وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے
بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
اُس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے،
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
اس روز جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے
خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی !
بڑی خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے
بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔
(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔
Woe on that Day to those that give the lie to the Truth!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers!
Woe unto the repudiators on that day!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Woe, that Day, to the deniers.
On that day, woe would be upon those who have rejected the revelations of God!
Woe on that day to the rejecters.
Woe on that day Unto the beliers!
Ah woe, that Day! to the Rejecters of Truth!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–28
حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی…
Read the full tafseer →سورة الْمُرْسَلٰت 14 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ حیات بعد موت کے امکان کی یہ صریح دلیل سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں، وہ آج اس کا جتنا چاہیں مذاق اڑا لیں، اور جس قدر چاہیں اس کے ماننے والوں کو دقیانوسی، تاریک خیال اور اوہام پرست قرار دیتے رہیں، مگر جب وہ دن آجائے گا جسے جھٹلا رہے ہیں تو انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ ان کے لیے تباہی کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →اس کے بعد آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع یہ ہے کہ دوبارہ پیدا کیے جانے پر جو شبہات وارد کیے جا رہے ہیں ان کی تردید کے لیے تو خود ان کی خلقت ہی کافی ہے۔ ایک دن وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور وہ دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی کا دن ہو گا۔ سورۂ صافات میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے: فَإِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ فَإِذَا ہُمْ یَنۡظُرُوۡنَ ۵ وَقَالُوۡا یَا وَیْلَنَا ہٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۵ ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنۡتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ (الصافات ۳۷: ۱۹-۲۱) ’’وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہو گی کہ دفعۃً وہ تاکنے لگیں گے۔ کہیں گے ہائے ہماری بدبختی! یہ تو جزا کا دن آ گیا! ہاں یہ وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 1 یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب و صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
8: یعنی انسان کو ہم نے صرف پیدا ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی بناوٹ میں ایسا بہترین توازن رکھا ہے جو ہمارے سوا کوئی قائم نہیں رکھ سکتا۔ انسان کے جسم کے مختلف حصوں پر جتنا غور کیا جائے، یہ حقیقت اتنی ہی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →ویل ........................ للمکذبین (24:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اس کے بعد اس زمین کا مطالعاتی سفر ، یہ سفر انسانی زندگی کے بارے میں ہے۔ اور زمین کے اندر اس زندگی کے لئے تمام ضروریات کا مقرر کرنا اور اس کا مطالعہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
16 جو یوں کہا کرتے تھے کہ مٹی میں مل کر جب ہماری ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہوجائیں گی، پھر کس طرح زندہ کردیے جائیں گے ؟ اس وقت اپنے لچر پوچ شبہات پر شرمائیں گے۔ اور ندامت سے ہاتھ کاٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 23 { فَقَدَرْنَاق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ۔ } ”تو ہم نے اندازہ مقرر کیا ‘ اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے !“ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی قدرت سے کیا اور ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں !
Read the full tafseer →15 یعنی انسان کا نطفہ بےجان غذاؤں سے بنا تھا۔ اللہ نے اس کی نشوونما کی اس میں جان ڈالی اور اسے ایک جیتا جاگتا انسان بنا کھڑا کیا۔ اس کے باوجود جو لوگ موت کے بعد دوبارہ زندگی کے منکر ہیں ان کی عقلوں پر افسوس ہے اور ان کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →8۔ (جو ہمارے آئین حکمت اور عموم قدرت سے انکار کرتے رہتے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →ویل یومئذ للمکذبین . ہماری قدرت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ‘ یعنی کافروں کے لیے ویل ہے یا ہماری تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے ویل ہے تقدیر کا منکر (اسلام میں) فرقۂ قدریہ ہے جو امت اسلامی کا مجوسی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(24۔ 26) ایمان و قیامت کے منکروں کو قیامت کے دن سخت ترین عذاب ہوگا، بندوں پر جو اللہ تعالیٰ نے احسانات کیے ان کا تذکرہ کرتا ہے کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا کہ زندہ اس کے اوپر اور مردہ اس کے اندر ہیں یا یہ کہ زندوں اور مردوں کے لیے اس کو برتن نہیں بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
