Al-Mursalaat 77:39

Al-Mursalaat · from ayah 39

77:39

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ ۟فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ كَيۡدٌ فَكِيۡدُوۡنِ

اگر تم کو کوئی داؤں آتا ہو تو مجھ سے کر لو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So if you have a plan, then plan against Me.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:39

اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم کو کوئی داؤں آتا ہو تو مجھ سے کر لو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب اگر تمہارے پاس کوئی داؤ ہے تو مجھ پر وہ داؤ چلا لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب اگر تمہارا کوئی داؤ ہو تو مجھ پر چل لو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اگر تمہارے پاس (عذاب سے بچنے کا) کوئی حیلہ (اور داؤ) ہے تو (وہ) داؤ مجھ پر چلا لو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اگر تمہارے پاس کوئی خفیہ تدبیر ہے تو میرے ساتھ کرلو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اگر تمہارے پاس کوئی چال ہے تو میرے خلاف چل دیکھو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تمہارے پاس کوئی دائو ہے تو وہ ہم سے کردیکھو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس اگر تم لوگوں کے پاس کوئی چال ہے تو اب تم مجھ پر چلا کر دیکھ لو

— مولانا اسحاق مدنی

تو آج کوئی چال چلانا ہو تو میرے مقابلہ میں چلاؤ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب اگر تمہارے پاس کوئی چال ہے تو میرے خلاف وہ چال چل دیکھو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تم کو کوئی داؤ آتا ہو تو مجھ سے کرلو

— محترمہ رفعت اعجاز

So if you have any ploy, try it against Me!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now, if you have a trick, use the trick against Me.

— Muhammad Taqi Usmani

Now, if you have a trick, use the trick against Me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, if you have a plot, use it against Me (Allah)!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So if you have a plan, then plan against Me.

— Saheeh International

If you have any plans, use them.

— Muhammad Sarwar

So if you have a plan, plan against Me (now).

— Muhammad Habib Shakir

If now ye have any craft, try that craft upon Me.

— Abdul Majid Daryabadi

Now, if ye have a trick (or plot), use it against Me!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–40

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–39

سورة الْمُرْسَلٰت 21 یعنی دنیا میں تو تم بہت مکاریاں اور چالبازیاں کرتے رہے، اب یہاں کوئی چال چل کر میری پکڑ سے بچ سکتے ہو تو ذرا بچ دکھاؤ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–45

هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْن، یعنی اس دن میں کوئی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کو اپنے کئے ہوئے عمل کا عذر پیش کرنے کی اجازت ہوگی، اور دوسری آیات قرآن میں جو کفار کا بولنا اور عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ محشر میں مختلف مواقف اور مقامات آئیں گے، کسی مقام میں کلام اور عذر پیش کرنا ممنوع ہوگا، کسی میں اجازت ہوگی۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فَإِنْ کَانَ لَکُمْ کَیْدٌ فَکِیْدُوۡنِ‘۔ یعنی دنیا میں تو تم نے ہمارے رسول کو شکست دینے کے لیے بڑی بڑی چالیں چلیں۔ اگر کوئی اور چال باقی رہ گئی ہو تو وہ بھی آزما دیکھو۔ یہاں تمہارے اگلے پچھلے سب موجود ہیں۔ اگر وہ مدد کریں تو ان کی مدد بھی حاصل کرو۔ یہاں اس امر پر نگاہ رہے کہ رسول کے انذار کی تکذیب کے لیے کفار نے جو کوششیں کیں ان کو اللہ تعالیٰ نے ’کَیْدٌ‘ یعنی چال سے تعبیر فرمایا۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم بار بار واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اس راہ میں ان کی ساری بھاگ دوڑ محض اپنی سیادت کو بچانے کے لیے تھی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ پیغمبر ﷺ کی بات حق ہے لیکن اپنی نفس پرستی اور انانیت کے سبب سے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 39–40

39۔ 1 یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہوگی ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–50

