Explained with ayahs 16–28
حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی…
Read the full tafseer →سورة الْمُرْسَلٰت 13
یہ حیات بعد موت کے امکان کی صریح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم ایک حقیر نطفے سے تمہاری ابتدا کر کے تمہیں پورا انسان بنانے پر قادر تھے، تو آخر دوبارہ تمہیں کسی اور طرح پیدا کردینے پر کیوں قادر نہ ہوں گے ؟ ہماری یہ تخلیق، جس کے نتیجے میں تم آج زندہ موجود ہو، خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، ایسے عاجز نہیں ہیں کہ ایک دفعہ پیدا کر کے پھر تمہیں پیدا نہ کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔
ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →’فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُوۡنَ‘۔ میرے نزدیک اس میں پہلا لفظ ’قدر‘ سے ہے اور دوسرا قدرت سے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عجائب قدرت کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلا کر فرمایا کہ دیکھ لو، انسان کی پیدائش میں ہم نے اپنے کیا کیا کرشمے دکھائے ہیں اور ہم کتنی اعلیٰ اور برتر قدرت رکھنے والے ہیں! مطلب یہ ہے کہ جب ہماری قدرت کی یہ اعلیٰ شانیں انسان کی خلقت میں ظاہر ہیں تو ہم اس کو دوبارہ پیدا کرنا چاہیں گے تو اس سے کیوں عاجز رہ جائیں گے!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 1 یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب و صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
8: یعنی انسان کو ہم نے صرف پیدا ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی بناوٹ میں ایسا بہترین توازن رکھا ہے جو ہمارے سوا کوئی قائم نہیں رکھ سکتا۔ انسان کے جسم کے مختلف حصوں پر جتنا غور کیا جائے، یہ حقیقت اتنی ہی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →فقدرنا .................... القدرون (23:77) ” ہم قادر تھے پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں “۔ یہ قدرت اور یہ اندازہ اس قدر دقیق ہے کہ اس کا کوئی مرحلہ اور کوئی اندازہ غلط نہیں ہوتا۔ اور اس پر آخری تبصرہ۔
Read the full tafseer →14 یعنی اس پانی کی پوند کی بتدریج پورا کر کے انسان عاقل بنادیا۔ اس سے ہماری قدرت اور سکت کو سمجھ لو۔ تو اسی انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے ؟ (تنبیہ) بعض نے " قدرنا " کے معنی اندازہ کرنے کے لیے ہیں۔ " اندازہ کیا ہم نے " اور ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں کہ اتنی مدت میں کوئی ضروری چیز رہ نہیں جاتی اور کوئی زائد و بیکار چیز پیدا نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 23 { فَقَدَرْنَاق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ۔ } ”تو ہم نے اندازہ مقرر کیا ‘ اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے !“
اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی قدرت سے کیا اور ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں !
Read the full tafseer →14 اندازہ یہ ہے کہ جب تک بچہ کی پوری قوتیں اور اس کے اعضاء مکمل نہیں ہوجاتے۔ بچہ رحم مادر میں ہی رہتا ہے اور جب ہر قسم کی نشوونما مکمل ہوجاتی ہے تو اس کے بعد ایک دن بھی بچہ رحم مادر میں نہیں رہ سکتا۔ ماں کو دردیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اور اس وقت تک یہ دردیں ختم نہیں ہوتیں جب تک بچہ وضع ہو کر اس کے رحم سے باہر نہ نکل آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
