے سے کھاؤ پیو اور یہ تمہارے ان نیک عملوں کا صلہ ہے جو دنیا میں تم نے سر انجام دئیے۔ ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح انعام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ۝ 41 ۙ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–47

ترکیب : ان اسمھا المتقین فی ظلال خبرھا وعیون وکذافوا کہ عطف علی الخبر وممایشتھون من بیانیۃ ماموصولۃ یشتھون صلۃ والعائد محذوف ای یشتھونہ والجملۃ مجروربمن ای متعلقہ بمحذوف نعت لفواکھہ۔ کلواواشربوا فی محل الحال من ضمیر المتقین فی الخبر بتقدیر القول ای مقولا لھم کلواواشبروا۔ ھنیئًا منصوب علی انہ صفۃ مصدر محذوف ای اکلاً ھنیئًا وشرباً ھنیئا (ھن) گواراشدن طعام و شراب۔ یقال ھنت الطعام ای تھنات بہ ومنہ قولہ تعالیٰ فکلوہ ھنیئًا مریئًا من باب فتح یفتح وکرم یکرم (من الصراح) بما الباء لسببیۃ کلواوتمتعواقلیلا ای زماناً قلیلا الجملۃ حال من المکذبین ای الویل ثابت لھم فی حال مایقال لھم کلواوتمتعوا ایذاناً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–42

اِنَّ الْمُتَّـقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّعُیُوْن وَّفَوَاکِہَ مِمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ (المرسلات : 41، 42) (بیشک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اور ان میووں اور پھلوں میں ہوں گے جن کی وہ خواہش کریں گے۔ ) متقین کا انجام مکذبینِ قیامت کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جنھوں نے زندگی اس احساس کے ساتھ گزاری کہ قیامت کو اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا اندیشہ ہر وقت ان کے دامن گیر رہا۔ اور ان کے تمام احساسات پر اللہ تعالیٰ کے خوف کا پہرہ رہا۔ اور اس کی رضا کا حصول ہمیشہ ان کی منزل بنا رہا۔ قیامت کے دن ان کی اس پاکیزہ زندگی کے بدلے میں انھیں وہ عیش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–45

فہم القرآن ربط کلام : جس دن اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور کوئی چھوٹا اور بڑا مجرم رب ذوالجلال کے مقابلے میں کسی قسم کی چال نہیں چل سکے گا اس دن نتیجے کے اعتبار سے لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے۔ جو لگ ایمان لائے اور اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے انہیں گھنے سایوں اور بہتے چشموں کی جنت میں ٹھہرایا جائے گا وہ جو چاہیں گے وہ پھل انہیں مہیا کیے جائیں گے۔ حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو ! ارشاد ہوگا کہ ہم نیک لوگوں کو اس طرح ہی جزا دیتے ہیں اور جن لوگوں نے قیامت کو جھٹلایا ان کے لیے تباہی ہوگی۔ ان آیات میں جنت کی تین نعمتوں سائے، بہتے چشمے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

متقین کے انعامات : 41 : اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّعُیُوْنٍ (پرہیز گار لوگ سایوں اور چشموں میں ہونگے) المتقین ؔ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے والے ہیں۔ ظلالؔ جمع ظل کی ہے۔ عیونؔ جمع عین وہ چشمے جو جنت میں جاری ہونگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چناچہ فرمایا (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ ) بیشک پرہیزگار۔ یعنی جو اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف ہیں اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے۔ (فِيْ ظِلٰلٍ ) متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے۔ (وعیون) اور خوش ذائقہ پانی اور شراب وغیرہ کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 ۔ پرہیزگاروں کے انعامات کا ذکر وبیان : سو منکرین و مکذبین کے انجام کو بیان کرنے کے بعد متقی اور پرہیزگاروں کے انعامات کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ متقی اور پرہیزگار لوگ گھنے سایوں اور عظیم الشان چشموں کے اندر ہوں گے۔ یعنی ان لوگوں کے لئے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی معصیت اور نافرمانی سے بچے رہے ہوں گے۔ سو تقوی و پرہیزگاری باعث نجات و سرفرازی ہے۔ فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد والثبات علی الصراط مستقیم فانک انت مولا نا ونعم المولی ونعم النصیر و انک علی کل شیء قدیر وبالا جابۃ جدیر و اوپر مجرموں کا فیصلہ بیان فرمایا گیا تھا، اس کے مقابلے میں یہ ان خوش نصیبوں کا انجام بیان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

نیکوکاروں کے لیے رحمتیں تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

آیات 41 تا 50۔ اسرار ومعارف۔ البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔ نظام اسلام۔ جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 40–44