10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–39

آج تو فیصلے کا دن ہے۔ عذرات پیش کرنے کا دن نہیں ہے۔ آج تو اولیں اور آخریں جمع ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے۔ اگر کوئی تدبیر خلاصی کی ہے تو چلو آزمالو ۔ اگر تم کوئی تدبیر یا کوئی طاقت وقدرت رکھتے ہو ؟ لیکن اللہ کے مقابلے میں تدبیر کہاں اور طاقت کہاں ؟ بس خاموشی ہی خاموشی ہے۔ اور درد ناک سرزنش۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 لو ! سب کو ہم نے یہاں جمع کردیا آپس میں مل کر اور مشورے کر کے جو داؤ تدبیر ہماری گرفت سے نکلنے کی کرسکتے ہو کر دیکھو ! دنیا میں حق کو دبانے کی بہت تدبیریں کی تھیں۔ آج ان میں سے کوئی یاد کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–40

آیت 30{ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ } ”چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !“ میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چناچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف ! لیکن اس ”سائے“ کی حقیقت یہ ہوگی کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–39

23 یعنی دنیا میں تم لوگ میری راہ روکنے کے لیے ہزاروں قسم کی چالیں چلتے تھے۔ لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے تھے۔ میرے پیروکاروں کو ایذائیں اور دکھ پہنچاتے تھے اور انہیں اس طرح گھور کر دیکھتے تھے جیسے انہیں کچا ہی چبا جاؤ گے۔ ان کی تحقیر کرتے، تمسخر اڑاتے اور ان کے زندہ رہنے کا حق بھی ان سے سلب کرتے تھے۔ آج بھی کوئی تدبیر میرے خلاف کر دیکھو۔ اس وقت تم سب کے سب اگلے اور پچھلے اس میدان میں جمع ہو۔ سب مل کر اپنی قوت کا مظاہرہ کر دیکھو یا کوئی سوچ سمجھ کر سازش ہی تیار کرلو اور دیکھو کہ تمہاری کوئی تدبیر آج کے دن کی تباہی سے تمہیں بچا سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–40

14۔ (جو اس یقینی طور پر واقع ہونے والے دن کے وقوع کو آج محض وہم و خیال سمجھ رہے ہیں۔ ) (آیت) ” ھذا یوم الفصل “ یہی تو ہے وہ فیصلہ کا دن جس کی تکذیب میں تم لگے رہتے تھے۔ (آیت) ” جمعنکم والاولین “۔ اب وہ تمہارے انکاری وتکذیبی سارے دلائل وہمیہ وخرافیہ کیا ہوگئے، کدھر چلے گئے، آج تو تمہارا ” ناممکن “ ممکن کیا معنی واقع ہو کر رہ گیا اور تم اور تمہارے اگلے سب کے سب فیصلہ کے لئے اکٹھے کرلئے گئے۔ (آیت) ” فان ..... فیکدون “۔ دنیا میں تمہیں اپنی تدبیروں اور چالاکیوں پر بڑا غرہ رہتا تھا اب آج ممکن ہو تو ہماری گرفت سے بچنے کے لئے کوئی تیر اپنے ترکش سے چلاؤنا “۔ (آیت) ” جمعنکم والاولین “۔ مراد اس امت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–40

الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان کان لکم کید فکیدون . اگر عذاب کو دفع کرنے کی تمہاری پاس کوئی تدبیر ہو تو اب کرو ‘ جیسے دنیا میں اہل ایمان کے مقابلہ میں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا تم میں سے دس دس آدمی بھی ایک ایک کارندۂ جہنم کو پکڑ لینے سے عاجز ہیں۔ کیدون میں یاء محذوف ہے ‘ امر صرف زجر اور تعجیز کے لیے ہے (یعنی مخاطب کا عجز ظاہر کرنا مقصود ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 39–40

(39۔ 40) سو اگر تم میں میرے مقابلہ کی طاقت ہے تو مقابلہ کرو یا یہ کہ اگر مجھ سے بچنے کی تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو اپنی تدبیر چلاؤ قیامت کے دن یہ جھٹلانے والے دوزخ کی وادی میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 38–40