7۔ (تو ممکن نہیں کہ ہمارے اندازہ میں کسی خطاوغلطی یا بھول چوک کی گنجائش ہو) (آیت) ” من مآء مھین یعنی نطفہ منی سے۔ باغی و سرکش انسان کی تحقیر تو اس بیان سے ظاہری ہی ہے۔ باقی یہ بھی مستحضر رہے کہ دنیا میں بعض مشرک قومیں نطفہ منی کے تقدس واحترام کی بھی قائل ہوئی ہیں۔ اور قرآن مجید ضمنا اس جہل کی بھی تردید کرتا جارہا ہے۔ (آیت) ” فی قرار مکین “۔ یعنی رحم مادر میں۔ (آیت) ” فقدرنا “۔ یعنی ان سارے تصرفات کا ایک اندازہ ٹھہرالیا۔ (آیت) ” الی قدر معلوم “۔ یعنی وقت کی ایک مقدار معلوم تک۔ (آیت) ” فنعم القدرون “۔ قادرون یہاں مقدرون کے معنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →فقدرنا . نافع اور کسائی کی روایت میں فَقَدَّرْنَا ہے۔ یعنی ہم نے ماں کے پیٹ میں رہنے کا ‘ وقت
پیدائش کا ‘ پیدا ہونے کے بعد اعمال زندگی ‘ مدت زندگی اور رزق کا اور (آخرت میں) نیک بخت اور بدنصیب ہونے کا ایک اندازہ مقرر کردیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں (ہر) ایک کا تخلیقی قوام ماں کے پیٹ کے اندر چالیس روز تک (بصورتِ ) نطفہ رہتا ہے ‘ پھر اتنی ہی مدت میں بستہ خون ہوتا ہے ‘ پھر اتنی ہی مدت میں گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے ‘ پھر اللہ اس کے پاس فرشتہ کو چار باتوں کے لیے بھیجتا ہے ‘ فرشتہ اس کا (آئندہ) عمل اور مدت زندگی اور رزق اور شقی یا سعید ہونا لکھتا ہے ‘ پھر اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(22۔ 23) غرض کہ ہم نے اس کی خلقت کا اندازہ ٹھہرایا یا یہ کہ ہم اس کے پیدا کرنے پر قادر ہیں یا یہ کہ شکم عورت میں ہم نے اس کا نقشہ بنایا تو ہم کیسے اچھے اندازہ ٹھہرانے والے اور نقشہ بنانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
(1) الم نخلقکم من مآء مھین…: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر پانی یعنی منی کے قطرے سے پیدا فرمایا، پھر اسے ایک محفوظ ٹھکانے یعنی ماں کے رحم میں رکھا، جو تین اطراف سے ہڈیوں سے گھبرا ہوا ہے۔ حمل قرار پاتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی سے رحم میں جمایا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کا اتنا انتظام ہوتا ہے کہ شدید حادثے کے بغیر اس کا سقاط نہیں ہوسکتا۔
(2) الی قدر معلوم :“ اس اندازے تک جو معلوم ہے“ یعنی نو ماہ یا اس سے کم یا زیادہ، جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ وہ اتنے مہینوں، دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں پیدا ہوگا، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں۔
(3) فقدرنا فنعم القدرون : یعنی ہم نے ایک اسی مدت مقرر کی جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
الی قدر معلوم۔ اتنے عرصہ تک جس میں ہم اس کی تصویر بنادیں لیکن قول یہ کیا گیا ہے، ولادت کے عرصہ تک۔ فقدرنا نافع اور کسائی نے اسے فقدرنا مشدد پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ کسائی، فراء اور قتیبی نے یہی کہا ہے قتبی نے کہا، قدرنا بھی قدرناہ کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے، قدرت کذا، قدرتہ، اس معنی میں چاند کے متعلق جو نبی کریم کا ارشاد ہے، اذا غم علیکم فاقدوالہ۔ یعنی اس کی رفتار اور منازل کی اندازہ لگاؤ، محمد بن جہیم نے فراء سے روایت نقل کی ہے، فقدرنا، حضرت علی شیر خدا نے اسے مشدد اور مخفف دونوں طرح روایت کیا ہے۔ کہا، یہ بعید نہیں مشدد اور مخفف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقدرنا فنعم القدرون۔ پھر ہم نے اندازہ لگایا تو ہم کیسے اچھے اندازہ لگانے والے ہیں۔ پس ہم مالک ہیں اور ہم کتنے اچھے مالک ہیں۔
4۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقدرنا فنعم القدرون یعنی ہم نے پیدا کیا تو ہم کتنے اچھے مالک ہیں۔
Read the full tafseer →[فَقَدَرْنَا : پھر ہم قابو یافتہ رہے ] [فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ : تو ہم کیا ہی اچھے قابو پانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو، اللہ کی نعمتوں کی قدر دانی کرو، جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے
جب تکذیب پر عذاب میں مبتلا کیے جانے کی وعید سنائی جاتی تھی تو مکذبین و منکرین کہتے تھے کہ یہ ایسی ہی باتیں ہیں عذاب وزاب کچھ آنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کیا دنیا میں ہم نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ اسے تو تم مانتے ہو کہ تم سے پہلی قومیں ہلاک ہوئی ہیں اور ان پر عذاب آیا ہم نے انہیں ہلاک کیا ان کے بعد والوں کو بھی ان کے ساتھ کردیں گے یعنی بعد والوں کو بھی عذاب دیں گے اور ہلاک کریں گے اور ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں یعنی کافروں کے کفر پر سزا دینا طے شدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
5:۔ ” الم نخلقکم “ یہ حشر و نشر پر عقلی دلیل ہے۔ ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے ان کو ایک حقیر اور ناپاک پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ اس نطفہ کو ایک میعاد معین تک جائے قرار (رحم) میں رکھا۔ پھر اس کے بارے میں ہر چیز کا نداز مقرر کیا۔ رحم مادر میں اس کے ٹھہرنے کی مدت، اس کی عمر، اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کی سعادت و شقاوت وغیرہ۔ ہم کیسے ہی قادر ہیں کہ کوئی چیز ہماری قدرت اور دسترس سے باہر نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم حشر و نشر پر بھی قادر ہیں تو ان لوگوں کے لیے ہے اس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی جو حشر و نشر کا یا اس پر ہماری قدرت کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَقَدَرْنَا 0 ۤ ۖ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ 23
قَدْرُ والتَّقْدِيرُ
والقَدْرُ والتَّقْدِيرُ : تبيين كمّيّة الشیء . يقال :
قَدَرْتُهُ وقَدَّرْتُهُ ، وقَدَّرَهُ بالتّشدید : أعطاه الْقُدْرَةَ.
يقال : قَدَّرَنِي اللہ علی كذا وقوّاني عليه،
فَتَقْدِيرُ اللہ الأشياء علی وجهين :
أحدهما : بإعطاء القدرة .
والثاني : بأن يجعلها علی مقدار مخصوص ووجه مخصوص حسبما اقتضت الحکمة، وذلک أنّ فعل اللہ تعالیٰ ضربان :
ضرب أوجده بالفعل، ومعنی إيجاده بالفعل أن أبدعه کاملا دفعة لا تعتريه الزّيادة والنّقصان إلى إن يشاء أن يفنيه، أو يبدّله کالسماوات وما فيها . ومنها ما جعل أصوله موجودة بالفعل وأجزاء ه بالقوّة، وقدّره علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ترکیب : الیٰ قدر الجارمتعلق یجعلنا بمعنی اثبناہ فقدرنا قرء نافع و عبداللہ بن عامر بالتشدید والباقون بالتخفیف علی الاول من التقدیر (اندازہ کردن) وعلی الثانی من القدرۃ کفاتا قیل ھو جمع کا فت کالصائم و الصیام وقیل مصدر مثل کتاب و حساب و التقدیر ذات کفت ای جمع۔ و معنی الکفت فی اللغۃ الضم والجمع یقال کفت الشیء اے ضممۃ ویقال جراب کفیت ٌ و کفت ٌ اذاکان لایضیع شیئا ممایجعل فیہ وقال صاحب الکشاف ھواسم مایکفت کقولھم الصمام والجماع لمایضم ویجمع احیائً وامواتًا منصوبات اماعلی انھما مفعول کفات ای الم نجعل الارض کفات احیائٍ و امواتٍ فاذانون نصب مابعدہ واماعلی انھما المفعول الثانی لجعلنا ای جعلنا بعض الارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ فَجَعَلْنٰـہُ فِیْ قَرَارٍمَّکِیْنٍ ۔ اِلٰی قَدَرٍمَّعْلُوْمٍ ۔ فَقَدَرْنَا صلے ق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 20 تا 24)
(کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا۔ پھر ہم نے اس کو رکھا ایک محفوظ جگہ میں۔ ایک معین مدت تک۔ پس ہم نے اس کو ٹھہرایا، ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
قیامت کے وقوع پر ایک انفسی دلیل
گزشتہ آیت کریمہ میں قیامت کے وقوع اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر آفاقی دلیل قائم کی تھی۔ پیش نظر آیات میں انفسی دلیل سے کام لیا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت۔