(1) الم نخلقکم من مآء مھین…: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر پانی یعنی منی کے قطرے سے پیدا فرمایا، پھر اسے ایک محفوظ ٹھکانے یعنی ماں کے رحم میں رکھا، جو تین اطراف سے ہڈیوں سے گھبرا ہوا ہے۔ حمل قرار پاتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی سے رحم میں جمایا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کا اتنا انتظام ہوتا ہے کہ شدید حادثے کے بغیر اس کا سقاط نہیں ہوسکتا۔ (2) الی قدر معلوم :“ اس اندازے تک جو معلوم ہے“ یعنی نو ماہ یا اس سے کم یا زیادہ، جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ وہ اتنے مہینوں، دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں پیدا ہوگا، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں۔ (3) فقدرنا فنعم القدرون : یعنی ہم نے ایک اسی مدت مقرر کی جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
الی قدر معلوم۔ اتنے عرصہ تک جس میں ہم اس کی تصویر بنادیں لیکن قول یہ کیا گیا ہے، ولادت کے عرصہ تک۔ فقدرنا نافع اور کسائی نے اسے فقدرنا مشدد پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ کسائی، فراء اور قتیبی نے یہی کہا ہے قتبی نے کہا، قدرنا بھی قدرناہ کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے، قدرت کذا، قدرتہ، اس معنی میں چاند کے متعلق جو نبی کریم کا ارشاد ہے، اذا غم علیکم فاقدوالہ۔ یعنی اس کی رفتار اور منازل کی اندازہ لگاؤ، محمد بن جہیم نے فراء سے روایت نقل کی ہے، فقدرنا، حضرت علی شیر خدا نے اسے مشدد اور مخفف دونوں طرح روایت کیا ہے۔ کہا، یہ بعید نہیں مشدد اور مخفف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقدرنا فنعم القدرون۔ پھر ہم نے اندازہ لگایا تو ہم کیسے اچھے اندازہ لگانے والے ہیں۔ پس ہم مالک ہیں اور ہم کتنے اچھے مالک ہیں۔ 4۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقدرنا فنعم القدرون یعنی ہم نے پیدا کیا تو ہم کتنے اچھے مالک ہیں۔
Read the full tafseer →[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
اس کے بعد فرمایا کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنائی ؟ دیکھو اس نے زندوں اور مردوں کو سب کو سمیٹ لیا جب قیامت کا دن ہوگا (جو زندہ ہوں گے وہ بھی مرجائیں گے) پھر یہ سب زندہ ہو کر اٹھیں گے تم بھی اللہ کی مخلوق ہو اس نے تمہیں اپنی زمین میں دوسری مخلوق کی طرح جمع فرما دیا ہے قیامت کے دن زمین کے پیٹ سے نکل کر باہر آجاؤ گے، مزید فرمایا کہ ہم نے اس میں بڑے بڑے پہاڑ بنا دیئے ان پہاڑوں سے تمہارے لیے بہت سے فائدے ہیں جن میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ زمین کی میخیں بنے ہوئے ہیں جو اسے ہلنے نہیں دیتے پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین میں زلزلہ آجائے گا اور پہاڑ بھی دھنے ہوئے اون کی طرح اڑے اڑے پھریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
5:۔ ” الم نخلقکم “ یہ حشر و نشر پر عقلی دلیل ہے۔ ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے ان کو ایک حقیر اور ناپاک پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ اس نطفہ کو ایک میعاد معین تک جائے قرار (رحم) میں رکھا۔ پھر اس کے بارے میں ہر چیز کا نداز مقرر کیا۔ رحم مادر میں اس کے ٹھہرنے کی مدت، اس کی عمر، اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کی سعادت و شقاوت وغیرہ۔ ہم کیسے ہی قادر ہیں کہ کوئی چیز ہماری قدرت اور دسترس سے باہر نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم حشر و نشر پر بھی قادر ہیں تو ان لوگوں کے لیے ہے اس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی جو حشر و نشر کا یا اس پر ہماری قدرت کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 24 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ترکیب : الیٰ قدر الجارمتعلق یجعلنا بمعنی اثبناہ فقدرنا قرء نافع و عبداللہ بن عامر بالتشدید والباقون بالتخفیف علی الاول من التقدیر (اندازہ کردن) وعلی الثانی من القدرۃ کفاتا قیل ھو جمع کا فت کالصائم و الصیام وقیل مصدر مثل کتاب و حساب و التقدیر ذات کفت ای جمع۔ و معنی الکفت فی اللغۃ الضم والجمع یقال کفت الشیء اے ضممۃ ویقال جراب کفیت ٌ و کفت ٌ اذاکان لایضیع شیئا ممایجعل فیہ وقال صاحب الکشاف ھواسم مایکفت کقولھم الصمام والجماع لمایضم ویجمع احیائً وامواتًا منصوبات اماعلی انھما مفعول کفات ای الم نجعل الارض کفات احیائٍ و امواتٍ فاذانون نصب مابعدہ واماعلی انھما المفعول الثانی لجعلنا ای جعلنا بعض الارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ فَجَعَلْنٰـہُ فِیْ قَرَارٍمَّکِیْنٍ ۔ اِلٰی قَدَرٍمَّعْلُوْمٍ ۔ فَقَدَرْنَا صلے ق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 20 تا 24) (کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا۔ پھر ہم نے اس کو رکھا ایک محفوظ جگہ میں۔ ایک معین مدت تک۔ پس ہم نے اس کو ٹھہرایا، ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) قیامت کے وقوع پر ایک انفسی دلیل گزشتہ آیت کریمہ میں قیامت کے وقوع اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر آفاقی دلیل قائم کی تھی۔ پیش نظر آیات میں انفسی دلیل سے کام لیا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت۔ سور ۃ الدّھر کی ابتدائی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ اس کا کائنات میں ذکر تک نہیں تھا۔ اب ارشاد فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں ایک حقیر پانی سے پیدا کیا اور اپنی قدرت سے اسے ایک محفوظ مقام پر ٹھہرایا اور ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں یعنی انسان کی پوری زندگی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے پھر اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہیں۔ گویا کہ انسان اپنے رب کے سامنے بےبس ہے نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے جیتا اور مرتا ہے۔ لیکن اس…