ھذا یوم الفصل …: مجرموں کو ذلیل و خوار کرنے کیلئے کیا کہا جائے گا کہا آج فیصلے کا دن ہے، جس میں ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے سب جھٹلانے والوں کو جمع کردیا ہے۔ دنیا میں تم زبردست چالیں چلتے اور سازشیں کرتے تھے، اب سب مل کر اپنے بچاؤ کی کوئی خفیہ تدبیر کرسکتے ہو تو کرلو۔ جسمانی عذاب کے ساتھ یہ ذہنی عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–40

ھذایوم الفصل۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ انہیں کہا جائے گا، یہ وہ دن ہے جس میں مخلوقات کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور حق پرست باطل پرست سے ممتاز ہوجائے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ سے قبل کے انبیاء کو جھٹلانے والوں کو جمع کرے گا ضحاک نے ان سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اگر تمہارے پاس ہلاکت سے خلاصی کی کوئی صورت ہے تو اپنے لیے کوئی حیلہ کرو اور مجھ سے قوت میں مقابلہ کرلو تم ہرگز اس کو نہ پاؤ گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اگر تم جنگ پر قادر ہوتومجھ سے جنگ کرو، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے تم دنیا میں حضرت محمد ﷺ سے جنگ کیا کرتے تھے اور مجھ سے جنگ کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–42

قیامت کے دن کے مختلف حالات 28۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائیے یعنی ہذا یوم لا ینطقون ولا یوذن لہم فیعتذرون۔ یہ وہ دن ہے جس میں بات بھی نہ کرسکیں گے اور نہ انہیں عذر کرنے کی اجازت ہوگی۔ تو فرمایا کہ یہ قیامت کا وہ دن ہے جس میں مختلف حالات ہوں گے کسی حال میں وہ نہیں بول سکیں گے۔ اور کسی حالت میں وہ بولیں گے اور کسی حال میں کہ وہ عذر پیش کریں گے میں تم کو کوئی بات نہیں بتاؤ گا مگر وہ بات جو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی پھر فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو جبار مطلق بادل کے سائے میں نازل ہوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَان كَان لَكُمْ كَيْدٌ: پھر اگر ہے تمہاری کوئی چالبازی ] [فَكِيْدُوْنِ : تو تم لوگ چالبازی کرو مجھ سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–40

مجرمین سے کہا جائے گا کہ یہ فیصلہ کا دن ہے آج ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو جمع کیا آج ہمارا ہی فیصلہ چلے گا ہمارے فیصلہ سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے نہ عذاب سے بچ سکتے ہیں نہ بھاگ سکتے ہیں اگر کوئی تدبیر کرسکتے ہو تو میرے مقابلہ میں کرلو لیکن وہاں کوئی تدبیر نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 00﴾ (خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–40

10:۔ ” ھذا یوم الٖفصل “ یہ تمہارے فیصلے کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تاکہ تمہارے درمیان آخری فیصلہ کیا جائے۔ اب اگر کوئی حیلہ بہانہ کرسکتے ہو تو کر کے دیکھ لو مگر آج کوئی حیلہ کام نہیں آئیگا اور عذاب خداوندی سے بچنے کی تمہاری ہر تدبیر ناکام ہوگی۔ یہ دن تو تم ایسے مکذبین کی ہلاکت کا دن ہے۔ اذ لاحیلۃ لہم فی التخلص من العذاب (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيْدُوْنِ۝ 39 كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک تنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له قلیل الانفکاک منه، وقوله في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–40

ترکیب : ذی ثلٰث شعب نعت لظل وکذالا ظلیل نعت لہ۔ بشرر۔ قرء الجمھور بفتح السین وقرء ابن عباس و ابن مقسم شرار بکسرہا مع الف بین الرائین قال الواحدی شررۃ و شرر وشرارۃ وھو مانظائر من النارتبدو فی کل جہتٍ واصلہ من شررت الثوب اذا اظھرتہ وبسطتہ للشمس والشرارینبسط مبتداء کالقصر فیہ قولان الاول ان المرادمنہ البناء المسمٰی بالقصر والثانی انھا جمع قصرۃ ساکنۃ الصادکتمرۃ وتمرو جمرۃ وجمر قال المبرد یقال للواحدمن الحطب الجزل الغلیظ قصرۃ والجمع قصر عن ابن عباس قال ھو خشب کناندخرہ للشتاء نقطعہ وکنانسمیۃ والقصر وھذا قول سعید بن جبیرو مقاتل والضحاک۔ قرء الجمہور باسکان الصادوقری بفتحھا وھو جمع قصرۃ وھی اصل النخلۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–40

ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ ج جَمَعْنٰـکُمْ وَلاَوَّلِیْنَ ۔ فَاِنْ کَانَ لَـکُمْ کَیْدٌ فَـکِیْدُوْنِ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 38 تا 40) (یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تم کو بھی جمع کیا اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بھی۔ اب اگر تمہارے پاس کوئی دائو ہے تو میرے مقابلے میں کر دیکھو۔ اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔ ) ان آیات میں پروردگار نے مجرموں سے براہ راست خطاب فرمایا ہے کہ تم نے زندگی بھر جس یوم الفصل کا انکار کیا اور اپنے اور اپنے آبائواجداد کے دوبارہ اٹھائے جانے کا تمسخر اڑایا اور وقوع قیامت کو خلاف عقل قرار دیا یہ وہی دن تمہارے سامنے ہے، ہم نے تمہیں بھی اور تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–40

فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39 : فَاِنْ کَانَ لَکُمْ کَیْدٌ فَکِیْدُوْنِ (اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو مجھ پر چلا لو) کیدؔ عذاب کو دور کرنے کا حیلہ، فکیدونؔ وہ حیلہ مجھ پر چلا دیکھو تاکہ تم عذاب سے چھوٹ جائو۔ کیدؔ کا لفظ متعدی ہے تم کہتے ہو۔ کدت فلانا جب تم اس پر اپنا حیلہ استعمال کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38 ۔” ھذا یوم الفصل “ اہل جنت و اہل جہنم کے درمیان۔ ” جمعنا کم والاولین “ یعنی اس امت کے جھٹلانے والے اور پہلی امتوں کے مکذبین کو جنہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–40

29۔ 40۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح 1 ؎ مسلم میں انس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ) اگر تمہارے پس کوئی تدبیر ہو۔ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو۔ (فَكِيْدُوْنِ ) تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔ یعنی تمہیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یمعشرالجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والارض فانفذوا۔ لاتنفذون الا بسلطن۔ الرحمن۔ 33) اے جن وانس کے گروہ اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہوجائیں گے ان کا مکروفریب ختم ہوجائے گا وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

28 ۔ منکرین و مکذبین کی تخیل و تذلیل کا ایک منظر : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ روز ایسے بدبختوں کی تخیل و تذلیل کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے فیصلے کا وہ دن ہم نے جمع کرلیا تم کو بھی اور تمہارے اگلوں کو بھی۔ سب کو ایک ہی مقام میں جس کو تم بعید اور ناممکن سمجھت تھے، سو اب وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہے، پس اب اپنے ہاتھوں کی کاشت کردہ اس فصل کو تم خود کاٹو اور اپنے اس ہولناک انجام کو تم لوگ اب ہمیشہ کے لئے بھگتتے رہو، جس کا سامان تم نے اپنی دنیاوی زندگی کی اس فرصت عمل میں خود کیا تھا، والعیاذ باللہ العظیم یہاں پر یہ امر واضح رہے کہ کفار جب قیامت کا مذاق اڑاتے تو کہتے کہ کیا جب قیامت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 37–39

ف 5 یعنی جیسے تم دنیا میں ہمارے عائد کردہ احکام و فرائض سے بچنے کے لئے بہت سے دائوں کیا کرتے تھے۔ آج بھی اگر ہمارے عذاب سے نکل بھاگنے کے لئے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل دیکھو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:39) فان کان لکم کید فکیدون ۔ فان کان لکم کید جملہ شرط ہے۔ فکیدون : اس کا جواب ہے۔ کید (باب ضرب) مصدر ہے۔ بمعنی مکرو فریب کرنا۔ تدبیر کرنا۔ مکرو فریب اور خفیہ تدبیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ الکید کے معنی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں مستعمل ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اچھے معنوں میں استعمال کی مثال :۔ جیسے کذلک کدنا لیوسف (12:76) اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی۔ یہاں آیت زیر غور میں بمعنی تدبیر، حیلہ، مکر، داؤ ہے۔ کیدوا : فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے ۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس اگر تمہارے پاس کوئی داؤ ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–40