سور ۃ الدّھر کی ابتدائی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ اس کا کائنات میں ذکر تک نہیں تھا۔ اب ارشاد فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں ایک حقیر پانی سے پیدا کیا اور اپنی قدرت سے اسے ایک محفوظ مقام پر ٹھہرایا اور ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں یعنی انسان کی پوری زندگی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے پھر اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہیں۔ گویا کہ انسان اپنے رب کے سامنے بےبس ہے نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے جیتا اور مرتا ہے۔ لیکن اس…
Read the full tafseer →23 : فَقَدَرْنَا (غرض ہم نے ایک اندازہ ٹھہرایا) پس ہم نے اس کا ایک اندازہ کیا۔ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ (پس ہم کیسے اچھے اندازہ کرنے والے ہیں) پس ہم اس کا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔ نمبر 2۔ پس ہم اس پر قدرت رکھتے ہیں پس ہم اس پر کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔ فَقَدَّرنا۔ پہلی تشدید والی قرء ات نافع و علی کے زیادہ مناسب ہے۔ اور اس قول باری تعالیٰ کی وجہ سے بھی من نطفۃ خلقہٗ فقدرہٗ ] عبس : 19[
Read the full tafseer →22 ۔” الی قدر معلوم “ اور وہ ولادت کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ) یعنی ایک مقررہ وقت تک۔ (فقدرنا) یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام کیا ہم نے اسے نطفے سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مرجاتے ہیں (فنعم القادرون) پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔
Read the full tafseer →16 ۔ قدرت کی شان رحمت و عنایت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم کیا ہی خوب اندازہ ٹھہرانے والے ہیں، کہ کس طرح اس انسان کو ایک محفوظ گوشے میں رکھواتے ہیں اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ہی ہیں اس سب پر قدرت رکھنے والے اور کیا ہی خوب ہیں ہم قدرت رکھنے والے، یعنی یہ لفظ قدرے بھی ماخوذ و مشتق ہوسکتا ہے، جس کے معنی اندازہ کرنے کے ہیں اور قدرت سیبھی ہوسکتا ہے، جس کے معنی قدرت کے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس میں پہلا لفظ تو قدر سے ماخوذ ہے اور دوسرا قدرت سے، یعنی اس کے لئے ہم ہی نے ایک انداز مقرر کیا اور ہم بڑی ہی قدرت والے ہیں جو اس قدر باریکی اور ایسی حکمت وقدرت سے ایسے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے
تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔
انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔
آیات 1 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
ف 12 یعنی ہم نے ایک ایسی مدت مقرر کی جس میں بچہ کی ساخت مکمل ہوجاتی ہے، نہ کوئی چیز ضرورت سے زائد بنتی ہے اور نہ کوئی ضروری چیز رہ جاتی ہے۔ جب تک اس کے لئے رحم کے اندر رہنا ضروری ہوتا ہے وہ اس میں رہتا ہے اور جب باہر آنا ضروری ہوتا ہے تو وہ باہر آجاتا ہے۔ یہ مدت ہم نے مقرر کی اور ہم کتنا ٹھیک اندازہ کرنے والے ہیں۔ ” قدرنا “ کا دوسرا ترجمہ ” ہم قادر ہوئے “ بھی ہوسکتا ہے یعنی ہم نے پانی کی ایک بوند کو بتدریج ترقی دیتے دیتے کامل وعاقل انسان بنایا۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہم کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →(77:23) فقدرنا۔تعقیب کا ہے قدرنا ماضی جمع متکلم۔ قدر (باب ضرب) مصدر سے۔ پھر ہم نے ایک اندازہ مقرر کیا۔
(یعنی ہم نے ماں کے پیٹ میں رہنے کا۔ وقت پیدائش کا۔ پیدا ہونے کے بعد اعمال زندگی، مدت زندگی، اور رزق کا اور نیک بخت یا بدبخت ہونے کا ایک اندازہ مقرر کردیا۔ (تفسیر مظہری)
فنعم القدرون : نعم فعل ہے اور انشاء (بیان) ومدح (تعریف) کے لئے آتا ہے اس کی گردان نہیں آتی۔ ترجمہ آیت :۔
(1) پس ہم کتنے بہتر اندازہ ٹھہرانے والے ہیں۔ (ضیاء القرآن)
(2) ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں۔ (فتح محمد جالندھری)
(3) پھر ہم کیا ہی اچھے دار ہیں۔ (تفسیر حقانی) القادرون اندازہ کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔
المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔
تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔
(ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
[8] یعنی رحم مادر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
ف 3: انسان کی توجہ کو اس کی پیدائش کی طرف منعلف کیا ہے ۔ کہ دیکھوہم نے کیونکر حقیرودلیل قطرہ آب سے تمہیں پیدا کیا ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ ایک طرف تو یہ معلوم ہو کہ حضرت انسان قدروقیمت کے لحاظ سے کسی معزاز اور بخیر کا استحقاق رکھتا ہے ۔ اور دوسری جانب یہ معلوم ہو کہ خدا کتناحلیم اور کس درجہ حکیم ودانا ہے ۔ کہ پانی کے ایک قطرہ سے انسان جیسے اشرف المخلوق وجود کو پیدا کیا ہے ۔
Read the full tafseer →(23) غرض ہم نے اس کی بناوٹ کا ایک اندازہ کیا سو ہم کیسے اچھے اندازہ کرنے والے ہیں۔ بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے پھر ہم اس کو پورا کرسکے سو ہم کیا خوب سکت والے ہیں قرات کے اختلاف کی وجہ سے ایک ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب اور دوسرا ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب (رح) کا ہے ہم نے شاہ رفیع الدین صاحب (رح) کا ترجمہ اختیار کیا ہے۔
یعنی اتنی مدت رحم میں رکھا کر پورا پاٹھا ہوکر پیدا ہوا نہ کوئی چیز کم ہوئی اور نہ زیادہ۔
بہرحال جب ہم نے ایک پانی کی بوند کو بتدریج انسان بنادیا تو ہمارے نزدیک مردہ انسان کو زندہ کرلینا کیا مشکل ہے لہٰذا تم بعث بعد الموت کی تکذیب نہ کرو کیونکہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–30
ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
(کیا نہیں پیدا فرمایا ہم نے تمہیں ایک بےقدر قطرہ سے) ؟ یعنی ذلیل و خوار بےمقدار منی سے ۔ (پھر کردیا ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ میں) یعنی مضبوط قرار گاہ میں اور وہ رحم ہے (وقت معلوم تک) کے لیے ، اور وہ پیدا ہونے کا زمانہ ہے۔ (تو اندازہ مقرر کیا ہم نے۔ تو کتنے اچھے ہم قادر ہیں) کہ کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ بچہ کی پیدائش کے لیے جس مدت کا اندازہ فرماتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے۔ عام طور پر حمل کی مدت نو ماہ ہوتی ہے ۔ اس مدت میں پیٹ میں بچہ بتدریج نشو ونما کے مراحل طے کرتا ہے ، اور اس کی ماں بتدریج اس کا بوجھ اٹھانے کی عادی ہوجاتی ہے۔ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ (Then We will cause the later ones to follow them....77:17) According to popular reading, Verse 17 purports to say that the present-day infidels, the people of Makkah, will receive punishment soon. They were punished and destroyed by Muslims in the Battle of Badr and so on. The difference between the punishment of former nations and the community of the Holy Prophet ﷺ is as follows: The former nations used to be destroyed by celestial punishment with all their habitations. The infidels in the community of the Holy Prophet ﷺ do not receive celestial punishment,…
Read the full tafseer →13 This is an express argument for the possibility of the life-after-death What is meant to be said is: "When We had the power to shape and develop you into a perfect and complete man from insignificant sperm-drop, how shall We be helpless to re-create you in some other way ? Our this creation in consequence of which you exist as a living being, is a proof that We are excellent Possessors of power; We cannot be so helpless as to be unable to re-create you after having created you in the fi rst instance. "
Read the full tafseer →