Read the full tafseer →24 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ( جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی) جو جھٹلاتے ہیں فطرت کے انعامات کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
23 ۔” فقدرنا “ اہل مدینہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” فقدرنا “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے تقدیر سے اور دیگر حضرات نے تخفیف کیساتھ پڑھا ہے قدرۃ سے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” فنعم القادرون “ کی وجہ سے۔… اور کہا گیا ہے ان دونوں کا معنی ایک ہے اور اسی کا قول ” فنعم القادرون “ یعنی مقدرون ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ…
Read the full tafseer →(وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) اس دن ہلاکت ہے ان جھٹلانے والوں کے لیے جنہوں نے آیات کے واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
17 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی اور ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے خود اپنے اندر پائی جانے والی اس دلیل قدرت و حکمت پر بھی غور نہیں کیا، تاکہ اس سے ان کو حق اور حقیقت کا ادراک نصیب ہوجاتا اور یہ تکذیب حق پر کمر بستہ نہ رہتے، سو بعث بعد الموت یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات اور اس بارہ وارد کئے جانے والے شکوکو شبہات کی تردید کے لئے خود انسان کی اپنی خلعت ہی کافی ہے، بشرطیکہ انسان اس میں صحیح طور سے غور و فکر سے کام لے، مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ غفلت کا مارا انسان اس بارہ سوچتا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 1 یعنی جب تک لوگ زندہ رہتے ہیں، اس پر رہتے بستے ہیں اور جب مرجاتے ہیں تو اس کے اندر چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(77:24) ویل یؤمئذ للمکذبین۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔ (ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[9] یعنی جس خالق نے حقیر پانی کی ایک بوند سے تمہیں انسان کی شکل میں بنا کھڑا کیا اس کے لئے تمہارے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو تمہیں پیدا کرنا کیوں ناممکن ہوگا ؟ ایک دن آئے گا کہ تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے اور وہ دن روز آخرت کو جھٹلانے والوں کے لئے تباہی کا دن ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
ف 3: انسان کی توجہ کو اس کی پیدائش کی طرف منعلف کیا ہے ۔ کہ دیکھوہم نے کیونکر حقیرودلیل قطرہ آب سے تمہیں پیدا کیا ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ ایک طرف تو یہ معلوم ہو کہ حضرت انسان قدروقیمت کے لحاظ سے کسی معزاز اور بخیر کا استحقاق رکھتا ہے ۔ اور دوسری جانب یہ معلوم ہو کہ خدا کتناحلیم اور کس درجہ حکیم ودانا ہے ۔ کہ پانی کے ایک قطرہ سے انسان جیسے اشرف المخلوق وجود کو پیدا کیا ہے ۔
Read the full tafseer →(24) اس دن جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–30
ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ہلاکی ہے اس دن) خدا کی توحید کو (جھٹلانے والوں کی) اور قدرت خداوندی کو باور نہ کرنے والوں کی۔ (کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی۔ زندوں اور مردوں کو) ؟ یعنی زندوں کو اپنے اوپر اور مردوں کو اپنے اندر رکھتی ہے ۔۔ چنانچہ۔۔ زندہ انسان زمین پر گھروں میں رہتے ہیں ، اور مردہ انسان زمین میں بنائی ہوئی قبروں میں رہتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے زمین کا ذکر فرمایا ، کیونکہ ہمارے باہر کی چیزوں میں جو چیز ہم سے سب سے زیادہ قریب ہے ، وہ زمین ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ (Then We will cause the later ones to follow them....77:17) According to popular reading, Verse 17 purports to say that the present-day infidels, the people of Makkah, will receive punishment soon. They were punished and destroyed by Muslims in the Battle of Badr and so on. The difference between the punishment of former nations and the community of the Holy Prophet ﷺ is as follows: The former nations used to be destroyed by celestial punishment with all their habitations. The infidels in the community of the Holy Prophet ﷺ do not receive celestial punishment,…
Read the full tafseer →14 This sentence here gives the meaning that in spite of the express argument for the possibility of life-after-death, the people who are denying it, may mock it as they may and look down upon its believers as people of antiquated ideas and whims, but when the Day comes which they are denying today, they will themselves know that it is a Day of their own ruin and disaster.
Read the full tafseer →