(ف 1) کافروں کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لیے ان سے یہ کہیں گے چلوذرا اس آگ کا مزہ چکھو، جس کے تم دنیا میں منکر تھے ، صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمرگذاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمین کھاکر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام بھول گئے حساب وکتاب سے فارغ ہونے تک اہل دوزخ کو آگ کی لپیٹ کے نیچے رکھاجائے گا جس میں دھواں ہوگا، اس دھوئیں کی تین شاخیں ہوں گی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–44

[15] یعنی جب یہ حال ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کرسکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ملے گی تو تباہی و ہلاکت کے سوا ان کے لئے کیا باقی رہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–40

مہ شاخہ شعلے 1: جہاں مومنین اور مومنین اور مخلصین اللہ کے سایہ رحمت وفضل میں آسودہ ہونگے ۔ وہاں ان منکرین کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ۔ ان سے فرشتے کہیں گے ۔ کہ جاؤ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ اور وہی تمہارا ملجا اور ماویٰ ہے ۔ اسی کی آگ اور دھوئیں کی طرف چلو ۔ پھر اس دھوئیں کے سائے کی تین شاخیں ہونگی ۔ جو دائیں بائیں اور اوپر کی جانب پر مشتمل ہونگی اور ان میں ٹھنڈا سایہ نہ ملے گا ۔ اور نہ یہ شعلوں کے حملوں سے بچاسکیں گی ۔ اور شعلے بھی بڑے بڑے محل جیسے نکلیں گے ۔ اور کالے کالے بلند قامت اونٹوں کی طرح ہونگے ۔ اور یہ تین ظلمتیں یا دھوئیں وہ ہونگ ۔ جو ان لوگوں نے خود دنیا میں پیدا کئے ہیں ۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) پھر اگر تمہارے پاس کوئی دائوں اور چال ہے تو مجھ پر وہ دائوں اور وہ چال چلائو۔ یعنی اگر آج کے فیصلے سے بچنے کے لئے کوئی تدبیر اور چال معلوم ہو تو میرے خلاف وہ چال چلو اور مجھ پر اپنا دائوں کرو یہ کفار ان امورحقہ کی تکذیب کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–50

ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 38–40

(یہ ہے فیصلہ کا دن) اس میں جو حق پر ہے اور اس میں جو باطل پر ہے۔ تو یہ دن ایسا ہے (کہ اکٹھا کردیا ہم نے تمہیں) اے اس امت کے تکذیب کرنے والو ! (اور اگلوں کو) جنہوں نے اگلے رسولوں کی تکذیب کی۔ (تو اگر ہو تمہارا کوئی داؤں) اور مکر و حیلہ جیسا کہ دنیا میں مومنوں کی نسبت کرتے تھے ، (تو چلا لو مجھ پر) اور پیش لے جاؤ میرے ساتھ۔ یہ ان کے عجز کے آثار ظاہر کرنا ہے یعنی خدا کے ساتھ حیلہ پیش نہ جائے گا اور مکر و فریب کر کے اپنے اوپر سے عذاب نہ دفع کرسکو گے۔ (ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والی کی) جو غم و غصہ کا شکار ہوں گے کہ حیلہ کر کے عذاب سے نہ رہائی پائیں گے۔ ان کے برخلاف۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–45

هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُ‌ونَ (This is a day when they will not speak, nor will they be allowed to offer excuses....77:35, 36) In other words, this is the Day in which they will not be able to talk, nor will they be permitted to offer pleas for their misdeeds. However, other verses of the Qur'an inform us that they will speak and will be permitted to offer excuses. There is no discrepancy between the two verses, because there will be various stages on the Plain of Gathering (Mahshar) through which people will have to pass. Sometimes they will pass…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–39

21 That is, "ln the world you used every kind of deception and trick in self-interest. Now, if you have any trick to escape My punishment, you may use it to defeat Me and My plan."

Read the full tafseer →