ف 6 جھٹلانے والوں کے مقابلے میں یہ پرہیز گاروں کا حال بیان ہوا۔ پھر بہت ہی بدبخت ہیں وہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور پرہیز گاری (خدا کا ڈر) اختیار نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:41) فی ظلل وعیون : ظلال (سائے) سے مراد حقیقی معنی نہیں ہیں۔ کیونکہ جنت میں تو سورج ہی نہیں ہوگا۔ اس لئے سایہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مطلب یہاں جنت کے گنجان درختوں سے ہے۔ عیون سے مراد ایسے چشمے ہیں جو سدا جاری رہیں گے اور جن کا پانی کبھی خراب نہ ہوگا خواہ پانی ہو یا شہد ہو اور دودھ ہو۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ المتقین۔ اسم ان ، فی ظلل خبر، وعیون کا عطف ظلل پر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–45

اہل جنت کی پرکیف زندگی۔ (ف 1) للمکذبین کے مقابل یہ المتقین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جنت کے درختوں کے سایہ میں ہوں گے ان کے ارگرد شریں پاک صاف چشمے رواں ہوں گے طرح طرح کے میوے جو دل میں آرزو خواہش ہوگی وہی موجود ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ لوکھاؤ پیو عیش کرو مبارک ہو اب نہ بیماری ہے نہ موت۔ اس کے بدلے جو تم دنیا میں اچھے کام کیا کرتے تھے ہم ان کو جو اقوال افعال میں بھلائی کا خیال رکھتے ہیں ایسا ہی اچھا بدلہ دیتے ہیں اس دن للمکذبین کو سخت عذاب ہوگا جو ایمان نہ لاتے تھے قیامت اور رسول اور جنت دوزخ کی تکذیب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–44

[15] یعنی جب یہ حال ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کرسکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ملے گی تو تباہی و ہلاکت کے سوا ان کے لئے کیا باقی رہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–50

ف 1: جہنم کی تفصیلات کے بعد ضروری تھا ۔ کہ پاکبازوں کو بشارت سنائی جائے ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ اہل تقویٰ کے لئے جو سائے ہیں ۔ وہ ٹھنڈے اور رحمت کے سائے ہیں ۔ وہ میٹھے اور شیریں چشموں میں ہوں گے ۔ ان کو ہر نوع کے مرغوب میوے ملیں گے ۔ اور کہا جائیگا ۔ کہ چونکہ تم نے دنیا میں اپنی خواہشات کے خلاف ہمارے دین کا ساتھ دیا ہے ۔ اور نیک زندگی بسر کی ہے ۔ اس لئے تمہاری خواہشات کو یہاں ملحوظ رکھا جائے گا ۔ تمہیں اجازت ہے ۔ کہ اس باغ میں رہو سہو اور جو چاہو کھاؤ پیو ۔ حل لغات :۔ کید ۔ مکر اور تدبیر عیون ۔ جمع عین ھدایتا ۔ خوش گواری کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–50

ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 41–45

(بیشک اللہ تعالیٰ ) (سے ڈرنے والے) جنت کے درختوں کے (سایوں) میں (اور) اس میں بہنے والے پانی کے (چشموں میں ہیں) ۔ یعنی نہروں کے کنارے ہیں جن کے مکانوں کے ہر طرف نہریں بہہ رہی ہیں ، تو گویا وہ نہروں کے درمیان ہیں۔ (اور میوؤں میں) یعنی میووں کے باغ میں (جو چاہیں) یعنی جس چیز کی انہیں آرزو ہوگی ان کے لیے موجود ملے گی ، اور فرشتے ان سے کہیں گے۔۔۔ (کہ کھاؤ) ان میووں میں سے (اور پیو) ان نہروں سے ( فراغت سے) ایسا کھانا پینا جو ہضم ہونے والا ہے۔ (ثواب اس کا جو کرتے تھے) دنیا میں نیک عمل (بیشک اسی طرح ثواب دیتے ہیں احسان والوں کو ) یعنی ایسی ہی جزا دیتے ہیں ہم نیک کام کرنے والوں کو۔ (ہلاکی) یعنی جہالت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–45

هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُ‌ونَ (This is a day when they will not speak, nor will they be allowed to offer excuses....77:35, 36) In other words, this is the Day in which they will not be able to talk, nor will they be permitted to offer pleas for their misdeeds. However, other verses of the Qur'an inform us that they will speak and will be permitted to offer excuses. There is no discrepancy between the two verses, because there will be various stages on the Plain of Gathering (Mahshar) through which people will have to pass. Sometimes they will pass…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–41

22 As this world has been used here in contrast to the "deniers'; the righteous here implies the people who refrained from denying the Hereafter and accepted it and passed their life in the world with the belief that in 'the Hereafter they would have to render an account of their word and deed and their conduct and character.

Read the full tafseer →